نیپال: ’کمیونسٹ‘ حکومت کا امتحان

تحریر: لال خان

اپنے جغرافیائی محل وقوع کی وجہ سے چھوٹی سی ہمالیائی ریاست نیپال نے پچھلی چند دہائیوں میں کچھ زیادہ ہی اہمیت اختیار کر لی ہے۔ پچھلے ہفتے کے انتخابات کے نتائج کے مطابق نیپال کے ’کمیونسٹ‘ اتحاد کو واضح کامیابی ملی ہے۔ 2015ء میں نئے جمہوری آئین کے نفاذ کے بعد یہ پہلے پارلیمانی انتخابات تھے۔ کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (یونیفائیڈ مارکسسٹ لیننسٹ) اور کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (ماؤسٹ سینٹر) نے ایک اتحاد تشکیل دیا تھا۔ 275 ارکان پر مشتمل وفاقی پارلیمان میں (165 نشستوں پر براہ راست مقابلہ اور 110 پر متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخاب ہوتا ہے) یونائیٹڈ مارکسسٹ لیننسٹ کمیونسٹ پارٹی نے 80 جبکہ ماؤاسٹوں نے 36 نشستیں جیتی ہیں۔ نیپالی کانگریس نے صرف 21 نشستیں حاصل کی ہیں۔
2006ء میں عوامی سرکشی کے بعد نیپال میں تھیوکریٹک بادشاہت منہدم ہوئی تھی اور اس کی جگہ ایک نیم جمہوری پارلیمانی حکومت نے لی تھی۔ دو سال بعد صدیوں پرانی بادشاہت کا باقاعدہ خاتمہ ہوا اور ایک وفاقی پارلیمانی نظامِ حکومت قائم ہوا۔ لیکن عدم استحکام اور بحران جاری رہا۔ بوسیدہ نیپالی سرمایہ داری ملک کے محکوم طبقات کے لیے کسی طرح کی ترقی یا خوشحالی نہیں لا سکی۔ گیارہ سالوں میں نیپال میں دس وزرائے اعظم تبدیل ہوئے۔ نیپال دنیا کے غریب ترین ملکوں میں شامل ہے اور آبادی کا وسیع حصہ شدید غربت کا شکار ہے۔ غذائی عدم تحفظ، ناقص رہائش، کم شرح خواندگی، قدرتی آفات اور نسلی تعصبات کی بھرمار ہے۔ اگرچہ نیپال میں زراعت ہی بنیادی ذریعہ معاش ہے، لیکن آبادی کی اکثریت پہاڑی علاقوں میں رہتی ہے جہاں سنگلاخ اراضی اور بنجر زمین زراعت کو مشکل بنا دیتی ہے۔ اِس بار اکثریتی رائے دہندگان کا حکومت سے مطالبہ تھا کہ 2015ء کے زلزلے (جس میں نو ہزار لوگ مر گئے تھے) میں تباہ ہونے والے ہزاروں گھروں کو دوبارہ تعمیر کیا جائے۔ اب تک ان میں سے صرف چار فیصد گھر ہی تعمیر ہوئے ہیں۔
چین اور ہندوستان نیپال میں اپنے اثرورسوخ کے لیے باہم دست و گریباں ہیں اور انتخابات کے نتائج کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ان انتخابات میں بھارت نے نیپالی کانگریس کی حمایت کی تھی۔ دوسری طرف کمیونسٹ اتحاد کے نئے متوقع وزیر اعظم ’کھڈگا پراساد اولی‘ کے ہندوستان کیساتھ تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ چین سے قریبی تعلقات کی وجہ سے بھارت اُس پر اعتبار نہیں کرتا۔ اولی کی حکومت کا جھکاؤ یقیناًچین کی طرف بڑھے گا۔ مالدیپ اور سری لنکا پہلے ہی بحر ہند میں چینی بحری جہازوں کو لنگر اندازی کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں اور چین کے سمندری شاہراہِ ریشم منصوبے کا حصہ ہیں۔ اب لگتا ہے کہ نیپال بھی چین کے ’ون بیلٹ ون روڈ‘ منصوبے کا حصہ بننے جا رہا ہے۔ اِس صورتحال کو بھارت کی نیپال پالیسی کی ناکامی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بحیثیت وزیراعظم اپنی پچھلی حکومت میں اولی نے ایندھن، ادویات اور دوسری اجناس کے حوالے سے ہندوستان پر انحصار کم کرنے کیلئے چین کیساتھ معاہدے کیے تھے جن کے تحت ملک کی پیٹرولیم ضروریات کا ایک تہائی چین سے خریدا جائے گا۔
خشکی میں محصور نیپال پیٹرولیم مصنوعات اور دوسری بنیادی ضروریات کے لیے مکمل طور پر چین اور ہندوستان پر منحصر ہے۔ دونوں بڑے ممالک میں تنازعے کا خمیازہ نیپالی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ستمبر 2015ء میں بھارت کی جانب سے نیپال کی غیر اعلانیہ ناکہ بندی کے آغاز کے بعد اولی مدد کے لیے چین گیا اور بیجنگ نے بخوشی اُس کا استقبال کیا۔ اِس کے بعد بھی اُس نے ہندوستان کے خلاف چینی پتے کا استعمال جاری رکھا ہے۔ بھارت کے زیادہ تر ہمسایے دہلی کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے چین کا رُخ کرتے ہیں۔ اِس سے قبل نیپالی بادشاہتیں بھی سیاسی پارٹیوں پر بھارت کے وسیع اثر و رسوخ کو متوازن کرنے کے لیے چین کا رخ کرتی تھیں۔ اولی کی چین نواز پالیسی سے تنگ آکر بھارت نے اسے نیپالی کانگریس کے لیڈر شیر بہادر دیوبا کی قیادت میں ایک خفیہ آپریشن کے ذریعے اقتدار سے فارغ کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔ تاہم سرکاری طور پر دہلی ان الزامات کو مسترد کرتا ہے اور اسے نیپال کا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے۔ اب اگر اولی اِس بھاری اکثریت کیساتھ اقتدار میں آتا ہے تو چین‘ بھارت کے پچھواڑے میں اپنا اثرورسوخ مزید بڑھائے گا۔ تاریخی طور پر نیپال میں بھارتی ریاست کا اثرورسوخ بہت زیادہ رہا ہے اور ہندوستانی حکمران اسے اپنی کالونی ہی گردانتے ہیں۔
ہندوستان اور نیپال کے درمیان کھلی سرحد ہے اور ہزاروں نیپالی پورے ہندوستان، بالخصوص مشرقی اور شمالی ریاستوں میں رہتے اور کام کرتے ہیں۔ یہ حقیقت دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں ایک اہم عنصر ہے۔ ہندوستان کے ساتھ تعلقات میں مزید بگاڑ سے لاکھوں نیپالیوں کی زندگیاں متاثر ہوں گی اور ہندوستان سے آنے والا زرمبادلہ ختم ہوسکتا ہے۔
جہاں چین کی سرمایہ کاری پر مبنی سفارت کاری ایک کارآمد ہتھیار ہے وہیں جغرافیہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ چین اور نیپال کی سرحد بہت دشوار گزار ہے۔ اولی کی پچھلی حکومت میں بھی چین کیساتھ پیٹرولیم کی رسد کے معاہدے پر عمل درآمد کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ناقص مواصلاتی نظام اور ٹرانسپورٹ کے زیادہ اخراجات اجناس کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچائیں گے۔ پیٹرولیم مصنوعات کے علاوہ چین سے دوسری درآمدات کو بھی ہمالیہ کے دشوار گزار راستوں سے آنا پڑے گا۔ لہٰذا کوئی بھی نیپالی قیادت اپنے ملک میں وسیع غربت اور بوسیدہ سرمایہ داری کے ہوتے ہوئے بھارت کے سامراجی تسلط سے چھٹکارا نہیں پاسکتی۔ اس لیے یہ ’کمیونسٹ‘ اتحادی حکومت بھی دونوں ایشیائی طاقتوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوششوں کی پالیسی جاری رکھے گی۔
المیہ یہ ہے کہ کمیونسٹ پارٹی آف نیپال (ماؤسٹ سینٹر) کے سابقہ باغیوں(جنہوں نے 1996ء سے 2006ء کے دوران ریاست کے خلاف مسلح جنگ لڑی تھی) نے بھی نیپال سے سرمایہ داری کے خاتمے کی انقلابی پالیسی کو نہیں اپنایا۔ ایک لمبی گوریلا جدوجہد اور انفرادی دہشت گردی کے بعد وہ اقوام متحدہ کی سربراہی میں امن معاہدے کے تحت نیپال کی بوسیدہ سرمایہ دارانہ ریاست اور سیاست کا حصہ بن گئے۔ پشپا کمال دہل، جسے پراچندا بھی کہا جاتا ہے اور جو ماؤسٹ ’نظریہ دان‘ اور گوریلا سرکشی کا لیڈر تھا، 2008ء سے 2009ء اورپھر 2016ء سے 2017ء تک نیپال کا وزیراعظم بنا اور یوں جابر ریاست کا ہی ایک اوزار بن کر رہ گیا۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بائیں بازو کی انتہا پسندی اور مہم جوئی اکثر و بیشتر بدترین موقع پرستی پر ختم ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ ماؤاسٹ تو ہتھیار ڈالنے کے بعد نیپال کی بورژوا پارٹی نیپالی کانگریس کیساتھ اتحاد میں چلے گئے تھے۔ اِسی طرح اولی کی پارٹی بھی کوئی حقیقی کمیونسٹ پارٹی نہیں ہے۔ یہ ایک سوشل ڈیموکریٹک پارٹی ہے اور اس کی پالیسیاں سرمایہ داری کو قبول کرتی ہے۔ لیکن ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹیاں بھی تو نسلوں سے یہی کام کر رہی ہے۔
اِس ’کمیونسٹ‘ اتحاد نے ہندوستان اور چین دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کا عزم کیا ہے۔ لیکن یہ محض ایک خواب ہی ہے۔ چین اور ہندوستان کی ریاستیں اس غریب ملک میں اپنی بالادستی کے لیے لڑتی رہیں گی۔ یہ ’کمیونسٹ‘ اتحاد نیپالی عوام کی زندگی بہتر کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کچھ اصلاحات ہی کر پائے گا۔ لیکن نیپال کی کمزور اور بوسیدہ سرمایہ داری میں اس طرح کی اصلاحات کی گنجائش ہی نہیں ہے جس سے محنت کشوں اور محکوم عوام کی زندگی میں بہتری آئے۔ لیکن نیپال کے محنت کشوں اور نوجوانوں نے بھی گزشتہ لمبے عرصے کے انتشار سے بہت سے نتائج اخذ کیے ہیں۔ یہاں ایک نئی انقلابی اٹھان سارا سیاسی منظر نامہ ہی بدل سکتی ہیں۔ نیپال کی کم آبادی اور رقبے کے باوجود یہ تبدیلی پورے برصغیر میں انقلابی نتائج کی حامل ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*