کینیڈا: صوبائی انتخابات میں لبرل پارٹی کی متوقع شکست اور ممکنہ مضمرات

تحریر: زبیر محمد

کینیڈا کے سب سے بڑے صوبے اونٹاریو میں 7 جون کو بیالیسویں صوبائی الیکشن ہونے جا رہے ہیں۔ پندرہ سال میں مسلسل پانچ بار صوبائی حکومت کے مزے لوٹنے کے بعد بالآخر لبرل پارٹی کا سورج غروب ہونے کو ہے۔ الیکشن سے ایک ہفتہ قبل ہی لبرل پارٹی کی موجودہ وزیرِ اعلیٰ کیتھلین وِن نے اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔ 2014ء کے صوبائی انتخابات میں لبرل پارٹی 124 کے ایوان میں 58 سیٹیں لے کر حکومت میں آئی تھی جبکہ کنزرویٹوز کے حصے میں 28 اور ’NDP‘ کے حصے میں محض 21 سیٹیں ہی آئی تھیں اور اب نوبت یہ ہے کہ لبرل پارٹی کا آفیشل سٹیٹس داؤ پر لگ گیا ہے۔ قانون کے مطابق اگر لبرل پارٹی 8 سے کم نشستیں جیتتی ہے تو وہ آفیشل پارٹی کا سٹیٹس کھو دے گی۔ ایسا ہونے پر نہ تو وہ اپنے پارٹی دفاتر کے لیے فنڈز لے سکے گی نہ ایوان میں اسے سوال کرنے کی اجازت ہو گی۔ اس حزیمت کے لیے لبرل پارٹی نے گزشتہ پندرہ سال میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ یوں تو اقتدار میں آتے ہی کیتھلین وِن کو گیس پلانٹ سکینڈل کا سامنا کرنا پڑا۔ جس میں لبرل پارٹی نے اونٹاریو کے محنت کشوں پر 1.1 بلین ڈالر (لگ بھگ 98 ارب روپے) کا اضافی بوجھ ڈال دیا۔ کیتھلین وِن نے صاف انکار کر دیا کہ اس سکینڈل سے اس کا کوئی لینا دینا ہے۔ 2013ء میں اونٹاریو پولیس (OPP) نے اس معاملے کی فوجداری تحقیقات شروع کیں۔ پراؤیسی کمشنر نے فیصلہ سنایا کہ گیس پلانٹ سے متعلق ای میلز غیر قانونی طور پر ڈیلیٹ کر دی گئیں ہیں۔ ایسے میں پولیس تحقیقات کا نتیجہ سب کو معلوم ہے۔ پولیس نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ انہیں وزیر اعلیٰ کے اس معاملے میں ملوث ہونے کے شواہد نہ مل سکے۔ شرمندگی مٹانے کو کیتھلین وِن نے جلد ہی اسمبلی میں ایک نیا قانون منظور کروایا جس کے تحت سرکاری ریکارڈ کو جان بوجھ کے تلف کرنے پر پورے پانچ ہزار ڈالر جرمانہ ہو گا۔ ایک ارب کی گڑبڑی پر پانچ ہزار جرمانہ!
کیتھلین وِن نے اپنے سرکاری سفر کا آغاز اس وقت کیا جب 2000ء میں وہ ٹورانٹو ڈسٹرک سکول بورڈ کی ٹرسٹی (متولّی) چنی گئیں۔ 2003 ء میں جب وہ صوبائی ممبر اسمبلی بنیں تو فوراً ہی ان کا تقرر ٹریننگ، کالجز اور یونیورسٹیز کی وزیر کی پارلیمنٹری اسسٹنٹ کے طور پر کر دیا گیا۔ اگلے سال ہی ان کا تقرر صوبائی وزیر تعلیم کی پارلیمنٹری اسسٹنٹ کے طور پر کر دیا گیا۔ 2006ء میں وزیر تعلیم بنا دی گئیں۔ کیتھلین وِن اور اس سے پہلے ڈالٹن میگ گوئینٹی کا پندرہ سالہ دورِ اقتدار محنت کشوں کے حقوق پر ایک کے بعد ایک ڈکیتی سے منسوب ہے۔ 2012ء میں لبرل سرکار نے نیا تعلیمی ایکٹ نافذ کر دیا جس میں اساتذہ کی یونین کے ہڑتال پر جانے اور یونین کے Collective Bargaining کے حقوق کی معطلی اور کنٹریکٹ بھرتیوں جیسی مزدور دشمن شقیں شامل کی گئیں۔ سال بھر اساتذہ اور لبرل حکومت کے بیچ حقوق کی جنگ جاری رہی۔ آخر نئے معاہدے میں ٹیچرز یونین کے بارگیننگ اور ہڑتال پر جانے کے حق کو بحال کر دیا گیا مگر اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافے پر روک لگی رہی۔ ریٹائرمنٹ گریجوایٹی ختم کر دی گئی۔ ساتھ ہی سکولوں اور تعلیمی پروگراموں کی فنڈنگ پر کنٹرول اور آڈٹ وغیرہ اپنے ہاتھ میں لے لئے گئے۔ بنیادی طور پر سکول بورڈ کی آزادی کو محدود کر کے اسے صوبائی حکومت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ سکولوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی یونینز اور لبرل حکومت میں کئی بار تنازعات نے جنم لیا۔ سکولوں کو درکار ضرورت سے کم فنڈز کی فراہمی کا معاملہ ہیجانی کیفیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ تدریسی اور غیر تدریسی عملے کے غیر معینہ اوقاتِ کار کا معاملہ بھی حل نہ ہو پایا۔ تنخواہوں کا مسئلہ ابھی تک درپیش ہے۔ ایسے غیر انسانی حالات میں کام کرنے کی وجہ سے سکول اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کا تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کئی بار ہڑتال پر بھی گیا جسے زبردستی کام پر واپسی کے کالے قانون کے ذریعے کچلا گیا۔ ان حالات میں ایلیمنٹری ٹیچرز فیڈریشن آف اونٹاریو نے لبرلوں کے مقابلے میں بائیں بازو کی ’NDP‘ کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
بجلی کی فراہمی اور ترسیل کے ادارے ہائیڈرو ون کی نجکاری کا سہرا بھی لبرل سرکار کے سر جاتا ہے۔ 2016ء میں لبرل سرکار نے ہائیڈرو ون کا تیس فیصد حصہ پرائیویٹائز کر دیا تھا۔ جس میں خریدار کو اس حق سے بھی نواز دیا گیا کہ اگر چاہے تو بجلی کے نرخ میں اضافہ کر سکتا ہے۔ یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ لبرل حکومت نے اپنے دور اقتدار میں بجلی کے نرخ دو گنا کر دئیے ہیں۔ اس نجکاری کو روکنے کے لیے بہت سے لبرل ممبرز آف پارلیمنٹ کے دفاتر کے سامنے مظاہرے بھی ہوئے مگر محنت کش یونین میں مؤثر جڑت کے فقدان کی وجہ سے ان مظاہروں میں شرکت بہت قلیل رہی یوں اونٹاریو کے محنت کش چاہتے ہوئے بھی اس نجکاری کے عمل کو روک نہ پائے۔ اس نجکاری سے حاصل ہونے والے نو ارب ڈالرز میں سے چار ارب ڈالرز تو کیتھلین وِن نے حکومتی قرضوں کی ادائیگی میں خرچ کر ڈالے۔
قرضوں کا ذکر چل نکلا ہے تو لبرل دور اقتدار میں قرضوں کی بحرانی کیفیت کا بھی جائزہ لیتے چلتے ہیں۔ 2003ء میں جب لبرلز نے اونٹاریو میں کنزرویٹوز سے اقتدار لیا تو اونٹاریو کا سرکاری قرضہ 138.8 ارب ڈالر تھا۔ بجلی کے نرخ کی طرح لبرل سرکار نے اسے بھی دگنا سے بھی زیادہ کر دیا۔ گزشتہ مالی سال تک یہ 125 فیصدی بڑھوتری کے ساتھ 308.2 ارب ڈالر پر پہنچ گیا۔ اور اس مالی سال صوبائی قرض کا تخمینہ 325 ارب ڈالر ہے۔ 2012ء میں موڈیز نے اونٹاریو حکومت کے قرضوں کا حجم دیکھتے ہوئے حکومت کی کریڈٹ ریٹنگ Aa1 سے گرا کے Aa2 کر دی اور ابھی 2018ء میں اس قرضے کو مستحکم سے منفی قرار دے دیا۔ محض تیس سال پہلے یہ قرضہ لگ بھگ محض تیس ارب ڈالر تھا۔ صرف سود کی مد میں ہی اونٹاریو کے محنت کشوں کو ایک ارب ڈالر ماہانہ کی ادائیگی کرنا پڑتی ہے۔ صحت، تعلیم اور سماجی خدمات کے بعد حکومتی قرضے پر سود کی ادائیگی اونٹاریو حکومت کا چوتھا سب سے بڑا خرچہ ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ صحت، تعلیم اور سماجی خدمات تینوں شعبے لبرلز اور کنزرویٹوز دونوں کے نشانے پر ہیں۔
صحت کا شعبہ بھی شدید بحران کا شکار ہے۔ ’OECD‘ کے ماہرین کے مطابق کسی ہسپتال کو اس کی استعداد کے 85 فیصد سے زائد چلانا خطرناک ہوتا ہے۔ جبکہ اونٹاریو کے کچھ ہسپتال اپنی استعداد کے 165 فیصدی پر کام کر رہے ہیں۔ اس بحران کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اونٹاریو میں کسی سپیشلائزڈ معالج کو دکھانے کے لیے اوسطاً 105 دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔ کولہے اور گھٹنے کی ہڈی کی تبدیلی کے آپریشن کے لئے اوسطاً 248 اور 123 دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اینجیو گرافی کے لیے 40، ایجیو پلاسٹی کے لیے 24 اور بائی پاس سرجری کے لیے اوسطاً 60 دن انتظار کرنا پڑتا ہے۔ رہی سہی کسر لبرل حکومت نے جاتے جاتے ’بل 160‘ کی شکل میں پوری کر دی ہے۔ بجائے یہ کہ حکومت پرانے ہسپتالوں کی استعداد بڑھاتی، نئے ہسپتال کھولتی الٹا اس نے نئے پرائیوٹ ہسپتالوں پر عائد پابندی اٹھا کر سرمایہ دار گِدھوں کے لیے صحت عامہ میں داخلے کا راستہ کھول دیا ہے۔ گویا روایتی حربہ آزماتے ہوئے پہلے سرکاری شعبے کو خراب کیا گیا اور پھر اسے جواز بناتے ہوئے نجی شعبے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔’OPSEU‘ یا اونٹاریو پبلک سروس ایمپلائیز یونین جو اونٹاریو بھر کے 90 ہسپتالوں میں 25,000 ہیلتھ پروفیشنلز، 4000 میڈیکل سپورٹ سٹاف، 3000 پیرامیڈکس سمیت 130,000 پبلک ایمپلائیز کی نمائندگی کرتی ہے، نے اس بل پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔
گرتی ہوئی مقبولیت کو سہارا دینے کے لیے لبرل سرکار کی آخری کوشش کم از کم اجرت کو 11.60 ڈالر فی گھنٹہ سے 2018ء میں 15 ڈالر فی گھنٹہ کرنے کا اعلان تھا۔ مگر اب بہت دیر ہو چکی تھے۔ پندرہ سال محنت کشوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے بعد پندرہ ڈالر کا وعدہ کافی نہیں تھا۔ قریب قریب ہر ٹریڈ یونین نے لبرلز سے منہ موڑ کے ’NDP‘ کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔
کیتھلین وِن کی لبرل حکومت پر تنقید کرتے رہیں تو صفحوں کے صفحے بھر جائیں گے۔ لبرل پارٹی چاہے وفاق کی ہو یا اونٹاریو کی، دونوں ہی ہمیشہ بائیں کا اشارہ دے کے دائیں مڑتے ہیں۔ ان کی الیکشن مہم ہمیشہ مزدور دوست اور پالیسیاں ہمیشہ مزدور دشمن ہوتی ہیں اور اکثر یہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر رعایتیں دے کے اپنی حکومت بچاتے رہے ہیں۔ مگر پندرہ سال ایک فریب کو دوہرایا جائے تو تماشائیوں پر اس کی حقیقت آشکار ہو ہی جاتی ہے۔ ایسا ہی اب 2018ء کے صوبائی الیکشن میں ہونے جا رہا ہے۔ ہم مارکسسٹ کوئی دست شناس تو نہ سہی لیکن محنت کشوں کی نبض پر ہمارا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔ اونٹاریو لبرل پارٹی کو مزید مہلت دینے کا وقت اب نہیں رہا۔ ان کا الیکشن ہارنا تو لگ بھگ طے ہے۔ مگر آگے کے حالات شاید لبرل حکومت سے بھی خطرناک ہوں۔ اونٹاریو کی پچھلی 150 سالہ تاریخ میں لبرل اور کنزرویٹو ہی تقریباً ہر بار حکومت کی باریاں لیتے رہے ہیں۔ ڈیڑھ صدی میں ’NDP‘ (نیو ڈیموکریٹک پارٹی) کو ایک بار ہی باب رے کی قیادت میں 1990ء سے 1995ء کے بیچ اونٹاریو میں حکومت کرنے کا موقع ملا۔ یہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کساد بازاری (Recession) کا دور تھا۔ سابقہ دور میں غلط زری پالیسیوں اور تیل کی قیمت میں جھٹکے کی وجہ سے معیشت پہلے ہی لرز رہی تھی۔ دوسرا باب رے خود بھی ’NDP‘ کے بائیں بازو کی جانب جھکائے کے برعکس لبرل طرز حکومت کے خیالات رکھتا تھا۔ جس کی قیمت NDP آج تک چکا رہی ہے۔
جو قارئین کینیڈا کی سیاست سے واقف نہیں ہیں ان کی معلومات کے لیے تذکرہ کرتے چلیں کہ ’NDP‘ کینیڈا کے محنت کشوں اور ٹریڈ یونینز نے بنائی تھی اور بنیادی طور پر یہ ایک بائیں بازو کی جماعت تھی جس کے بنیادی دستور میں سوشلزم کے حصول کا ذکر ملتا ہے۔ مگر وقتاً فوقتاً اس میں فصلی بٹیرے شامل ہوتے گئے اور اس کو اس کے بنیادی دستور سے پرے لے جاتے رہے۔ باب رے بھی ایک ایسا ہی کردار تھا۔ وہ لبرل پارٹی سے اپنا کیریئر بنانے ’NDP‘ میں آیا۔ ایک ’’منجھے ہوئے سیاستدان‘‘ کی طرح ’NDP‘ کو الیکشن جتوایا۔ اونٹاریو میں حکومت تو بنا لی پر پارٹی کی نیّا ڈبو دی۔ باب رے کا دور مزدور دشمن فیصلوں کی وجہ سے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے نظریات اور کینیڈا میں کساد بازاری ملا کر وہ محنت کشوں کے لیے ایک سیاہ دور تھا۔ گو بعد میں باب رے سے اس کے لیفٹ مخالف نظریات کی وجہ سے ’NDP‘ کی رکنیت سے استعفیٰ لے لیا گیا اور وہ واپس لبرل پارٹی میں چلا گیا مگر اس دور کی بازگشت آج تک سنائی دیتی ہے۔ ’NDP‘ کو جب کبھی بھی کنزرویٹوز یا لبرلز کی نااہلی کی وجہ سے میدان مارنے کا موقع ملتا ہے تو دونوں پارٹیاں محنت کشوں کو اس دور کی یاد دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔ دوسرا ’NDP‘ قیادت بھی ہمیشہ لبرل یا کنزرویٹو پارٹی کے ووٹرز کو لبھانے کے لیے کھل کر اپنے سوشلسٹ خیالات کا پرچار کرنے سے کتراتی ہے اور ہر بار اسے اس غلط فیصلے کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ نومبر 2015ء کے عام انتخابات میں بھی یہی ہوا۔ سٹیفن ہارپر کی کنزرویٹو حکومت سے ستائی عوام تبدیلی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ’NDP‘ کے لیے میدان صاف تھا مگر لبرل پارٹی سے آئے ہوئے ایک اور ’NDP‘ لیڈر ٹام ملکیئر نے لیفٹ پر میدان خالی چھوڑ کر سینٹر میں پوزیشن لینے کی کوشش کی۔ لبرل، جو سینٹر میں کھیلنے کے ماہر ہیں، نے اپنے ووٹ اور کنزرویٹو کے چھوڑے ووٹ تو لیے ہی ساتھ میں ’NDP‘ کے ووٹ بھی لے اڑے۔ یہی تاریخ دوبارہ دہرائی جا رہی ہے۔ لبرل میدان سے بھاگ رہے ہیں۔ کنزرویٹو شور مچا رہے ہیں کہ ’NDP‘ کو ووٹ دیا تو باب رے کا دور لوٹ آئے گا۔ ’NDP‘ کا مقابلہ ٹورانٹو کے سابقہ میئر راب فورڈ کے بھائی ڈگ فورڈ (جسے ٹورانٹو کے لوگ ڈرگ مافیا سے دوستی کے باعث ڈرگ فورڈ بھی پکارتے ہیں) کی قیادت میں کنزرویٹوز سے ہے۔ وہ خود کو برملا ڈونلڈ ٹرمپ کا حمایتی گردانتا ہے۔ ’NDP‘ کا الیکشن منشور گو کافی مزدور دوست ہے مگر وہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھے بغیر دوبارہ لبرلز کے ووٹرز کو لبھانے کے چکر میں کھل کر لیفٹ پوزیشن نہیں لے رہی۔ ماضی کو دیکھیں تو نتیجہ شاید پھر وہی نکلے گا۔ ’NDP‘ کنزرویٹوز کو شدید ٹکر دے گی۔ کئی حلقوں میں کانٹے دار مقابلہ بھی ہو گا لیکن ایک انقلابی پروگرام کی عدم موجودگی میں محض مزدور دوست اصلاحات کے بل بوتے حکومت بنانا ’NDP‘ کی خام خیالی ہے۔
اگر ڈگ فورڈ کی قیادت میں کنزرویٹو حکومت بناتے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آئندہ آنے والے برس مزدوروں پر تابڑ توڑ حملوں سے بھرپور ہوں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا گرویدہ ڈگ فورڈ پاپولسٹ لفاظی اپنائے ہوئے ہے۔ بلند و بانگ افسانے گھڑ رہا ہے۔ محنت کشوں کو سبز باغ دکھائے جا رہے ہیں۔ پوری الیکشن مہم میں بس کھوکھلے دعوے اور نعرے بازی تھی۔ الیکشن سے محض ایک ہفتہ قبل تو ان کا منشور سامنے آیا ہے اور وہ بھی ادھورا۔ منشور میں جو دعوے کیے گئے ہیں ان کو پورا کرنے کی لاگت کا کوئی تخمینہ نہیں لگوایا گیا۔ بعض دعوے مضحکہ خیز اور بعض بہت خطرناک نتائج کے حامل ہیں۔ مثلاً جب لبرلز نے بجلی کی ترسیل اور فراہمی کے ادارے ہائیڈرو ون کی نجکاری کی تو تنقید نگاروں میں کنزرویٹو پارٹی بھی شامل تھی۔ اب جب ان سے ہائیڈرو ون کا حل نکالنے کا پوچھا گیا تو ان کا کہنا یہ ہے کہ وہ ہائیڈرو ون کے سی ای او کو فارغ کر دیں گے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنے کا اختیار حکومت کے پاس ہے ہی نہیں۔ اس کے مقابلے میں ’NDP‘ کا کہنا ہے کہ وہ بیچے جا چکے حصص واپس خریدے گی اور ہائیڈرو ون کو واپس مکمل قومی تحویل میں لے گی۔ ٹیکس کے سوال پر کنزرویٹوز ایک ہی جواب دیتے ہیں: ہم ٹیکس کم کر دیں گے۔ یہ بات بہت خطرناک راز پوشیدہ کیے ہوئے ہے۔ پٹرول پر عائد صوبائی ٹیکس میں دس سینٹ فی لیٹر کم کر دیں گے۔ کاربن ٹیکس کو سرے سے ختم کر دیں گے۔ کارپوریٹ اِنکم ٹیکس کو 11.5 سے کم کر کے 10.5 کر دیں گے۔ جو بات کنزرویٹو چھپا رہے ہیں وہ یہ ہے کہ اس سے خزانے پر سالانہ 7.2 ارب ڈالر کا اضافی بوجھ پڑے گا جو پھر ناگزیر طور پر محنت کشوں سے ہی پورا کیاجائے گا۔ جب آمدنی کم ہو جائے تو خسارہ پورا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ خرچوں پر کٹوتیاں کی جائیں۔ اور حکومت کے تین سب سے بڑے خرچے صحت، تعلیم اور پبلک سروسز ہیں۔ عیاں ہے کہ یہ سات ارب کا خسارہ تعلیم، صحت اور پبلک سروسز میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کر کے پورا کیا جائے گا۔
بالفرض ’NDP‘ حکومت بنا بھی لے تو اس کا سامنا مسائل کے انبار سے ہو گا۔ اس نے افورڈ ایبل چائلڈ کیئر، سب کے لیے ڈینٹل کیئر اور فارما کیئر، پبلک ٹرانزٹ، اعلیٰ تعلیم کے لیے قرضے کی جگہ گرانٹ اور اس جیسے دوسرے مزدور اور عوام دوست وعدے کیے ہیں۔ ان کو نبھانے کی سالانہ لاگت کا تخمینہ 10.4 ارب ڈالر لگایا گیا ہے اور کسی انقلابی عمل کے بغیر ایسا کرنے کے لیے اسے مسلسل خسارے کے بجٹ بنانے ہوں گے۔ قرضوں کا بوجھ جلد یا بدیر اتارا تو محنت کشوں کے خون پسینے کی کمائی پر اضافی ٹیکس لاد کر جائے گا۔ یہ اصلاح پسندی کے ناگزیر مضمرات ہیں۔
اونٹاریو بلکہ پورے کینیڈا کے محنت کشوں کے پاس کیا کوئی راستہ نہیں بچتا؟ ایک واحد راستہ جو ان مسائل کو مستقل بنیادوں پر ہمیشہ کے لیے حل کر سکتا ہے وہ ’NDP‘ کو اس کے بنیادی نظرئیے یعنی سوشلزم کی طرف موڑنے کا ہے۔ محنت کش اگر لبرلز اور کنزرویٹوز کے بیچ گھڑیال کے پنڈولم کی طرح ادھر سے ادھر بھاگنا نہیں چاہتے تو انہیں اس فرسودہ گھڑیال ہی کو توڑنا پڑے گا تاکہ ان کے شب و روز میں کوئی حقیقی تبدیلی آسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*