آکوپائی وال سٹریٹ تحریک کا ایک سال

[تحریر:سوشلسٹ اپیل (امریکہ)]
ایک سال پہلے’’آکوپائی وال سٹریٹ‘‘ تحریک نے عوامی شعور میں جنگل کی آگ کی طرح بھڑک اٹھی تھی۔اسی قسم کے احتجاج پچھلے کچھ مہینوں میں دوبارہ منظم اور متحرک کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، لیکن ابھی تک یہ اپنی جڑیں نہیں بنا سکی۔ آکوپائی وال سٹریٹ کی ان نئی کاوشوں کو دو ہفتے بیت جانے کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض علاقائی تحریک ہے جو کوئی حقیقی دھماکہ نہیں کرپائے گی۔ لیکن جب نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے آکوپائی احتجاجیوں پر گھیراؤ اور چھڑکاؤ کی تصاویر ٹی وی چینلز اور فیس بک پردکھائی دیتی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے ’’ تنکے نے اونٹ کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے‘‘۔ Zuccotti Park پر قبضے نے لاکھوں امریکی شہریوں کو دکھایا کہ وہ ملک میں چلنے والے معاشی، سیاسی نظام اورعمومی سماجی زوال اور ٹھہراؤ کے خلاف اپنے غصے میں تنہا نہیں ہیں۔
مصری انقلاب کے دوران التحریر اسکوائر پر قبضہ ہوا جو دنیا بھر میں ٹی وی چینلز پر براہ راست دیکھاگیا، ’’آکو پائی‘‘ تحریک ایک طریقہ کار کے طور پر ابتدا میں اسی سے متاثر ہو کر شروع ہوئی تھی۔وسکانسن میں بھی لاکھوں لوگوں نے یہی طریقہ کار استعمال کیا انہوں نے گورنر واکر کے یونین مخالف قوانین کے خلاف ریاستی دار لحکومت پر قبضہ کر لیا تھا۔بہر حال،مبارک حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے لاکھوں لوگوں کا التحریر اسکوائر میں جمع ہوناہی کافی نہیں تھا۔ جیسے ہی تحریک کا دم خم ختم ہونے کو آیا، اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ جیسے حسنی مبارک شاید جیت جائے گا اور تحریک کو الٹا دے گا تو اسی وقت مصری محنت کش طبقہ فیصلہ کن انداز میں تاریخ کے میدان میں دیکھا گیا۔یہ مصری محنت کشوں کی خاص کر محالہ ٹیکسٹائل ملز اور سوئز کنال کے محنت کشوں کی ہڑتالیں تھیں جو کہ فیصلہ کن وار ثابت ہوئے، جن کے باعث مصری فوج کومجبور ہونا پڑا کہ وہ حسنی مبارک کو اقتدار سے الگ کرے یا پھر تمام معاملات کا کنٹرول اپنے ہاتھ سے نکل جانے جیسے حالات کا سامنا کرے۔
وسکانسن میں کسی ہڑتال کی کال نہیں دی گئی تھی،اسی وجہ سے تحریک کمزور ہوتے ہوئے پسپا ہوتی گئی اور دوبارہ الیکشن کروائے گئے جو حالات کو تبدیل کرنے میں اور واکرکواقتدار سے نکالنے میں ناکام ہوئے۔نیو یارک اور سینکڑوں دوسرے شہروں میں جہاں جہاں خود رو طور پرتحریک ابھری اور قبضے کیے گئے،وہاں محنت کشوں کی قیادت نے تحریک کو فتح مند کرنے کے لیے کوئی فیصلہ کن اقدامات نہیں کیے۔ساری بھاپ آخر کار ختم ہو گئی۔ حملے، ٹھنڈا موسم،سستی اور تھکاوٹ سب پر حاوی ہوتے گئے اور آج آکو پائی تحریک محض ایک نام یا پھر چھوٹے چھوٹے گروہوں کی شکل میں ہی باقی رہ گئی ہے۔یہ ابھی دیکھنا باقی ہے کہ آکو پائی تحریک کی پہلی سالگرہ اسے نئے سرے سے متحرک کر پاتی ہے یا نہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ یہ متحرک ہی کرے۔بہر حال جس چیز کی ضرورت ہے وہ جیتنے کا لائحہ عمل ہے۔کس طرح سے آکو پائی جیسی تحریکیں وہ تبدیلیاں لا سکتی ہیں جن کی اکثریت کو فوری ضرورت ہے؟
محنت کش طبقے کا کردار فیصلہ کن ہے۔سٹیٹس کو کے خلاف کیے گئے مظاہرے عمومی شعور کو تو بلند کر سکتے ہیں لیکن اپنے اندر اور اپنے لیے کوئی بنیادی تبدیلیاں نہیں لا سکتے۔محنت کش طبقے کے پاس یہ سب کرنے کی منفرد صلاحیت موجود ہوتی ہے۔معیشت کے فیصلہ کن حصوں تک اس کی براہ راست رسائی ہونے کی وجہ سے محنت کش طبقہ اسے روکنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔کیونکہ آخرکارچاہے وہ مصر ہو یا امریکہ، محنت کشوں کی ہڈیوں، ذہنوں،شریانوں اور پٹھوں کی طاقت کے بغیر ایک بھی پہیہ نہیں گھوم سکتا، ایک بھی روشنی نہیں چمک سکتی،ایک بھی جنس نہیں بنائی جا سکتی! 500خوش نصیب چیف ایگزیکٹو افسران اور بورڈ آف ڈائریکٹر ز کے ممبران محنت کشوں کے بغیر سماج کو چلانے کی ذرا بھی صلاحیت نہیں رکھتے۔لیکن ہم سماج کو ان کے بغیر اچھی طرح چلا سکتے ہیں۔یہی 1% بمقابلہ 99% کے حقیقی معنی ہیں۔یہ اس بات کا اظہار ہے کہ چند خون چوسنے والے، سماج کو اپنے مفادات کے گرد چلا رہے ہیں جبکہ اکثریت کے پاس معاملات کو مختلف طریقے سے چلانے کی صلاحیت موجود ہے۔
محنت کشوں اور آکوپائی تحریک کے مابین اہم تعلق استوار ہوابھی تھا، خصوصاََ نیو یارک شہر اور بے ایریا میں۔منظم محنت کش طبقے نے اپنے دفاتر اور کام کی جگہ دے کر، آکوپائی وال سٹریٹ کے اخبار اور دیگر اشاعتوں کے لیے چندہ دے کر ان کی اہم ا مداد کی تھی۔لیکن محض یہی عام کاروبار زندگی بند کر نے کے لیے کافی نہیں تھا۔ نیو یارک شہر میں لاکھوں کی تعداد میں منظم محنت کش طبقہ موجود ہے۔ ذرا سوچیں کہ اگر محنت کشوں کی قیادت ایک عام ہڑتال اور لوئر Manhattan پرمکمل قبضے کے لیے نیو یارک کے طاقت ور محنت کش طبقے کو کال دے دیتے۔ ٹرانسپورٹ، موصلات، بجلی، ہوٹل‘ ریستوران، janitorial وغیرہ کی سہولیات کے بغیر وال سٹریٹ کے بنکار ہوا میں معلق ہوکر رہ جاتے۔ ان اقدامات سے ملک بھر میں دہلا دینے والے اثرات مرتب ہونے تھے جن کالاکھوں لوگ بھرپور جوش وخروش سے استقبال کرتے۔
صدیوں سے ہوتے چلے آرہے حملوں کے بعد مزدور تحریک کی کیفیت اس فوج کی سی ہے جولڑنے کے لیے تیا رہے اورلڑنا چاہ بھی رہی ہے لیکن اپنی قیادت سے اسے کوئی احکامات نہیں دیے جا ر ہے۔ریپبلیکن اور ڈیموکریٹس دونوں کی طرف سے ایک جیسے کٹوتیوں کے اقدامات کے خلاف لڑنے کے لیے منظم سیاسی اور تنظیمی جدوجہد کے شدید خلا کا سامنا ہے۔ اسی لیے یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ آکوپائی وال سٹریٹ کے شعلے نے لاکھوں لوگوں کو متوجہ کیا اور ملکی سطح پر ہونے والے سیاسی مباحثے کو بدل کر رکھ دیا۔اس کے عام محنت کشوں پر شاندار اثرات ہوئے تھے، جو کہ Zuccotti Parkمیں سردی اور پولیس سے لڑنے والے بہادر لوگوں کی مدد کے لیے فوری طور پر اپنی حقیقی طاقت کو متحرک کر کے اس کا مظاہرہ کر سکتے تھے۔
لیکن ایک عام قبضہ اور وال سٹریٹ کا بند ہونا ہی کافی نہیں ہے۔مزدور تحریک کو جرت مند قیادت، بڑی تنظیم، اکثریتی جمہوریت،سیاسی پروگرام اور تناظر کی ضرورت ہے تاکہ وہ سماج کو بہتری کی طرف تبدیل کر سکے۔لیکن اس سب کی خاطر ملکی سطح کی سیاسی پارٹی کی ضرورت ہے جس کے چنے گئے نمائندے صرف ہمارے مفادات کے لیے لڑ یں۔ہمیں ایک لیبر پارٹی کی ضرورت ہے جو کہ ممبران کے براہ راست اور جمہوری کنٹرول میں ہو، جو کہ یونینز اور محنت کشوں کی اکثریت کو جوابدہ ہو، نہ کہ وال سٹریٹ کو۔سوشلسٹ پروگرام سے لیس پارٹی ہی امریکی سیاسی منظر نامے کو بدل سکتی ہے اور 1%کو فیصلہ کن شکست دے سکتی ہے۔

3 Comments

  1. Pingback: امریکہ: معاشی بحران میں ڈوبے صدارتی انتخابات

  2. Pingback: شمارہ نمبر 12: 16 تا 31 اکتوبر 2012ء

  3. Pingback: ۔2012ء؛ ایک جائزہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*