سکھر میں ایک روزہ مارکسی اسکول کا انعقاد

رپورٹ: عابد ملک

04 ستمبر 2017ء بروز سوموار طبقاتی جدوجہد سکھر آفس میں ایک روزہ مارکسی اسکول کا انعقاد کیا گیا جس میں سکھر، خیرپور، ٹھری میر واہ اور گردو نواح کے علاقوں سے نوجوانوں اور محنت کشوں نے شرکت کی۔ پہلے سیشن کا موضوع ’’عالمی اور ملکی سیاسی اور معاشی صورتِ حال‘‘ تھا۔ پہلے سیشن کوچیئر کامریڈ فراز نے کیا اور لیڈ آف کامریڈ سعید خاصخیلی نے دی۔ کامریڈ سعید نے عالمی سیاسی اور معاشی منظر نامے میں ہونے والی تبدیلیوں اور ان کی وجوہات پر تفصیل سے بات کی۔انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ سے لیکر برما تک پھیلی ہوئی وحشت اور بربریت جو سرمایہ دارانہ نظام کی تاریخی زوال پزیری کا نتیجہ ہے نے نسلِ انسانیت اور اس سیارے کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہے۔امریکہ میں ایک پرلے درجے کے بد دماغ شخص کا امریکی صدرکے طور پر منتخب ہونا اور تواتر سے انتہائی دائیں بازوکی نسل پرستانہ بیان بازی بھی سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کا واضح اشارہ ہے۔ انہوں نے پاکستان میں سی پیک کے پس منظر اور مضمرات پر بھی تفصیلی بات رکھی۔ کا مریڈ سعید کی لیڈآف کے بعد کامریڈاحسن جعفری نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے ملکی اور بالخصوص کراچی کی سیاست کا مختصر اًاحاطہ کیا۔سوالات کی روشنی میں کامریڈ انور پنہور نے سیشن کو سم اپ کیا۔
وقفے کے بعد دوسرے سیشن کا آغاز ہوا ۔ دوسرے سیشن کا موضوع ’’انقلاب میں نوجوانوں کا کردار‘‘ تھا۔

دوسرے سیشن کو چیئر کامریڈ احسن جعفری نے کیا اور لیڈ آف کامریڈ صدام نے دی۔ کامریڈصدام نے اسپارٹکس سے لیکر بھگت سنگھ اور حالیہ عہد تک انقلابی تحریکوں میں نوجوانوں کے کردار کا تفصیلی احاطہ کیا۔انہوں نے کہا کہ 1917ء میں روس میں انقلاب برپا کرنے والی بالشویک پارٹی کی سینٹرل کمیٹی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی اور نو جوان ہی وہ سماج کی پرت ہوتے ہیں جو انقلاب کی آہٹ کو سب سے پہلے محسوس کر لیتے ہیں۔ کامریڈ ٹراٹسکی نے کہا تھا کہ نوجوان درختوں کے ان پتوں کی طرح ہوتے ہیں جن میں طوفان آنے سے پہلے ہلکی سرسراہٹ شروع ہو جاتی ہے۔ کوئی بھی انقلابی تحریک نوجوانوں کی شمولیت کے بغیر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔اِس سیشن میں کامریڈ ماجد، کامریڈ فراز، کامریڈ شرجیل شر، کامریڈ عابد اور کامریڈ آصف نے نوجوانوں کے انقلابی کردار پر تفصیل سے بحث کی اور اس ضرورت پر زور دیا کہ انقلابی پارٹی کی تعمیر کے لئے مارکسزم کے نظریات کو زیادہ سے زیادہ نوجوانوں تک لے جانے کی ضرورت ہے۔سکول کا اختتام انٹرنیشنل گا کر کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*