بحرانوں میں ڈگمگاتی سرمایہ دارانہ معیشت!

| تحریر: راب سیول، ترجمہ: حسن جان |

ایک دفعہ پھر عالمی معیشت خطرات کی زد میں ہے۔ یونان کا بحران دوبارہ شہ سرخیوں میں ہے اور پورے یورپ کو اپنے ساتھ لے ڈوبنے کے خطرا ت موجود ہیں۔
euro crisis cartoonسرمایہ داری کے بے فکری کے دن اب قصہ ماضی بن چکے ہیں۔ سرمایہ داری کا بحران، دو عالمی جنگوں کے درمیانی عرصے کی طرح گہرا اور طویل ہے۔ مرکزی بینک اور حکومتیں اس بحران سے بوکھلائے ہوئے ہیں اور اس سے نکلنے کے لیے سر کھپا رہے ہیں۔ 2008ء کے بحران کے بعد، جو 1930ء کے بعد سب سے گہرا بحران ہے، سرمایہ دارانہ نظام میں ایک معیاری تبدیلی اور ایک نیا موڑ سامنے آیا۔ بحران، معاشی جمود اور تفریط زر کا دور دورہ ہے۔ یورپ میں قیمتیں چار ماہ سے مسلسل گر رہی ہیں۔ کساد بازاری کی تمام تر قیاس آرائیوں کے باوجود، سرمایہ داری پہلے سے ہی کساد بازاری کا شکار ہے۔ بحالی کی تمام تر علامات ہوا ہوچکی ہیں۔ معاشی پیداوار میں معمولی اضافے کے بعد زوال یا کمزور اشاریے واپس آجاتے ہیں۔ وہ جو کچھ بھی کریں، اس پیچیدہ بحران سے نہیں نکل سکتے۔ اصطلاحاً یہ ایک نیا ’’معمول‘‘ ہے۔
آئی ایم ایف نے اپنی سال میں دو مرتبہ شائع ہونے والی ورلڈ اکنامک آؤٹ لُک میں ایک دفعہ پھر ’’طویل جمود‘‘ (Secular Stagnation)، جو ہر جگہ سرایت کرچکا ہے جس کی مثال تیل اور اجناس کی گرتی ہوئی قیمتیں ہیں، کے خطرات سے آگاہ کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے، ’’دنیا کی بڑی معیشتوں کو کم شرح ترقی کے طویل دور کے لیے تیار رہنا چاہیئے، جس کی وجہ سے حکومتوں اور کمپنیوں کو اپنی قرضوں کی سطح کو نیچے لانے میں مشکلات کا سامنا ہوگا۔‘‘ یہ انتبا ہ اس خوف کو مزید گہرا کرے گا کہ عالمی معیشت کوکم شرح ترقی کے ایک طویل دور کا سامنا ہے جس کے اثرات محض قرضوں تک محدود نہیں ہیں۔ رپورٹ میں خوفناک انداز میں یہ بھی دکھا یا گیا کہ موجودہ عالمی معاشی بحران گزشتہ بحرانوں سے زیادہ گہرا ہے اور عارضی اثرات کی بجائے معاشی ترقی کی شرح کو مستقلاً کم کر سکتا ہے۔ بالخصوص چین کی پیداوار میں تیز سکڑاؤ آسکتا ہے، ایک ایسے وقت میں جب چین معیشت کو متوازن کرنے کے لیے سرمایہ کاری سے کھپت کی طرف جانے کی کوشش کر رہا ہے۔ نام نہاد ابھر تی ہوئی معیشتوں میں معاشی سست روی مزید تیز ہوگی۔ ممکنہ پیداوار میں نمو، جوبحران سے پہلے مسلسل بڑھتی رہی، 2008ء سے 2014ء کے درمیان 6.5 فیصد سے کم ہوکر اگلے پانچ سالوں میں 5.2 فیصد تک گر سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں 2015ء اور 2020ء کے درمیان پیداواری نمو سالانہ 1.6 فیصد ہوگی۔
ہر کوئی اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن ایسا کرنے سے دوسری جگہوں پر مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ہر کسی کو اپنی پڑی ہے۔ امریکی بورژوازی کے اپنے عزائم ہیں۔ وہ اب پراعتماد ہیں کہ وہ بالآخر لیہمن برادرز کے انہدام کے چھ سال بعدبحالی کی طرف گامزن ہیں اور وہ مصنوعی سہاروں کو ختم کرکے معمول پر آسکتے ہیں۔ انہوں نے مقداری آسانی کو خاتمہ کر دیا ہے اور شرح سود کو دوبارہ بڑھانے کی بات کر رہے ہیں۔ یورپین سنٹرل بینک اپنے ڈھنگ سے مقداری آسانی لاگو کر رہی ہے جس سے ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی منڈی میں امریکہ کی مسابقتی پوزیشن متاثر ہوئی ہے۔ امریکہ میں حالیہ سست روی اس کی کمزور برآمدات کی وجہ سے ہے۔ کوریا، کینیڈا، سویڈن، آسٹریلیا اور حتیٰ کہ چین نے اپنی کم ہوتی ہوئی تجارتی مسابقتی صلاحیتوں کے پیش نظر اپنی شرح سود میں غیر معمولی کمی کی ہے۔ تمام ممالک ایک دوسرے کے مقابلے میں اپنی کرنسی کی قیمتیں نہیں گرا سکتے لیکن وہ سب اجناس اور خدمات کی عمومی قیمتوں کے حوالے سے اپنی کرنسیوں کی قدر میں کمی کرسکتے ہیں۔ اس سے تجارتی جنگ کے چھڑنے کے امکانات ہیں۔
ماضی میں ابھرتی ہوئی منڈیوں نے زائد سرمائے کو جذب کر کے شرح نمو کو بڑھایا اور پھر انہی اثاثوں کو دوبارہ مغربی معیشتوں میں کھپا یا۔ اس معاشی سرگرمی نے ایک عرصے تک سرمایہ داری کو آگے بڑھایا۔ اب یہ سب ختم ہوچکا ہے۔ ایک معکوس عمل میں سرمایہ ان ابھرتی ہوئی معیشتوں سے باہر منتقل ہورہا ہے۔ جس سے پوری عالمی معیشت میں عدم استحکام جنم لے رہا ہے۔ ان کے اثرات ترقی کی بجائے تنزلی لا رہے ہیں۔ فنانشل ٹائمز نے وضاحت کی ہے: ’’ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ذخائر میں اضافہ، جو 2004ء میں 1.7 ٹریلین ڈالر تھا، ایک دہائی تک عالمی معیشت کی بنیاد تھا۔ ان ابھرتی ہوئی معیشتوں کو ٹریڈ سرپلس، مالیاتی اثاثوں کی خرید و فروخت اور براہ راست سرمایہ کاری سے ملنے والے سرمائے کو دوبارہ امریکی اور یورپی ڈیٹ (قرض) مارکیٹ میں لگایا گیا جس سے قرضوں کے بلبوتے پرترقی کرنے والی ترقی یافتہ معیشتوں کو مالیاتی سہارا مل گیا۔‘‘ مضمون میں آگے لکھا ہے، ’’ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ یہ عمل اب اپنی الٹ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ایچ ایس بی سی کے ایک ماہر معیشت فریڈرک نیومن نے کہا، یہ سب ایک پریشان کن چیز کی غمازی کر تا ہے۔ اگر ابھرتی ہوئی معیشتیں اب مزید غیر ملکی کرنسی کے ذخائر مجتمع نہیں کر پارہیں تو عالمی بچت کی مقدار کتنی زیادہ ہوگی۔ جب مغرب کی نرم مالیاتی پالیسی سخت ہوگی تو دنیا ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ذخائر کی ری سائیکلنگ کے نہ ہونے سے بہت نقصان اٹھائے گی۔ ‘‘
حالیہ دنوں میں آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی مجموعی غیر ملکی کرنسی کے ذخائر 2014ء میں 114.5 ارب ڈالر کی گراوٹ سے 7.74 ہزار ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ 1995ء سے شائع ہونے والے آئی ایم ایف کے اعداد وشمار میں پہلی مرتبہ یہ گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔ اپنے عروج پر، پچھلے سال کی دوسری سہ ماہی کے اختتام پر، ابھرتی ہوئی منڈیوں کے ریزرو 8.06 ہزار ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔ پندرہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے آئی این جی کی جانب سے اکٹھے کئے گئے اعداد و شمار یہ دکھاتے ہیں کہ اس سال جنوری اور فروری میں گراوٹ اُ س وقت مزید تیز ہوئی جب یہ ذخائر مجموعی طور پر 299.7 ارب ڈالر مزید سکڑ گئے۔ اعداد و شمار یہ بھی دکھاتے ہیں کہ ذخائر دسمبر، جنوری اور فروری کے تین مہینوں میں بے نظیر انداز میں سکڑ گئے ہیں۔
جاپان بھی دہائیوں کی سست رفتار نمو اور تفریط زر سے نکلنے کے لیے اپنے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔ اس کے باوجود مقداری آسانی کے اجرا سے افراط زر میں معمولی اضافہ ہی ہوا ہے۔ مندی اور تفریط زر وبائی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کے باوجود ین کی قدر میں کمی نے باقی دنیا کے مقابلے میں اس کی برآمدات کو زیادہ مسابقتی بنا دیا ہے۔ چین ایک انہدام کے خوف سے اپنی پوزیشن کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اس نے اپنی اندرونی طلب کو متوازن بنانے کی کوشش کی ہے۔ اس سے کرنسی کی شرح قدر میں مسابقتی کمی کا آغاز ہو گیا ہے جس میں ہر ملک اپنے مسائل کو دوسروں کی قیمت پر حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہم پہلے ہی ’’کرنسی کی جنگ‘‘ کی اصطلاح سے واقف ہیں۔ تقریباًتمام بڑے مرکزی بینک، اگر ایک دوسرے کے مقابلے میں نہیں تو اجنا س اور خدمات کے مقابلے میں یقینی طور پر، اپنی کرنسیوں کی قدر میں کمی کر رہے ہیں۔
1930ء سے ملتی جلتی صورت حال دوبارہ جنم لے رہی ہے جب کرنسی کی قدر میں مسابقتی کمی کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ اس سے کچھ بھی حل نہیں ہوگا۔ یورپ کی جیت امریکہ کی ہار ہے۔ ایک ملک عارضی طور پر تو بچ نکل سکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ عالمی معیشت بھی بچ گئی۔ اس کا نتیجہ 1930ء کی دہائی کی شکل میں ہی نکل سکتا ہے جب ایک دوسرے کی قیمت پر بچ نکلنے کی پالیسی سے سرمایہ داری کا انہدام ہوا تھا۔ امریکی ایسانہیں کرنا چاہتے کہ تفریط زر کے عالم میں اس کی کرنسی کی قدر سب سے زیادہ ہو۔ یورپ کی حالت، جو تفریط زر کے بحران کی زد میں ہے، عالمی نقطہ نظر سے معاملات کو مزید بگاڑ رہی ہے۔ کفایت شعاری کے اقدامات معیشت سے بچی کھچی طلب بھی ختم کر رہے ہیں جس سے معاشی حالت مزید خراب ہوجائے گی۔ محنت سرمائے کے ہاتھوں بری طرح ہار گئی ہے۔ 18 جنوری 2014ء کے اکانومسٹ کے ایک مضمون ’’بڑھتی ہوئی لہر‘‘میں لکھا ہے، ’’اجرتیں ایک دہائی سے ایک ہی سطح پر ہیں۔ ریسرچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ اس وجہ سے ہے کیونکہ سرمایہ محنت کی نسبت زیادہ پر کشش ہے۔ اسی وجہ سے 80ء کی دہائی سے سرمائے کے مالکان کا عالمی دولت میں حصہ بڑھ گیا جبکہ محنت کا حصہ گھٹ گیا۔‘‘ اس سے طلب میں بھی کمی ہوئی ہے۔ جرمنی پراپنے ٹریڈ سرپلس کو برقرار رکھنے کا خبط سوار ہے اور اسی ماڈل کو پورے یورپ پر لاگو کرنا چاہتا ہے۔ اس سے جنوبی یورپ میں فاقے ہوں گے۔ یونان یورپی بحران کا مرکز ہے۔ یہ یقینی طور پر کھائی کے دہانے پر ہے۔ کوئی بھی حادثہ یونان کو یورو سے فارغ کرکے ایک عمومی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ مارٹن وولف کے مطابق، ’’یوروزون سے ایک حادثاتی انخلا کافی حد تک ممکن ہے۔‘‘ وہ نتائج کے حوالے سے قنوطیت کا شکار ہے۔ کسی بھی حل کے لیے وقت گزرتا جا رہا ہے اور موجودہ حالات میں کوئی بھی حل ممکن نہیں۔ سرمایہ داری کے تضادات بہت گہرے ہیں۔ ہر ملنے والی مہلت آنے والے برے دنوں کو محض ملتوی کر تی ہے لیکن اس سے وقت آنے پر ٹکر مزید بھیانک ہوگی۔
حتیٰ کہ اگر یورپ میں جزوی بحالی ہوتی ہے، جو مبہم ہے، پھر بھی یہ سوالات اپنی جگہ موجود رہیں گے کہ اس بحالی سے ان لوگوں کو کیسے فائدہ پہنچے گا جو کساد بازاری اور معاشی جمود کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ یوروزون میں بیروزگاری 11.2 فیصد ہے اور بہت کم ماہرین معیشت اس بات کو مانتے ہیں کہ نمو کی رفتار اتنی تیز ہوگی کہ کمپنیاں مزید مزدور وں کو ملازمت پر لیں گے۔ ای سی بی کے حالیہ تخمینے میں یہ بات کہی گئی ہے کہ یوروزون کا بحران اتنا شدید ہے کہ 1.1 ٹریلین یورو کی مقداری آسانی کا پروگرام مکمل طور پر لاگو ہونے کے بعد بھی بیروزگاری کی شرح دو عددی ہی رہے گی۔ شائع شدہ تخمینوں کے مطابق، ای سی بی کے معیشت دانوں کو یقین ہے کہ 2017ء (مرکزی بینک کو امید ہے کہ اس وقت تک خطے کی دوری بحالی مکمل ہوچکی ہوگی!) تک بھی لیبر مارکیٹ کا 9.9 فیصد بیروز گار ہی رہے گا۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ یوروزون کا بحران اتنا تباہ کن رہا ہے کہ اگر طلب دوبارہ سنبھل جائے پھر بھی اس نے معیشت کی روزگار تخلیق کرنے کی صلاحیت کومستقلاً مکمل طور پر تباہ کردیا ہے۔ دوسر ے الفاظ میں بیروزگاری ایک مستقل شکل اختیار کر چکی ہے۔
یوروزون میں نوجوان بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ سپین اور یونان میں پچیس سال سے کم عمر کے 50 فیصد سے زائد لوگ بیروز گار ہیں جو کل ورک فورس کا ایک چوتھا ئی ہے۔ بحران سے پہلے، خطے کی بڑی معیشتوں کی بیروزگاری کی شرح عمومی طور پر ایک جیسی تھیں۔ اس وقت، خطے کی سب سے بڑی معیشت جرمنی میں نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 7.1 فیصد ہے۔ اٹلی میں پچیس سال سے کم عمر روزگار تلاش کرنے والے لوگوں کا 40 فیصد سے زائد بیروز گار ہے۔ لندن بزنس سکول کی مس ریشلن نے کہا، ’’اٹلی میں جوانوں کی بڑی تعداد موجود ہے جن کے مستقلاً بیروزگار رہنے کا خطرہ موجود ہے اور آنے والے وقت میں اس سے سیاسی دباؤ جنم لے گا۔ اٹلی کی اپوزیشن اس وقت تقسیم ہے لیکن یہ ہمیشہ ایسا نہیں رہے گا۔‘‘
واضح طور پر، سرمائے کے پالیسی ساز سرمایہ داری کے بحران کو نہیں سمجھتے۔ اس طرح کا علم سرمایہ داری کی ابدی فطرت پر سوالیہ نشان لگا تا ہے اور وہ اس طرح کے تخریبی خیالات سے اپنے آپ کو دور رکھتے ہیں۔ یہ نئی بات نہیں، ڈیڑھ سو سال پہلے مارکس نے اس بات کا پتہ لگا لیا تھا، ’’یہ بات قبول کرنااس (ریکارڈو) کے لیے ناممکن ہے کہ بورژوا طرز پیداوار، پیداواری قوتوں کی آزادانہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، ایک ایسی رکاوٹ جو بحرانوں کے دوران واضح ہوتی ہے اور ضمناً زائد پیداوار میں جو بحرانوں کا بنیادی مظہر ہے۔‘‘
’’ زائد پیداوار سرمائے کی پیداوار کے عمومی قانون سے خاص طور پر مشروط ہے۔ پیداوار پیداواری قوتوں کے مطابق ہوتی ہے، یعنی دیئے گئے سرمائے کی مقدار کس حد تک زیادہ سے زیادہ محنت کی مقدار کو استعمال کر تی ہے، منڈی کی حقیقی حدود اور قوت خرید کی ضرورت سے قطع نظر‘‘۔ (مارکس، قدر زائد کے نظریات)
یہی سرمایہ داری کا وہ بنیادی تضاد ہے جو موجودہ عالمی بحران کی وجہ ہے۔ نظام اپنی آخری حدود تک پہنچ چکا ہے۔ نام نہاد بحالی ہمیشہ کی طرح کمزور ہے۔ سرمائے کے پالیسی ساز ایک پالیسی سے دوسری پالیسی کے بیچ ڈول رہے ہیں جبکہ افق پر نئے طوفان جنم لے رہے ہیں۔ نتیجتاً وہ جو کچھ بھی کریں، غلط ہوگا۔
اسی دوران، امریکی سامراج کو اپنی معاشی سست روی کی پڑی ہے اور یورپ سے مانگ کو بڑھانے کا مطالبہ کر رہاہے جبکہ عالمی معیشت کو مستقلاً مانگ کی کمی کا سامناہے۔ ’’آپ کے بعد‘‘ ان کامعمول کا شائستہ جواب ہوتا ہے۔ جرمنی عالمی معیشت کو بیل آؤٹ کرکے اپنی پوزیشن کو کیوں خطرے میں ڈالے، اگر وہ کر بھی سکتا ہو؟ ہر سرمایہ دار طبقہ اپنے مفادات کی حفاظت کرنے کی کوشش کر تا ہے۔ وہ چاہیں گے کہ دوسرے ممالک اپنی منڈیوں کو وسعت دیں لیکن وہ اپنی منڈیوں کے بارے میں بات نہیں کریں گے۔ یہ سرمایہ دارانہ مسابقت کی منطق ہے۔ اس تضاد کے سامنے عقلی رویہ جواب دے جا تا ہے کیونکہ ان کو گہری کساد بازاری کا سامنا ہے۔ اس بنیاد پر کوئی حل موجود نہیں۔ وہ خود اس بات کو تسلیم کر تے ہیں۔ بحران کے وسیع سیاسی اثرات ہوں گے۔ جس طرح گڈون ریشمن، فنانشل ٹائمز کے نمائندے نے کہا ہے، ’’ایک مندی یا طویل کساد بازاری صرف معاشی بد حالی نہیں لاتی۔ یہ عمومی نظریات کو رسوا کر دیتی ہے اور سیاسی ٹولوں کے خلاف غم و غصے کو جنم دیتی ہے اور اس کے اثرات معاشی بحالی کے بعد بھی جاری رہتے ہیں۔ معاشی بحالی یا یورپ کی معاشی بے چینی کے احساس کو ختم کرنے کے امکانات بالکل موجودنہیں ہیں۔ پورے یورپ میں ایک خوف کا عالم ہے کہ جہاں تمام اقوام اپنے وسائل سے بڑھ کر رہ رہی تھیں اور اب انہیں معیار زندگی میں ایک مستقل گراوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یونا ن، پرتگال اور آئرلینڈ میں اس گراوٹ نے معاشی بحران کی شدت کی وجہ سے زیادہ تیزی اور وحشیانہ انداز میں اپنا اظہار کیا، جس کی وجہ سے اجرتوں اور پنشن میں کٹوتی ہوئی۔ لیکن وہ ممالک جو اس بد ترین بحران سے بچ گئے انہیں بھی معیار زندگی میں گراوٹ کا سامنا ہے اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ کچھ ممالک میں نوجوانوں کی بیروزگاری کی شرح خوفناک حد تک بڑھ گئی ہے: سپین میں 50 فیصد سے اُوپر، اٹلی میں 40 فیصد، فرانس 23 فیصد اور برطانیہ میں 17 فیصد۔ ان تمام تر ممالک میں ایک خوف موجود ہے کہ آنے والی نسلیں اپنے والدین کی نسبت معاشی طور پر کم تر محفوظ ہوں گی۔ نتیجتاً حتیٰ کہ جب حکومتیں نسبتاً مضبوط معاشی ترقی کی مبالغہ آرائی کرنے کی حالت میں بھی ہو ں، سیاسی قیادت کے حوالے سے مایوسی پا ئی جاتی ہے۔ برطانیہ میں مئی کے عام انتخابات میں، اس بات کے امکانات ہیں کہ بعد از جنگ سیاست پر حاوی رہنے والی پارٹیوں، لیبر اور کنزرویٹو، کے ووٹ کم ہوجائیں اور سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ میں قوم پرست پارٹیوں کو بڑی کامیابیا ں ملیں۔‘‘ (فنانشل ٹائمز، 23 مارچ 2015ء)
اسٹیبلشمنٹ مخالف پارٹیوں کا ابھار بحران کی غمازی کرتا ہے۔ یہ شعور میں ایک بڑی تبدیلی ہے اور لوگ سرمایہ دارانہ نظام پر سوالات اٹھا ر ہے ہیں۔ ایک بات مکمل طور پر واضح ہے کہ سرمایہ داری کی بنیاد پر کوئی حل موجود نہیں۔ یور پ اور دنیا انقلابی اتھل پتھل کے ایک نئے دور کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں مارکسزم کے نظر یات کو وسیع پیمانے پر پذیرائی ملے گی۔

متعلقہ:

سرمایہ دارانہ نظام کیوں متروک ہے؟

بہتات میں قلت سے سسکتی انسانیت

یونان: سوشلزم یا بربادی!

چینی معجزے کی ناکامی

بیکاری کا عذاب!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*