لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی! پشاور یونیورسٹی کے طلبہ پر ریاستی تشدد نامنظور!

رپورٹ: انقلابی طلبہ محاذ

آج مورخہ 4 اکتوبر 2018ء کو پشاور یونیورسٹی میں فیسوں میں مسلسل اضافے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس نے بدترین تشدد کیا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پولیس کے لاٹھی چارج سے تقریباً دو درجن طلبہ شدید زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بیشتر کے سر پھٹ چکے ہیں یا ہاتھوں پیروں کی ہڈیاں فریکچر ہوئی ہیں۔ یونیورسٹی میں دفعہ 144 نافذ ہے جبکہ 28 طلبہ کو پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ گرفتار اور زخمی طلبہ کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ احتجاج کی فوری وجہ ایم فِل اور پی ایچ ڈی کورسز کی فیسوں میں اضافہ بنا لیکن اس سے پہلے بھی گزشتہ کئی سالوں سے تمام کورسز کی فیسوں میں مسلسل اضافے کا عمل جاری ہے جس کے خلاف یونیورسٹی کے طلبہ ’متحدہ طلبہ محاذ‘ (MTM) کے پلیٹ فارم سے چھوٹے بڑے احتجاج اور دھرنے کرتے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ بالخصوص پی ٹی ایم کی تحریک کے بعد حالیہ عرصے میں یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ پر ’ڈسپلن‘ کے نام پر سختی کئی گنا بڑھا دی ہے اور ادارے کے مختلف گیٹوں پر سینکڑوں سکیورٹی گارڈ ہر وقت تعینات رہتے ہیں جو نہ صرف طلبہ بلکہ ہر آنے جانے والے کو تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹی میں سیاسی بحث اور سرگرمیوں کی گنجائش بھی کم و بیش ختم کر دی گئی ہے، طلبہ کے ایک ساتھ بیٹھنے پر پابندی ہے، طلبا و طالبات کا میل جول بھی منع ہے اور ملک کے تقریباً ہر تعلیمی ادارے کی طرح یونیورسٹی میں ایک جیل خانے جیسا ماحول پیدا کر دیا گیا ہے۔

انقلابی طلبہ محاذ (RSF) پشاور یونیورسٹی کے طلبہ پر تشدد کی بھرپور مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ نہ صرف فیسوں میں جارحانہ اضافے کا عمل روکا جائے بلکہ احتجاج کرنے والے طلبہ پر تشدد کروانے والے سرکاری حکام کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے۔ زخمی طلبہ کو مناسب علاج معالجے کی سہولیات مفت فراہم کی جائیں اور گرفتار طلبہ کی فوری و غیر مشروط رہائی عمل میں لائی جائے۔ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی اور جمہوری حق ہے جسے کسی صورت سلب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہم حکومت پر واضح کرتے ہیں کہ احتجاج کرنے والے محنت کشوں اور طلبہ پر تشدد اور جبر کی روش ترک نہ کی گئی تو ترقی پسند طلبہ تنظیموں اور ٹریڈ یونینوں کیساتھ مل کر ملک گیر احتجاج کی کال دی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*