مظفرآباد یونیورسٹی میں پولیس گردی کے خلاف طلبہ یکجہتی کا شاندار مظاہرہ

رپورٹ: فرحان احمد خان

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں بدھ 30 جنوری کو آزادجموں کشمیر (اے جے کے) یونیورسٹی کے طلبہ اور پولیس کے درمیان کئی گھنٹوں تک تصادم جاری رہا جس کے نتیجے میں 20 سے زائد طلبہ اور 8 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ پولیس نے لاٹھی چارج ، آنسو گیس اور پتھراؤ کے ذریعے طلبہ کو منتشر کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے نتیجے میں اشتعال میں اضافہ ہو گیا۔
اے جے کے یونیورسٹی کے طلبہ کا مطالبہ تھا کہ انہیں پارکنگ کی سہولت فراہم کی جائے اور بدھ کے روز کی گئی اس ہڑتال کا مقصد بھی اس مطالبے کو منوانا تھا۔ جب طلبہ نے دوپہر کے وقت احتجاج شروع کیا تو ضلعی انتظامیہ پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ یونیورسٹی پہنچ گئی جہاں طلبہ پہلے ہی سے مشتعل تھے۔ طلبہ اور پولیس کے درمیان پہلے پتھراؤ ہوا جس میں کئی افراد زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں پولیس نے احتجاج کرنے والے طلبہ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا جس کے نتیجے میں کئی طلبہ بے ہوش ہوگئے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان پر براہ راست فائرنگ بھی کی ۔

شام تک جاری رہنے والے اس تصادم میں طلبہ کی جانب سے ایک موٹر سائیکل کو نذر آتش بھی کیا گیا جبکہ یونیورسٹی کے مرکزی دروازے کے سامنے واقع مٹن مارکیٹ کے پارکنگ پلازے کی کھڑکیوں کے شیشے بھی توڑے گئے۔ کیونکہ پولیس اہلکار مٹن مارکیٹ پارکنگ پلازے کی چھت سے مظاہرین پر شیلنگ اور پتھراؤ کرتے رہے۔ اس موقع پر پولیس افسران اور ڈپٹی کمشنر بھی موجود تھے۔ شیلنگ اور پتھراؤ کے نتیجے میں زخمی اور بے ہوش ہونے والے طلبہ کو ایمبولینسوں اور ریسکیو 1122 کی گاڑیوں میں ڈال کر ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ کچھ زخمی طلبہ کو وہیں طلبہ کی جانب سے لگائے گئے عارضی کیمپ میں ابتدائی طبی امداد دی جاتی رہی۔
شام کو یونیورسٹی کے ترجمان کی جانب سے ذرائع ابلاغ کو جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ مو رخہ 30 جنوری 2019ء کو آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے طلبہ نے اپنے دیرینہ مسئلے یونیورسٹی پارکنگ پر پرامن احتجاج کیا۔ یونیورسٹی طلبہ سٹی کیمپس کی پارکنگ کے لیے مطالبہ کر رہے ہیں۔ قبل ازیں ضلعی انتظامیہ نے یونیورسٹی طلبہ کے ساتھ مذاکرات کر کے مقررہ مدت کے اندر پارکنگ کے مسئلے کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی مگر پارکنگ کے مسئلہ کے حل کیلئے کسی قسم کی پیش رفت نہ ہونے کے با عث مورخہ 30 جنوری 2019ء کو طلبہ نے سٹی کیمپس کے باہر سڑک پر پر امن احتجاج کیا مگر بعد ازاں دوران احتجاج پو لیس نے سٹی کیمپس کے اندر طلبہ،انچارج کیمپس ڈین فیکلٹی آف آرٹس سمیت فیکلٹی ممبران اور یونیورسٹی انتظامیہ کے افسران / اہلکاران پر آنسو گیس ،ربڑ کی گولیاں اوربے دریغ شیلنگ کی جس کے نتیجہ میں 2 سکیورٹی اہلکاروں سمیت متعدد طلبہ زخمی ہو گئے۔یونیورسٹی ترجمان کے مطابق یونیورسٹی سٹی کیمپس کی انچارج ڈین فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر عائشہ سہیل ا وریونیورسٹی انتظامیہ کو بتائے بغیر سٹی کیمپس میں شیلنگ کی گئی۔ سٹی کیمپس میں پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور پتھراؤ کے واقعے پر یونیورسٹی حکام نے انتہائی غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید الفا ظ میں مذمت کی ہے۔ یونیورسٹی پریس ریلیز کے مطا بق مورخہ 31 جنوری 2019ء سے تا حکم ثا نی یونیورسٹی میں تدریسی عمل معطل رہے گا تاہم یونیورسٹی انتظامیہ بدستو ر حاضر رہے گی۔

خیال رہے کہ اے جے کے یونیورسٹی کا سٹی کیمپس مظفرآباد شہر کے وسط میں واقع ہے ۔ کچھ عرصے سے یونیورسٹی کے طلبہ پارکنگ کی سہولیات نہ ہونے کی شکایت کر رہے تھے۔ یونیورسٹی کے سامنے حکومت کی جانب سے تعمیر کیے گئے پارکنگ پلازے میں طلبہ کو گاڑیاں کھڑی کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی طلبہ کے لیے پارکنگ کا انتظام نہیں کیا۔ اس صورت حال میں طلبہ‘ یونیورسٹی کے باہر سڑک پر گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں کھڑی کرتے تھے جنہیں بعض اوقات ٹریفک پولیس کے اہلکار لفٹر کے ذریعے اٹھا کر لے جاتے تھے ۔
مظفرآباد یونیورسٹی اور اس سے قبل قائد عوام یونیورسٹی نواب شاہ میں پولیس گردی کے حالیہ واقعات کے خلاف ملک بھر میں طلبہ میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا ہے جس کا اظہار سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں اور یکجہتی پیغامات کی شکل میں ہوا۔

دادو میں انقلابی طلبہ محاذ (RSF) اور بیروزگار نوجوان تحریک کے زیر اہتمام مظفر آباد یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لئے نوجوانوں نے پلے کارڈز اٹھا کر مظاہرہ کیا۔

حیدر آباد میں بھی انقلابی طلبہ محاذ کے زیر ہتمام احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں قائد عوام یونیورسٹی اور آزاد جموں کشمیر یونیورسٹی کے طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا اور ریاستی جبر کی شدید مذمت کی گئی۔

لاہور میں پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو (PSC) اور انقلابی طلبہ محاذ سے وابستہ نوجوانوں کا پیغامِ یکجہتی جو سوشل میڈیا پر نشر کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*