کرپشن اور جمہوریت!

تحریر: لال خان

اِس ملک میں پچھلے لمبے عرصے سے ’کرپشن‘ اور پچھلے چار سالوں سے بالخصوص شریف خاندان کی کرپشن ہی صحافت و سیاست پر حاوی ہے۔ آج کل پھر تاثر دیا جا رہا ہے کہ ملک میں کرپشن کے علاوہ کوئی مسئلہ اور شریف خاندان کے سوا کوئی کرپٹ نہیں ہے۔ ہر طرف یہی شور ہے کہ نواز جارہا ہے، کسی کے مطابق جیل کی سلاخوں کے پیچھے تو کسی کے مطابق ملک و سیاست سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے باہر۔ ہوسکتا ہے جے آئی ٹی غیر جانبدار اور منصفانہ ہو، یا پھر اِس کی غیر ’جانبداری‘ کچھ ریاستی دھڑوں کے مفادات کے عین مطابق ہو… لیکن پھر فیصلہ تو سپریم کورٹ نے کرنا ہے! لیکن سوال یہ ہے کہ کیا نواز شریف کے معزول ہوجانے سے اس ملک میں کرپشن کا خاتمہ ہوجائے گا؟ آج کل یہ سوال پوچھنا ہی متنازع سا بنا دیا گیا ہے۔ شعور کی رتی رکھنے والا کوئی بھی شخص اِس سوال کا جواب ہاں میں نہیں دے سکتا۔
مسئلہ صرف نواز شریف یا اس سے پہلے یا بعد میں آنے والے حکمرانو ں کے ذاتی کردار کا نہیں ہے۔ کرپشن کے الزامات بھٹو پر بھی لگے تھے۔ یہاں حکمران بدلتے رہے، جمہوریتیں اور آمریتیں (جن کو مختلف ’’نظام‘‘ بنا کر اصل ’’نظام‘‘ کو تحفظ دیا جاتا ہے) بھی رہیں، لیکن بالخصوص ضیا الحق کے دور سے سبھی بدعنوانی میں لتھڑے رہے۔ یہ نظامِ معیشت، سیاست و ریاست جس نہج پر پہنچ چکا ہے وہاں کرپشن اس اقتدار کے سیارے کی مٹی اور آب و ہوا میں رچ بس چکی ہے۔
نواز شریف کئی دہائیوں سے اسی حکمران طبقے کا روایتی اور کلاسیکی نمائندہ رہا ہے۔ لیکن نظام کے بحران کی شدت نے حکمران سیاست و ریاست میں دھڑا بندی اور تصادم تیز تر کردیا ہے۔ نواز مخالف دھڑے نے اب کی بار موٹا وار کرنے کوشش کی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ کھیل، کھیلنے والوں کے قابو سے بھی باہر ہو گیا ہے؟ یا پھر اُنہیں فی الوقت اِس کا ادراک ہی نہیں ہے؟ بہرحال یہ ساری صورتحال ریاست کے اندر موجود شدید تضادات کی غمازی کرتی ہے، جو بحیثیت مجموعی حکمران طبقے اور اس کے نظام کے گہرے بحران کی علامت ہے۔ اگر اقتدار بدل کر اِس سارے انتشار کو سمیٹنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے تو یہ بحران کم نہیں ہو گا۔
لیکن باقی تمام پارٹیوں کے لیڈر اور سیاسی سرغنہ بھی تو اسی نظام زر کی سیاست کرتے ہیں۔ یہی سیاہ دولت ریاستی اداروں میں بھی سرایت کئے ہوئے ہے اور یہی دھن اپنے دھنوانوں کے ذریعے معاشرے کے تمام بالادست اداروں کا کاروبار اپنے مفادات کے تحت ڈھالتا ہے۔ اس نظام کے نظریات کے تحت سیاست کا کھیل صرف پیسے کے زور پر ہی کھیلا جا سکتا ہے۔ یہاں پیسے کے ذریعے ہی انتخابی مہمات جاری ہوتی ہیں۔ میڈیا کے انتہائی مہنگے’’ائیرٹائم‘‘ حاصل کیے جاتے ہیں۔ جوں جوں بحران بڑھ رہا ہے نیچے سے اوپر تک ووٹوں کی بولی بھی بڑھتی ہی جارہی ہے۔ پھر پوری انتخابی مشینری کوکہیں نہ کہیں دھن کا تیل لگا کر چلوانا پڑتا ہے اور پھر اوپر کے حکام کو چاہے کسی طرح بھی خوش کیا جائے، اس کے لیے پیسہ پھر بھی درکار ہوتا ہے۔ ہر الیکشن میں اخراجات کی ’’حدود‘‘ مقرر کی جاتی ہیں، جو شاید انتخابی مہم کے پہلے چند گھنٹے میں عبور ہوجاتی ہیں، جبکہ ابھی انتخابات میں مہینے پڑے ہوتے ہیں۔ لیکن کون پوچھتا ہے اور کون پوچھ سکتا ہے؟ بڑے بڑے فنانسر ایک وقت میں کئی پارٹیوں کو فنانس کرتے ہیں۔ فیصلہ کو ئی بھی ہو، جیتتے آخر یہی دھنوان ہی ہیں۔ سب جانتے بھی ہیں لیکن ان کا نام لینے کی جرات سے ہر کوئی عاری بھی ہے۔ یہ سرمائے کا وہ غلبہ ہے جو سرمایہ داری میں ہمیشہ رہتا ہے۔
پچھلے کئی سالوں سے انتخابی مہمات کا کردار بھی بدل گیا ہے۔ اب تو یہ حکمران، غریبوں سے کسی مصنوعی ہمدردی کا ناٹک بھی نہیں کرتے ہیں۔ نام نہاد جمہوریت کی اِس سیاست میں اگر کوئی چیز ناپید ہے تو وہ جمہور کے حقیقی مسائل اور اذیتیں ہیں۔ بس پراجیکٹوں کے دعوے اور نمائشیں ہیں ! لیکن ان پراجیکٹوں سے زندگی سہل نہیں ہوتی اور اس ملک کی وسیع تر عوام کی حالت زار میں کوئی بہتری نہیں آتی۔ اس نظام کی تمام حکومتوں اور پارٹیوں کے اقتدار میں جتنے بھی منصوبے بنتے ہیں ان کا طریقہ کار ایک ہی ہوتا ہے۔ یہ تمام کام ٹھیکے پر ہوتے ہیں۔ اور پھر اِن اربوں کھربوں کے سامراجی و مقامی ٹھیکوں پر لڑائیاں ہوتی ہیں۔ یہ سلسلہ اوپر سے نیچے تک معاشرے کے ہرخلیے میں سرایت کر گیا ہے۔ اِس سارے حکمران ڈھانچے کی ’’ترقی‘‘ اِسی ٹھیکیداری کے گرد گھومتی ہے۔ آخری تجزئیے میں صنعت، معیشت، سروسز اور سماج کی تمام تراقتصادیات اسی منافع خوری کے مقصد پر مبنی ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ کسی انسان کو کوئی مفادحاصل نہیں ہوگا تو وہ کام کیوں کرے گا؟ بات سوچ کے معیار کی ہے۔ یہ معیارات اور اقدار رائج الوقت سماجی و معاشی نظام طے کرتے ہیں۔ ایسے سماج بھی رہے ہیں جن میں پیسے کے لالچ اور منافع وغیرہ کا تصور تک نہیں تھا۔ اُن میں بھی بہت سے تخلیقی اور تعمیری کام ہوتے تھے۔ وادی سندھ کی تہذیب اِسی خطے کی ایسی ایک مثال ہے۔ انہوں نے موہنجوداڑو میں آج کے ’جدید‘ لاڑکانہ سے کہیں بہتر منصوبہ بندی پر مبنی آبادیاں آج سے 5 ہزار سال پیشتر تعمیر کی تھیں۔ ایسے سماج کا قیام آج بھی ممکن ہے جس میں پیسے کی ترغیب اور خواہش کے بغیر اشتراکی بنیادوں پر اتنی ترقی حاصل ہوسکے کہ انسانی مانگ اور محرومی کا خاتمہ ہوجائے۔ نسل انسان کی تاریخ دولت کی ہوس پر مبنی سماجی ارتقا کو مسترد کرتی ہے۔ اگر وہ وقت نہیں رہا تو یہ حالات، اقتدار اور اقتدار بھی نہیں رہیں گے!
یہی اصل مسئلہ ہے کہ جب ہر شعبے کی قوت محرکہ پیسہ ہو تو انسانیت رخصت ہو جاتی ہے۔ مطلب کے بغیر رشتوں کا ادراک ہی مشکل بن جاتا ہے۔ لیکن یہ ہوس اتنی بڑھتی جاتی ہے کہ منافع خوری کے قانونی طریقوں سے تجاوزکرنے لگتی ہے۔ اِسی کو کرپشن کا کہا جاتا ہے اور یہی کرپشن نظام کے بحران کی کیفیت میں جائز اور سفید معیشت کے ہجم سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ جیسا کہ اِس وقت پاکستان میں صورتحال ہے۔ اور جو نظام چل ہی کرپشن پر رہا ہے، کر پشن جس کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہی ہے اور جس کی زنگ آلود مشینری کے لئے تیل کا درجہ رکھتی ہے، اُسے کرپشن سے پاک کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں! کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ صرف ریٹ بڑھ جاتے ہیں۔ یہ کرپشن ایک طبقے کی ہوس ہے تو دوسرے طبقے کی مجبوری بنا دی گئی ہے۔ یہ پاکستان جیسے پسماندہ ممالک کی تاخیر زدہ سرمایہ داری کی ناگزیر پیداوار ہے۔
دولت کے ارتکاز کی اپنی نفسیات ہوتی ہے، یہ جتنی زیادہ ہوتی ہے ہوس اُتنی ہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اِس ملک کے بالادست طبقات کے پاس بے پناہ دولت ہے۔ اِس غریب ملک کے حکمران بہت امیر ہیں۔ ان کے پاس اتنی دولت ہے کہ کئی نسلوں تک اگر یہ روزانہ کروڑوں بھی خرچ کریں تو بھی ختم نہیں ہوگی۔ لیکن یہ مزید لوٹنے کی دوڑ میں اندھے ہوئے جاتے ہیں۔ پاکستان کی معیشت کوئی کلاسیکی سرمایہ دارانہ معیشت نہیں ہے، بلکہ یہ کالے دھن کی سرمایہ داری ہے۔ کالی معیشت کے حجم کے انتہائی محتاط تخمینے بھی ملک کی کُل معیشت کے پچاس فیصد تک جاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں جتنی سرکاری یا سفید معیشت ہے، اُتنی یا اُس سے بڑی کالی معیشت ہے۔ یہی وہ کالا دھن ہے جو یہاں کی سفید معیشت کو سہارا دے کر چلا رہا ہے۔
لیکن دوسری طرف عوام حکمرانوں کی اِن آپسی لڑائیوں سے اکتا چکے ہیں۔ یہ تصادم اُن کے لئے سراسر نان ایشوز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حکمران سیاست میں عوام کی دلچسپی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے۔ الیکشن اور جمہوریت سے انکے مسائل صرف بڑھتے ہی ہیں۔ سوچ بھی رہے ہیں، سلگ بھی رہے ہیں اور اس کرب میں بھی مبتلا ہیں کہ آخر کریں کیا؟ لینن نے ایسی ہی کیفیتوں کے بارے لکھا تھا کہ ایسے وقت بھی آتے ہیں جب عام لوگ ہاتھوں سے نہیں پیروں سے ووٹ ڈالتے ہیں۔ اور پیروں سے ڈالے جانے والے یہ ووٹ حکمران طبقات اور اُن کے نظام کو کچل ڈالتے ہیں۔

متعلقہ:

پاناما کا ڈرامہ

حکمرانوں کی مردار سیاست!

انصاف کے لرزتے مندر!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*