دکھوں کے ساتھ دریاؤں کا سیلاب

[تحریر: لال خان]
ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے اس معاشرے میں ہر طرف حشر بپا ہو۔ خود کش حملوں، دہشت گردی اور قتل و غارت کا سلسلہ ہے کے رکتا ہی نہیں بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ جرائم عروج پر ہیں اور ریاستی اداروں کے مظالم بھی عام انسانوں کے لیے وبال جان بنے ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں جہاں حریت پسند نوجوانوں کے اغوا اور قتل کا سلسلہ جاری ہے وہاں دہشتگردی کے واقعات میں بھی کوئی کمی نہیں آرہی۔ لیکن یہاں کہ محنت کش طبقات کے لیے صرف دہشت گردی کی تباہ کاری جرم اور سزا کے اس نظام کی کاروائیوں کے عذاب ہی نہیں ہیں بلکہ قدرتی آفات بھی سب سے پہلے غریبوں اور محروموں کو ہی لقمہ اجل بناتی ہیں۔
حالیہ بارشوں اور سیلاب میں مرنے والے درجنوں افراد اور متاثر یا بے گھر ولاچار ہو جانے والے 66 ہزار سے زائد افراد میں شاید ہی کوئی امیر یا حکمران طبقات کا فرد شامل ہو۔ سب کے سب غریب نادار اور محنت کرنے والے انسان ہیں۔ یہ درست ہے کہ اس مسخ شدہ اور اذیت ناک سرمایہ دارانہ نظام کے اجرا سے پیشتر بھی زلزلوں، سیلابوں اور خشک سالی سے یہاں کے باسی مرتے بھی تھے اور اجڑتے بھی تھے۔ لیکن اکیسویں صدی میں جب ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر گئی ہے وہاں ان قدرتی آفات میں عام انسانوں کی بربادیوں میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہی ہوا ہے۔ اس نظام کے تحت معاشی، سماجی اور انفراسٹرکچرکے ارتقا کی ساخت اتنی زیادہ ہوس اور قلت پر مبنی ہے کہ یہاں تعمیرات سے لے کر سڑکوں، پلوں اور دوسرے انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں بنیادی مقصد لوگوں کی سہولت اور ان کا تحفظ نہیں ہوتا بلکہ تمام منصوبوں کے بنائے جانے کا مقصد منافع، لالچ اور دولت کا حصول ہوتا ہے۔ ٹھیکیداروں کے منافعوں سے لے کر افسر شاہی اور سیاسی حکمرانوں کے ان منصوبوں سے زیادہ سے زیادہ کمیشن مقصود ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہم اگر مختلف فیکٹریوں اور ملوں کی طرز تعمیر کا جائزہ لیں تو کراچی میں گارمنٹ فیکٹری کی آگ کے ہولناک حادثے سے ثابت ہوتا ہے کہ وہاں کام کرنے والے محنت کشوں کی آگ لگنے کی صورت میں ایمرجنسی بچاؤ اور نکلنے کے راستے بنائے ہی نہیں گئے تھے اور کچھ کو کپڑوں کے’’چوری ہونے کے خطرے‘‘ کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا۔ یہی کچھ ہمیں وسیع پیمانے کے تعمیراتی منصوبوں میں بھی نظر آتا ہے۔ لینڈ مافیا، ہاؤسنگ کمپنیاں اور یہاں تک کے چھوٹے ٹھیکیدار ایسے مقامات پر زمینوں پر قبضہ کر کے اس ہاؤسنگ کے کاروبار میں منافعوں کے لیے مکانات اور عمارتیں تعمیر کرتے ہیں جو پانی کے بہاؤ کے رستے بھی ہوتے ہیں۔ کراچی میں ٹریفک کے لیے جن اوورہیڈ پلوں کے بنائے جانے کا اتنا پراپیگنڈا کیا گیا ان کی تعمیر سے وہاں کے مزدوروں کی بستیوں اور جھونپڑ پٹیوں میں بارشوں کے پانی کی نکاس کے راستے بند ہو گئے تھے۔ جس سے ان ٹین کے چھتوں والے گھروندے، جو ان غریبوں کی آخری آماجگاہیں تھیں، وہ بھی برباد ہو گئے۔ اسی طرح ٹمبر مافیا نے سرکار کے ساتھ مل کر جنگلات کی جو تباہی مچارکھی ہے اس سے سیلابوں کی شدت اور ان کے غضب میں اضافہ ہو گیا ہے جس کا اظہار پشتونخواہ میں واضح نظر آتا ہے۔ ان بارشوں سے فلیش فلڈ ابھرتے ہیں جن کا بہاؤ اتنی تیزی سے اور اچانک آتا ہے کہ ان کے راستے میں آباد مکینوں کو نکلنے کی وارننگ اور موقع تک نہیں ملتا۔ اس پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو سرمایہ دار اپنے منافعوں کے حصول کے لیے جو صنعتیں لگاتے ہیں ان میں ماحولیات کے عنصر کو یکسر مسترد کر دیا جاتا ہے، جس سے عالمی طور پر ہونے والی گلوبل وارمنگ، زمین کے قدرتی ماحول کے ساتھ ساتھ موسموں اور مون سون کو بھی بگاڑ دیتے ہیں۔ کتنا المناک وقت آگیا ہے۔ کبھی خشکی کے طوالت پکڑ جانے سے بارشوں کے لیے مختلف ملکوں میں مختلف مذہبوں کے پیشوا مختلف قسم کی دعائیں اور ٹونے کرتے ہیں۔ اور جب بارشیں ہوتی ہیں تو ان کی شدت اتنی زیادہ ہو تی ہے، ان کی طرز اور رفتار اتنی بگڑ جاتی ہے کہ وہ زمینوں کو سیراب کرنے کے بجائے ہولناک سیلاب بن کر فصلوں کو تباہ اور دہقانوں کو اجاڑ دیتی ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام نے گزشتہ 30 سال میں عالمی طور پر جس اقتصادی پالیسی کو دنیا بھر میں لاگو کیا ہے وہ ٹریکل ڈاؤن اکانومی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ معیشت کو چلانے میں ریاست کے کردار کو کاٹ دیا جائے یا پھر نہایت ہی محدود کر دیا جائے۔ نجکاری کی پالیسی کو معاشی بحالی اور ترقی کا نسخہ بنا کر پیش کر دیا گیا ہے۔ لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ اس پالیسی سے انفرا سٹرکچر عام لوگوں کے لیے کوئی آسودگی دینے کی بجائے ان کے لیے عذاب بن گیا ہے۔ ٹرانسپورٹ سے لے کر تعلیم، علاج اور دوسرے شعبوں پر ریاست نے خرچہ اتنا محدود کر دیا ہے کہ عوام کے لیے یہ سہولیات ان کی دسترس سے دور ہوتی چلی گئی ہیں۔ علاج، تعلیم، ٹرانسپورٹ اور دوسرے اہم شعبوں کی نجکاری سے بنیادی ضروریات کا حصول اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ بیماری اور ناخواندگی میں شدید اضافہ ہوتا چلا گیا ہے۔ یہی کچھ ریاست کی ان سروسز کے ساتھ بھی ہوا ہے جو سیلابوں اور دوسری قدرتی آفات سے انسانوں کو بچانے اور نکالنے کے فریضے پر معمور تھیں۔ ان ہنگامی امداد کے سرکاری شعبوں کے تقریباً خاتمے کے بعد یہ کاروائیاں بھی نجی شعبے کے حوالے کردی گئیں ہیں۔ ان میں مختلف خیراتی ادارے، این جی اوز اور سیاسی خصوصاً مذہبی تنظیمیں ان ہنگامی حالات میں سرگرم ہوتی ہیں۔ لیکن جن خیراتی اداروں نے ’’مخیر‘‘ حضرات سے مالی امداد حاصل کرنی ہوتی ہے، جن این جی اوز نے اپنے مغربی اور مشرقِ وسطیٰ کے ڈونرز سے رقوم حاصل کرنی ہوتی ہیں اور مذہبی حماعتیں جن بھی پر اسرار ذرائع سے مالیاتی سرمایہ حاصل کرتی ہیں ان کی ان ہنگامی حالات میں کارکردگی کا زیادہ زور ان رپورٹوں، تصویروں اور فلموں کے بنانے میں ہوتا ہے جو انہوں نے اپنے ڈونرز کو دکھانی ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے یہ انسانی ہمدردی کے عمل بھی آخری تجزیے میں ایک کاروبار ہی بن جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ ان حالات میں عام لوگ تیزی سے متحرک ہوتے ہیں اور بہت سے گمنام لوگ انسانیت کے رشتے کے تحت بے لوث ہو کر ان امدادی کاروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ لیکن ان کو کون پوچھتا ہے۔ بڑے بڑے وزیر، سیاسی لیڈر، فلمسٹار اور دوسری شہرت یافتہ شخصیات ہیلی کاپٹرز میں ان آفت زدہ علاقوں کے دورے کرتے ہیں، چاول کی بوری یا گھی کا کنستر دیتے ہوئے تصویریں اور فلمیں بنواتے ہیں اور اپنے ہمدرد اور انسان دوست ہونے کا ناٹک کر کے اپنی دولت، سیاسی طاقت اور شہرت میں مزید اضافے کا کھلواڑ کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سیلاب زدگان کی وسیع تعداد کسی ٹھوس امداد اور بچاؤ سے محروم رہتی ہے۔ ابھی پہلے سیلابوں سے اجڑے ہوئے لوگ انہی کیمپوں میں گل سڑ رہے ہوتے ہیں کہ نئے سیلابی ریلے سے اجڑے ہوئے بے گھر اور ناداروں کا ایک نیا ریلاامداد اور بقا کی آہ وبکا کر رہا ہوتا ہے۔ 2010ء کے سیلاب میں دو کروڑ سے زائد افراد متاثر ہوئے تھے جن کی اکثریت ابھی تک زندگی کے پرانے معمول پر واپس نہیں آسکے۔ یہ سلسلہ اب اس معاشرے کا معمول بن گیا ہے۔ ان قدرتی آفات میں آخر غریب اور محروم ہی کیوں برباد ہوتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ نظام معیشت اتنا لاغر ہو چکا ہے کہ پہلے سے موجود انسانوں کی زندگیوں کو تباہ و برباد کر رہا ہے۔ قدرتی آفات سے برباد ہونے والوں کی بھلا کیا مدد کر سکتا ہے۔ خود قرضوں کی بیساکھیوں پر چلنے والا نظام اجڑنے والے محنت کش عوام کو بھلا کیا سہارا دے سکتا ہے۔
جب سے مادہ انسانی دماغ میں آن کر اپنے بارے میں باشعور ہوا اور ہزاروں سال پیشتر انسانی تہذیب کے ارتقا کا آغاز ہوا تو اس سماج کے ارتقا کا مقصد تسخیرِ فطرت ہی رہا ہے۔ لیکن قدرت کی تسخیر کا عمل اس کی بربادی نہیں ہے۔ جس ہوس اور لالچ کے نظام میں اس وقت انسانی سماج جکڑا ہوا ہے اس سے وہ قدرتی وسائل اور مناظر کو سنوارنے کی بجائے بگاڑ رہا ہے۔ وہ قدرت کو حسین بنانے کی بجائے ناصرف اس کو بھدا کر رہا ہے بلکہ یہ نظام اسے مسخ کر کے ان قدرتی آفات کی شدت اور ہولناکیت کا کارن بن رہا ہے۔ انسان ٹیکنالوجی کی ترقی سے وہ اہلیت حاصل کر چکا ہے کہ ان قدرتی آفات کا مقابلہ کیا جا سکے اور ان میں مرنے والے افراد کو بچایا جا سکے لیکن اس کے لیے پہلے اس سرمایہ دارانہ نظام کو ایک سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے اکھاڑ پھینکنا ہو گا تا کہ ٹیکنالوجی کو منافع کی ہوس کے بجائے انسانی ضروریات کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

One Comment

  1. Pingback: شمارہ نمبر 16: 16 تا 31 جولائی 2013ء

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*