برطانیہ کی علیحدگی اور یورپی یونین کا مستقبل

| تحریر: عمران کامیانہ |

23 جون کو برطانیہ (United Kingdom) میں ہونے والے ریفرنڈم میں اکثریت نے یورپی یونین سے علیحدگی کا ووٹ دیا ہے۔ ریفرنڈم کے بیلٹ پیپر پر سوال پوچھا گیا تھا کہ ’’کیا برطانیہ کو یورپی یونین کا ممبر رہنا چاہئے یا یورپی یونین کو چھوڑ دینا چاہئے؟‘‘ ریفرنڈم کا نتیجہ نہ صرف برطانیہ بلکہ دنیا بھر کے سیاسی تجزیہ نگاروں کے لئے خاصا غیر متوقع تھا۔ آخری وقت تک پیش گوئی کی جا رہی تھی کہ اگرچہ تھوڑے مارجن سے ہی سہی لیکن اکثریت یورپی یونین میں رہنے کا فیصلہ کرے گی تاہم نتیجہ اس کے برعکس رہا۔ 52 فیصد لوگوں نے یورپی یونین سے علیحدگی جبکہ 48 فیصد نے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔ ٹرن آؤٹ بھی غیر متوقع طور پر زیادہ رہا۔ ووٹ ڈالنے کے اہل 71.8 فیصد افراد نے ووٹ ڈالے جن کی کل تعداد تقریباً 3 کروڑ بنتی ہے۔ یہ برطانیہ میں 1992 ء کے عام انتخابات کے بعد سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ تھا۔
brexist latuffیہ نتائج اگر عملی جامہ پہنتے ہیں تو برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہونے والا پہلا ملک بن جائے گا۔ تاہم بی بی سی کے مطابق ’’علیحدگی کے حق میں ووٹ کا مطلب یورپی یونین سے فوری اخراج نہیں ہے۔ یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہے جسے مکمل ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں‘‘۔ علیحدگی کے لئے برطانیہ کو پہلے یورپی کونسل کے صدر کو مطلع کرنا پڑے گا۔ علیحدگی با ضابطہ معاہدے کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوتا تو علیحدگی کے بارے میں مطلع کرنے کے دو سال بعد برطانیہ کی یورپی یونین کی ممبر شپ معطل ہو جائے گی (یونین کے قوانین کے مطابق)۔ تاہم اس صورت میں دو سال تک یورپی یونین کے قوانین اور معاہدے برطانیہ پر لاگو رہیں گے لیکن یورپی یونین کی فیصلہ سازی میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہو گا۔ یورپی یونین سے علیحدگی کے باقاعدہ معاہدے کی منظوری یورپی یونین کے اکثریتی ممبران اور یورپی پارلیمنٹ سے لینا ضروری ہو گا۔ تاہم ابھی تک کچھ واضح نہیں ہے کہ علیحدگی کا عمل کس طرح آگے بڑھے گا اور کیا کیا پیچیدگیاں آڑے آ سکتی ہیں۔ فنانشنل ٹائمز کے مطابق ’’یورپی یونین کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ ہم سے علیحدگی کے عمل سے متعلق ہزار ہا پاگل کر دینے والے سوالات پوچھے جا رہے ہیں اور مستقبل قریب میں ہمارے پاس ان کا کوئی جواب نہیں ہے‘‘۔
اسی طرح ریفرنڈم کے نتائج قانونی طور پر خود بخود نافذ العمل نہیں ہیں بلکہ ریفرنڈم کی نوعیت ’ایڈوائزری‘ ہے اور برطانیہ کی پارلیمنٹ کو اس ریفرنڈم کی روشنی میں یورپی یونین سے باقاعدہ علیحدگی کے فیصلے کی منظوری دینی ہے۔ واضح رہے کہ کنزرویٹو پارٹی، لیبر پارٹی، سکاٹش نیشنل پارٹی،لبرل ڈیموکریٹس کے اکثریتی اور بعض صورتوں میں تقریباً تمام ممبران پارلیمنٹ علیحدگی کے خلاف تھے۔ یوں اگر پارلیمنٹ علیحدگی کی منظوری نہیں دیتی تو نیا سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وقت سے پہلے عام انتخابات کروائے جائیں جن میں یورپی یونین میں رہنے یا علیحدہ ہونے کا سوال انتخابی مہم کا مرکزی نقطہ ہوگا۔ تاہم معینہ وقت سے پہلے، یعنی 2020ء سے پہلے انتخابات کے لئے بھی پارلیمنٹ کے دوتہائی ارکان کی منظوری درکار ہوگی۔
ریفرنڈم کے حتمی نتائج آنے کے بعد برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون (جو یورپی یونین کے ساتھ رہنے کی مہم چلا رہا تھا) نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ وہ اس سال کے آخر تک اپنے عہدے پر کام کرے گا اور ملکی حالات کو سنبھالنے کی کوشش کرے گا لیکن باقاعدہ علیحدگی کا عمل کسی نئے وزیر اعظم کے تحت ہونا چاہئے۔ نئے وزیر اعظم کا چناؤ برسر اقتدار کنزرویٹو پارٹی (ٹوری پارٹی) کی آنے والی کانفرنس میں متوقع ہے۔ لیکن کنزرویٹو پارٹی میں داخلی تضادات شدید ہیں۔ کارپوریٹ میڈیا پر ہر جگہ ڈیوڈ کیمرون کو ناکام جواری قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈیوڈ کیمرون نے اس ریفرنڈم کا اعلان ایک جوا سمجھ کر انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست اور یورپی یونین مخالف ’یو کے انڈپنڈنٹ پارٹی‘ (UKIP) کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا مقابلہ کرنے اور اپنی ساکھ میں اضافے کے لئے کروایا تھا اور اسے امید تھی کہ 2014ء کے سکاٹش ریفرنڈم کی طرح اس بار بھی اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر لے گا لیکن الٹ نتیجہ برآمد ہوا۔ کنزرویٹوپارٹی کے 185 ممبران پارلیمنٹ یورپی یونین میں رہنے کے حق میں مہم چلا رہے تھے، اب وہ کیمرون کے استعفے کے بعد علیحدگی کے حامی کسی شخص کو نیا وزیر اعظم نہیں بننے دیں گے اور پارٹی میں انتشار بڑھے گا۔ اسی طرح لیبر پارٹی کے دائیں بازو کو بھی بائیں بازو کے نومنتخب پارٹی لیڈر جیرمی کاربن پر حملہ کرنے کا نیا موقع مل گیا ہے۔ جیرمی کاربن کی قیادت میں لیبر پارٹی نے بھی یورپی یونین میں رہنے کی مہم چلائی تھی لیکن علیحدگی کے ووٹ کی کامیابی کو لیبر پارٹی کا دایاں بازو جیرمی کاربن کی کمزوری اور ناکامی قرار دے کر ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ تاہم کاربن نے واضح کیا ہے کہ وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔
برطانیہ کے اندر مختلف خطوں میں نتائج مختلف رہے۔ انگلینڈ میں 53.4 فیصد نے یورپی یونین سے علیحدگی جبکہ 46 فیصد نے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔ ویلز (Wales) میں یہ شرح بالترتیب 52.2 فیصد اور 47.5 فیصد رہی۔ انگلینڈ اور ویلز کے برخلاف سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں اکثریت نے یورپی یونین کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی۔ سکاٹ لینڈ میں یورپی یونین کے ساتھ رہنے کا ووٹ خاصا بھاری تھا اور 62 فیصد ووٹروں نے یہ خواہش ظاہر کی۔ اسی طرح شمالی آئر لینڈ میں 55.8 فیصد نے یورپی یونین میں رہنے کا ووٹ دیا۔
اس ریفرنڈم نے بہت سے دوسرے مضمرات اور نتائج کے علاوہ برطانیہ کے اندر موجود دراڑوں کو بھی ایک بار پھر واضح کردیا ہے اور قومی تضادات پھر سے بھڑک اٹھے ہیں۔ مثلاً انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ میں یورپی یونین سے متعلق متضاد آرا سامنے آئی ہیں۔ اس کے بعد سکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کے امکانات پھر سے بڑھ گئے ہیں اور سکاٹ لینڈ میں برطانیہ کے ساتھ رہنے یا علیحدہ ہونے سے متعلق ایک اور ریفرنڈم کی بات کی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ ستمبر 2014ء کے سکاٹش ریفرنڈم میں 44 فیصد افراد نے برطانیہ سے علیحدگی کا ووٹ دیا تھا، ایسا کوئی ریفرنڈم اگر دوبارہ ہوتا ہے تو واضح امکانات ہیں کہ اکثریت علیحدگی کا ووٹ دے گی۔ ایسی ہی صورتحال شمالی آئرلینڈ میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔
برطانیہ میں دائیں بازو کے نسل پرست، قوم پرست اور مہاجرین مخالف (Anti Immigration) سیاسی رجحانات نے ریفرنڈم کے نتائج کو اپنی فتح سے تعبیر کیا ہے۔ قوم پرست ’یو کے انڈپنڈنٹ پارٹی‘ کے سربراہ نائجل فراژ نے 23 جون کو ’’برطانیہ کے یوم آزادی‘‘ سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’یورپی یونین ناکام ہو رہی ہے، یہ مر رہی ہے‘‘۔ نہ صرف برطانیہ بلکہ پورے یورپ میں یورپی یونین اور مہاجرین مخالف انتہائی دائیں بازو کی پارٹیوں کو ان نتائج سے تقویت ملی ہے اور آنے والے دنوں میں قوم پرستوں کی جانب سے دوسرے ممالک میں بھی ایسے ریفرنڈم کے مطالبات اٹھیں گے جس سے یورپی یونین میں عدم استحکام اور انتشار بڑھے گا۔ یہ صورتحال یورپی یونین کے حقیقی آقاؤں یعنی جرمنی کے حکمرانوں کے لئے خاصی پریشان کن ہے۔ مثلاً PEW کے تازہ سروے کے مطابق فرانس کی 61 فیصد آبادی یورپی یونین کے بارے میں ’غیر مثبت‘ خیالات رکھتی ہے۔ فرانس میں انتہائی دائیں بازو کی ’نیشنل فرنٹ‘ پارٹی کی مقبولیت گزشتہ کچھ عرصے میں تیزی سے بڑھی ہے جو یورپی یونین سے علیحدگی چاہتی ہے۔ جرمنی اور فرانس کے بد ترین معاشی جبر، بلکہ معاشی دہشت گردی کا شکار یونان جیسے ممالک میں صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
برطانیہ کے دورے پر آئے امریکہ کے ری پبلکن پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ، جس کی انتخابی مہم کے بنیادی نکات ہی نسلی تعصب اور مہاجرین مخالفت ہیں، نے ریفرنڈم کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’بہت زبردست ہوا، شاندار اور تاریخی ریفرنڈم تھا…ہم بہت خوش ہیں…لوگ بارڈروں کی وجہ سے بہت پریشان ہیں۔ وہ غصے میں ہیں کیونکہ ان کے ممالک میں ہر طرف سے لوگ آ رہے ہیں‘‘۔ غرضیکہ ریفرنڈم کے نتائج سے عوام کی مختلف ممالک کے درمیان آزادانہ نقل و حمل کے مخالفین، مہاجرین مخالف اور سرحدوں کو سخت کرنے کے علمبردار انتہائی دائیں بازو کے نسل پرست، قوم پرست اور نیم فسطائی رجحانات کو تقویت ملی ہے۔
ریفرنڈم کے نتائج نے نہ صرف برطانیہ بلکہ پورے یورپی یونین اور اس سے باہر بھی سیاسی اور معاشی طور پر بھونچال برپا کر دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق عالمی سٹاک مارکیٹوں کا حجم ریفرنڈم کے نتائج کے بعد 2 ہزار ارب ڈالر سکڑ گیا ہے۔ ا کانومسٹ کے مطابق ’’یورپی یونین کے لئے برطانیہ کی علیحدگی ایک تباہی ہے‘‘۔ اکانومسٹ نے صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر برطانیہ میں ایک نئے معاشی بحران (Recession) کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ اس سال کے آخر تک اگر برطانیہ کی معیشت بحران میں جاتی ہے ( جس کا امکان کئی مین سٹریم بورژوا معیشت دان ظاہر کر رہے ہیں) تو یورپ کے دوسرے ممالک (بالخصوص جرمنی، فرانس، اٹلی) کی برطانیہ کو برآمدات بھی سکڑیں گی اور یوں برائے نام معاشی بحالی ایک نئے اور زیادہ گہرے بحران میں پورے یورپی یونین کو مبتلا کر سکتی ہے۔ غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر برطانوی پاؤنڈ کی قدر میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ پاؤنڈ کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 11 فیصد کم ہوگئی ہے اور یہ 31 سال کی کم ترین سطح پر چلا گیا ہے۔ کرنسی کی قدر میں کمی عام طور پر برآمدات بڑھانے کا نسخہ سمجھی جاتی ہے لیکن عالمی معیشت اور منڈیوں کی موجودہ کیفیت میں ایسا کوئی امکان نہیں ہے۔
برطانیہ کی کل برآمدات کا نصف یورپی یونین کے ممالک میں فروخت ہوتا ہے اور یورپی یونین سے علیحدگی کا مطلب ہے کہ یورپ کی مشترکہ مارکیٹ (Single Market) میں برطانیہ اپنی مصنوعات اب پہلے کی طرح بغیر کسی رکاوٹ کے فروخت نہیں کر سکے گا (یورپی یونین سے باقاعدہ علیحدگی کی صورت میں)۔ برطانیہ کی مصنوعات درآمد کرنے والے ممالک اب ان مصنوعات پر ڈیوٹی عائد کر سکیں گے۔ یورپی یونین کی سنگل مارکیٹ 50 کروڑ صارفین پر مبنی دنیا کا سب سے بڑا آزادانہ تجارت کا زون ہے لیکن اس تک رسائی کے لئے یورپی یونین کا ممبر ہونا ضروری ہے، مثلاً اپنے ملک میں دوسرے یورپی ممالک کے شہریوں کو بلا روک ٹوک آنے جانے کی اجازت دینا پڑتی ہے، رکن ممالک کی مصنوعات کو اپنی منڈی دینا پڑتی ہے اور یورپی یونین کے بجٹ میں حصہ ڈالنا پڑتا ہے۔ اسی طرح یورپی یونین کے 53 ممالک سے آزادانہ تجارت کے معاہدوں (بشمول کینیڈا، سنگاپور، جنوبی کوریا وغیرہ) سے بھی برطانیہ باہر ہو جائے گا اور اسے ان ممالک سے اپنے طور پر معاہدے کرنا ہوں گے۔ لیکن جہاں یورپی منڈی تک برطانیہ کی رسائی میں مشکلات آئیں گی وہاں فرانس اور جرمنی جیسے بڑے صنعتی ممالک کو بھی برطانیہ کی منڈی تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ برطانیہ اس وقت فرانس کی خوراک اور جرمنی کی گاڑیوں کی بڑی منڈی ہے۔ اس بات کے امکانات بھی ہیں کہ یورپی یونین کی مشترکہ مارکیٹ میں برطانیہ کی مشروط اور محدود شمولیت برقرار رکھی جائے۔ برطانیہ کے جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ کا حصہ 1970ء میں 32 فیصد سے سکڑ کر آج 11 فیصد ہو چکا ہے۔ جب کہ جرمنی کے جی ڈی پی میں یہ شرح 23 فیصد ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں سے اسی سطح پر قائم ہے۔ جرمنی کو اپنی طاقتور مینوفیکچرنگ کی صنعت کی برآمدات کے لئے منڈی بہرحال درکار ہے اور وہ ہر صورت میں یورپی مشترکہ مارکیٹ کو برقرار رکھنا چاہے گا۔
برطانیہ میں کام کرنے والے دوسرے یورپی ممالک کے محنت کشوں اور ان ممالک میں کام کرنے والے برطانیہ کے محنت کشوں کا مستقبل بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے۔ فی الوقت برطانیہ میں دوسرے یورپی ممالک کے 22 لاکھ باشندے آباد ہیں اور تقریباً اتنی ہی تعداد میں برطانیہ کے شہری دوسرے یورپی ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ اگر برطانیہ میں رہنے والے دوسرے یورپی ممالک کے شہریوں پر ورک پرمنٹ کی پابندی لگائی جاتی ہے تو عین ممکن ہے کہ دوسرے ممالک بھی جواب میں ایسی پابندیاں عائد کریں گے، اس کا مطلب ہے کہ برطانیہ کے شہریوں کو دوسرے یورپی ممالک میں کام کرنے کے لئے ویزا لینا پڑے گا۔ تاہم یورپ کے علاوہ دوسرے ممالک، بالخصوص تیسری دنیا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے مہاجرین اور پناہ گزینوں سے متعلق برطانیہ کی ریاست فوری طور پر سخت رویہ اپنا سکتی ہے اور عین ممکن ہے ایسا کیا بھی جائے گا۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ قوم پرست اور مہاجرین مخالف پارٹیاں زیادہ جارحانہ رویہ اور مطالبات اختیار کریں گی۔
یورپی یونین کا قیام کئی دہائیوں کے مختلف اقتصادی اور سیاسی معاہدوں کے بعد باقاعدہ طور پر 1992ء میں ’ماستریخت معاہدے‘ (Maastricht Treaty) کے ذریعے باقاعدہ عمل میں آیا تھا اور اس وقت اس کے رکن ممالک کی تعداد 28 ہے۔ آخری تجزئیے میں یہ وسیع تر منڈیوں تک رسائی کے لئے یورپی بورژوازی کی ایک کوشش تھی، لیکن اس کی بنیاد تضادات سے بھرپور تھی۔ مختلف سمت میں سفر کرتی ہوئی اور مختلف کیفیات کی حامل سرمایہ دارانہ معیشتوں اور سیاسی اکائیوں کو ایک منڈی میں اور اس سے بھی بڑھ کر ایک کرنسی میں جوڑنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ مشترکہ منڈی کا فائدہ آخری تجزئیے میں طاقتور سرمایہ دار کو ہی ہوتا ہے جو بالآخر چھوٹے سرمایہ دار کو کھا جاتا ہے یا پھر دیوالیہ کر کے منڈی سے نکال باہر کرتا ہے۔ معاشی غلبہ ہی سیاسی طاقت کی بنیاد بنتا ہے۔ یہ صورتحال آج ہمیں یورپی یونین میں بالکل واضح نظر آتی ہے جس کے حتمی شراکت دار اور فیصلہ ساز جرمنی اور کسی حد تک فرانس کے سرمایہ دار ہیں جبکہ یونان، پرتگال حتیٰ کہ اٹلی اور سپین جیسے ’چھوٹے‘ یا تکنیکی و اقتصادی طورپر پسماندہ ممالک معاشی طور پر دیوالیہ (یا اس طرف گامزن) ہو کر ان کی نوآبادیات میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
جب تک عالمی معیشت آگے بڑھ رہی تھی (اگرچہ قرضوں وغیرہ کی مصنوعی بنیادوں پر) تب تک ’سب اچھا تھا‘ لیکن سرمایہ داری کی عمومی زوال پزیری، تاریخی متروکیت اور نامیاتی بحران کی موجودہ کیفیت میں یورپی یونین میں موجود تمام تر تضادات اب منظر عام پر آ رہے ہیں۔ ماستریخت معاہدے کی بنیادی شرائط میں سے ایک یہ بھی تھی کہ کوئی رکن ملک اپنے ریاستی قرضے کو جی ڈی پی کے 60 فیصد سے تجاوز نہیں کرنے دے گا۔ آج یورپی یونین کا کوئی ملک اس شرط پر پورا نہیں اترتا۔ مجموعی طور پر پوری یورپی یونین کا ریاستی قرضہ 2008 ء میں جی ڈی پی کے 61 فیصد سے بڑھ کر اس وقت 86 فیصد ہو چکا ہے۔ سپین کا ریاستی قرضہ 2008ء میں 39 فیصد سے 2015ء میں 99 فیصد اور اسی عرصے میں اٹلی کا 102 فیصد سے 133 فیصد، برطانیہ کا 51 فیصد سے 82 فیصد، فرانس کا 68 فیصد سے 95 فیصد اور جرمنی کا 65 فیصد سے 74 فیصد ہو چکا ہے۔ یہ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک کے بڑھتے ہوئے معاشی بحران اور مستقبل کے تناظر کی ایک واضح جھلک ہے۔ اسی طرح ماستریخت معاہدے کی بنیادی شرط تھی کہ رکن ممالک کا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 3فیصد سے تجاوز نہیں کرے گا لیکن اس شرط کی خلاف ورزی ایک معمول ہے۔ مثلاً 2016 ء میں معاشی طور پر یورپی یونین کے پانچ سب سے بڑے ممالک میں سے تین (برطانیہ، فرانس، سپین) کا بجٹ خسارہ 3 فیصد سے زیادہ تھا، یونان،فن لینڈ، پولینڈ جیسے چھوٹے ممالک اس کے علاوہ ہیں۔ مختصراً یہ کہ جن بنیادوں پر یورپ کو ایک معاشی اکائی بنانے کا خواب یورپی بورژوازی نے دیکھا تھا آج وہ کھوکھلی ہو چکی ہے، نتیجتاً پورا ڈھانچہ لڑکھڑا رہا ہے۔ یورپی یونین کی ٹوٹ پھوٹ آنے والے دنوں میں تیز تر ہوگی۔
برطانیہ میں یورپی یونین سے علیحدگی (Brexit) کی کمپئین انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست اور رجعتی پارٹیوں کی جانب سے چلائی گئی تھی۔ لیکن عوام کی اکثریت کی جانب سے علیحدگی کے حق میں دئیے جانے والے ووٹ کو کئی زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر عمر کے لحاظ سے ووٹ ڈالنے والوں کی تقسیم کی جائے تو دلچسپ نتائج سامنے آتے ہیں۔ مثلاً نوجوانوں کی اکثریت نے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔ عمر کے ساتھ یورپی یونین سے علیحدگی کے ووٹ کی شرح بڑھتی چلی گئی۔ 18-44 سال کے افراد کی اکثریت نے یورپی یونین میں رہنے جبکہ 45-65 سال اور اس سے اوپر کے افراد کی اکثریت نے علیحدگی کے لئے ووٹ دیا۔ یہاں یورپی یونین سے پہلے کے پرانے اور ’اچھے‘ دنوں میں لوٹ جانے کی خواہش صاف نظر آتی ہے۔ لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد کئی دہائیوں تک چلنے والا سرمایہ دارانہ معیشت کے عروج کا دور جن مخصوص عوامل کا نتیجہ تھا وہ نہ تو دوبارہ پیدا ہو سکتے ہیں نہ ہی سرمایہ داری کے نامیاتی بحران کے اس عہد میں یورپی یونین کے اندر یا باہر ’اچھے دنوں‘ کی طرف لوٹا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں نے واضح طور پر قوم پرستی اور Anti Immigration کی زہریلی بنیاد پر چلائی جانے والی علیحدگی کی مہم کو مسترد کیا ہے۔ بحیثیت مجموعی علیحدگی کو ملنے والا ووٹ سماج میں وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی ’سٹیٹس کو‘ سے بیزاری، بالادست اداروں پر عدم اطمینان اور بے چینی کا اظہار ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ بائیں بازو کی طرف سے کسی ٹھوس، واضح اور انقلابی متبادل کی عدم فراہمی کا نتیجہ ہے۔
یہ درست ہے کہ یورپی یونین سرمایہ دارانہ بنیادوں پر حکمرانوں کے ’اتحاد‘ کا ادارہ ہے اور اس میں رہنے یا اسے چھوڑنے کا سوال بھی آخری تجزئیے میں حکمران طبقات کے دو دھڑوں کا آپسی تضاد ہے۔ لیکن قوم پرستی اور لسانیت کو ہوا دینے اور قومی سرحدوں کو گہرا کرنے والا ہر اقدام رجعتی ہوتا ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ محنت کش تجربات سے سیکھتے ہیں اور نتائج اخذ کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں۔ ان کا شعور اور تحریک بھی کبھی سیدھی لکیر پر سفر نہیں کرتے۔ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی معاشی زوال پزیری، آسٹیریٹی، محنت کشوں اور نوجوانوں کے معیار زندگی میں مسلسل گراوٹ اور بیروزگاری جیسے مسائل کا حل نہیں ہے۔ وقت اور حالات برطانیہ اور یورپ کے محنت کشوں کو ناگزیر طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کی طرف بار بار دھکیلیں گے۔ اس طبقاتی جنگ کی ابتدائی صف آرائی اب کئی یورپی ممالک بشمول برطانیہ میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ایک بات طے ہے کہ سرمایہ دارانہ بنیادوں پر یورپ میں سیاسی اور معاشی استحکام قصہ ماضی ہو چکا ہے۔ 2008ء کے مالیاتی بحران اور اس کے بعد دنیا بھر کے مختلف خطوں میں بحران در بحران کے تسلسل نے پرانا معمول توڑ دیا ہے اور آج کا عہد غیر معمولی واقعات اور مظاہر کے نئے ’معمول‘ پر مبنی ہے۔

2 Comments

  1. Pingback: یونان کا بحران

  2. Pingback: امریکی انتخابات: ٹرمپ کیسے جیت گیا!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*