’’صادق اور امین‘‘

اداریہ جدوجہد

پا ناما کے جس ہنگامے سے اس ملک کے استحصال زدہ عوام کو ٹارچر کیا جاتا رہا ہے اس کا کوئی انجام سپریم کورٹ سے بھی نہیں نکل سکا۔ نکلنا بھی نہیں تھا! سپریم کورٹ کی بھی آخر کوئی ’عزت‘ اور ’وقار‘ ہے! عدلیہ کے اس ادارے کی تعظیم اور تقدس کو یہ حکمران طبقات جس محنت سے نصابوں اور میڈیا وغیرہ کے ذریعے استوار کرواتے ہیں، معاشرے پر ان انصاف کے اونچے مندروں کا تسلط اور دھاک بٹھاتے ہیں اور پھر یہاں پہنچنے کی مالی معذوری سے عام انسانوں کو جس انصاف سے محرومی کی سزا دی جاتی ہے، اس سارے کھیل میں ان محنت کش محروموں کا جرم صرف انکی غربت ،ذلت اور معمول کے وقتوں میں ان کی خاموشی اور عدم تحرک ہوتا ہے۔
اس مقدمے کا سب سے مضحکہ خیز پہلو نواز شریف کے ’’صادق اور امین‘‘ ہونے کو چیلنج کرنا تھا۔ صادق اور امین ہونے کی شرط اور قانونی شق پاکستان کے اس مسخ شدہ آئین میں اس ملک کی تاریخ کے سب سے ہولناک حکمران جنرل ضیا الحق نے دوسری کئی رجعتی اور مذہبی شقوں کے ساتھ ٹھونسی تھی۔ پہلے تو شاید یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ضیا الحق خود کتنا صادق اور امین تھا۔ اس نے مارشل لا لگا کر سب سے پہلے خود اپنے حلف سے غداری کی اور اِسی آئین کو پیروں تلے روندا جس کے تقدس کے پاٹ آج ہمیں پڑھائے جاتے ہیں۔ تاہم ایک بات وہ سچی کر گیا تھا۔ جب کسی حواری نے آئین کے تقدس کا پاٹ اُسے پڑھانے کی کوشش کی تھی تو اُس نے ڈانٹتے ہوئے کہا تھا: ’’یہ آئین کیا ہے؟ کاغذ کا ٹکرا؟ میں کل کو اسے پھاڑ کے کاغذ پر کوئی اور تحریر لکھ دوں گا۔‘‘ آج بڑے بڑے ’’ترقی پسند‘‘ مفکر اور دانشور ہمیں باور کرواتے ہیں کہ یہی آئین اس ملک کی سب سے مقدس دستاویز ہے اور عوام کا نجات دہندہ بھی! ضیا الحق نے 90 دن میں انتخابات کروانے کے وعدے سمیت کونسا وعدہ تھا جو نبھایا اور کونسا جھوٹ تھا جو نہیں بولا۔ اس نے جھوٹ، خیانت، منافقت، وحشت اور جبر کی انتہائیں کردیں۔ سارے سماج کی رگوں میں رجعت اور بنیاد پرستی کا زہر گھول دیا۔ اور آج اِس ملک کے بڑے بڑے جج ایک ایسے شخص سے صادق اور امین ہونے کی توقع کرتے ہیں جس کی سیاست کا آغاز اور ابھار ہی ضیاالحق کا مرہون منت تھا!
لیکن اس سے بھی اہم حقیقت یہ ہے کہ سرمائے کا یہ نظام ہی ’’صادق اور امین‘‘ ہونے کی ہر گنجائش کو ختم کرڈالتا ہے۔ یہاں نیچے سے اوپر تک جھوٹ اور فریب ناگزیر ضروریات بن جاتے ہیں۔ ایک ریڑھی پر بیوپاری اور گاہک کے درمیان جو سودے بازی ہوتی ہے اس میں قیمت لگائی اور بتائی کچھ اور جاتی ہے، سودا کسی تیسری قیمت پر ہوتا ہے۔ یہی سلسلہ اوپر جاتے جاتے زیادہ مکار، وحشی اور پرفریب ہوتا چلا جاتا ہے۔ چارسو پلاٹوں کی چار ہزار فائلیں بیچی جاتی ہیں اور پھر ’’میرا گھر میرا گلشن‘‘ کے جھوٹے خوابوں میں غرق درمیانہ طبقہ دیوالیہ ہوجاتا ہے۔ سامراجی اجارہ داریوں کے لین دین میں باقاعدہ لابنگ ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ امریکی سینٹ میں انتخابات سے لے کر صدور کے منتخب ہونے تک کے عمل میں جنگی بربادیوں کے آلات بنانے والی اجارہ داریوں سے لے کر نجی مالیاتی ادارے تک جو ا لگاتے ہیں۔منڈی اور منافع کے نظام میں کوئی کاروبار ایسا نہیں ہے جس میں دھوکہ دہی اور فریب نہ ہو۔ یہاں تک کے ڈاکٹر بننے والے علاج کے لیے نہیں بلکہ پیسے کمانے کے لیے اس شعبے کا رخ کرتے ہیں اور نام اس کو دردِ انسانیت کا دیتے ہیں۔یہی کیفیت دوسرے ہر شعبے میں ہے۔
اس جھوٹ اور بددیانتی کی جہاں سب سے زیادہ بھرمار ہے وہ سیاست کا شعبہ ہے۔ پارٹیوں کے فنانسر بھاری رقوم لگاتے ہیں اور پھر اس سرمایہ کاری سے کئی گنامنافع حاصل کرتے ہیں۔ اسی آئین پر حلف لے کر سیاستدان لوٹ مار کا بازار گرم کرتے ہیں۔ ریاست کے جاہ وجلال رکھنے والے اداروں کے بڑے بڑے سورما پراپرٹی ٹائیکونوں سے تنخواہیں لے کر ان کے جرائم کا تحفظ کرتے ہیں ۔ ملاں اپنی مذہبی اور فرقہ وارانہ دہشت گردی کے ذریعے کالے دھن کے ان داتاؤں کے آلہ کار بنتے ہیں اور اس کام کا معاوضہ کروڑوں اربوں تک پہنچ چکا ہے۔ جب سارا معاشرہ ہی جھوٹ، فریب اور منافقت پر قائم و دائم ہو تو ا یسے میں ’’صادق اور امین‘‘ ہونا اِس طبقاتی نظام میں آگے بڑھنے اور اوپر آنے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ وزیراعظم تو درکنار کوئی ’’صادق اور امین‘‘ آدمی یہاں دیانتداری سے کونسلربھی نہیں بن سکتا۔ یہ صورتحال جہاں اس سرمایہ دارانہ نظام کے اذیت ناک بحران کی غمازی کرتی ہے وہاں اس عہد اور وقت کے کردار کو بھی عیاں کرتی ہے۔ جہاں جج آپس میں یہ طے کرکے فیصلہ دیں کہ اس جعلی ادارے کی جھوٹی ساکھ بچانے کے لیے کس نے حق میں اور کس نے خلاف فیصلہ دینا ہے تو فیصلہ اتنا دوغلا بن جاتا ہے کہ سوائے تذبذب کے کچھ نہیں دے سکتا۔ یہ تمام وارداتیں ایک بوسیدہ اور متروک نظام کو بچانے کے لیے کی جاتی ہیں۔ لیکن وقت تو چلتا ہی رہتا ہے، رکتا نہیں ہے ۔زمانے بھی بدلتے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں کہ جب ان بلندوبانگ مندروں کے انصاف سے ستائے اور طبقاتی استحصال سے اکتائے ہوئے محنت کش ایک بغاوت پر اتریں گے ۔ یہ بغاوت ایک سوشلسٹ انقلاب بن کر اس فریبی اور جھوٹے نظام کا خاتمہ کرکے انسان کو جھوٹ اور منافقت کی ضرورت سے ہی آزاد کرد ے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*