سرمایہ دارانہ بحران کے سیاسی مضمرات

تحریر: آصف رشید

افریقہ سے یورپ اور امریکہ سے مشرق وسطیٰ تک سرمایہ داری کا سیاسی عدم استحکام پوری شدت سے آشکار ہو رہا ہے۔ زمبابوے میں تین دہائیوں پر محیط موگابے حکومت کا خاتمہ ہوا اورجنوبی افریقہ میں جیکب زوما کو اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا ہے۔ بیشتر یورپی ممالک میں جہاں الیکشن ہوئے وہاں ہمیں دائیں اور بائیں بازوکے درمیان پولرائزیشن کاعمل نظر آتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے بحران نے اصلاح پسندی کے تمام رجحانات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یورپ میں انتہائی دائیں بازو کے کچھ رجحانات کا ابھارضرور نظر آتا ہے لیکن یہ کسی بھی طور مستقل اور ٹھوس نہیں ہوسکتا۔ یہ واضح انقلابی متبادل کے فقدان کی پیداوار ہے جو نئی اور تازہ دم تحریکوں کے نتیجے میں منظر عام سے غائب ہو جائے گا۔ 2008ء کے بعد معاشی توازن ٹوٹنے سے سیاسی استحکام فی الوقت ناممکن نظر آتا ہے۔ سرمایہ داری کا یہ نامیاتی بحران سیاسی انتشار کو مزید تیز تر کرتا جائے گا۔
امریکہ میں ٹرمپ نے اپنی صدارت کا ایک سال مکمل کیا ہے۔ ٹرمپ کا اقتدار میں آنا پوری دنیااور بالخصوص امریکی بورژوازی کے لیے حیران کن تھا۔ لیکن یہ امریکہ سامراج کے زوال کا نتیجہ ہے۔ ٹرمپ نے امریکہ کو ’’دوبارہ عظیم بنانے‘‘، بند کارخانوں کو کھولنے اور بیرونی دنیا سے امریکی سرمایہ کاری واپس لانے کے حوالے سے جو لفاظی کی اس سے محنت کش طبقے کے کچھ حصوں میں بھی امید کی کرن ضرور پیدا ہوئی۔ امریکہ میں کروڑوں انسان غربت، بیروزگاری اور بے گھری کا شکار ہیں۔ ٹرمپ کی لفاظی نے انہیں اپنی طرف مائل کیا ہے۔ اس نے نئے سال کے آغاز پرامریکہ میں انفراسٹرکچر کی تعمیر کے حوالے سے اگلے 10 سال میں 1.5 ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کا پلان بنایا ہے جس کے لئے 200 بلین ڈالر مختص کر دئیے گئے ہیں۔ اس سرمائے سے ریلوے، ٹرانسپورٹ اور دیگر تعمیراتی منصوبوں کا آغاز کیا جائے گا۔ لیکن جتنا پر جوش انداز میں یہ اعلان کیا گیا ہے اس پر عمل درآمد شاید اتنا آسان نہیں ہوگا۔ ارب پتی ٹرمپ بورژوازی کا ہی نمائندہ ہے۔ ٹرمپ امریکی سامراج کا وہ حقیقی چہرہ ہے جس کو پہلے معتبر نمائندوں کی شکل میں ایک لبرل نقاب میسر تھا۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ٹرمپ کوکنٹرول نہیں کر پا رہی ہے۔ خارجہ پالیسی میں ٹرمپ کی مہم جوئی پوری دنیا کے سرمایہ داروں کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے۔ اس نے پاکستان، فلسطین اور دیگر کئی ملکوں کی مالی معاونت بند کر دی ہے۔ جس سے نئے تضادات ابھر رہے ہیں۔ ٹرمپ کی بیان بازیاں مشرق وسطیٰ اور ایشیا کی رجعتی قوتوں اور حاکمیتوں کو محنت کشوں پر مزیدحملے اور جبر کرنے کاجواز فراہم کرتی ہیں۔ ایران میں حالیہ احتجاجوں کے دوران ٹرمپ اور مغربی سامراجیوں کی بیان بازیوں نے ایرانی ملاں اشرافیہ کو تحریک کو کچلنے میں معاونت فراہم کی ہے۔ لیکن دنیا پر اپنی بالا دستی اور غلبہ برقرار رکھنے کے لیے درکار امریکہ کی معاشی طاقت روبہ زوال ہے۔ حال ہی میں ٹرمپ نے شمالی کوریا پر پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والی 33 شپنگ کمپنیوں پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے اقوام متحدہ میں ایک قرارداد بھیجی۔ ان میں چینی کمپنیاں بھی شامل تھیں۔ چین نے اس اقدام کی بھرپور مخالفت کی ہے۔ ایسے اقدامات امریکہ چین تعلقات میں مزید کشیدگی کا باعث بنیں گے۔ یہ تضادات پہلے سے موجود تھے۔ ٹرمپ نے صرف انہیں مہمیز دی ہے۔ ٹرمپ کے خلاف صرف ایک سالہ اقتدارکے دوران واشنگٹن ڈی سی، نیویارک، شکاگو اور لاس اینجلس وغیرہ میں خواتین سمیت لاکھوں لوگوں نے احتجاج کیے ہیں۔ 20 جنوری کو ٹرمپ انتظامیہ کا ایک سال پورا ہونے پر وفاقی حکومت کا شٹ ڈاؤن ہوا جو ملکی تاریخ کاسب سے بڑ ا شٹ ڈاؤن تھا۔ اس کی وجہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے مالی سال کا مستقل بجٹ نہ پیش کرسکنا تھا۔ یہ تما م سیاسی، سماجی اور معاشی تضادات آنے والے وقتوں میں زیادہ شدت سے اپنا اظہار کریں گے۔
یورپ میں بھی ’معاشی استحکام‘ کے حصول کے لئے مستقل کٹوتیوں، نجکاری، ڈاؤن سائزنگ وغیرہ کی جو پالیسیاں لاگو کی گئی تھیں‘ ان کا نتیجہ سیاسی اتھل پتھل کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ لیکن یونان میں سائریزا کی غداری اصلاح پسندی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس سے ایک چیز واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ سرمایہ داری کی حدود کے اندر محنت کش طبقے کے مسائل کا حل ناممکن ہے۔ الٹا یونان کا معاشی بحران زیادہ شدید ہی ہوا ہے۔ فرانس میں میکرون ایک اعتدال پسند بورژوا نمائندے کے طور پر فرانس کا صدر منتخب ہوا ہے۔ روایتی سیاسی پارٹیاں پہلے مراحل میں ہی اقتدار کی دوڑ سے باہر ہوگئیں تھیں۔ عالمی میڈیا میکرون سے بہت امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے۔ لیکن میکرون کے پاس زیادہ آپشن موجود نہیں ہیں۔ بائیں بازو کے نمائندے کے طور پر میلاشوں کا ابھار اہمیت کا حامل ہے۔ تحریک کی پسپائی اور ٹھہراؤ کے نتیجے میں میری لی پین کی شکل میں قدامت پسندی اور رجعت کا عنصر سامنے آیا ہے۔ لیکن اس کے ابھار اور وسیع سماجی بنیادیں حاصل کرنے کے امکانات بہت ہی محدود ہیں۔ سماجی بے چینی دائیں اور بائیں بازوکی پولرائزیشن میں اپنااظہار کر رہی ہے۔ کسی واضح سیاسی اظہار تک پہنچنے کے لیے اسے مختلف مراحل سے گزرناہوگا۔ ایسے حالات میں کسی بھی ملک میں مستحکم اقتدار کے امکانات محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ میکرون کے لیے بھی آنے والا وقت انتہائی کٹھن ثابت ہوگا۔
برطانیہ، جو کچھ سال پہلے تک یورپ کا سب سے مستحکم ملک سمجھا جاتا تھا، 2016 ء میں بریگزیٹ ریفرنڈم کے بعد سے عدم استحکام کا شکار ہوا ہے۔ یورپی یونین سے علیحدگی کوئی سادہ اور آسان معاملہ نہیں ہے۔ دوسری طرف محنت کش طبقے کے اضطراب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جسکا اظہار جیرمی کاربن کے صورت میں ہوا ہے۔ لیبر پارٹی کے دائیں بازو کے لیڈر‘ جیرمی کاربن سے جان چھڑانے کی ہر ممکن کوشش کے باوجود مسلسل ناکام ہو رہے ہیں۔ اُس کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور آئندہ انتخابات میں لیبر پارٹی کی حکومت بننے کا امکان برطانوی حکمران طبقات کے لئے کافی پریشان کن ہے۔ تمام تر لفاظی اور انقلابی نعرے بازی کا اصل امتحان تب شروع ہو گا جب وہ اقتدار میں آئے گا۔ اِسی طرح جرمنی میں انجیلا مرکل‘ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ اتحاد کی کوشش کر رہی ہے۔ حالیہ انتخابات میں دنوں کے ووٹوں میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔ ایک بات واضح ہے کہ عالمی سرمایہ داری کے بحران نے یورپ کے اچھے دنوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اس وقت تمام یورپی ملکوں میں یورپی یونین سے علیحدگی کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔
اٹلی میں 4 مارچ کے الیکشن ایسے وقت میں ہونے جا رہے ہیں جب ملک خوفناک معاشی بحران میں گھرا ہوا ہے۔ قرضہ جی ڈی پی کے 133 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح پورے یورپ میں سب سے زیادہ ہے۔ اسکے علاوہ کٹوتیوں اور محنت کشوں کے خلاف حملوں میں مسلسل اضافہ ہواہے۔ ایسی پرانتشار صورتحال میں کوئی بھی سیاسی پارٹی اس قابل نہیں کہ وہ واضح اکثریت کیساتھ حکومت بنائے۔ غالب امکان یہی ہیں کہ ایک کمزور مخلوط حکومت بنے جسے اپنے آغاز میں ہی بے شمار مسائل کا سامنا ہوگا۔ پچھلی دو دہائیوں سے اٹلی میں دائیں بازوکی حکومتیں رہی ہیں۔ ان حکومتوں نے اس عرصے میں صحت، تعلیم اور پنشن پر کٹوتیوں کی صورت میں پرانی ویلفیئر ریاست کو برباد کر دیااور محنت کش طبقے نے جو حاصلات دوسری عالمی جنگ کے بعد جدوجہد کے نتیجے میں حاصل کی تھیں وہ سب چھین لی ہیں۔ بائیں بازو کی غداریوں اور مصالحت کی پالیسیوں نے جو خلا پیدا کیا اسکے نتیجے میں 2009ء میں ایک کامیڈین بیپ گریلو نے ’فائیو سٹار موومنٹ‘ کے نام سے ایک تحریک کا آغاز کیا، جسے انٹر نیٹ پر بہت پذیرائی ملی۔ 2013ء کے الیکشن میں فائیوسٹار موومنٹ نے 109 سیٹیں جیتیں، پچھلے سال دو بڑے شہروں تیورن اور روم میں مئیر کے الیکشن جیتے اور آنے والے الیکشن میں بھی سب سے زیادہ مقبول پارٹی سمجھی جا رہی ہے۔ پری پول سروے کے مطابق 30فیصد ووٹ کیساتھ فائیوسٹار موومنٹ سرفہرست ہے۔ یہ مظہر اٹلی میں محنت کش عوام کے سامنے واضح متبادل کے فقدان کی علامت ہے۔ یہ قطعاً کوئی بائیں بازو کی تحریک نہیں ہے بلکہ سٹیٹس کو کے خلاف نفرت کی وقتی پیداوار ہے۔
جنوبی افریقہ میں صدر جیکب زوما کی صدارت کا خاتمہ لمبے عرصے سے چلے آرہے تضادات کا اظہار ہے۔ حکمرانوں کی باہمی لڑائیوں کا نتیجہ ایک سیاسی بحران کی شکل میں نکلا ہے۔ نیا صدر ’سائیرل رامافوسا‘ بڑے کاروباریوں اور سرمایہ داروں کا نمائندہ ہے۔ وہ ایک سابقہ ٹریڈ یونین رہنما ہے لیکن آج خود بھی ایک ارب پتی سرمایہ دار بن چکا ہے۔ وہ کان کنی کی مزدور یونین کے بانی اراکین میں سے تھااور اس وقت میں اس نے کان کنی کے مزدوروں کی تحریکوں میں قائدانہ کردار بھی ادا کیا تھا۔ 1980-90ء میں جنوبی افریقہ کی سب سے بڑی یونین کوساٹو کی کانگریسوں میں رامافوسا بہت انقلابی تقریریں بھی کرتا رہا ہے۔ لیکن آج کا رامافوسا محنت کش طبقے کا غدار ہے۔ 1990ء کی دہائی میں جب تحریک سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی طر ف بڑھ رہی تھی تو اس وقت رامافوسا مصالحت کروانے والے لیڈروں میں سب سے آگے تھا۔ جس سے سرمایہ داری کو بچ نکلنے کا موقع ملا۔ اس غداری کے انعام کے طور پر اسے سرمایہ داروں نے خوب نوازا۔ اس نے ’’بلیک اکنامک امپاورمنٹ پروگرام‘‘ کے تحت کان کنی کی صنعت میں لاکھوں ڈالر کی اپنی کاروباری سلطنت کھڑی کی۔ اگست 2012ء میں میریکانا میں کان کنی کے محنت کشوں کے قتل عام میں بھی رامافوسا کا ہاتھ تھا۔ جس میں 34 مزدور شہید اور 78 زخمی ہوئے تھے۔ وہ آنے والے دنوں میں بھی سرمایہ داروں کو خوش کرنے کے لیے لیبر قوانین میں ترمیم کرکے محنت کش طبقے پر مزید حملے کرے گا۔
جنوبی افریقہ کی معیشت 2008ء کے بحران سے بری طرح متاثر ہوئی تھی جس سے معیار زندگی میں شدید گراوٹ آئی اور محنت کش طبقے کی جاندار تحریکوں کا آغاز ہوا۔ وہاں کے نودولتی سرمایہ دار طبقے نے کرپشن اور لوٹ مار سے بے پناہ مال بنایا ہے۔ عمارت اور غربت کی سب سے بڑی خلیج آج جنوبی افریقہ میں ہے۔ افریقن نیشنل کانگریس (ANC) کی مسلسل غداریوں کے نتیجے میں گزشتہ عرصے میں ’اکنامک فریڈم فائٹرز‘ جیسے بائیں بازو کے انتہائی ریڈیکل رجحانات نے مقبولیت حاصل کی ہے۔ جنوبی افریقہ میں مظبوط ٹریڈ یونینز موجود ہیں جن کی جدوجہد کی شاندار تاریخ ہے۔ معیشت کی زبوں حالی نے مزدور طبقے کی حالت بہت خراب کر دی ہے۔ انکے پاس لڑائی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے۔ سیاسی بحران شدید ہی ہوگا۔ محنت کش طبقے کو ’ANC‘کی غداریوں سے سبق سیکھتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی طرف بڑھنا پڑے گا۔ جنوبی افریقہ کا طاقتور محنت کش طبقہ پورے خطے کو ہلا کے رکھ سکتا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں 2011ء کے انقلاب کی پسپائی کے نتیجے میں ابھرنے والی رجعت اور سامراجی مداخلت نے عام لوگوں کو ایک دہکتی دوزخ میں دھکیل دیا ہے۔ عراق، یمن اور شام اس وقت سعودی عرب، ایران اور دوسرے سامراجی ملکوں کی پراکسی جنگوں کا اکھاڑہ بنے ہوئے ہیں۔ امریکی سامراج کی کمزوری سے ایران کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیل نے بھی شام میں میزائل حملے کئے ہیں جس نے صورت حال کو اور زیادہ گھمبیر کر دیا ہے۔ رجعتی عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنے اپنے مفادات اور بالا دستی کے لیے خطے کو تاراج کر رہی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری یہ خانہ جنگی اور خون ریزی سرمایہ درنہ نظام کے بحران کی پیداوار ہے جسے سرمایہ داری کے خاتمے کے بغیر نہیں روکا جا سکتا۔ یہ فریضہ عالمی پرولتاری جڑت کے ساتھ صرف اور صرف خطہ عرب کا محنت کش طبقہ ہی اد اکر سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*