پیپلز پارٹی: بغاوت کے انتظار میں

تحریر۔قمرالزماں خاں:-
اگر چار افراد میں سے ایک کے پاس395روپے ہوں، دوسرے کے پاس3روپیہ ،تیسرے کے پاس 2روپے اور چوتھے کے پاس ایک روپے تو اوسط کے قانون کے مطابق ہر کسی کے پاس 100روپیہ ہیں۔ جب کہ حقیقت کا اس اوسط کے قانون سے دور کا تعلق بھی نہیں ہے۔ تین لوگوں کے پاس ایک سے تین روپے ہیں مگر اوسط کے قانون کے مطابق جبراََ ان کے پاس 100روپیہ ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ جس کے پاس 395روپے ہیں اس کی رقم کوبہت ہی کم ظاہر کیا جارہا ہے۔ اوسط کا قانون یقیناکچھ معاملوں میں مدد فراہم کرتا ہوگا، مگر اوسط کی بنیاد پر انتہائی بلندی اور پستی پر موجود’’عاملین‘‘ کی شدت کم ہوجاتی ہے اور اس طرح حقیقت سے صرف نظر کرتے ہوئے ایسے اعداد و شمار یا کیفیات کو نمایاں کیا جاتا ہے جو محض مفروضے کے طور پر پیش کئے جاتے ہوں۔اوسط کے قانون کے سقم کی وجہ سے چالاک حلقے کسی کیفیت کی ’’شدت ‘‘کو نظر انداز کرتے ہوئے اہم حقائق اور پہلووں کی جگہ معتدل نتائج کو سامنے لاتے ہیں ،جس سے حقائق کے بہت سے اہم پہلو چھپ جاتے ہیں۔منو بھائی کے بقول اوسط کے قانون کے اطلاق کے کبھی کبھی بہت ہی مضر نتائج نکلتے ہیں مثال کے طور پر دو برتنوں میں مختلف حدتوں کا پانی لیا جائے، جن میں سے ایک برتن میں 99درجے ٹمپریچر کھولتا ہوا اور دوسری طرف منجمد کردینے والاپانی ہو، اب اگر کسی ایک شخص کے دونوں پاؤں ان برتنوں میں الگ الگ ڈال دئے جائیں تو’’ اوسط‘‘ کے قانون کے مطابق اس شخص کے دونوں پاؤں’’ معتدل پانی‘‘میں ہوں گے جب کہ حقیقت میں بالکل ہی مختلف صورتحال ہوگی ۔99ٹمپریچروالے برتن میں ڈالے گے پاؤں سے کھال ادھڑ چکی ہوگی اور پاؤں جل کر چلنے کے قابل نہیں رہ گیاہوگا ‘جب کہ دوسری طرف والا پاؤں جو کہ منجمد کردینے والے پانی میں تھا، وہ انتہائی ٹھنڈک کی بنا پر نیلا ہوچکا ہوگا اور خون کی روانی رک کر پاؤں کو مفلوج کرچکی ہوگی۔مگر اوسط کے قانون کا بیان کردہ نتیجہ اس صورتحال کو’’خوشگوار‘‘ قرار دیتا ہے۔

Reality of GDP per capita and how governments fool the pople with figures.اسی طرح ممالک اور سماجوں کی اوسط آمدنی(GDP per Capita) معلوم کرنے کے سرمایہ دار ماہرین معاشیات کے فارمولے حقائق سے کسی طور بھی مناسبت نہیں رکھ پاتے۔کسی ملک کے ارب پتیوں، سرمایہ داروں، مراعات یافتہ طبقے اور فاقہ زدگان کو ملا کرفی کس اوسط آمدنی کا تعین کرنے سے جعلی اعداد وشمار مرتب کئے جاتے ہیں اور انہی اعداد شمار کی بنیاد پر معیشتوں کے اعشاریے مرتب کئے جاتے ہیں۔ پاکستان میں سماجی اور معاشی ترقی کے تمام انڈیکیٹرز انتہائی پسماندہ اور انتہائی ترقی یافتہ علاقوں کی اوسط نکال کر ظاہر کئے جاتے ہیں جس سے پسماندہ علاقوں کی محرومیاں اور جہاں سارا ہی بجٹ خرچ کردیا جاتا ہے ان علاقوں کے ساتھ خصوصی سلوک جیسے قابل گرفت عوامل’’اوسط کے قانون‘‘ کے حربے کے پیچھے چھپ جاتے ہیں۔
ایسا ہی کام پچھلے دنوں پاکستان کے از خود متحرک تجزیہ نگاروں نے اس وقت کیا جب پاکستان الیکشن کمیشن کے مانگنے پر اراکین اسمبلی نے اپنے اثاثوں کی فہرست فراہم کی تو اس مشکوک قسم کی فہرست میں سب سے زیادہ اور کم ترین اثاثوں کے حاملین کا تعلق حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے نکلا۔اس نقطے کو بنیاد بنا کر یار لوگوں نے اپنا تجزیہ داغ دیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ملٹی کلا س جماعت ہے!!!یہ تجزیہ اتنا ہی نامعقول ہے جتنا کہ مندرجہ بالا اوسط کا قانون کے اور اسکے نتائج۔یہ تجزیہ پاکستان پیپلز پارٹی پر قابض موجودہ حکمرانوں کے طبقاتی تناسب کے حوالے سے بھی کیا جاتا ہے۔یہ درست ہے کہ پاکستان کا سب سے امیر ترین شخص بھی پاکستان پیپلز پارٹی کا ہی عہدے دار بلکہ سب سے بڑے عہدے پر فائز ہے۔دیگر کئی ارب پتی بھی اس کے پولٹ بیورو کے اراکین ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ موجودہ عہدمیں پارٹی میں اہم مقام صرف امارت اور معاشی برتری کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔پارٹی میں عہدے درحقیقت ’’پرائیویٹائز‘‘ ہورہے ہیں جتنے دام ۔۔۔اتنا بڑا مقام! کا اصول قانون کی حیثیت اختیار کرچکا ہے،یہ بھی سچ ہے کہ پارٹی میں الیکشن کے لئے امیدواروں سے رقم لی جاتی ہے اور جو زیادہ رقم دے اس کا زیادہ استحقاق سمجھا جاتا ہے، یہ بھی درست ہے کہ پارٹی اپنے بنیادی منشور سے منحرف ہوکر اسکی بالکل مخالفت میں یعنی سرمایہ دارانہ نظام کی مطیع ہوچکی ہے۔پارٹی قیادت اپنی تاریخ سے منہ موڑ کر امریکی سامراج کی تابعداری کی تمام حدیں عبور کرچکی ہے۔ یہ بھی سچ ہے پچھلے ساڑھے چارسالوں سے پارٹی کی حکومت جو کے اپنے دیرینہ دشمنوں کے ساتھ مل کر قائم ہے‘ نے پاکستان کے کروڑوں محنت کشوں کی زندگیاں درگور کردی ہے۔مگر ان تمام معاملات سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کوئی ملٹی کلاس پارٹی ہے۔ پارٹی میں دو درجے ہیں ضرور مگر دونوں کی حدود بالکل ہی مختلف ہیں۔پارٹی کے عام ارکین واضع طور پر محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں یہ غریب کسان،مزدور اور دیہاڑی دار طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کی رکنیت سازی تو کبھی شفاف طریقے سے نہیں ہوسکی لیکن اگر ہم ووٹروں کو دیکھیں تو یہ غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والی مخلوق ہے۔پارٹی کے اس طرف آڑھتی، تاجر، بڑے دوکاندار،شہری اشرافیہ، جاگیردار، سابق جرنیل، بنکرز، صنعت کار وغیرہ نظر نہیں آتے مگر پارٹی کی پہلی سائیڈ کے لوگ لائین کی دوسرے طرف بھی نظر نہیں آتے۔ وہاںیقینی طور پر کروڑ پتی،سمگلر،سابق جج و فوجی افسران،صنعت کار،جاگیر دار،قبضہ گروپ،بنکرز،ہاؤسنگ سوسائیٹیاں چلانے والے مافیاز اور مراعات یافتہ طبقے کے افراد نظر آتے ہیں۔ مگر اس تقسیم کو کسی طور بھی ملٹی کلاس پارٹی کا ٹائٹل نہیں دیا جاسکتا ۔لائین کے دوسرے پار کے لوگ کروڑوں کارکنوں،ووٹروں اور پارٹی کی حقیقی قوت کے مقابلے میں آدھا فی صد بھی نہیں ہیں۔ان کا پارٹی پر اسی طرح قبضہ ہے جس طرح اٹھارہ کروڑ کی آبادی( جس میں 64فیصد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں)کے 99فی صد محنت کشوں پر ایک ہزار کے قریب کروڑ پتی پارلیمنٹیرین کی حکمرانی کا غلبے ہے ۔یہ خواتین و حضرات جو اپنی دولت کے بل بوتے ،ایک جبری سماجی نظام اورطبقاتی جمہوریت کے ذریعے کروڑوں لوگوں پر حاوی ضرور ہیں مگر ان کے نمائندہ کسی طور پر نہیں۔دونوں طبقات کے لوگوں کے مفادات باہمی طور پرناقابل مصالحت اور متصادم ہیں،ایک اقلیتی طبقے کا رزق پر قبضہ دوسرے طبقے کی نسلوں کو بھوک میں مبتلا کئے چلا آرہا ہے۔اسی طبقے کی مراعات یافتہ زندگی نے دوسرے اکثریتی طبقے کو کئی سو سال پہلے کی پسماندہ زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔ا سی طبقے کے چکاچوندمحلات نے پورے ملک کو اندھیروں میں دھکیلا ہوا ہے۔غرض یہ کہ ایک طبقے کی زندگی دوسرے کی موت کا باعث ہے۔بالکل ایسی ہی تفریق پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان اور قیادت کے درمیان موجودہے اور اوسط جیسے غیر حقیقی قانون کی وجہ سے قابض اور غالب دھڑے کے چند ہزار لوگوں کو کروڑوں محنت کشوں کے ساتھ ملا کر اس سے پاکستان پیپلز پارٹی کی طبقاتی ہئیت کو مسخ کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔موجودہ طبقاتی کمپوزییشن کا ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے کیوں کہ بھٹو نے مخالفین کے اس پراپیگنڈے ’’ کہ محنت کش طبقے کی نجات کادعوی کرنے والی پیپلز پارٹی کا چئیرمین جاگیردار ہے ‘‘ کے جواب میں ایک دفعہ نہیں بلکہ بارہا کہا تھا کہ’’ مجھے فخر ہے کہ میں سوشلسٹ ہوں،میں اپنا طبقہ چھوڑ کر محنت کش طبقے میں آچکا ہوں اور ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا، انسانی تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی جب حکمران طبقے کے افراد اپنے طبقے اور اسکے مفادات کو پاؤں کی ٹھوکر مارکر مزدوروں ،کسانوں اور محنت کشوں کی نجات کی جدوجہد کا حصہ بننے کے لئے ان میں آجاتے ہیں‘‘۔یہی وجہ تھی کہ پیپلز پارٹی بنانے کے مقاصد بیان کرتے ہوئے پارٹی کی تاسیسی دستاویزات میں ذوالفقار علی بھٹو نے دستاویز نمبر ایک ’’ایک نئی پارٹی کی ضرورت کیوں؟‘‘ میں لکھا کہ ملک میں اس وقت تین درجن کے قریب پارٹیاں موجود ہیں اتنی بڑی تعداد میں سیاسی پارٹیوں کی موجودگی میں ایک نئی پارٹی کی ضروت اس لئے پیش آرہی ہے کیوں کہ وہ تمام پارٹیاں حکمران طبقے کی مختلف پرتوں کے مفادات کی نمائندگی کرتی ہیں جبکہ پاکستان کے کروڑوں مزدوروں ،کسانوں اور محنت کشوں کی نمائندگی کرنے والی اور انکے طبقاتی مفادات کے لئے جدوجہد کرنے والی پارٹی موجود نہیں ہے ،اس ضرورت کی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی تشکیل دی جارہی ہے ‘‘۔(پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیادی دستاویزات )
موجودہ محنت کش مخالف گروہ ‘پارٹی میں سرمایہ دارانہ مفادات کی غرض سے موجود ہے ،یہ ایک بالکل الٹ بات ہے جو پارٹی کی روح،اسکے مقاصد اور اس ملک کے کروڑوں ستم رسیدہ لوگوں کی ضروریات سے متصادم کیفیت کی نشاندہی کرتی ہے۔اس صورتحال نے ایک ایسی پارٹی کو مسلم لیگ جیسا بنا دیا ہے جو دراصل ریاست کی پروردہ مسلم لیگوں کے مقابلے میں معرض وجو د آئی تھی۔یہ غیر فطری عمل ہے جس کا خاتمہ بالآخر ہوکر رہنا ہے ۔چونکہ ابھی تک ’’اوسط‘‘ کے قانون کے ذریعے نتائج اخذ کرنے کا رواج موجود ہے اس لئے کروڑوں محنت کشوں کو غریب رکھنے والے سرمایہ داروں کے وجودکے بھی اس پارٹی میں رہنے کے امکانات اس وقت تک موجود ہیں جب تک ’’ نیا قانون‘‘ معرض وجود میں نہیں آجاتا!!!یقیناًایسا قانون پارٹی کے اندرکسی نام نہاد جمہوری تبدیلیوں،مفاہمت یا اصلاحات کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ پارٹی کے اند ر تبدیلی کے لئے بھی اکثریتی محنت کش طبقے کی بغاوت کی ضرورت ہے۔اس بغاوت کا کب سے انتظار ہے اور اب اس کی شدت بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔

2 Comments

  1. Pingback: مرتضیٰ بھٹوکی اصل جدوجہد کیا تھی؟

  2. Pingback: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام: بھیک کے ذریعے غربت میں کمی کا فلسفہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*