سناٹے کا شور!

اداریہ جدوجہد:-

عجیب دور سے ہم گزر رہے ہیں۔ سیاسی اور مذہبی جلسوں کی یلغار ہے، ’’ترقیاتی‘‘ منصوبوں کی بھرمار ہے، بیرونی دوروں کی تیز رفتار ہے۔ اتنا شور ہے کہ کچھ سنائی نہیں دیتا، اتنی حرکت ہے لیکن معاشرہ ساکت۔ سکوت میں بھی وقت رکتا نہیں، چلتا رہتا ہے، تغیر غیر محسوس انداز میں جاری رہتا ہے۔ تاریخ بہت کفایت شعار ہوتی ہے، وقت کو ضائع نہیں کرتی۔ واقعات کا ایک ایک تنکا چن کر جوڑتی رہتی ہے۔ ظاہری طور پر کچھ نہ ہو کر بھی بہت کچھ ہورہا ہوتا ہے۔ ہر واقعہ، ہر سلسلہ حکمران طبقے اور اس کے نظام کو بے نقاب کر رہا ہے۔ ان کی واردات لوگوں کی سمجھ میں آرہی ہے لیکن سمجھ کر بھی وہ کچھ کر نہیں پارہے۔ عوام بیزار ہیں، حکمرانوں کے پاس سماج کو ترقی دینے کی کوئی معاشی پالیسی نہیں اور محنت کش عوام کوحالات بدل ڈالنے کا نظریہ اور انقلابی قیادت فی الوقت میسر نہیں۔ بالادست طبقے میں لوٹ مار کی دوڑ لگی ہے اور کروڑوں انسانوں کی زندگیاں بیگانگی میں سلگ رہی ہیں۔ امیر طبقہ امیر تر ہوتا چلا جارہا ہے اور غریب، غربت کی گہرائی میں دھنسے چلے جارہے ہیں۔ ڈیڈ لاک کی سی کیفیت ہے۔ سیاست، ریاست اور معیشت کا بحران حکمران طبقے سے اعتماد اور قوت فیصلہ چھین چکا ہے تو محنت کش طبقے کی گویائی، بے حسی کے سناٹے میں دب سی گئی ہے لیکن صدا دبی نہیں رہے گی۔ یہ سب کچھ اتنا بھی عجیب نہیں ہے۔ معمول اور جمود کے عہد ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ایسے ادوار کے روپ بدلتے رہتے ہیں، کردار ایک ہی رہتا ہے۔ بھڑکتے سماجی تضادات کا لاوا ایسے ادوار میں بھی سرد بہرحال نہیں پڑتا، پیشہ ور اہل دانش اس کی تپش کو شاید محسوس نہ کرسکیں لیکن امریکی سامراج کے گھاگ پالیسی سازوں سے لے کر اس ریاست کے سنجیدہ ماہرین، اس حدت کو نہ صرف محسوس کررہے ہیں بلکہ آتش فشاں کے پھٹ پڑنے سے خوفزدہ بھی ہیں۔ اسی خوف کے تحت مالیاتی سیاست کے مختلف کرداروں کو لڑوا کر، سیاسی جگادریوں کے تماشے کروا کر محنت کش عوام کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے ان میں الجھائے رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ڈوریاں ہلانے والے ’’لڑائی‘‘ کی حدود و قیود بھی پہلے سے طے کر دیتے ہیں۔ بڑا ’’پابند‘‘ سا ٹکراؤ کروایا جارہا ہے کہ کہیں سرمایہ داری کے خستہ حال ڈھانچہ ڈھے ہی نہ جائے۔ شریفوں کی بے نیازی کے اندر بھی ایک لرزاہٹ ہے اور عمران خان کی بڑھکیں بھی ایوانوں کو لرزانے کے لئے ہیں، گرانے کے لئے نہیں۔ 30 نومبر کو ایک اور ’’کنٹرولڈ‘‘ دھاوا بولے جانے کی شنید ہے۔ اس ’’بغاوت‘‘ میں کچھ کرنے کا عزم نہیں ہے کیونکہ جذبے سچے نہیں اور نظریہ کھوکھلا ہے۔ دھرنوں اور جلسوں میں اکثریت درمیانے طبقے کی ہے۔ محنت کشوں کے پاس تو ان تماشوں کو دیکھنے اور لطف اندوز ہونے کا وقت ہے نہ فرصت۔ ان کی لئے تو یہ سیاست ہی بے معنی ہے۔ وہ ایسی سیاست سے بے مہر کیوں نہ ہوں جس میں ان کے لئے کچھ ہے ہی نہیں۔ مڈل کلاس کی اس سیاست سے یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے جیسے محنت کش طبقہ سیاست کے میدان میں کبھی اترا ہی نہیں، انہوں نے کوئی تحریک چلائی ہی نہیں، یہاں کوئی انقلاب ہوا ہی نہیں!
گاندھی جیسے فریبی ناٹک کرنے سے سراج الحق نہ تو جماعت اسلامی کے کمرشلائزڈہوتے ہوئے کردار کو واپس لاسکتے ہیں اور نہ ہی مودودی کی اسلامی بنیادپرستی کو ان مینار پاکستان کے کنونشنوں سے بحال کرپائیں گے۔ مولوی منورحسن کی ولب بھائی پٹیل یا بال ٹھاکرے جیسی ا شتعال انگیز واردات بھی جماعت اسلامی کو وہ مذہبی کٹرپن دوبارہ دینے سے قاصر اور متروک ہے۔ مودودی نے نجی ملکیت کے مخالف مولانا امین احسن اصلاحی کو 1940ء کی دہائی میں نکال کرجماعت کو سرمایہ داری کے تابع کیا تھا اور اب سرمایہ داری کا موجودہ مافیا کردار جماعت اسلامی کو کالے دھن کاتابع ہونے سے نہیں روک سکتا۔ مینارِ پاکستان تو جماعت اسلامی کے پین اسلام ازم کی ہی ضد ہے۔ وہاں کنونشن منعقدکرنا مذہبی دائیں بازو کا بھی اعتراف شکست ہے۔
30 نومبر کو پیپلز پارٹی کا 47واں یوم تاسیس بھی ہے۔ لمبے عرصے کی تربیت کے بعد بلاول نے ’’غریبوں کے انقلاب‘‘ کی بات کی ہے۔ ’’غریبوں کا انقلاب‘‘ بڑی مبہم سی ترکیب ہے۔ وہ ایک ایسی پارٹی کی سیاسی باقیات کی باگ ڈور سنبھال رہا ہے جس کا پروگرام محنت کشوں کا انقلاب تھا، سوشلسٹ انقلاب۔ آج کی پیپلز پارٹی انقلاب نہیں بلکہ اس بوسیدہ نظام سے ’’مصالحت‘‘ کی پالیسی پر گامزن ہے۔ سرمائے سے ’’مفاہمت‘‘ کرنے والی یہ قیادت غریبوں کو کونسا انقلاب دے گی؟
آج کل انقلابات کا جو بازار سجا ہے اس کا مال دونمبر ہی نہیں زہریلا بھی ہے۔ لوٹ مار میں حصہ داری کی اس لڑائی میں ’’انقلاب‘‘ کے نام پر حکمران طبقے کا ایک دھڑا اپنے ہی طبقے کے دوسرے دھڑے کے خلاف ’’تحریک‘‘ چلا رہا ہے۔ یہ سب بحیثیت مجموعی پورے حکمران طبقے کے لئے خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ سیاسی طعنہ زنی اور چرب زبانی اعلیٰ سے اعلیٰ طنز و مزاح میں بھی کب تک برداشت کی جاسکتی ہے؟ یہاں تو سب سیاستدان کاروباری ہیں، کاروبار یہاں فراڈ کے بغیر ہو نہیں سکتا اور چوری کا الزام سب دوسرے پر لگاتے ہیں۔ آپس میں لڑ بھی رہے ہیں اور مال بھی بناتے چلے جارہے ہیں۔ اس نفاق میں بھی اتفاق ہے، الزام تراشی میں بھی گٹھ جوڑ ہے۔ سب کا معاشی نسخہ ’’بیرونی سرمایہ کاری‘‘ ہے، یہ سرمایہ کاری بھاری ’’کمیشن‘‘ بھی دیتی اور لگائے گئے سرمائے سے درجنوں گنا زیادہ دولت بھی لوٹ کے لے جاتی ہے۔ حکمران طبقے کی سیاست پر سے عوام کا اعتبار عرصہ پہلے ہی اٹھ چکا ہے۔ اس سیاست میں روشن مستقبل کی کوئی نوید ہے نہ ظلم کے خلاف مظلوم کی کوئی شنوائی۔ جب کوئی راستہ، کوئی امید نہ رہے تو سماج کی کچھ پرتیں سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی جھوٹی امیدوں اور ہوائی مفروضوں پر اکتفا کرنے لگتی ہیں۔
لوگ ٹیلی وژن کے ذریعے ہونے والی سیاست سے تنگ بھی ہیں اور اس کے علاوہ ٹیلی وژن پر کچھ میسر بھی نہیں۔ قلت، نفسا نفسی اور ذلت کے معمول میں موسیقی اور فن بھی مسخ ہوجاتے ہیں۔ اقدار اتنی گر گئی ہیں کہ فلم پر آنے والی لاگت اس کی پرکھ کا معیار بن گئی ہے۔ کسی زمانے میں فلم کی مقبولیت کا پیمانہ سینما میں چلنے کے ہفتے ہوا کرتے تھے، آج اس معیار سے جانچ ہوتی ہے کہ کتنے کروڑ کمائے۔ شعورکے سرمائے سے مغلوب ہوجانے کی یہ صرف ایک مثال ہے۔ رشتے اور جذبے مسخ ہو کے رہ گئے ہیں۔ گفتگو کسی معنی اور مواد سے خالی ہے اور مسکراہٹیں کھوکھلی۔ ہر اشارے میں بناوٹ ہے اور ہر فون کال کسی مطلب کے لئے، پیسوں کی ہی باتوں کے لیے ہوتی ہے۔ مدد خود نمائی کا ذریعہ ہے اور ’’خیرات‘‘ کی تشہیر بدعنوانی کو چھپائے رکھنے کا طریقہ کار۔ امریکی سامراج کے تمغوں سے جب بہادری کا تعین ہونے لگے، دولت کے زور پر جلسہ گاہیں بھری جائیں اور سیاست نظریات سے عاری ہو کر زر کی لونڈی بن جائے تو سماج کی نفسیاتی بیماری پر کوئی شک نہیں رہتا۔
جیسے ’’پولیٹیکل سائنس‘‘ کے مضمون کے تحت سرمایہ دارانہ نظام کی سیاست پڑھائی جاتی ہے اسی طرح مارکسزم انقلابی سیاست کی سائنس ہے۔ محنت کرنے والے ہاتھ ہی سماج کا پہیہ گھماتے ہیں۔ صنعت، زراعت، خدمات اسی محنت سے چلتے ہیں، محنت کش ہی مردہ مشینوں میں جان ڈالتے ہے۔ سماج کو چلانے والے یہی ہاتھ سماج کو روک بھی سکتے ہیں اور تبدیل بھی کرسکتے ہیں۔ محنت کشوں کو جب اپنی طاقت کا ادراک ہوتا ہے تو انقلابات برپا ہوتے ہیں اور تاریخ کی تقدیرمنور کر دیتے ہیں، جغرافیے اور نقشے بدل جاتے ہیں۔ معاشرے کا کردار، اخلاقیات اور قدریں نکھرتی ہیں، رشتے دولت کی بیڑیوں سے آزاد ہوتے ہیں اور انسان کو انسان بننے کا موقع ملتا ہے۔
مفلوج معیشت، کاروباری سیاست، دولت کی صحافت اور پرانتشار ریاست پر مبنی یہ نظام ناقابل اصلاح ہوچکا ہے۔ اس کی حدود و قیود میں کوئی بہتری ممکن نہیں۔ قتل و غارت گری، خونریزی اور دہشت گردی سماجی معمول بن چکی ہے۔ معاشرے پر حاوی مایوسی پہلے سے برباد محنت کش طبقے کو اور بھی مجروح کررہی ہے۔ لیکن انسان کو زندہ تو آخر رہنا ہے۔ بقا کی جدوجہد انسانی جبلت کا بنیادی عنصر ہے۔ گراوٹ کا یہ عمل لاامتناہی طور پر جاری تو نہیں رہ سکتا۔ غربت، لاعلاجی اور محرومی کے زخموں سے چُور کروڑوں محنت کشوں کو آخر اٹھنا اور لڑنا ہے۔ تاریخ گواہ ہے پستی کا معمول ہمیشہ ٹوٹتا ہے اور اسے توڑنے والے غیر معمولی حالات کو ہی انقلاب کہا جاتا ہے۔ انقلاب، جو سطح کے نیچے پنپ رہا ہے اور جس کی قیادت تاریکیوں کے اس عہد میں بغاوت کی مشعل روشن کیے ہوئے ہے۔ فی الوقت اوجھل سہی لیکن یہی لَو سرخ سویرے کی نوید بن کر رہے گی!

One Comment

  1. Pingback: شمارہ نمبر 23: یکم تا 15 دسمبر 2014ء

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*