طبقہ اور پارٹی

تحریر: عصمت پروین

دنیا بھر کی بورژوازی بھی آج سرمایہ داری کی بحرانی کیفیت میں بری طرح گھائل ہے۔ بحران کو ٹالنے کے لیے ان کے پاس کوئی حربہ باقی نہیں بچاتو کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس نہ توتناظر کی کوئی سمجھ بوجھ ہے اور نہ ہی اس کیفیت سے ہمیشہ کے لیے نکلنے کا کوئی راستہ۔ اصلاحات کی گنجائش ختم ہو جانے پر وہ بے قابو حالات اور بڑھتے ہوئے بحران میں رونما ہونے والے واقعات پر بالکل سطحی تجزیے اور مصنوعی ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ درحقیقت عالمی پیمانے پر سرمایہ داری ایک نامیاتی بحران کا شکار ہے۔ بورژوازی اس بحران سے نمٹنے کیلئے دائیں بائیں جھانک رہی ہے اور ان کی بوکھلاہٹ بحران میں پہلے سے کہیں زیادہ شدت کا سبب بن رہی ہے۔
بحران کی کیفیت بھی کوئی جامدیا لا متناہی نہیں ہوتی، اس میں اتارچڑھاؤ ناگزیرہوتے ہیں۔ اس لیے اس پورے عمل کو ایک کل کے طور پر دیکھنا لازم ہوتا ہے۔ جیسا کہ لیون ٹراٹسکی لکھتا ہے کہ ’’اصلاح پسند ہمیشہ ترقی کی طرف دیکھتے ہیں اور فرقہ پرست صرف زوال کی جانب دیکھتے ہیں، مگر مارکسسٹ ہمیشہ پورے عمل کو ایک کل کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘‘
محنت کش طبقے اور سماج پر معاشی اتار چڑھاؤ کے اثرات مختلف طریقوں سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ معاشی سائیکل میں اتار چڑھاؤخود کا ر یا اچانک رونما نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک لمبے عرصے سے چلے آرہے تضادات کا اظہار ہوتے ہیں۔ عام حالات میں عمومی شعور قدامت پسند ہو تا ہے اور واقعات کے پیچھے چلتا ہے۔ جہاں اصلاح پسندوں کی نفسیات کا بنیادی متناقضہ ہے کہ وہ امید کو ہمیشہ حقیقت پر فوقیت دیتے ہیں وہاں محنت کشوں کے شعور پر ان توہمات اور ابہام کے اثرات کوزائل کرنے کے لیے عمومی حالات سے ہٹ کر ایک انقلابی جست درکار ہوتی ہے۔ محنت کش طبقہ بھی ہر روز کی تکالیف اور ذلتوں سے نئے اسباق و تجربات حاصل کرتا ہے۔ سرمایہ داری کا نیا معمول حکمران طبقے کو کوئی سنجیدہ اصلاحات کرنے کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اس کے برعکس وہ ماضی کی حاصلات کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ یورپ کی فلاحی ریاستوں کا محنت کش طبقہ ماضی کی دی گئی آسودگی اور مراعات کی طرف لوٹنے کا خواہاں ہے مگر سرمایہ داری کامتروک نظام کچھ دینے کی بجائے اب چھین ہی سکتاہے۔ وہاں ہونے والی کٹوتیاں اور پینشنوں وغیرہ کا خاتمہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یورپ میں بورژوازی کا یہ نعرہ ہے کہ محنت کش اپنی آخری سانس تک اپنی قوت محنت سرمایہ داروں کو بیچیں، جس کیلئے انہوں نے ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد پہلے 65 اور پھر 70 سال تک مقرر کر دی ہے اور اس سے صرف محنت کش طبقہ ہی نہیں بلکہ پیٹی بورژوازی (درمیانہ طبقہ) بھی شدید تذبذب کا شکار ہے۔ روایتی ٹریڈ یونین قیادتیں محنت کشوں اور درمیانے طبقے کو سوشلزم کی آواز پر اکھٹا کرنے کی بجائے ارب پتی سرمایہ داروں کی دلالی کو مقدس گردانتی ہیں۔ ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک کے محنت کش طبقے کو اس وہم میں مبتلا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے کہ موجودہ معاشی بحران عارضی ہے اور جلد ہی ٹل جائے گا اور ا س میں روایتی لیڈران اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
موجودہ بحران کی کیفیت میں سنجیدہ بورژوامعاشی ماہرین بھی سرمایہ داری کی متروکیت کے وہی نتائج بر آمد کرنے پر مجبور ہیں جن کاتناظرمارکسسٹوں نے پہلے سے دیا تھا۔ سرمایہ دارانہ نظام پوری دنیا میں بری طرح بے نقاب ہو چکا ہے اور اس نہج پر پہنچ چکا ہے کہ ماضی کی ترقی اور فلاحی ریاستوں میں دی گئی محنت کشوں کی مراعات اب کسی دیوانے کا خواب معلوم ہوتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں شرح نمو انتہائی نحیف اورمسلسل گراوٹ کا شکار نظر آتی ہے۔ اس کی ایک وجہ سرمایہ داری کی ترقی سے وجود میں آنے والی نئی ٹیکنالوجی بھی ہے جس نے محنت کی منڈی کومزید سکیڑ دیا ہے اوراس ٹیکنالوجی نے بیروزگاری کی شرح کو بڑھاوا دیا ہے۔ شرح منافع کی گراوٹ کو کم سے کم کرنے کی تگ و دو نے زائد پیداواری صلاحیت کے ایسے بحران کو جنم دیا ہے جس کا خاتمہ اس نظام میں رہتے ہو ئے ناممکن نظر آتا ہے۔ ایک نہ ختم ہونے والا اور ہر روز بڑھتا ہوا بحران اور معاشی جبر نا گزیر طور پر اس نظام کی موت کا باعث بنے گا اور اس نظام کے گورکن کا فریضہ خود محنت کش طبقہ اوراس کی ہر روز کی جدوجہد ادا کرے گی جن کی زندگیوں کو اس نظام نے اجیرن بنایا ہوا ہے۔
بہت سے بورژوا تاریخ دانوں کے مطابق تاریخ عظیم خواتین، حضرات، شہزادوں، شہزادیوں اورسیاست دانوں کی مرہون منت ہوتی ہے، ان کے خیال میں انہوں نے ہی تاریخ تخلیق کی ہے۔ یہ تمام تر تاریخ محنت کشوں اور محکوموں کے خون سے لکھی گئی ہے، جن میں ان کا ذکر تک نہیں ہے۔ مارکس کے بقول ’’انقلابات تاریخ کا انجن ہوتے ہیں۔‘‘ انقلابات کے بغیر سماج نہ صرف سکوت کی کیفیت میں جاتا ہے بلکہ یہ تعفن پھیلانے کا موجب بھی بنتا ہے جس میں پھر مظلوم و محکوم ہی برباد ہوتے ہیں۔ اور ایسی کیفیت میں تاریخ کے سفر کو آگے بڑھنے کے لیے ناگزیر طور پر انقلابی جست درکار ہوتی ہے جو سماج کو اس بدبو دار کیفیت سے نکال کر ایک نئے معمول میں نئی زندگی دیتی ہے۔ مگر ہم نے ماضی میں دنیا کے مختلف خطوں میں رونما ہونے والے کامیاب اور پسپائی کا شکار ہونے والے انقلابات میں موضوعی عنصر کی تحریکوں میں واضح اہمیت، ضرورت اور کردار کی حقیقت کو سمجھا ہے۔ آکو پائی وال سٹریٹ کی تحریک ہو، مصر کا انقلاب ہو، چلی میں طلبہ تحریک ہو یا پھر پاکستان میں 1968-69ء کا انقلاب، ان تمام تر تحریکوں میں ایک مشترکہ فقدان ایک موضوعی عنصر کا رہا ہے، جو محنت کشوں کو طبقاتی بنیادوں پرجوڑتے ہوئے ہوئے انکو یکجا کرسکتا۔ اگر صرف محنت کش طبقے کی لڑائی محض مٹھی بھر سرمایہ دار طبقے تک محدود ہوتی تو معاملہ قدرے سادہ ہوتا۔ اصل مسئلہ نہ صرف اس اقلیتی طبقے پر جیت حاصل کرنا ہے بلکہ اس نظام کو بنیادوں سے چیرتے ہوئے پیداواری رشتوں کی نوعیت کو یکسر بدل کر ایک ایسے نئے سماج کی تخلیق کرناہے جس میں طبقات کا ہی وجود ختم ہو جائے۔ اس عظیم فریضے کے لیے لازمی ہے اس نظام کی بنیادوں کو سمجھا جائے اور اس کے محرکات کا تجزیہ کیا جائے، اس کے بحرانوں، عروج و زوال کا ٹھوس سائنسی انداز میں معائنہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جس کے لیے نظریہ اور فلسفہ درکار ہے اور غیر طبقاتی سماج کے لیے وا حد سچا اور سائنسی نظریہ انقلابی سوشلزم کا نظریہ ہے۔ محنت کش طبقہ اپنی لڑائی لڑتو سکتا ہے اور حکمرانوں کو زیر کرتے ہوئے اپنے وقتی مطالبات بھی منوا سکتاہے لیکن اس استحصالی نظام کو اکھاڑ کر ایک نئے نظام کی بنیادیں ڈالنے کے لیے ایک ٹھوس انقلابی پارٹی درکار ہوتی ہے۔ محنت کش طبقے کی مختلف پرتوں میں ہمیں مختلف رجحانات نظر آتے ہیں۔ محنت کش طبقے کی پچھٹری ہوئی اور پسماندہ پرتیں دوہراکردار رکھتی ہیں۔ پسماندگی کی وجہ سے وہ اپنے ہی طبقے سے کٹ کر اس کے خلاف بھی جدوجہد کر سکتی ہیں اور وہ بورژازی کی جانب بھی جا سکتی ہیں اور بنیاد پرستی و دیگر عوامل کی وجہ سے اسی نظام کے رکھوالوں کا کردار بھی ادا کر سکتی ہیں۔ اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے اور محنت کشوں کی تربیت کرنے کیلئے انقلابی پارٹی ایک یونیورسٹی اور ایک اعلیٰ ادارے کا کردار ادا کرتی ہے۔ یہ محنت کش طبقے کا آوزار بن کر نظام کی تبدیلی کا موجب بنتی ہے۔ آج پاکستان سمیت پوری دنیا میں مجموعی طور پر پھر موضوعی عنصر کی کمی نظر آتی ہے۔ ہمارا بنیادی مقصددرست طریقہ کار اور لائحہ عمل کے ذریعے اس موضوی عنصر کی تعمیر کرتے ہوئے ایک انقلابی پارٹی تشکیل دینا ہے۔ جو اس بربریت کے نظام، جو نسل انسانی کی بقا کے لیے خطرہ ہے، کاخاتمہ کرتے ہوئے یہاں پر حقیقی معنوں میں ایک انسانی سماج کی بنیاد رکھ سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*