پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے وفد کا مشال خان کے آبائی علاقے کا دورہ، اہل خانہ سے بھرپور اظہار یکجہتی

رپورٹ: سنگین باچا

16 اپریل کو پاکستان ٹریڈیونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے وفد نے مشال خان کے آبائی گاؤ ں صوابی کا دورہ کیا اور مشال کے لواحقین سے تعزیت کی۔ وفد میں PTUDC خیبر پختونخواہ کے رہنما غفران احد ایڈووکیٹ، قبائلی علاقہ جات کے عوامی رہنما علی وزیر، پیپلز پارٹی بنوں کے نظریاتی کارکن اور رہنما بخت نیاز سکندری، پشاور یونیورسٹی اور سوات کے مختلف علاقہ جات کے انقلابی طلبہ شامل تھے۔ طبقاتی جدوجہد کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں مشال کے بہیمانہ قتل کی جو پس پردہ وجوہات بیان کی گئی تھیں، اُس کے رشتہ داروں نے اُن کی تصدیق کی۔

مشال کے چچا نے بات کرتے ہوئے کہا کہ مشال نے ایک ڈگری لی تھی لیکن وہ اس ڈگری سے خوش نہیں تھا کیونکہ وہ سمجھ رہا تھا کہ اس ڈگری سے وہ صرف اپنا انفرادی فائدہ کر سکتا ہے، اس لئے اُس نے جرنلزم میں دوبارہ داخلہ لیا تا کہ عوام کے مسائل کو اجا گر کر سکے۔ مشال کے خاندان کے ایک اور فرد نے بتایا کہ مشال نے اس کے سامنے کئی دفعہ یہ بات کی کہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں انتظامیہ کرپشن اور طلبہ کی حق تلفی میں ملوث ہے اور اس کو بے نقاب کر کے ہی چھوڑوں گا۔ اسی جرم کی پاداش میں اسے توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کروا دیا گیا۔
مشال کے گاؤ ں میں ملک بھر سے ترقی پسند سیاسی کارکنان دورہ کر رہے ہیں جو کہ ایک خوش آئند امر ہے۔ گاؤں کے گلی کوچوں میں ریلیاں نکالی گئیں اور مشال کی بے گناہی کے نعرے بھی لگائے گئے۔ کئی دن بعد مشال کے گاؤں میں کچھ بالادست سیاسی شخصیات نے بھی اپنی سیاست چمکانے اور کیمرے کے آنکھ کی زینت بننے کے لئے دورہ کیا۔ یہ حکمران 3 دن پہلے خاموش تھے لیکن بدلتے حالات کے ساتھ انہوں نے اپنی سیاست کو چمکانے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔
مشال کے والد، جو خود بھی ترقی پسند نظریات رکھتے ہیں، کا حوصلہ بہت بلند تھا۔ دکھی ضرور تھے لیکن انہوں نے کہا کہ مشال خان کے نظریات پر جدوجہد کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ PTUDC کے ساتھیوں نے مشال خان کے والد کو ہر قسم کی قانونی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کا یقین دلایا۔
مشال خان کے شخصیت پر تو سارا میڈیا اب بات کرنے پر مجبور ہو چکا ہے، لیکن اِس کے مارکسی نظریات کو حسب روایت چھپایا جا رہا ہے۔ انہی نظریات کی بنیاد پر جدوجہد کرتے ہوئے ان حکمران طبقات اور ان کے نظام کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے جو مشال خان اور اس جیسے بے شمار معصوم انسانوں کا قاتل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*