حکومتیں بدلنے سے نظام نہیں بدلتے!

تحریر: لال خان

یورپ میں نشاۃ ثانیہ کے بعد سرمایہ دارانہ صنعتی انقلابات کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ تقریباً دو سو سال پر محیط تھا۔ مغرب میں ہونے والی ’قومی جمہوری‘ کردار کی حامل اِن انقلابی تبدیلیوں کو تین سو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن سرمایہ داری جب قومی حدود سے نکل کر ایک عالمی پھیلاؤ کے عمل میں داخل ہوئی تو اس نے سامراجیت کا کردار اپنا لیا جس کے تحت منافعوں کی شرح میں اضافے کے لئے دنیا کے مختلف خطوں کے وسائل اور منڈیوں پر قبضے کیے گئے۔ یوں افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں نوآبادیاتی دور شروع ہوا جس میں ان خطوں کو ایک وحشیانہ غلامی میں جکڑ دیا گیا۔ اس عمل سے بالخصوص ان نوآبادیات میں سرمایہ داری کا جبر اور استحصال کئی گنا بڑھ گیا جس میں کروڑوں انسانی زندگیوں کو منافعوں کی ہوس کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگیں بنیادی طور پر انہی خطوں کے وسائل اور منڈیوں پر تسلط کی مقابلہ بازی کا عسکری اظہار تھیں۔ پھر دوسری عالمی جنگ کے بعد انہی نوآبادیاتی خطوں کے محنت کش عوام اور افواج میں پھوٹنے والی بغاوتوں اور آزادی کی تحریکوں نے سلطنت روم کے انہدام کے بعد دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی انقلابی سرکشیوں کو بھی جنم دیا۔
عالمی جنگوں میں سامراجی طاقتیں لاغر اور کمزور ہوچکی تھیں۔ ان کے اپنے معاشروں میں بھی محنت کش طبقات کی انقلابی تحریکوں کا سلسلہ تیز ہوگیا تھا۔ ایسے میں سامراجی ماہرین اور پالیسی سازوں کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا ماسوائے اس کے کہ وہ ان ممالک کو ’’آزادی‘‘ دے دیں۔ لیکن برطانوی سامراج جیسی گھاگ طاقتوں نے ایک دوررس منصوبہ بندی کے تحت نوآبادیات پر اپنے تسلط کے دوران مقامی آبادیوں میں نہ صرف معاشی اور سیاسی اشرافیہ تخلیق کی بلکہ اپنے تعلیمی اداروں کے ذریعے اپنے نظام کے تقاضوں کے مطابق ایک ’پڑھا لکھا‘ درمیانہ طبقہ بھی تشکیل دیا۔ دوسرے الفاظ میں ان نوآبادیاتی خطوں کے مقامی حکمران طبقات‘ یورپ کی طرح جاگیرداری کے خلاف انقلابات کی پیداوار نہیں تھے بلکہ سامراجیوں کی پیوند کردہ اشرافیہ میں سے برآمد ہوئے تھے۔ ان کا اقتصادی، سیاسی اور سماجی کردار اسی سامراجی نظام کے تحفظ پر مبنی تھا اور اسی کے تحت ان کی تربیت کی گئی تھی۔ ان کے ریاستی ادارے بالخصوص عسکری اور عدالتی سیٹ اپ کی تشکیل بھی اسی نوعیت کی تھی جس میں ان کا کردار نام نہاد آزادیوں کے بعد بھی سامراجی لوٹ مار میں کمیشن ایجنٹوں جیسا تھا۔ لیکن نوآبادیاتی غلامی میں جکڑے محنت کشو ں کی تحریکوں نے بھی دو طرح سے آزادیاں حاصل کیں۔ بعض تحریکوں نے قومی آزادی کو معاشی اور سماجی آزادی کیساتھ منسلک کرکے ایک بڑے مقصد کی لڑائی بھی لڑی۔ ایسی تحریکوں میں پھر غاصب طاقتوں سے مذاکرات کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔ مثلاً افریقہ میں موزمبیق، انگولا، ایتھوپیا اور دوسرے کئی ممالک، جہاں پرتگیزی سامراجیوں کا قبضہ تھا، میں سرمایہ دارانہ نظام ہی ٹوٹ گیا۔ کیونکہ آزای کسی معاہدے، راؤنڈ ٹیبل کانفرنس یا مصالحتی مذاکرات سے نہیں بلکہ ایک جدوجہد اور لڑائی سے حاصل کی گئی تھی۔ لیکن روڈیشیا (موجودہ زمبابوے)، جنوبی افریقہ اور دوسرے کئی افریقی ممالک میں جہاں برطانوی سامراجیوں کا قبضہ تھا وہاں وہ مذاکرات اور ’’پرامن آزادی ‘‘ کی واردات کرنے میں کامیاب رہے۔ حکمرانوں کے رنگ اور روپ بدلے لیکن عام لوگوں کا استحصال اور لوٹ مار پہلے سے بھی بدتر ہو گئی۔ برصغیر جنوب ایشیا میں بھی اسی قسم کی مذاکراتی آزادی حاصل ہوئی جو سامراجیوں کے خلاف ناقابل مصالحت جدوجہد کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ انہوں نے راؤنڈ ٹیبل کانفرنسوں وغیرہ کے ذریعے اپنے پیوند کردہ نوآبادیاتی حکمران طبقے کو اقتدار سونپ دیا۔ اس مقامی حکمران طبقے نے جہاں آزادی کے لئے اٹھنے والی عوامی بغاوتوں کو زائل کیا وہیں ان کے دباؤ اور خطرات کو سامراجیوں سے سودے بازی کے لئے استعمال بھی کیا۔ سیاست، ریاست اور معیشت کا نظام پرانا ہی رہا۔ اس ’’پرامن آزادی‘‘ کے بٹوارے میں 27 لاکھ معصوموں کا ایسا قتل ناحق ہو اجس کی مثال کسی دوسری نوآبادیاتی آزادی میں نہیں ملتی۔ لیکن ’’اقتدار کی پرامن منتقلی‘‘ کے اس مرحلہ کو نہایت ہی مہارت اور عیاری سے مکمل کروانے کے بعد یورپی سامراجی طاقتیں اور بالخصوص اُس وقت ابھرتا ہوا نیا سامراج امریکہ ایک ایسا عالمی سیٹ اپ استوار کرنے کے عمل میں مصروف ہوگئے جو اس نوآبادیاتی غلامی اور استحصال کو جاری رکھ سکے۔ اس کاوش میں سامراجی ماہرین نے 1944ء میں امریکہ کے قصبے بریٹن ووڈز میں ایک وسیع اور دورس منصوبہ تیار کیا۔ اسی اجلاس میں آئی ایم ایف، عالمی تجارتی معاہدہ (WTO)، ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ جیسے مالیاتی، اقتصادی اور سیاسی اداروں کے خاکے تشکیل دیئے گئے۔ یوں پاکستان جیسے سابقہ نوآبادیاتی ممالک جہاں جاگیرداری کی باقیات کیساتھ سرمایہ دارانہ نظام قائم ہے وہاں کی معیشتیں روزِ اول سے ان سامراجی اداروں کی بھیک کی مرہون منت رہی ہیں اور حکمران طبقات ان عالمی طاقتوں کے کاسہ لیس رہے ہیں۔ سامراج کی یہ گماشتگی اور کاسہ لیسی ان ممالک کے حکمران طبقات کی سیاست، اقتصادیات اور ریاستوں کے خمیر میں شامل ہے۔
عمران خان کی حکومت بھی اسی نظام کے ڈھانچوں میں بنی ہے اور آخری تجزئیے میں انہی ڈھانچوں کے مطابق پالیسیاں لاگو کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتی۔ یہاں کے کالی دولت کے بڑے بڑے دھنوان اور سرکاری آقا پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں۔ جب ایک سرمایہ دارانہ پارٹی رسوا ہو جاتی ہے تو وہ کوئی دوسری کھڑی کر لیتے ہیں یا اُس میں اپنی جگہ خرید لیتے ہیں۔ انتخابات بھی یہاں پیسے کے زور پر ہوتے ہیں اور پیسے والوں میں سے بھی وہی جیتتا ہے جسے اقتدار دینے والوں کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ پارٹی یا فرد کوئی بھی کامیاب ہو جیتتا سرمایہ ہی ہے۔ تحریکِ انصاف بھی ایسے ہی عناصر پر مشتمل ہے۔ یہ پچھلی حکومت کی کرپشن کا واویلا ابھی تک کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے اور اسی شور میں ان کے قائدین کرپشن کے نئے ریکارڈ بنا چکے ہونگے۔ جو نظام صحت مند ترقی نہ دے سکتا ہو وہ کرپشن کے بغیر چل نہیں سکتا۔ کرپشن پر چلنے والے نظام کے اداروں میں رہتے ہوئے کرپشن کے خاتمے کا ڈھونگ عوام کے ساتھ بدترین فریب ہے۔ کرپٹ ترین اداروں سے کرپشن کے خاتمے کی امیدیں وابستہ کرنا یا کروانا جہاں المناک ہے وہاں مضحکہ خیز بھی ہے۔ اسی طرح یہ ناٹک کیا جا رہا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے بارے ابھی ’’ حتمی فیصلہ‘‘ نہیں ہوا۔ جبکہ آئی ایم ایف کی ٹیم 27 ستمبر کو اسلام آباد آکر مذاکرات کر کے چلی بھی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کو ئی عاجز اور ہمدرد ادارہ نہیں ہے۔ وہ لوٹتے قرض دینے کے بعد ہیں لیکن ناک سے لکیریں پہلے کھنچواتے ہیں۔ پہلے حکومتیں انہیں ’لیٹر آن انٹینٹ‘ بھیجتی ہیں۔ پھر وہ ’سوچ بچار‘ کرتے ہیں۔ بڑے منتوں ترلوں کے بعد مذاکرات کے لئے تشریف لاتے ہیں اور معاشی پالیسیوں کی تشکیل میں حکومتوں کے برائے نام اختیارات بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔ چین اور سعودی عرب نے اس حکومت کو چونکہ جھنڈی کروا دی ہے اس لیے روزانہ کے یوٹرن جاری ہیں۔ لیکن آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لئے بھی پہلے بجلی اور گیس کی قیمتوں کو بڑھانا پڑا ہے۔ تب انہوں نے آنے کی زحمت گوارا کی ہے۔ اب تاریخ کا سب سے بڑا قرضہ لیا جائے گا۔ جس پر تاریخ کا سب سے بڑا سود پڑے گا۔ بجٹ کا نصف صرف ان قرضوں کی ادائیگی پر صرف ہوگا۔ روپے کی قدر بھی مزید کم کرنی پڑے گی جس سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔ ایسے میں عام آدمی کی حالت خاک بہتر ہوگی؟ لیکن آئی ایم ایف بھی کیا کرے؟ اس نظام کو زندہ رکھنا بھی ان کی مجبوری ہے۔ لیکن صرف اس حد تک کہ قرضوں کے ونٹی لیٹر پر سانسیں چلتی رہیں۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام میں رہ کر کشکول توڑنے کی باتیں کرنے اور ترقی کے خواب دکھلانے والوں سے بڑا جھوٹا اور مکار کوئی نہیں ہے۔ تحریک انصاف کے ارب پتیوں اور ان کے آقاؤں کی ’ترقی‘ تو ہو جائے گی۔ لیکن عام انسانوں کے لئے زندگی گزارنا اور بھی ناقابل برداشت ہو گا۔ لیکن ایسے ہی حالات میں صبر اور برداشت کے پیمانے بھی لبریز ہو جایا کرتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*