پاکستان: بحران کی حرکیات

تحریر: ظفراللہ

پاکستان کے موجودہ سیاسی، اقتصادی اور ریاستی تضادات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مارکسی بنیادوں پر ان مظاہر کا تجزیہ کیا جائے اور خاص طور پر نوآبادیاتی ممالک کے حوالے سے مارکسی اساتذہ کے ٹھوس اور شاندار اضافے کو ساتھ جوڑتے ہوئے ایک عمومی تناظر تشکیل دیا جائے۔ ٹھوس مادی حقائق اور عوام کے شعور پر ان کے اثرات کو بالکل سادہ تجریدوں میں دیکھنے والی مخصوص فرقہ پرور سوچ کے برعکس مروجہ سیاست کی کیفیت اور حکمران طبقات کی آپسی کشمکش کی حرکیات انقلابیوں کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔ حکمران طبقے کی کوشش ہوتی ہے کہ عوام کو واقعات اور جزیات کی بھول بھلیوں میں الجھا کر معاشرے اور تاریخ کے حقیقی تضادات سے توجہ ہٹائی جائے۔ جس کی بنیاد پر وہ ایک طویل عرصے تک سماجوں پر اپنی حاکمیت کو نہ صرف قائم رکھتے ہیں بلکہ اسے مستقل بنیادوں پر طول دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ طبقاتی کشمکش طبقات پر قائم سماج کا لازمی جزو ہوتی ہے۔ مختلف ادوار میں اس کشمکش کی شدت کو مدِ نظر رکھ کر ہی حکمران طبقہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے طویل عرصے تک اسے زائل یاکمزور کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔ لیکن کبھی کبھار یہ تناؤ نظام کے تضادات کی حدت اور شدت کی بدولت حکمرانوں کی حاکمیت کے لیے چیلنج بن جاتا ہے۔ جس سے پورے سماج کو نئی بنیاد وں پر تعمیر کرنے کے امکانات کھلتے ہیں۔ یہی وہ انقلابی ادوار ہوتے ہیں جو تاریخ میں کبھی کبھار رونما ہوتے ہیں۔ مگر نو آبادیاتی ممالک کے حکمرنوں کا المیہ اس سے کہیں بڑھ کر ہوتا ہے۔ اپنی تاریخی نااہلی اور کمزوری کی وجہ سے یہ سماج کو ترقی کے اس معیار تک لے جانے میں ناکام رہتے ہیں جہاں اصلاحات وغیرہ کے ذریعے طبقاتی کشمکش کو طویل عرصوں کے لیے ماند کر سکیں۔ نتیجتاً ان معاشروں کے حکمرانوں کے سر پر ہر وقت سماجی بغاوتوں کا خطرہ منڈلاتا رہتا ہے۔ جس وجہ سے حکمران طبقہ ماضی کے متروک عقائد اور تعصبات کا سہارالینے پر مجبور رہتا ہے۔ لیکن اپنی حکمرانی کو قائم رکھنا انکے لئے پیچیدہ مسئلہ بنا رہتا ہے۔ ایسے معاشروں میں ریاستی اداروں کا کردار مبالغہ آرائی کی حد تک بڑھ جاتا ہے۔ پاکستان اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ تقسیم کے ستر سال بعد حالت پہلے سے زیادہ خراب ہے۔ سماجی ارتقا کا کوئی ایک اعشاریہ بھی خوش آئند نہیں ہے۔ دولت کی انتہائی غیر منصفانہ اور ناہموار تقسیم کی بدولت سماجی تفریق کی مختلف شکلیں اور انتہائیں ہیں۔ سامراجی جبرا ور سرمایہ دارانہ مجبوریوں کی وجہ سے ٹیکنالوجی کی جدت اور سماجی پسماندگی کا بے ہنگم ملغوبہ ہے۔ آبادی میں اضافے کی شرح بہت زیادہ ہے۔ کلاسیکی ارتقا کے ذریعے پروان نہ چڑھ سکنے کی وجہ سے پورا نظام مختلف تضادات کا شکار ہیں۔ دیو ہیکل قدر زائد پیدا کرنے کی صلاحیت میں ناکامی کی بدولت معیشت لاغر اور ریاست مختلف سامراجی طاقتوں کی گماشتہ اور کاسہ لیس ہے۔
مالیاتی سرمائے اور کالے دھن کی ’کلیدی اداروں‘ میں سرائیت نے ریاست کو مختلف دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس میں مختلف سامراجی قوتوں کی مداخلت بھی ایک اہم عنصر ہے۔ ماضی کی ریاست اور اس کے اداروں کے نام نہاد تقدس کا پردہ چاک ہو کر اصلی اور گھناؤنا روپ روز بروز آشکار ہو رہا ہے۔ معیشت میں بڑ ے پیمانے کی گروتھ کی صلاحیت نہیں ہے اور اوپر سے عالمی سرمایہ داری زوال پذیر ہے۔ معیشت نحیف اور ناتواں ہے کیونکہ یہ ٹھوس اور مستحکم بنیادوں پر استوار ہونے کے بجائے عارضی اور کمزور سہاروں پر چل رہی ہے۔ لیکن ملکی تاریخ میں جب بھی مخصوص مقامی اور عالمی حالات کی بدولت معاشی شرح نمو میں اضافہ ہوا ہے اس نے اتنے ہی گہرے اور شدید سماجی تضادات کو ابھارا ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر 1968-69ء کی تحریک پھٹ پڑی تھی۔ اب ماضی کی عارضی اور ناہموار ترقی اور گروتھ نے معاشی اور سماجی تضادات کو نئی سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔ موجودہ حکومت نے پوری طاقت سے گلہ پھاڑ کر سی پیک کو ترقی اور خوشحالی کا پیش خیمہ بنا کر پیش کیا ہے۔ اب اسکی حقیقتیں بھی سامنے آنا شروع ہو جائیں گی کہ اس سے کس کی اور کتنی خوشحال ممکن ہے۔ آج کے عہد میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پیداوار نے معاشرے کو ’مستقل بے روزگاری ‘ کے ایک نئے مظہر سے روشناس کرایا ہے۔ سی پیک کی زیادہ تر سرمایہ کاری توانائی کے منصوبوں اور مواصلاتی ڈھانچوں پر مشتمل ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کاروبار پھل پھول رہا ہوتو سڑکوں کی ضرورت پڑتی ہے ‘ سڑکیں کاروبار کے پھیلاؤ کی ضمانت نہیں ہوتیں۔ جبکہ دوسری طرف قر ضوں کے پہاڑ پر سی پیک منصوبوں کی تکمیل یہاں کے باسیوں کو نسلوں تک نادار اور محتاج بنا دے گی۔ ویسے بھی چین جیسے کمزور سامراج کی طرف پاکستانی بورژوازی کا جھکاؤ اسکے بند گلی میں پھنس جانے کی علامت ہے۔ ستر سال سے امریکی سامراج سے کاسہ لیسی کا تعلق اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ٹرمپ کا دھمکیوں کے ذریعے پاکستان کو ’’راہِ راست ‘‘ پر لانے کا خطرناک طریقہ کار نئے تضادات اور خلفشار کو ابھارنے کا موجب بن رہا ہے جس کا اظہار افغانستان میں حالیہ خونریزی کی لہر میں ہوا ہے۔ خطے کے جنوب کی طر ف چینی اثر ورسوخ میں اضافے پر امریکی سامراج کو شدید تشویش ہے۔ افغانستان کے معاملے پر پاکستان کی ڈیپ سٹیٹ کو ’باز‘ نہ آنے پر امریکہ کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں زیادہ تر اسی پس منظر میں دی گئی تھیں۔ امریکی نائب صدر اور وزیر دفاع نے سی پیک کے ذریعے چین کے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے پر کھلم کھلاتحفظات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری طرف چین نے پاکستان کو عالمی معاملات میں اپنے طور پر توازن برقرار رکھنے کی نصیحت بھی کی ہے۔ لیکن ساتھ ہی اپنی پرانی پالیسی یعنی ’دوسرے خطوں میں عدم مداخلت‘ کو ترک کرتے ہوئے چین پورے یوریشیا میں تجارتی اور مواصلاتی نیٹ ورک کی تعمیر کے ذریعے مداخلت میں مصروف ہے۔ یہ بلا شبہ ایک نئی گریٹ گیم ہے جس میں پاکستان جیسی ریاستیں مختلف سامراجی قوتوں کی پراکسی جنگ کے لیے تیزی سے میدان جنگ بنتی جا رہی ہیں۔ اس حوالے سے امریکی سامراج کی طرف سے پاکستانی ریاست شدید دباؤ کا شکار ہے جو کہ عالمی تنہائی اور ہزیمت کا باعث بن رہا ہے۔
امریکہ کی طرف سے فنانشل ایکشن اینڈٹاسک فورس (FATF) کی حالیہ پیرس میٹنگ میں پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت نہ روک سکنے والے ممالک کی لسٹ میں شامل کرنے کی قرارداد بھرپور دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیتی ہے۔ ’FATF‘ سات بڑے ممالک کی طرف سے بنایا گیا ایک عالمی ادارہ ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت پر قابونہ پانے والے ممالک کی نگرانی کرتا ہے۔ اس نگرانی کے عمل میں شامل ممالک کی تجارتی، اقتصادی اور بینکنگ ٹرانزیکشنز کو سخت نگرانی کے عمل سے گزرنا پڑتاہے جس سے ان ممالک کی مالیاتی اور تجارتی مشکلات میں شدید اضافہ ہوجاتاہے۔ اس کیفیت میں ایسے کسی بھی ملک کے ساتھ تجارت اور بینکنگ ٹرانزیکشن کرنے والی کمپنیوں کو تاخیر کی شکل میں بھاری نقصان اٹھاناپڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ کمپنیاں اور ممالک ان مشکوک ملکوں کیساتھ کاروبار سے گریز کرتے ہیں۔ پاکستان کو اگرچہ تین ماہ کا وقت دیا گیا ہے لیکن بعض ذرائع کے مطابق جون سے اس پر عمل درآمد کا آغاز ہو جائے گا۔ تین ماہ کی یہ مہلت ملنے پر پاکستانی وزیر خارجہ نے ٹوئٹر پر شادمانی کا اظہار کیا ہے۔ جس پر اگلے ہی روز امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان نے پریس کانفرنس کے ذریعے اسکو خوش فہمی قرار دیتے ہوئے قبل از وقت جشن قرار دیا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ چین اور سعودی عرب جیسے ’’قریبی دوستوں ‘‘ نے بھی اس قرارداد کے حق میں اور پاکستان کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ سعودی عرب کو امریکہ نے’FATF‘ کے مبصر سے مستقل ممبر بنانے کا لالچ دے کر ووٹ حاصل کیا۔ جبکہ چین نے کہا ہے کہ چونکہ قرار داد کے خلاف بھی ووٹ دینے کا فائدہ نہیں تھا لہٰذا اس نے بھی حق میں ووٹ دے دیا۔ درحقیقت چینی حکام نے کئی مہینے پہلے بھی واضح کیا تھا کہ پاکستان مختلف جہادی گروہوں کی پشت پناہی کی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چین ان گروہوں کو اپنے مسلم اکثریتی صوبوں کے لئے ایک خطرہ سمجھتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی وہ اقوامِ متحدہ میں ’جیش محمد‘ کے خلاف کاروائی کی امریکی حمایت یافتہ بھارتی قراردادوں کو ویٹو کر تا رہا ہے۔ یہ بین الاقوامی حالات کی وہ تلخ حقیقت ہے جس میں مختلف ملکوں کے درمیان دوستیاں اور دشمنیاں بھی مفادات پر مبنی ہوتی ہیں۔
اس عالمی پس منظر میں مختلف عالمی طاقتوں کی آپسی لڑائیوں کے لیے پاکستان پراکسی جنگوں کا میدان بن گیا ہے۔ پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی جابر ریاستوں کی آپسی لڑائیاں پاکستانی سماج کو تاراج کر رہی تھیں۔ اب چین اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے تضادات نے اس ملک کے کمزور اور لاچار حکمرانوں کو دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جس سے خود پاکستانی ریاست کے اندر خلفشار، ٹوٹ پھوٹ اور دھڑے بندی میں مزید اضافہ ہو رہاہے۔ یہ تضادات مختلف سیاسی پارٹیوں کے ٹکراؤ کی شکل میں بھی اپنا اظہار کر رہے ہیں اور ڈیپ سٹیٹ کی جانب سے عدلیہ کا بھی خوب استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماضی میں ریاستی آشیر باد سے پروان چڑھنے والے افراد اور پارٹیاں آج مزاحمت کی علامت بننے کی دعویدار ہیں اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے کا تاثر دینے والے آج ریاستی سرپرستی کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک گرنے کو تیار ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے کچھ حصے نوازشریف اور مریم کی قیادت میں ’’جمہوریت‘‘ اور ’’آئین‘‘ کے محافظ اور ’اینٹی اسٹیبلشمنٹ‘ ہونے کا تاثر دے رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز اپنے حالیہ جلسوں میں بالخصوص درمیانے کاروباری طبقات اور سماج کی پسماندہ پرتوں کو ’ترقی‘ وغیرہ کے نعروں کے تحت متوجہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ تقریباً ایک دہائی تک چھوٹے کاروباروں کو تباہ اور نظامِ زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دینے والے بدترین توانائی بحران کے بعد بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ میں حالیہ کمی اِس سلسلے میں ایک اہم عنصر ہے۔ لوڈ شیڈنگ کے اس جزوی خاتمے کی قیمت کیا ہے اور ایسا دیرپا بنیادوں پر ممکن ہے یا نہیں، یہ سوال بدستور اپنی جگہ پر بہرحال موجود ہے۔ اِسی طرح سی پیک کے تحت جاری دوسرے بڑے تعمیراتی منصوبوں بالخصوص شاہراہوں اور ’اورنج ٹرین‘ جیسے میگا پراجیکٹوں کی سماج کی عمومی نفسیات پر اثر اندازی سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ حالیہ ضمنی انتخابات نے مروجہ سیاست میں نواز لیگ کی مستحکم پوزیشن کو واضح کیا ہے جبکہ تحریک انصاف کے غبارے سے ایک بار پھر ہوا نکل رہی ہے۔ لیکن یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک میں محنت کش طبقے کی وسیع پرتیں سیاسی عمل میں متحرک نہیں ہیں۔ تاریخی طور پر نواز شریف کی بنیادیں سرمایہ دار اور پیٹی بورژوا طبقات میں ہی موجود رہی ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حصہ داری کے مسائل کے ساتھ ساتھ بھارت سے تعلقات اور ریاست کی پرانی سٹریٹجک ڈیپتھ کی پالیسی میں تبدیلی کے حوالے سے نوازشریف کا ریاست کے کلیدی اداروں کیساتھ تناؤ اپنی انتہاؤ ں پر ہے۔ وہ اِن اداروں کے لئے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے جس کا اسکو خاصا ادراک ہے۔ پرانے معمول کی طرف واپسی کے امکانات کم ہی ہیں۔ ایسے میں حالات کے جبر کے تحت وہ مزید جارحانہ لفاظی (بشمول عوامی ایشوز کی نعرہ بازی) پر مجبور ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں سماج کی مزید پرتوں کے اس کی طرف متوجہ ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نااہل ہونے کے بعد اپنے جلسوں میں انتہائی الفاظ کا استعمال اس کی فرسٹریشن کا اظہار ہے۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ حکمران طبقات کی عمومی سیاست اور ریاست کی زوال پذیری کا اظہار ہے کہ ان کا اپنا نمائندہ بڑے مقدس سمجھے جانے والے اداروں کو لعن طعن کر رہا ہے۔ نواز شریف کے راستے سے ہٹائے جانے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ماضی میں مطلق اختیار کے حامل سمجھے جانے والے ریاستی ادارے آج خود داخلی دھڑے بندیوں اور گرتی ہوئی ساکھ کا شکار ہیں اور اِسی وجہ سے صورتحال کے بھڑک کر قابو سے باہر ہو جانے سے خوفزدہ بھی ہیں۔ آخری تجزئیے میں نواز شریف اور مریم نواز بھی ریاست کے ایک حصے کی پشت پناہی سے سرگرم ہیں۔ یہ سارا عمل چھڑی کی مدد سے رسی پرچلنے والے بازی گر سے مشابہت رکھتا ہے جہاں معمولی سا عدم توازن پورے سسٹم کو لپیٹنے کا باعث بن سکتا ہے۔ پچھلے چالیس سالوں کی ریاستی خارجہ پالیسی اور ’’افغان جہاد‘‘ کے لیے تیار کئے گئے ’’اثاثوں‘‘ کو مین سٹریم سیاست میں لانے پر خود ریاست مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے۔ آرمی چیف نے جرمنی میں پہلی دفعہ اس پالیسی کے بھیانک اثرات کا اعتراف اور اظہار کیا ہے۔ اس سے ہمیں نظر آتا ہے کہ کس طرح ریاست اپنے آپ سے برسرپیکار ہے۔ بنیادی طور پریہ مختلف مفادات اور متضاد معاشی طرزوں پر مشتمل سیاسی اور ریاستی دھڑوں کے باہمی تنازعات ہیں۔ جس نے اس ریاست کی مربوط اور منظم حیثیت کو نہ صرف تار تار کر دیا ہے بلکہ اسکے چہرے سے تاریخی تقدس کے ماسک کو پھاڑ کر اسکی حقیقی شکل کو واضح کیا ہے۔
بظاہر سماج کی سطح پر ایک سکوت ہے جو حکمرانوں کی آپسی لڑائیوں کے شور میں مزید دبا ہوا ہے لیکن نیچے ایک لاوا پک رہا ہے۔ چھوٹے پیمانے پر تحریکیں بھی وقتاً فوقتاً نظر آتی رہتی ہیں۔ محنت کشوں اور عام لوگوں کے ذہنوں میں محرومی، غربت اور لاچاری کے نتیجے میں ایک طوفان پل رہا ہے جو ایک مخصوص نہج پر پھٹ سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ سماج بظاہر کسی ثانوی نوعیت کے ایشو پر پھٹ پڑے لیکن جتنی محرومی اور ذلت ہے دھماکہ اتنا ہی شدید ہوگا۔ پیپلز پارٹی سمیت ہر پارٹی نے محنت کشوں کے مسائل سے منہ موڑ لیا ہے اور اقتدار میں آنے کے لیے ریاستی آشیرباد کو واحد راستہ تسلیم کر لیا ہے۔ سرمایہ داری کی موجودہ کیفیت میں کسی بھی عوامی مسئلے کا دیرپا حل ایک سراب ہے۔ معیشت کے میکرو اکنامک اعشاریوں میں بہتری بالکل سطحی اور عارضی ہے۔ محنت کش طبقہ زندگی کی اذیت میں سلگ رہا ہے ایک چنگاری اسے بھڑکا کر کبھی نہ دیکھی گئی بغاوت کے راستے پر گامزن کر سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*