ثور انقلاب آج بھی مشعل راہ ہے!

تحریر: حسن جان

تاریخ ہمیشہ فاتح طبقات لکھتے ہیں۔ اس لیے ان سے مفتوح طبقات کے لیے کسی طرح کی غیرجانبداری یا رحم کی توقع رکھنا عبث ہے۔ حالیہ تاریخ میں جس واقعے کو سب سے زیادہ مسخ کرکے پیش کیا گیا اور جس کی سب سے زیادہ کردار کشی کی گئی وہ افغانستان میں 1978ء میں ابھرنے والا ثور انقلاب ہے۔ اسے ایک المیے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور ایسا تاثر دیا جاتا ہے کہ اگر یہ ’المیہ‘ نہ ہوتا تو افغانستان آج ایک ترقی یافتہ اور خوشحال ملک ہوتا جبکہ اس انقلاب کو برپا کرنے والے انقلابیوں کو خون کے پیاسے درندوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

tumblr_n8zgk1Q9DK1thv88ko1_500

افغان نوجوان خلق پارٹی کے پرچم اور نور محمد ترکئی کی تصاویر کے ساتھ

سامراج اور حکمران طبقات کا انقلاب ثور کی طرف یہ جارحانہ اور زہر آلود پروپیگنڈا اس وجہ سے ہے کیونکہ یہ انقلاب اس خطے میں محنت کشوں، دہقانوں، نوجوانوں اور مظلوموں کی وہ واحد سرکشی تھی جس نے افغانستان سے فرسودہ قبائلیت، جاگیرداری اور سرمایہ داری کا خاتمہ کیا تھا، ایک طبقات سے پاک انسانی معاشرے کی تعمیر کا آغاز کیا تھا اور ہمسایہ ممالک میں انقلابیوں اور انقلابی تبدیلی کے لیے جدوجہد کرنے والوں میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ یہ انقلاب سامراج اور سرمایہ داری کے حواریوں پر ایک کاری ضرب تھی اور اس لیے اس انقلاب کو کچلنے کے لیے انہوں نے پورے خطے کو آگ اور خون کی ہولی میں جھونک دیا۔
روس میں 1917ء کے بالشویک انقلاب نے جہاں ساری دنیا میں انقلابی تحریکوں کو جلا بخشی وہیں افغانستان بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ بالشویک انقلاب کی دوسری سالگرہ کے موقع پر افغانستان سے محمد ولی بدخشی کی قیادت میں ایک وفد ماسکو گیا اور واپسی پر افغانستان میں انقلابی نظریات کا پرچار شروع کیا۔ تعلیم یافتہ افغان نوجوانوں اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ترقی پسند نوجوانوں کا ایک خفیہ گروپ افغان نوجوانان(Young Afghans) اس عمل کی پہلی سیاسی شکل تھی۔ افغانستان کے مستقبل کے ترقی پسند حکمران امان اللہ خان بھی اس گروپ میں سرگرم تھے۔ بیسوی صدی میں افغانستان کو پسماندگی سے نکال کر ایک جدید سماج بنانے کے لیے دو قابل ذکر کوششیں کی گئیں۔ پہلی سنجیدہ جدوجہد افغانستان کے اس وقت کے بادشاہ امان اللہ خان کی قیادت میں کی گئی۔ تیسری انگریز افغان جنگ 1919ء کے نتیجے میں افغانستان نے برطانیہ سے مکمل آزادی حاصل کر لی۔

King_Amanullah_Khan (736x800)

امان اللہ خان

لینن نے ذاتی طور پر امان اللہ خان کو خط لکھ کر سوویت یونین کی مکمل حمایت کا یقین دلایا۔ امان اللہ خان نے اپنے اقدامات کے ذریعے پہلی مرتبہ افغانستان کو ایک جدید سماج بنانے کی کوشش کی۔ یہ تمام تر اقدامات افغانستان کو ایک جدید بورژوا سماج بنانے پر مرکوز تھے۔ سب سے اہم اقدامات تعلیم کے شعبے میں کیے گئے جس کے لیے بیرونی ممالک سے اساتذہ اور تکنیکی ماہرین درآمد کیے گئے۔ لڑکیوں کے لیے سکول قائم کیے گئے اور 1921ء میں ایک فیملی کوڈ متعارف کیا گیا جس کے تحت بچپن کی شادی کو غیر قانونی قرار دیا گیا۔ خواتین کو ووٹ کا حق اور جنسی برابری کو تسلیم کیا گیا۔ امان اللہ خان نے برملا اعلان کیا تھا کہ مستقبل کے نئے افغانستان کی بنیاد عورت کی آزادی پر ہوگی۔ 1928ء میں اس کی بیوی ملکہ ثریا نے ایک تقریب میں سر عام اپنا حجاب اتار کر پھینک دیا جو پسماندہ روایات سے بغاوت کا اعلان تھا۔ اسی طرح سڑکیں اور انفراسٹرکچر کو ترقی دینے کی کوشش کی گئی۔ ایک مرکزی بینک اور دیگر معاشی اقدامات کے ذریعے افغانستان میں بورژوا جمہوری انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی گئی۔
ان اقدامات کے خلاف سماج کے رجعتی پرتوں کو استعمال کرتے ہوئے مختلف قبائلی سرداروں اور مذہبی رجعتی عناصر نے امان اللہ خان کے خلاف بغاوت کردی اور 1929ء میں اسے اقتدار چھوڑنا پڑا۔ اس کے جاتے ہی تمام تر اصلاحات کو منسوخ کردیا گیا۔ تقریباً دو دہائیوں تک پہلے نادر شاہ اور پھر ظاہر شاہ کے دور میں افغان سماج پر ایک رجعت کو مسلط کیا گیا۔ 1920ء کی دہائی میں ہونیوالے تمام تر انقلابی اقدامات اور سیاسی عمل کو ایک کاری ضرب لگی۔

ویش زلمیان (بیدار نوجوانان)
1940ء کی دہائی کے اواخر میں رجعت کے بادل چھٹنا شروع ہوئے۔ پریس کو کسی حد آزادی دی گئی اور سیاسی پارٹیاں بنانے کی اجازت دی گئی۔ 1947ء میں افغانستان کے بائیں بازو کے انقلابی اور ترقی پسند نوجوانوں نے ویش زلمیان کے نام سے ایک سیاسی اور ادبی تنظیم قائم کی۔ اس کے سرکردہ رہنماؤں میں محمد رسول پشتون، گل باچا الفت، گل محمد غبار، عبدالرؤف بینوا، نور محمد ترہ کئی اور ببرک کارمل بھی شامل تھے۔ تنظیم کا ہیڈ کوارٹر قندھار میں تھا۔ ’ولس‘ اور ’انگار‘ تنظیم کے دو جریدے تھے جبکہ افغانستان کے ایوان زیریں میں ان کے حمایتی بھی موجود تھے جو عوامی مسائل اور حکومتی نااہلی اور بدعنوانی پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ دوسری طرف سے ویش زلمیان کے سرگرم کارکنان عوام سطح پر اپنی لکھتوں اور جرائد کے ذریعے محکوم طبقات کی آواز بنے ہوئے تھے اور ان میں بغاوت کے بیج بو رہے تھے۔ لیکن حکومت اسے برداشت نہ کرسکی اور اگلے پارلیمانی انتخابات سے پیشتر ہی 1952ء میں اسے کچل دیا گیا اور اس پر پابندی لگا دی گئی۔ بہت سے رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن اس پابندی سے انقلابی جدوجہد کرنے والی قوتیں مزید ریڈیکلائز ہو گئیں اور یہ نوجوان واضح طور پر بائیں بازو کی سیاست کرنے لگے جس کا اظہار چند سال بعد پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان (PDPA) کی تشکیل کی صورت میں ہوا۔

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان (PDPA)
جنوری 1965ء میں نور محمد ترہ کئی کے گھر میں بائیں بازو کے تیس رہنماؤں کی میٹنگ ہوئی جس میں ایک نئی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان بنانے کا اعلان کیا گیا۔ نور محمد ترہ کئی اس کے سربراہ منتخب ہوئے۔ 1967ء میں تشکیل پانے والی پارٹی آئین کے مطابق پارٹی کی اساس مارکسزم لینن ازم کو قرار دیا گیا۔ پارٹی کے پرچے کا نام خلق (عوام) تھا۔ اسی سال پارٹی میں دو دھڑے بنے۔ ایک دھڑے کی قیادت ببرک کارمل کررہے تھے جو ان کے پرچے ’پرچم‘ کے نام سے مشہور ہوا جبکہ دوسرے دھڑے کی قیادت نور محمد ترہ کئی کررہے تھے جو ’خلق‘ کے نام سے مشہور ہوا۔

200px-Emblem_of_the_People's_Democratic_Party_of_Afghanistan.svg

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کا نشان

افغانستان کی فوج کے افسران کی تربیت زیادہ تر سوویت یونین میں ہوتی تھی۔ یہ افسران وہاں پر موجود منصوبہ بند معیشت اور اس کے نتائج سے بہت متاثر تھے۔ خلق پارٹی ان افسران کی بڑی تعداد کو پارٹی میں جیتنے میں کامیاب ہوگئی۔ فوج میں پارٹی کے کام کے ذمہ دار حفیظ اللہ امین تھا۔ اسی شاندار کام کی وجہ سے فوج کے اندر پارٹی کی کافی حمایت موجود تھی۔ 17اپریل 1978ء میں پرچمی لیڈر میر اکبر خیبر کو کابل میں قتل کردیا گیا۔ اس قتل کے خلاف کابل میں ہزاروں افراد نے مظاہرہ کیا۔ اس مظاہرے کے بعد افغانستان کے صدر داؤد خان نے تمام پارٹی رہنماؤں کو گرفتار کرلیا۔ حکومت پارٹی قیادت کو یکسر ختم کرنے کے درپے تھی۔ اسی وجہ سے حفیظ اللہ امین نے 26 اپریل کو اپنی گرفتاری سے قبل ہی فوج کے انقلابی افسران کو بغاوت کے احکامات دے دیئے تھے۔

ثور انقلاب
27 اپریل کی صبح کو زمینی اور فضائی فوج کے انقلابی افسران نے ایک انقلابی سرکشی کے ذریعے داؤد کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔ اقتدار فوری طور پر پارٹی کے حوالے کردیا گیا۔ اسے ہم قطعاً محض فوجی بغاوت کا نام نہیں دے سکتے کیونکہ فوج نے یہ کام اپنے تئیں نہیں کیا بلکہ پارٹی کے احکامات کے تحت یہ کام سرانجام دیااور داؤد خان کی حکومت کو ختم کرنے کے بعد خود اقتدار پر قابض نہیں ہوئے بلکہ فوراً اقتدار پارٹی کو منتقل کردیا اور خود کو اس حکومت کا تابع بنا لیا۔ جیساکہ حفیظ اللہ امین نے بعد میں ایک پریس کانفرنس میں خود کہا کہ یہ قطعاً کوئی کُو (فوجی بغاوت) نہیں تھا بلکہ ایک انقلاب تھا جسے افغانستان کے عوام نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کی قیادت میں برپا کیا۔

Day_after_Saur_revolution

اقتدار پر خلق پارٹی کے قبضے کے بعد صدارتی محل کے باہر کا منظر

اسی طرح سامراج اور اس کے گماشتہ میڈیا کا یہ پروپیگنڈا بھی سراسر جھوٹ ہے کہ یہ انقلاب سوویت یونین کی مداخلت اور حمایت سے برپا کیا گیا۔ سوویت یونین کی سٹالنسٹ زوال پذیری کے بعد سٹالنسٹ بیوروکریسی قطعاً کسی ملک میں انقلاب، بالخصوص اپنے کنٹرول سے باہر کسی انقلاب کے حق میں نہیں تھی کیونکہ اس سے انکے اقتدار اور مراعات کو خطرہ لاحق ہوتا تھا اور امریکہ اور سرمایہ دار دنیا کے ساتھ ’’پرامن بقائے باہمی‘‘ کے منصوبے کو ٹھیس پہنچ سکتی تھی۔ 1943ء میں سامراجی طاقتوں اور سوویت یونین کے بیچ ہونے والے یالٹا اور تہران معاہدے اسی سلسلے کی کڑی تھے۔ اس لیے وہ افغانستان میں نہ صرف اس انقلاب کے منصوبے سے بے خبر تھے بلکہ اس کے حق میں بھی نہیں تھے۔ اس انقلاب کی جانب سوویت یونین کے رویے کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انقلاب کے نتیجے میں بننے والی انقلابی حکومت کو سوویت یونین نے چار دن بعد تسلیم کیا۔

انقلابی حکومت نے انتہائی دیانتداری سے اپنے انقلابی فرائض کو انجام دینا شروع کیا۔ یہ افغانستان کی جدید تاریخ میں افغان سماج کو پسماندگی سے نکال کر ایک جدید سماج بنانے کے لیے امان اللہ خان کے بعد دوسری سنجیدہ جدوجہد تھی۔ ایک حکم نامے کے ذریعے بے زمین کسانوں کے تمام قرضے معاف کردیئے گئے۔ مختلف حکم ناموں کے ذریعے افغانستان کی تاریخ کی سب سے وسیع زرعی اصلاحات کی گئیں۔ اس وقت افغانستان کی شرح خواندگی بمشکل 10 فیصد تھی۔ مفت تعلیم اور صحت کا اجرا کیا گیا۔ چائلڈ میرج پر پابندی لگا دی گئی۔ خواتین پر جبر کا خاتمہ کیا گیا اور جنسی برابری کو تسلیم کیا گیا۔ قومی جبر کا خاتمہ کیا گیا اور محکموم قومیتوں کو محکمومی سے نجات دلا کر انقلابی حکومت میں نمائندگی دی گئی۔

رد انقلاب
اس انقلاب سے پرانے حکمران طبقات کے مفادات کو شدید کاری ضرب لگی۔ اسسے انکی تمام تر مراعات اور اختیارات چھین لیے گئے۔ امریکی سامراج نے اس انقلاب کو کچلنے کے لیے سوویت یونین کی مداخلت سے پہلے ہی جولائی 1979ء میں آپریشن سائیکلون کا آغاز کیا جس میں ہیروئن اور منشیات کے پیسوں سے رد انقلابی رجعتی مجاہدین تخلیق کیے گئے جنہوں نے افغان ثور انقلاب کے خلاف ایک رد انقلابی جہاد کا آغاز کیا۔ دوسری طرف سوویت یونین نے نئی انقلابی حکومت کو اپنے اشاروں پر چلانے کی بھر پور کوشش کی۔ انقلاب کی اس آزادانہ روش اور پیش رفت کو روکنے کے لیے سوویت یونین نے حفیظ اللہ امین کو قتل کرکے جلاوطن پرچمی لیڈر ببرک کارمل کو ٹینک پر بٹھا کر کابل لاکر اقتدار پر بٹھایا گیا۔

Babrak Karmal and Brezhnev

ببرک کارمل اور سوویت یونین کے سربراہ برژنیف

سوویت یونین کی مداخلت سے ردانقلابی قوتوں کو مزید تقویت ملی اور امریکی سامراج نے اس فوج کشی کو جواز بنا کر عالمی سطح پر انقلاب کے خلاف مہم چلائی اور رد انقلابی ڈالر جہاد کو مزید مضبوط کیا۔ اسی دوران سوویت یونین میں میخائل گورباچوف نے اقتدار میں آنے کے بعد سوویت یونین کی بیوروکریٹک منصوبہ بند معیشت کو بحران سے نکالنے کے لیے پریسٹرائیکا اور گلاسنوسٹ کے نام سے اصلاحات کا آغاز کیا۔ ان اصلاحات سے سوویت یونین کی معیشت اور ریاست کی زوال پزیری کم ہونے کی بجائے بڑھتی چلی گئی کیونکہ ’’ایک ملک میں سوشلزم‘‘ اپنی حدود کو پہنچ چکا تھا اور سوویت بیوکریسی ماضی کی طرح نسبتاً ترقی پسند کردار ادا کرنے کی بجائے اب پیداواری قوتوں کے راستے میں مطلق رکاوٹ اور معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ بن چکی تھی۔ ان حالات میں سوویت بیوروکریسی نے افغانستان کے مسئلے سے نکلنے کے ’مصالحت‘ کرنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر نجیب کی حکومت نے ردانقلابیوں اور رجعتی مجاہدین سے مذاکرات کیے اور انہیں حکومت میں عہدے دیئے گئے لیکن یہ سب کچھ بے سود رہا۔ اپریل 1988ء کے جنیو اکارڈز کے تحت سوویت فوجیں اگلے سال کے آغاز تک افغانستان سے نکل گئیں لیکن نجیب اللہ حکومت کو کچھ مالی اور عسکری امداد جاری رہی۔ سوویت فوجوں کے نکل جانے کے بعد بھی ڈالر مجاہدین پاکستانی ریاست، سعودی عرب اور امریکی سامراج کی بھرپور مالی، سفارتی اور عسکری امداد کے باوجود نجیب اللہ حکومت کو نہیں گرا سکے اور جلال آباد جیسی جنگوں میں بدترین شکست سے دو چار ہوئے۔ تاہم 1991ء میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد صورت حال یکسر بدل گئی اور 1992ء میں ڈاکٹر نجیب کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔

آخری سوویت فوجی افغانستان سے نکل رہے ہیں

رد انقلابی قوتوں اور مجاہدین کی اس رجعتی فتح اور بعد میں ان کی آپس میں کتوں کی طرح لڑائی نے افغانستان کو کھنڈرات میں تبدیل کردیا۔ یہی رد انقلابی مجاہدین بعد میں طالبان بن گئے۔ 2001ء میں افغانستان پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے بعد افغان عوام کی بربادی اور محکومی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا۔ جمہوریت اور خوشحالی کے تمام تر دعوؤں کے باوجود ان پندرہ سالوں میں افغانستان کا ایک بھی بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوا۔ سامراجی ممالک کی ترجیحات کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ امریکی سامراج اور اس کے اتحادیوں نے افغان جنگ پر ایک کھرب (ایک ٹریلین) ڈالر خرچ کیے جبکہ اس جنگ کی تباہ کاریوں کے بعد ملک کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے محض 104 اَرب ڈالر خرچ کیے۔ اس رقم کا بڑا حصہ خرد برد اور کرپشن کی نذر ہوجاتا ہے۔ افغانستان ایک نارکو اکانومی یعنی منشیات پر چلنے والی معیشت ہے۔ آج بھی افغانستان کی برآمدات کا 90 فیصد افیون ہے۔ کسان زرعی اجناس کی کاشت کی بجائے افیون ہی کاشت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس طرز کی معیشت کی وجہ سے افغانستان کی سیاست پر جرائم پیشہ گروہ، جنگی سردار اور سابقہ جہادی ہی حاوی ہیں۔
افغانستان اب مختلف سامراجی ممالک کے درمیان پراکسی جنگوں کا اکھاڑہ بن چکا ہے۔ سرمایہ داری کے نامیاتی زوال کی وجہ سے اب امریکی سامراج بھی اپنی ماضی کی رعونت اور جاہ و جلال کھوچکا ہے جس کی وجہ سے دیگر سامراجی طاقتیں اس کی جگہ لے رہی ہیں۔ افغانستان میں مختلف جنگی سردار اور طالبان کے گروہ انہی سامراجی ممالک کے وظیفہ خوار اور پراکسی گروہ ہیں۔ پاکستانی ریاست اپنی اسٹریٹجک ڈیپتھ یا ’’تزویراتی گہرائی‘‘ کی پالیسی کے تحت افغانستان میں مداخلت کی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے اور مختلف طالبان گروہوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہی ہے۔ افغانستان کے قدرتی وسائل کی لوٹ مار کے لیے چین بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے منصوبے جاری کر رہا ہے اور اس سرمایہ کاری کو تحفظ اور دوام بخشنے کے لیے طالبان کے کئی گروہوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اسی طرح افغانستان کی ’قومی اتحاد‘ کی حکومت بھی مختلف علاقائی طاقتوں کے دم چھلوں پر مشتمل ہے۔ جب سعودی عرب یمن پر فضائی بمباری کا آغاز کر رہا تھا تو صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اس حملے کی حمایت کے مسئلے پر منقسم تھے جو ان کی مختلف سامراجی ممالک سے وفاداری کی عکاسی کرتا ہے۔

تناظر
امریکی سامراج اور اس کے حواریوں نے ثور انقلاب کو کچلنے کے لیے جن رجعتی قوتوں کو تخلیق کیا تھا وہ آج پورے خطے کو تاراج کر رہی ہے۔ پچھلے تیس سالوں سے افغانستان پر وحشت اور بربریت کا ننگا ناچ جاری ہے۔ افغانستان میں کوئی دن بغیر خود کش حملوں اور قتل و غارت کے نہیں گزرتا۔ امریکی سامراج کی جمہوریت نے اس بربریت کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ نہ بنیاد پرستی اور نہ ہی یہ گماشتہ جمہوریت افغانوں کے زخموں کا مداوا کرسکتی ہے۔ عالمی سرمایہ داری کی موجودہ کیفیت میں افغانستان ایک جدید قومی ریاست کبھی بھی نہیں بن سکتا۔ مختلف سامراجی ممالک کی سرمایہ کاری بھی عارضی نوعیت کی ہے اور فوری لوٹ مار کے لیے ہے جس سے ان طاقتوں کے درمیان مزید تنازعات اور خون خرابے بڑھتے ہیں۔ افغانستان میں سرمایہ داری کا ارتقا اس پیمانے پر نہیں ہوا ہے جس سے کوئی کلاسیکی مزدور تحریک جنم لے سکے۔ طبقاتی تقسیم سرمایہ دارانہ معیار کے حوالے سے مبہم اور غیر واضح ہے۔ 2001ء میں امریکی سامراج اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے بعد تعمیرات اور خدمات کے شعبوں میں تھوڑی بہت سرمایہ کاری ہوئی جس سے ایک قلیل سی مڈل کلاس پیدا ہوئی جسے ہم عام طور پر ’سول سوسائٹی‘ کہتے ہیں۔ اس سول سوسائٹی کی تمام تر سرگرمیاں انفرادی واقعات کے گرد چھوٹے موٹے مظاہرے، سیمینار اور موم بتیاں روشن کرنے تک محدود ہیں۔ یہ انتہائی کمزور ہیں اور کسی بھی طرح بنیاد پرستی اور سامراجیت کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اس کیفیت میں افغانستان کے مستقبل کا تمام تر دارومدار اس کے ہمسایہ ممالک بالخصوص ایران اور پاکستان میں ایک گہری سماجی تبدیلی پر ہے۔ افغانستان کے اندر فی الوقت سے کسی تحریک کے ابھرنے اور اس کی کامیابی کے امکانات بہت ہی کم ہیں۔ ایران میں پہلے ہی 2009ء میں ایک شاندار انقلابی تحریک چل چکی ہے اگرچہ وہ اپنے منطقی انجام کو نہیں پہنچ سکی لیکن یہ اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ایرانی رجعتی ملاؤں کے خلاف ایرانی سماج میں ایک بغاوت پنپ رہی ہے۔ آنے والے دور میں ایران میں ایک نئی انقلابی تحریک کے واضح امکانات موجود ہیں۔ پاکستان میں بھی محنت کشوں کی الگ تھلگ تحریکیں وقتاً فوقتاً ابھرتی رہتی ہے جو سماج میں ایک گہری بے چینی کی عکاسی کرتی ہیں۔ رجعت بہت طویل ہوچکی ہے اور حکمران طبقہ اس رجعتی کیفیت کو زیادہ عرصے تک سماج پر حاوی نہیں رکھ سکتا۔ پاکستان یا ایران میں ایک کامیاب سوشلسٹ انقلاب وہ حالات پیدا کرسکتا ہے جو افغانستان اور پورے خطے کو ہلا کے رکھ دیں گے۔ ڈیورنڈ لائن سے لے کر ریڈ کلف لائن اور لائن آف کنٹرول سے لے کر بلوچستان کی مصنوعی تقسیم تک، اس خطے میں حکمرانوں کی کھینچی گئی ہر لکیر جعلی اور رجعتی ہے۔ ان لکیروں کو مٹانے کے لئے پورے خطے میں سوشلسٹ انقلاب درکار ہے جو جنوب ایشیا کی رضا کارانہ سوشلسٹ فیڈریشن کی بنیاد رکھے گا۔ تاریخ کے اس عظیم فریضے کی ادائیگی میں ثور انقلاب آج بھی مشعل راہ ہے!

متعلقہ:

ثور انقلاب: تاریخ افغانستان کا درخشاں باب

افغانستان :انقلاب سے رد انقلاب تک

27اپریل ،افغانستان کا ثور انقلاب

افغان ثور انقلاب کے چونتیس سال۔ جب تخت گرائے اور تاج اچھالے گئے

افغانستان: ’’گریٹ گیم‘‘ کی پیچیدگی

4 Comments

  1. Pingback: ثور انقلاب اور آج کا افغانستان

  2. Welldone comrade. red salam from kabul

  3. alaa

  4. Pingback: افغانستان: سامراجی قبضے کے پندرہ سال

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*