نئی تحریکیں، نئے طوفان

تحریر: لال خان

آج دنیا کے مختلف خطوں میں ہمیں نوجوانوں اور محنت کشوں کے نئے ابھار نظر آ رہے ہیں۔ بنگلہ دیش سے لیکر فرانس اور بھارت سے لیکر پاکستان تک دنیا کے کئی ممالک میں ایسی تحریکیں اٹھ رہی ہیں جو نہ صرف ماضی کے روایتی سیاسی رجحانات کے بوجھ کو جھٹک رہی ہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے ناگزیر مضمرات کے خلاف جدوجہد کے نئے آغاز کی غمازی بھی کرتی ہیں۔
فلسطین کی غزہ پٹی کے مکینوں نے قیدوبند اور جبر کو ایک مرتبہ پھر اپنے لہو کی قربانی دے کر چیلنج کیا ہے ۔ پچھلے دو ہفتوں میں اسرائیل کی صیہونی درندگی اب تک 31 فلسطینیوں کا خون کر چکی ہے اور دو ہزار کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ یہ ابھار سامراجی پشت پناہی سے جاری اسرائیلی ریاست کے قبضے اور ظلم وستم کو للکار رہا ہے۔ موقع پرست قیادتوں اور عرب حکمرانوں کو بے نقاب بھی کر رہا ہے اور پورے خطے کے استحصال زدہ عوام کے سامنے ان کے گھناؤنے کردار کو عیاں بھی کر رہا ہے۔

بھارتی مقبوضہ کشمیر میں قومی آزادی تحریک کی نئی لہر اٹھی ہے۔ نوجوان لڑکے لڑکیوں نے ظلم کے آگے جھکنے سے انکار جاری رکھا ہوا ہے۔ اس مزاحمت میں شامل سینکڑوں لوگوں کو بھی حالیہ عرصے میں گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کیا گیا ہے جس سے بے شمار نوجوان بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ لیکن اس تحریک نے بھی جہاں ’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘ ہونے کی دعویدار بھارتی ریاست کے جبر کو دنیا بھر کے سامنے بے نقاب کیا ہے وہیں مقامی قیادتوں کی نااہلی اور برصغیر کے حکمران طبقات کی منافقت کو بھی واضح کیا ہے۔
بنگلہ دیش سے تازہ اطلاعات کے مطابق 9 اپریل کو ڈھاکہ یونیورسٹی میں طلبہ پر پولیس تشدد کے بعد دارالحکومت، چٹاگانگ، کھلنا، راج شاہی، رنگ پور اور سلہٹ سمیت دوسرے کئی شہروں میں ہزاروں طلبہ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی 10 سالہ ’جمہوری حکومت‘ کے معاشی و سماجی جبر کے خلاف ایک نئی تحریک پنپ رہی ہے۔ ملک کی کئی بڑی یونیورسٹیوں میں طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کر کے دھرنے دے رکھے ہیں۔ یہ احتجاج ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم رائج کرنے کے خلاف ڈھاکہ یونیورسٹی میں پرامن طور پر شروع ہوا تھا۔ لیکن پولیس گردی نے طلبہ کو مشتعل کر دیا جس کے بعد یونیورسٹی کیمپس میدانِ جنگ کا منظر پیش کرنے لگا۔

لیکن فوری وجہ سے ہٹ کر دیکھا جائے تو سرمایہ دارانہ نظام کا بحران پوری دنیا میں وسیع بیروزگاری کو جنم دے رہا ہے اور بیروزگاروں کی بڑی تعداد یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ 2011ء کے عرب انقلابات کی ایک بنیادی وجہ بیروزگاری کی وجہ سے نوجوانوں میں پایا جانے والا غم و غصہ ہی تھا۔تیونس کا انقلاب ایک بیروزگاری کمپیوٹر سافٹ ویئر انجینئر کی احتجاجی خود سوزی سے شروع ہوا تھا۔
اسی طرح بھارت میں مہاراشٹرا کے صوبے (جس کا دارالحکومت بمبئی ہے) میں کسانوں کا ایک احتجاج 6 مارچ کو شروع ہوا تھا۔ ناسک شہر سے شروع ہونے والے اس کسان مارچ کی قیادت ’’اکھل بھارتیہ کرن سبھا‘‘ نامی کسان تنظیم کر رہی تھی۔ اس مارچ میں پورے ہندوستان سے 50 ہزار سے زائد غریب کسان شریک ہوئے۔ ویسے تو پورے بھارت میں بدحال کسانوں کی خودکشیاں معمول بن چکی ہیں لیکن مہاراشٹرا میں ایسی خودکشیوں کی تعداد تمام صوبوں سے زیادہ ہے۔ تین سالوں میں بھارت میں 36000 کسان خود کشی کرچکے ہیں۔ مودی سرکار ’وِکاس‘ (ترقی) کے نعرے لگاتی پھر رہی ہے اور کسانوں پر نسل در نسل چڑھے سودی قرضے پہلے سے زیادہ وبالِ جان بن چکے ہیں۔ جھوٹے وعدوں کے ذریعے اس تحریک کو زائل کرنے کوششیں اب ناکام نظر آتی ہیں۔ اس تحریک کا دباؤ اتنا بڑھ گیا ہے کہ پچھلے ہفتے جنوبی ہندوستان کے دو مشہور ترین اداکاروں نے نہ صرف اس کی حمایت کا اعلان کیا بلکہ اس میں شمولیت کے لئے بھی چل پڑے۔ اس صورتحال سے معلوم ہوتا ہے کہ ’شائننگ انڈیا‘ میں غربت کا کتنا اندھیر چھایا ہوا ہے۔ ہندوستان کی تیز رفتار معاشی ترقی طبقاتی تضادات میں شدت ہی لا رہی ہے اور انسانوں کی ایک وسیع تعداد کو مزید افلاس میں دھکیل رہی ہے۔

فرانس میں ریلوے مزدوروں کی ہڑتال کے ساتھ ہی طلبہ، شہری صفائی کے مزدوروں، ائیر فرانس کے ملازمین اور کئی دوسرے شعبوں کے نوجوانوں اور محنت کش ایک نئی بغاوت میں امڈ آئے ہیں۔ یہ ہڑتالی تحریک 1995ء کے بعد فرانس کا سب سے بڑا عوامی ابھار قرار دی جا رہی ہے جس سے صدر میکرون کی نیولبرل حکومت لرز رہی ہے۔ فرانس کی حالیہ تاریخ میں بطور صدر میکرون کی مقبولیت ایک سال میں سب سے تیزی سے گری ہے۔1995ء میں ابھرنے والی تحریک نے اس وقت کے وزیر اعظم ایلین یوپے کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ لیکن اگر اس مرتبہ صدر میکرون اپنی عوام دشمن ’ریفارمز‘ کا پروگرام واپس لیتا ہے تو سرمایہ داری کے عالمی ماہرین اس نظام کے لئے سنگین خطرے کی گھنٹیاں بجا رہے ہیں۔ وہ میکرون کو ’ڈٹے دینے‘ کی شہ دے رہے ہیں۔ بالعموم سارے یورپ کی بات کی جائے تو ہر جگہ عام لوگوں میں ایک غم و غصہ موجود ہے کیونکہ 2008ء کے بعد شروع ہونے والے معاشی بحران کا سارا بوجھ انہی پر لاد دیا گیا ہے جبکہ سرمایہ داروں کی دولت میں مسلسل اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ یورپ میں تقریباً سات دہائیوں بعد نوجوانوں کی یہ پہلی نسل ہو گی جس کا معیارِ زندگی اپنے والدین سے کمتر ہو گا۔ اگر فرانس کے محنت کش اور طلبہ کی یہ ہڑتالیں کامیاب رہتی ہے تو دوسرے یورپی ممالک میں بھی ایسی تحریکوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔ فی الوقت فرانس میں آبادی کی اکثریت ان ہڑتالوں کی حمایت کر رہی ہے۔ اس سے پورے ملک میں ایک سماجی ہل چل کا ماحول ہے جس سے عام لوگوں پر چھائے مایوسی اور بدگمانی کے بادل چھٹنا شروع ہو گئے ہیں۔
پاکستان میں بھی پچھلے عرصے میں ’پشتون تحفظ تحریک‘ کی پیش رفت انتہائی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ 8 اپریل کو پشاور میں پشتون تحفظ تحریک کے دیو ہیکل جلسے نے پورے ملک کے نوجوانوں میں ایک نیا ولولہ پیدا کر دیا ہے۔ یہ جلسہ پیسے کی اِس سیاست کے کمرشل جلسوں سے بالکل مختلف تھا۔ کوئی کرسیاں نہیں تھیں، کوئی کالے دھن کی فنڈنگ نہیں تھی، کوئی روایتی لیڈر بھی نہیں تھا۔ بس غریبوں اور مجبوروں کا سمندر تھا جنہوں نے جلسے کے اخراجات بھی اپنے چندے سے پورے کئے تھے۔ جہاں کارپوریٹ میڈیا اِس تحریک کا بلیک آؤٹ کئے ہوئے ہے وہاں مروجہ سیاست کی پارٹیاں بھی اس کی کھلی یا مخفی مخالفت کر رہی ہیں۔لیکن اس جلسے نے ’پشتون تحفظ موومنٹ‘ کا لوہا ایک عوامی تحریک کے طور پر منوا دیا ہے جس کے بالکل جائز مطالبات گمشدہ افراد کی بازیابی، قومی محرومی کے خاتمے اور سماجی و معاشی آسودگی پر مبنی ہیں۔ اس تحریک کی قیادت کے لئے کڑے امتحان کا وقت ہے۔ ایک طرف مفاد پرستی یا مصالحت اور دوسری طرف مہم جوئی یا انتہا پسندی تحریک پر کاری ضرب لگائے گی جس سے عام لوگ مزید اذیتوں کا شکار ہونگے۔ لیکن وقتی پسپائی کے باوجود جن مسائل پر یہ تحریک ابھری ہے وہ پشتونخواہ یا دوسرے خطوں میں مزید ایسی تحریکوں کو جنم دے سکتے ہیں۔
یہ تحریکیں مختلف خطوں میں مختلف فوری ایشوز اور مختلف طرزوں پرابھری ہیں۔ لیکن بنیادی وجہ جبر اور استحصال کا یہ نظام ہے جو پوری دنیا میں عوام کی زندگیوں کو اذیت ناک بنا رہا ہے۔ اس نظام سے نجات کے لئے جس انقلابی تبدیلی کی ضروریت ہے وہ لینن کے الفاظ ہیں’صبر، مستقل مزاجی اور جہدِ مسلسل‘ کی متقاضی ہے۔ تمام قوموں اور ملکوں کے محنت کشوں اور مظلوموں کو طبقاتی جدوجہد میں جوڑ کر ہی انسانی آزادی اور نجات کی منزل تک پہنچا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*