جنوبی افریقہ: فیسوں میں اضافے کے خلاف طلبہ تحریک کی فتح

| تحریر: بین مورکن، ترجمہ: حسن جان |

جمعہ 23 اکتوبر کو جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے اعلان کیا کہ اگلے سال طلبہ کی یونیورسٹی فیسوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ یہ واضح طور پر حکومت کی جانب سے ایک وسیع تحریک کو کنٹرول کرنے کی ایک کوشش ہے۔
South Africa students protest against rise in fees (7)یہ اس سے پچھلے جمعہ کو ہونے والے واقعات سے واضح ہے۔ جب زوما وائس چانسلرز اور تعلیمی ماہرین سے ملاقات کر رہا تھا، اسی دوران طلبہ کو یونین بلڈنگز کے جنوبی لان میں سخت گرمی میں رکھا گیا۔ اس سے پہلے ’فیس کم کرو‘ تحریک نے صدر کے ساتھ بند کمرے میں ملاقات سے انکار کر دیا تھا۔ یہ تحریک کی حکومت اور مقتدر لوگوں پر عدم اعتماد کی واضح نشانی ہے۔
اس کی بجائے زوما ANC یوتھ لیگ، SASCO اور ینگ کمیونسٹ لیگ کے رہنماؤں سے ملاقات کررہا تھا جن کے پاس احتجاجی طلبہ کی نمائندگی کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ ’فیس کم کرو‘ تحریک کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ بلاشبہ اس میں تمام سیاسی دھاروں سے تعلق رکھنے والے طلبہ موجود ہیں (SASCO ،ANCYL اور اکنامک فریڈم فائٹر کے طلبہ)، طلبہ مظاہروں میں اپنی انفرادی جماعتی وابستگی کے ساتھ شریک نہیں ہورہے۔ اس لیے زوما کی ان تنظیموں کی قیادت کے ساتھ ملاقات طلبہ کے لیے بے معنی تھی۔ ا ے این سی نے بعد میں ایک بیہودہ بیان جاری کیا جس میں ’’فتح‘‘ کا دعویٰ کیا گیا، گویڈمنتاشی (اے این سی کا جنرل سیکرٹری) کے اے این سی کارکنان کو جمعے کے مارچ میں شامل ہونے کی ترغیب کے بعد یہ تحریک کو ہائی جیک کرنے کی ایک بیہودہ کوشش تھی۔ اس کے علاوہ فتح کا دعویٰ کرنے کا یہ اقدام یہ تاثر قائم کرنے کی ایک کوشش تھی کہ بحران ختم ہوچکا ہے اور اب حکومت مفت تعلیم کے مسئلے کو حل کرنے کی راہ پر چل نکلی ہے۔
جب یونین بلڈنگز کے اندر میٹنگ چل رہی تھی تو باہر اشتعال بڑھ رہا تھا۔ ایک پوڈیئم بنایا گیا جس سے یہ تاثر ابھرا کہ شاید زوما براہ راست خطاب کرنے والا ہے۔ عمارتوں کو رکاوٹوں اور خاردارتاروں کے ذریعے گھیرے میں لیا گیا جس سے بہت مظاہرین مشتعل ہوگئے۔ پھر فتنہ انگیز جاسوسوں کے ایک ٹولے نے رکاوٹوں کو ہٹانا شروع کیا، پورٹیبل ٹوائلٹس کو آگ لگانا شروع کیااور پولیس سے لڑ پڑے۔ مظاہرین کی اکثریت مکمل طور پر پر امن تھی۔ درحقیقت تحریک کی قیادت نے جھڑپیں ہونے والی جگہ سے طلبہ کو واپس بلا لیا۔ طلبہ نعرہ لگا رہے تھے ،’’تشدد نامنظور ، تشدد نامنظور!‘‘
زوما کے یونیورسٹی فیسوں میں اگلے سال اضافہ نہ کرنے کے اعلان کے بعد پولیس نے آنسو گیس اور سٹن گرینیڈ کیساتھ طلبہ پر حملہ کردیا۔ بھگدڑ مچ گئی اور ہزاروں طلبہ پریٹوریا کی گلیوں میں پھیل گئے جس سے آمدورفت متاثر ہوئی۔
لیکن پولیس کے ذریعے طلبہ کو منتشر کرنے کا منصوبہ پہلے سے اور بغیر کسی اشتعال انگیزی کے ہوا۔ ریاست کے ارادے عیاں تھے: طلبہ کو شدید گرمی میں انتظار کروا کر حالات کو خراب کرنا، یہ امید جگانا کہ زوما خطاب کرنے والا ہے، فتنہ انگیز جاسوسوں کے ذریعے فساد پھیلانا تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ طلبہ بے لگام بلوائی ہیں اور زوما مراعات دینے والا ایک ’’مدلل‘‘ شخص ہے۔
مقصد واضح تھا۔ رائے عامہ کو طلبہ کے خلاف کیا جائے۔ اس طرح کا حربہ صرف متوسط طبقے کو ہی متاثر کرتا ہے۔ متوسط طبقہ ایک انتہائی کثیرالاجزا طبقہ ہے اور اس لیے بہت غیر مستحکم بھی، خصوصاً عوامی تحریکوں کے دوران۔ اس کی وجہ سماج میں ان کی پوزیشن کی وجہ سے ہے۔ مڈل کلاس نہ تو ذرائع پیداوار کی مالک ہے اور نہ ہی یہ سماج میں دولت پیدا کرتا ہے۔ سرمایہ داروں اور محنت کشوں کے درمیان ہونے والی کشمکش میں اس کا کوئی آزادانہ کردار نہیں ہے۔ یہ زیادہ مستقل نہیں ہے بلکہ دباؤ میں آکر اپنی شکلیں تبدیل کرتا رہتا ہے۔ عمومی طور پر جب تحریک آگے بڑھ رہی ہوتی ہے تو مڈل کلاس اس کی حمایت کرتی ہے۔ لیکن جب تحریک میں اچانک اور تیز تبدیلیاں آتی ہیں تو یہ مڈل کلاس کو دائیں اور بائیں جانب تقسیم کرسکتی ہے۔ مڈل کلاس کی اس متذبذب کیفیت کو صرف ایک انقلابی قیادت کی موجودگی میں محنت کش طبقے کی پرعزم جدوجہد کے ذریعے ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔
بہرحال، رائے عامہ کو طلبہ کے خلاف موڑنے کی یہ کوشش مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔ پچھلے چند دنوں کے واقعات نے اس میں اہم کردار ادا کیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ حتیٰ کہ جب طلبہ یونیورسٹیوں پر قبضہ کر رہے تھے تو یہ کام وہ مکمل طور پر پرامن طریقے سے کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ اس دوران کچھ طلبہ اپنی پڑھائی بھی کر رہے تھے۔ جبکہ دوسری جانب بدھ کو پارلیمنٹ کے سامنے کے واقعات میں پولیس کا تشدد واضح طور پر نظر آیا۔ ایک اور وجہ یہ تھی کہ اس دن کے واقعات کو نیشنل ٹیلی وژن پر دکھایا گیا یعنی لوگوں نے خود اپنی آنکھوں سے واقعات کو دیکھا۔
’فیس کم کرو‘ تحریک جس نے پچھلے کئی دنوں سے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے ایک اہم لمحہ ہے۔ یہ جنوبی افریقی سماج کے لیے ایک بنیادی تبدیلی کی غمازی کرتا ہے۔ اس ملک کی زرخیز انقلابی تاریخ میں بہت سی تحریکوں کی قیادت نوجوانوں نے کی ہے جیسے 21 مارچ 1960ء میں شارپویل کے قتل عام کے بعد ابھرنے والی تحریک اور 16 جون 1976ء میں SOWETO کی تحریک۔ اب 23 اکتوبر 2015ء کی تحریک کا شمار بھی انہی میں ہوگا۔
یونیورسٹی کی فیسوں میں اضافہ نہ ہونے کی بات طلبہ تحریک کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے۔ لیکن یہ ایک جزوی کامیابی ہے۔ بے تحاشا فیسوں کا خاتمہ نہیں ہوا ہے۔ صرف ایک سال کے لیے ان میں اضافہ روک دیا گیا ہے لیکن پھر بھی یہ ادا تو کرنا ہوں گی۔ اور نہ ہی ،مفت، ہمہ گیر اور معیاری تعلیم کا مرکزی مطالبہ پورا ہوا ہے۔ ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران پورے ملک کی یونیورسٹیوں خاص کر وٹز، یونیورسٹی آف کیپ ٹاؤن، یو جے، یونیورسٹی آف فری سٹیٹ اور نارتھ ویسٹ نے بڑی میٹنگز کا انعقاد کیا اور فیصلہ کیا کہ مفت تعلیم کے لیے جد وجہد کو جاری رکھا جائے گا۔ اس لیے، یہ اختتام نہیں ہے بلکہ طلبہ تحریک کا آغاز ہے۔

South Africa Student Protests

South Africa Student Protests

طلبہ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ جدوجہد کو یونیورسٹی میں آؤٹ سورسنگ کے خاتمے کے مطالبے کے ذریعے یونیورسٹی کے محنت کشوں کے ساتھ جوڑا جائے۔ یونیورسٹیوں کے محنت کشوں کی جدوجہد کے ساتھ جڑنے کا یہ فیصلہ بالکل درست ہے۔ اس کے بعد اس کو محنت کش طبقے کی پوری تحریک کے ساتھ جوڑا جائے۔
تحریک کو نمسا (NUMSA)، دھات کے محنت کشوں کی یونین، کی حمایت بھی حاصل ہے۔ درحقیقت یونین نے حتیٰ کہ مشترکہ جدوجہد کی بات کی ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا، ’’نمسا اپنے کارکنان سے مطالبہ کرتی ہے کہ ان جنگجو طلبہ کے والدین کے طور پر ان مظاہروں میں شامل ہوجائیں تاکہ ان کو حمایت اور یکجہتی حاصل ہو۔ اگر مجوزہ اضافہ لاگو ہوا تو اس سے محنت کشوں کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات پڑیں گے جو جدید نوآبادیاتی اور سرمایہ دارانہ جنوبی افریقہ میں مہنگے ہوتے معیار زندگی کی کیفیت میں اپنے قلیل تنخواہوں کے ساتھ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔‘‘
ایک اور بیان میں کہا گیا، ’’ہم احتجاجی طلبہ سے گزارش کرتے ہیں کہ جنوبی افریقی مزدوروں اور طلبہ کی مشترکہ دشمن، نیولبرل معاشی پالیسیاں جن کی اے این سی حکومت بڑی کارپورینشنوں کی خاطر حمایت کر رہی ہے، کے خلاف جدوجہد میں ہمارے ساتھ شامل ہوجائیں۔ ہم محنت کش طبقے اور غریب عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ بڑی تعداد میں مفت تعلیم کے لیے طلبہ کے مظاہروں میں شامل ہوجائیں۔ صرف عوامی مظاہروں کے ذریعے ہی ہم حکمرانوں سے طلبہ کے مطالبات کو منوا سکتے ہیں۔‘‘ یہ بالکل درست مؤقف ہے جس کو عملی جامہ پہنانا چاہیے۔
حکومت کی جانب سے دی گئی رعایت کی اہمیت یہ ہے کہ یہ عوامی تحریک کے بلبوتے پر حاصل کی گئی ہے۔ بد ھ کے دن ہزاروں انقلابی طلبہ کا پارلیمنٹ کے سامنے، جمعرات کو اے این سی ہیڈ کوارٹر اور جمعہ کو یونین بلڈنگز کے سامنے جمع ہونے کا منظر ملک میں ایک بنیادی تبدیلی کی غمازی کرتا ہے۔ ان جیسے زمین کو ہلادینے والے واقعات پچھلی دو دہائیوں میں نہیں ہوئے ہیں۔
تاہم طلبہ تحریک کی اہمیت فیسوں میں اضافے کے مسئلے سے بھی بڑھ کر ہے۔ طلبہ اور دانشور سماج میں عمومی کیفیت کے حساس پیمانے ہیں۔ بے تحاشا فیسوں کے گرد ہونے والے حالیہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سماج میں موجودہ حالات کے خلاف ایک شدید غم و غصہ موجود ہے جو جلد یا بدیر سماج کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔
انقلاب کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ حکمران طبقہ پرانے طریقوں سے حکمرانی نہیں کرسکتا۔ آج جنوبی افریقہ میں یہی کیفیت ہے۔ بورژوازی نے سماج پر حکمرانی کے لیے تمام سیاسی ہتھکنڈے استعمال کر لیے ہیں۔ ایک طرف ان کی اپنی جماعتیں ،جیسے ڈیموکریٹک الائنس، بہت کمزور ہیں اور عوامی جذبات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ دوسری طرف عوام میں اے این سی کی مقبولیت اپنی کمترین سطح پر ہے۔ پچھلے عرصے میں ہڑتالوں، احتجاجوں اور مظاہروں میں اضافے کی یہی وجہ ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کی روایتی پارٹیوں کے خلاف ایک روز افزوں غم و غصہ موجود ہے۔ محنت کش، طلبہ اور غریب عوام شدت سے یہ محسوس کررہے ہیں کہ انہیں اب معاملات کو اپنے ہاتھوں میں لینا چاہیے۔
یہ حالیہ مظاہروں میں واضح نظر آیا۔ ڈیموکریٹک الائنس کے رہنما، موسی میمانی نے سوچا تھا کہ وہ کیپ ٹاؤن کے احتجاجی جلوسوں میں شرکت کرکے کچھ سیاسی فائدے حاصل کرے گا۔ لیکن وہ ایک مکمل مذاق بن گیا۔ جیسے ہی اسے دیکھا گیا، طلبہ فوراً اس پر برس پڑے اور نعرے بازی شروع کی، ’’اپنی موقع پرستی چھوڑو‘‘۔ جلوس سے اسے بھگانے کا منظر سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہوا۔ اسی طرح ڈیموکریٹک الائنس کے سابقہ رہنما ہیلن زیل کو سٹیلنبوش میں ایک جلوس سے گارڈز نے بحفاظت باہر نکالا۔ یہ بات بہت ہی اہم ہے کہ یہ سب مغربی کیپ صوبے میں ہوا ہے جہاں ڈیموکریٹک الائنس کی حکومت ہے اور سٹیلنبوش میں جو روایتی طور پر جنوبی افریقی اشرافیہ کا گڑھ ہے۔
اسی طرح کے باغیانہ مناظر جمعرات کو اے این سی کے ہیڈکوارٹر کی طرف مارچ کے دوران نظر آئے۔ جیسے ہی جلوس لوتولی ہاؤس پہنچا تو اے این سی نے اپنا انتخابی ٹرک سامنے لایا۔ مقصد یہ تھا کہ مارچ کو اے این سی کے جلسے میں بدل دیا جائے۔ اس کا الٹا اثر ہوا۔ اے این سی کے جنرل سیکرٹری، گویڈ مانتاشا کو طلبہ نے مجبور کیا کہ وہ اس منصوبے کو ترک کرکے رعونت چھوڑے اور سٹیج سے نیچے آکر گلی میں طلبہ سے ان کے مطالبات وصول کرے۔ آخر میں اسے جلوس سے خطاب کرنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی۔ طلبہ کا پیغام یہ تھا کہ سیاست دانوں کو اب بولنا بند کرکے عوام کو سننا چاہیے۔
بہت سے لوگ اے این سی ہیڈکوارٹر کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کچھ ہی عرصہ پہلے لوتولی ہاؤس کی جانب مارچ کرنے کے خیال کو ہی برا سمجھا جاتا تھا۔ ہزاروں احتجاجی طلبہ کا لوتولی ہاؤس کے گھیراؤ کا منظر ایک تاریخی لمحہ تھا۔
یونیورسٹی فیسوں کے گرد ابھرنے والی تحریک الگ تھلگ انداز میں نہیں ابھر رہی۔ ان احتجاجوں کو ہمیں بے چینی اور غم و غصے کے وسیع سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے۔ حکمران افریقی نیشنل کانگریس کو بے نظیر حکومتی بحران کا سامنا ہے۔ ان کی حکمرانی پر پہلے کبھی بھی اتنے سوالات نہیں اٹھائے گئے۔ اور عوام میں اس کی مقبولیت کبھی بھی اتنی نچلی سطح پر نہیں تھی۔
پچھلے عرصے سے اے این سی اور اس کا صدر جیکب زوما ناختم ہونے والے بحرانوں کے ایک سلسلے کی وجہ سے سخت مشکل میں ہے۔ ایک کے بعد دوسرا بحران پارٹی کو اپنی زد میں لارہا ہے۔ اسلحے کے معاہدے کا اسکینڈل، بدعنوان کاروباریوں جیسے شابیر شیک کے ساتھ زوما کے مراسم، فراڈ اور بدعنوانی کے مرتکب پارٹی ممبران کے اَن گنت سکینڈلز، کنڈلا سکینڈل، پولیس انتظامیہ اور عدالتوں میں بحران کے سلسلے، بجلی کا بحران، پبلک براڈکاسٹر کا بحران، گوٹینگ میں الیکٹرانک ٹول ٹیکس کی ہزیمت، اور ماریکانا کا قتل عام اور بعد کے واقعات۔
یہ ان بحرانوں کے علاوہ ہے جس نے سماج کو اپنی لپیٹ میں لیاہواہے جیسے بیروزگاری (نوجوانوں میں بیروزگاری کی حقیقی شرح 60 فیصد ہے)، روزافزوں دولت کی تقسیم کی نابرابری اور ناختم ہونے والی غربت۔ دوسرے الفاظ میں یہ کسی انفرادی شعبے کا بحران نہیں ہے۔ نہ ہی یہ پالیسی کے نفاذ کا مسئلہ ہے جیساکہ اے این سی کا دعویٰ ہے۔ یہ جنوبی افریقہ کی سرمایہ داری کا بحران ہے۔
اے این سی کے حالیہ نیشنل جنرل کونسل میں مندوبین اس بات پر حیرت زدہ ہوگئے کہ پچھلے تین سالوں میں پارٹی کی ممبرشپ میں 450,000 کی کمی ہوئی ہے۔ اس کے لیے ہر طرح کی فروعی وجوہات پیش کی گئیں۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ عوام اے این سی کی موجودہ قیادت کو ماضی کی قیادت کی طرح نہیں سمجھتے۔ ہزاروں طلبہ کا لوتولی ہاؤس کی طرف مارچ ، جو بے نظیر واقعہ تھا، اس حقیقت کی واضح مثال ہے۔
South Africa students protest against rise in fees (11)طلبہ کا احتجاج آنے والے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔ یہ جنوبی افریقہ کے سوشلسٹ انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ بہادری اور سورما پن کا یہ اظہار سماج کے دوسرے حصوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی غمازی کرتا ہے۔ پہلے ہی جنوبی افریقی سماج میں روزانہ اوسطاً 35 مظاہرے ہوتے ہیں، اگرچہ ان میں سے بہت سے منتشر اور الگ تھلگ ہیں۔ طلبہ کا حالیہ احتجاج دوسروں کو میدان میں آکر حکمرانوں کو للکارنے کا حوصلہ دے گا۔ اسی دوران وہ بینکرز، صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کے خلاف بھی نکلیں گے جو سماج کے اصل حکمران ہیں۔

متعلقہ:

جنوبی افریقہ: صرف رنگ بدلا تھا، نظام نہیں۔۔۔

جنوبی افریقہ: آزادی سے رستا خون

برکینا فاسو: افریقی انقلاب کی پہلی چنگاری

برکینا فاسو: فوجی جبر کیخلاف عوامی تحریک

پاکستان میں طلبہ سیاست کی تاریخ و تناظر

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*