جنوبی افریقہ: آزادی سے رستا خون

[تحریر: لال خان، ترجمہ: فرہاد کیانی]

نسلی امتیاز کی پالیسی کے خاتمے اور جمہوریت اور آزادی کی نئی شروعات کے اٹھارہ برس بعد، ماریکانا کے علاقے میں لون من کمپنی کی ملکیت میں پلاٹینم کی کانوں کے 44کان کنوں کا گزشتہ جمعرات کے روز پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل اور 100 محنت کشوں کوشدید ز خمی کرنے کے واقعے نے جنوبی افریقہ کے پرولتاریہ کے اذیت ناک حالات اور تکلیف دہ زندگی کو دنیا بھر کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔ سفید فام نسل پرست حکومت سے نام نہاد آزادی حاصل کرنے کے بعد کے سالوں میں بے شمار تحریکوں کو ریاستی جبر کے ذریعے کچلا جا چکا ہے۔اس واقعے نے 1960ء میں اس وقت کی نسل پرست حکومت کے ہاتھوں شار پ ویل میں60سیاہ فاموں کے سفاکانہ قتل عام کی یاد تازہ کر دی ہے۔
مزدوروں نے اجرت کو 4000رینڈ (484ڈالر) سے بڑہا کر 12,500رینڈ کرنے کا مطالبہ کیا جسے لومن انتظامیہ نے مسترد کر دیا اور یہ اس تنازعے کی بنیاد بنا جس کے بعد مزدوروں کو الٹی میٹم اور برخواستگی کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔ تین ہزار راک ڈرِل آپریٹر ہڑتال میں باہر نکل آئے۔ 10اگست کو جھڑپ میں پولیس نے آٹھ محنت کشوں کو قتل کر دیا۔ اس کے جواب میں لاٹھیوں اور برچھیوں سے لیس مزدوروں نے دو پولیس افسروں کو مار ڈالا۔ مزدوروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اوروہ لڑائی کے لیے تیار ہو گئے۔ایک طرف سیاہ فام اور سفید فام مالکان کی پر تعیش زندگی اور بے ہودہ حد تک بڑی تنخواہوں اور دوسری جانب محنت کشوں کی بدحال اجرت اور مہنگائی نے اس نظام کے خلاف سلگتی ہوئی نفرت کو دھماکے سے پھاڑ ڈالا۔
لومن ایک برطانوی ملٹی نیشنل کمپنی ہے جس کا مرکزی دفتر لندن میں ہے۔ یہ پلاٹینم کی کا ن کنی کی دنیا میں تیسری بڑی کمپنی ہے۔1909ء میں قائم شدہ یہ کمپنی ایک صدی سے زیادہ عرصے سے جنوبی افریقہ کے معدنی وسائل کا استحصال کر رہی ہے۔ 2011ء میں اس نے 1992ملین ڈالر کا کاروبار لیکن اس کے باوجود یہ سرمایہ دار گدھ ان محنت کشوں کی اجرت میں معمولی سا اضافہ کرنے کے لیے بھی تیار نہیں جو کئی نسلوں سے غلامی کرنے پر مجبور ہیں تا کہ یہ طفیلیے دولت جمع کر سکیں۔
’سرمایہ کاروں‘ کو خوش کرنے کے لیے جنوبی افریقہ کی حکومت نے انتہائی بے رحمی سے ا ن باغی مزدوروں کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا۔جمعرات16اگست کی صبح کو بکتر بند گاڑیوں اور گھوڑوں پر سوار پولیس کے دستوں کو ہڑتال کچلنے کے لیے بھیجا گیا۔اندھا دھندفائرنگ سے 34مزدور قتل اور بے شمار زخمی اور اپاہج ہو گئے۔پولیس چیف نے انتہائی بے شرمی سے اس سفاک قتل عام کو ’دفاعی اقدام‘ قرار دیا۔ لیکن اس قتل عام کے خلاف نہ صرف جنوبی افریقہ بلکہ ساری دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سامراج کی مسلط کردہ نسل پرست حکومت کے خلاف جنوبی افریقہ کے عوام کی جرات مندانہ جدو جہد کی عظیم تاریخ ہے، جو یہاں کے باسیوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بد تر سلوک کرتی تھی۔ اس جدوجہد کی قیادت افریقن نیشنل کانگریس(اے این سی) کے ہاتھ میں تھی جس کے ساتھ بعد میں جنوبی افریقہ کی کمیونسٹ پارٹی (ایس اے سی پی) بھی شامل ہو گئی۔ تاہم اس جدو جہد کا پروگرام نسلی امتیاز کے خاتمے سے کہیں آگے تھا کیونکہ 1980ء کی دہائی کے اواخرتک سوشلسٹ طبقاتی جدوجہد ایجنڈے میں سب سے اوپر تھی۔ لیکن سوویت یونین کے انہدام کے بعد اے این سی اور ایس اے سی پی کے لیڈر پسپاء ہو کر قوم پرستی اور بورژوا جمہورت پر آ گئے۔ سرمایہ داری کی آمریت کے سامنے اے این سی کے جھک جانے کے بعد سامراج کے ایما پر بوتھا حکومت سے ساتھ ایک سمجھوتہ طے پایا جس کے تحت نسلی امتیاز کو سرکاری طور پر ختم کر دیا گیا اور اے ان سی کی حکومت قائم کی گئی جس کا صدر نیلسن منڈیلا تھا۔ ہر کسی نے اسے جمہوریت اور آزادی کی عظیم فتح قرار دیا۔ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے تو جزیرہِ رابن کے قید خانے کا دورہ بھی کیا جہاں منڈیلا کو قید رکھا گیا تھا۔
اے این سی کی قیادت نے بڑے پیمانے کے فوائد اور مراعات حاصل کی ہیں جو ان کے پر تعیش طرز زندگی اور دولت کی ریل پیل سے واضح ہے۔ لیکن عوام کی حالت زار تیزی سے بدتر ہوئی ہے۔ بحران کی شدت اتنی ہے کہ اے این سی کے لیڈر اور جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما کو عوام کی تباہ حالی کا جون میں اعتراف کرنا پڑا اور اس نے کہا کہ ’’نسلی امتیاز کے دور کی معیشت کا ڈھانچہ بڑی حد تک پرانی حالت میں موجود ہے‘‘۔عالمی بینک کے مطابق جنوبی افریقہ دنیا کے سب سے زیادہ غیر مساوی سماجوں میں سے ایک ہے۔1994ء میں نسل پرست سفید فام حکومت سے خاتمے کے بعد سے اس عدم مساوات میں اضافہ ہوا ہے۔
ایک کروڑ بیس لاکھ سے زیادہ شہری آبادی کچی آبادیوں میں رہائش پذیر ہے جو پینے کے صاف پانی، نکاسی اور سماجی سہولیات سے محروم ہیں۔ بجلی کا شکستہ نظام، غلاظت کے ڈھیر، تارکین وطن کے خلاف تشدد اور جرائم اس اذیت کو مزید تکلیف بنا دیتے ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بے روزگاری کی شرح 36فیصد ہے اور 50فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ یونیسیف کے مطابق ہر دس میں سات بچے ایسے گھرانوں میں رہتے ہیں جنہیں شدید غربت کا سامنا ہے۔ ان محرومیوں کے خلاف احتجاج کرنے والوں کے خلاف ریاستی تشدد معمول کی بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اے این سی کے یوتھ ونگ کے لیڈر اور پارٹی سے بے دخل پاپولسٹ جیکب مالیما نے جب ماریکانا کی کانوں میں صورتحال کو سرمایہ داروں اور استحصال زدہ محنت کشوں کے مابین لڑائی کہا تو ہڑتالی کان کنوں میں اسے بہت پذیرائی ملی۔اگرچہ لون من کی انتظامیہ مجبور ہو کر ہزاروں محنت کشوں کو اب برطرف نہیں کر رہی، لیکن ماریکانا کا سانحہ بہت لمبے عرصے تک عوامی شعور سے مٹنے والا نہیں۔
اگرچہ 18برس کے تکلیف دہ اقتدار کے بعد اے این سی اپنی ساکھ کھو چکی ہے لیکن ابھی تک سیاسی افق پر کوئی متبادل سامنے نہیں آیا۔ لیکن نیچے سے قیادت پر بہت شدید دباؤ ہے۔مالیما کی بے دخلی اس دباؤ کا ایک اظہار ہے۔ لیکن اب صرف ریڈیکل پاپولزم سے بات نہیں نبے گی۔ ان مسائل کے حل کے لیے سماجی اورمعاشی تبدیلی کا ایک سائنٹیفک پروگرام تحریک کی اشد ضرورت ہے۔ اے این سی کے اندر کا بحران سماج میں موجود شدید خلفشار کا اظہار ہے۔قوی امکان ہے کہ دسمبر میں ہونے والی اے این سی کی کانگریس میں موجودہ قیادت کو چیلنج کرتی ہوئی حزب اختلاف سامنے آئے۔کانگریس آف ساؤتھ افریقن ٹریڈ یونینز (سی او ایس ٹی یو) کی قیادت کا کردار بھی اے این سی سے کم گھناؤنا نہیں ہے۔ مارنیکا کا دلخراش واقعہ بے اطمینانی سے کھولتے ہوئے محنت کشوں اور نوجوانوں کی عوامی تحریک کے لیے چنگاری بن سکتاہے۔ سرکاری طور پر نسل پرستی کے خاتمے کے بعد پرانی سفید فام اشرافیہ نے نئے سیاہ فام حکمران ٹولے کے ساتھ مل کر استحصال اور محرومی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ حکمران اشرافیہ کا رنگ بدل جانے سے اس کا کردار نہیں بدلتا جو کہ عوام کا خون چوسنا ہے۔ طوفانی حالات افق پر نمودار ہورہے ہیں۔ کچھ لوگ تو ماریکانا کی خونریزی کا موازنہ عرب انقلاب کو بھڑکانے والے والے واقعات سے کر رہے ہیں۔جنوبی افریقہ ، افریقہ کا سب سے بڑا اور اہم ترین ملک ہے۔ یہاں کے پرولتاریہ اور نوجوانوں کی شاندار اور بے خوف انقلابی روایات ہیں۔ لازم ہے کہ انقلاب کی شمع اس تاریک براعظم کو منور کر ے گی!
ڈیلی ٹائمز، 26اگست 2012ء

4 Comments

  1. Pingback: ۔2012ء؛ ایک جائزہ

  2. Pingback: منڈیلا کا ادھورا سفر

  3. Pingback: The Struggle | طبقاتی جدوجہد – شمارہ نمبر 10: یکم تا 15 ستمبر 2012ء

  4. Pingback: جنوبی افریقہ: حاکمیت کے رنگ بدلے، کردار نہیں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*