کشمیر کے انتخابات میں امید کی کرن

[تحریر: لال خان]
طبقاتی نظام کی حاوی سیاست آخری تجزئیے میں حکمران طبقے کا اوزار ہوتی ہے جس کا مقصد عوام کو ’’آزادی‘‘ کا پرفریب تاثر دینا ہوتا ہے۔ ’’جمہوریت‘‘ اور انتخابات کی سب سے منافقانہ شکل ان ممالک میں دیکھنے کو ملتی ہے جو بالواسطہ یا براہ راست طور پر کسی عالمی یا علاقائی سامراجی طاقت کے تسلط میں ہیں۔ عراق اور افغانستان جیسے ممالک میں الیکشن اور ’’جمہوری‘‘ حکومتیں کسی بیہودہ مذاق سے کم نہیں ہیں۔ ’’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کے تسلط میں سلگتا بھارتی مقبوضہ کشمیر بھی ایسی ہی ایک مثال ہے۔ پاکستانی کشمیر میں بھی صورتحال اگرچہ مختلف نہیں ہے لیکن لائن آف کنٹرول کے اُس پار بھارتی ریاست نے سات لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں، یہ شاید اس خطے کی سب سے بڑی فوج کشی ہے۔ POTA جیسے کالے قوانین کے ذریعے کشمیری عوام کے بنیادی حقوق صلب کر لئے گئے ہیں۔ دوسری طرف کشمیر کا حکمران طبقہ ننگی جارحیت اور جبر پر ’’جمہوریت‘‘ کا لبادہ چڑھانے والے ہندوستانی حکمرانوں کا سب سے بڑا آلہ کار ہے۔
گزشتہ کچھ دہائیوں کے دوران کشمیر کی قوم پرست قیادت کے نظریاتی دیوالیہ پن نے تحریک آزادی کو پسپائی سے دوچار کیا ہے۔ یہ قوم پرست رہنما نہ صرف ’’اقوام متحدہ‘‘ سے امیدیں وابستہ کئے ہیں بلکہ ان میں چند ایک تو امریکی سامراج کی مدد سے ’’آزادی‘‘ حاصل کرنے کی خوش فہمی میں بھی مبتلا ہیں۔ نہ صرف کشمیر بلکہ ہر دوسری مظلوم قومیت کے رہنما سرمایہ دارانہ نظام کی معاشی، سیاسی اور سفارتی حدود کے اندر رہ کر قومی آزادی حاصل کرنے کے یوٹوپیا میں غرق ہوگئے ہیں۔ 1980ء کی دہائی کے اواخر میں کشمیری انتفادہ کی زوال پزیری کے بعد ابھرنے والے اسلامی بنیادی پرستی کے رجحانات نے تحریک کو اور بھی سبوتاژ کیا ہے۔ پاکستانی ریاست اور دوسرے بیرونی عناصر کی پشت پناہی سے کی جانیوالی مذہبی دہشت گردی کا سب سے زیادہ فائدہ غاصب بھارتی ریاست کو ہوا ہے جسے ریاستی جبر کے نئے جواز ملے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ کشمیر کے الحاق کا نعرہ لگانے والے نیم مذہبی دائیں بازو نے بھی قومی آزادی کی جدوجہد میں دراڑ ڈالی ہے۔
قومی پرستانہ سیاسی رجحانات کی زوال پزیری کے بعد لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف کے نوجوانوں نے سماجی اور معاشی مطالبات کی بنیاد پر جدوجہد کرنے کا راستہ اپنایا ہے۔ روز مرہ زندگی کے مسائل اور بنیادی ایشوز کے گرد منظم ہونے والی عوامی تحریکوں کو طبقاتی جدوجہد اور قومی آزادی سے منسلک کرنے کا فریضہ مارکسی رجحان بخوبی ادا کررہا ہے۔ قومی سوال پر لینن ازم کا یہی کلاسیکی موقف ہے۔ بڑھتے ہوئے ریاستی جبر اور سیاسی گھٹن کے ماحول میں کشمیری عوام نے اپنی آواز بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حالیہ انتخابات کے ذریعے بلند کرنے کی ہے۔ حکمران طبقے کی چالبازی کو عوام کے مفادات کے لئے استعمال کرنے کی یہ کامیاب حکمت عملی ہے۔ دہلی پر براجمان ہونے کے بعد رجعتی مودی سرکار نے اندھی طاقت کے ذریعے کشمیر میں ’’ریاستی رٹ‘‘ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی جسے کشمیری عوام کی سخت مزاحمت نے ناکام بنا ڈالا۔
ماضی کی حکومتوں کی طرح مودی سرکار بھی کشمیر کے حکمران طبقے کے ذریعے اپنے عزائم کو آگے بڑھانا چاہتی تھی لیکن عوام کا دباؤ اس قدر شدید تھا کہ کرپٹ مقامی اشرافیہ کے سیاسی رہنما کھل کر بی جے پی کی حمایت نہیں کرسکے۔ حالیہ انتخابات کے دوران کشمیری عوام میں دہلی کے خلاف پہلے کبھی نہ دیکھی گئی نفرت دیکھنے میں آئی ہے۔ ہندو دائیں بازو کی طرف سے ’’ترقی‘‘ اور ’’ریاست میں مزید سرمایہ کاری‘‘ کا فریب مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ کشمیر کے محنت کش عوام بخوبی واقف ہیں کہ ’’ترقی‘‘ کی آڑ میں نریندرا مودی ’’حصول زمین کا قانون‘‘ (Land Acquisition Act) ختم کرنا چاہتا ہے تاکہ کشمیر کی زمین پر کارپوریٹ گدھ پنجے گاڑ سکیں۔ زمین کی ملکیت کے بنیادی حقوق کشمیری عوام نے 1920ء کی دہائی میں مہاراجا کے خلاف طویل جدوجہد کے بعد حاصل کئے تھے۔
جموں ڈویژن میں نریندرا مودی مذہبی کارڈ استعمال کرنے میں کسی حد تک کامیاب رہا ہے۔ جموں ڈویژن کی کل 37 میں سے 25 نشستوں پر بی جے پی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ وادی میں بی جے پی کو ایک نشست بھی نہ مل پائی۔ بی جے پی کے 36 امیدواروں میں سے 35 کی ضمانت ضبط ہوگئی۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے 28 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جن میں جموں ڈویژن کے مسلم اکثریتی علاقوں کی تین نشستیں بھی شامل ہیں۔ ہندو انتہا پسند 1947ء سے ہی اس مذہبی تعصب کی سیاست کررہے ہیں۔ راشٹریہ سوائم سیوک سنگ مذہبی بنیادوں پر جموں کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ بھی کرتی رہی ہے حالانکہ اس صورت میں جموں کے کل چھ میں سے ڈھائی اضلاع ہی اس کے حصے میں آئیں گے۔
زیادہ تر عوام نے اپنے حالات زندگی کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے ووٹ دیا۔ انتخابات کے نتائج میں بھارتی حکومت سے عوام کی بیزاری بالکل واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ سیاسی چالبازیوں سے اب جیسی بھی مخلوط حکومت بنائی جائے وہ غیر مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کا کوئی ایک مسئلہ بھی حل کرنے کے قابل نہیں ہوگی۔ بٹوارے نے برصغیر کی سیاست اور سماج پر جو رستے ہوئے زخم لگائے ہیں انہیں یہ نظام نہیں بھر سکتا۔ دہائیوں کے اس گھٹاٹوپ اندھیرے میں امید کی ایک کرن حالیہ انتخابات میں بہرحال نظر آئی ہے۔

کامریڈ یوسف تاریگامی انتخابی مہم کے دوران جلسہ عام سے خطاب کر رہے ہیں

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) (CPI (M کے ریاستی سیکریٹری جنرل محمد یوسف تاریگامی نے کلگام حلقہ سے مسلسل چوتھی بار انتخابی کامیابی حاصل کی ہے۔ پیر پنچال کے شمالی دامن میں واقع ضلع کلگام بنیاد پرست مذہبی وسیاسی تنظیم جماعت اسلامی کا مضبوط گڑھ ہے۔ یوسف تاریگامی نے یہاں سے پہلی بار 1996ء میں الیکشن لڑا تھا جب پورا کشمیر مذہبی پولرائزیشن اور شدت پسندی کی لپیٹ میں تھا۔ انہوں نے 2002ء اور پھر 2008ء کے انتخابات میں بھی اس نشست پر کامیابی حاصل کی۔ بی جے پی کی ہندو انتہا پسندی کے خلاف نعرہ بازی کرنے والی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی حالیہ انتخابات میں 28نشستیں جیت کر کشمیر کی سب سے بڑی سیاسی اکائی کے طور پر ابھری ہے لیکن مسلمان آبادی کے علاقوں میں اس پارٹی نے بھی مذہبی کارڈکا خوب استعمال کیا ہے۔ کلگام میں بھی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے کمیونسٹ امیدوار کے خلاف الیکشن کو ’’اسلام اور کفر‘‘ کی جنگ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی۔ جماعت اسلامی کے کارکنان، کرپٹ ٹھیکیدار،سرمایہ دار اور منشیات کے سمگلر یکجا ہو کر ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت میں یوسف تاریگامی کے خلاف متحرک تھے۔ اپنے سیاسی اور مالی مفادات کے لئے ایک دوسرے کے خلاف مذہبی بنیادپرستی کا زہر اگل کر عوام کو تقسیم کرنے والے بی جے پی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سیاستدان اپنے نظام کو بچانے کے لئے ایک کمیونسٹ کے خلاف متحد تھے!
تاریگامی کے موقف، کہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے، کو عوام میں خاصی مقبولیت حاصل ہوئی۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم کو محنت کش اور غریب طبقے کے حقوق، مفت علاج اور تعلیم اور کسانوں کے مطالبات پر مرکوز رکھا، کشمیر کی آزادی اور خومختیاری کی جدوجہد کو پوری دنیا میں عوام دشمن سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جنگ سے جوڑنے کا تناظر محنت کشوں اور نوجوانوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ یوسف تاریگامی نے اپنا موقف لوگوں کے سامنے واضح کیا کہ پارلیمانی سیاست استحصالی ریاست اور نظام کو شکست دینے کا کوئی حتمی راستہ نہیں ہے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام اور سامراجی قوتوں کے خلاف جدوجہد کو منظر عام پر لانے اور ابھارنے کا ایک ذریعہ ہے،کشمیر سمیت پورے برصغیر کے محنت کش عوام کے مسائل اور ان کے حل کی جدوجہد مشترک ہے، قومی اور مذہبی تفریق محنت کشوں کی یکجہتی کو ٹھیس پہنچاتی ہے جس کا سب سے زیادہ فائدہ حکمران اٹھاتے ہیں۔

انتخابی فتح کے بعد کلگام میں جلسہ عام

(CPI(M کے جلسوں میں فیض صاحب کی نظمیں اور کشمیر کے انقلابی شاعر عبدل احد آزاد کے نغمے خوب گونجتے رہے۔ ہر قصبے اور گاؤں کی دیوار پر پارٹی کے نشان (درانتی ہتھوڑا) کے سٹیکر اور پوسٹر آویزاں تھے۔ پوری انتخابی مہم کے دوران یوسف تاریگامی اور ان کے ساتھیوں نے اپنے کمیونسٹ نظریات چھپائے نہ ہی یہ واضح کرنے میں کوئی عار محسوس کی کہ سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد کا مقصد معیشت اور سیاست کے بنیادوں ڈھانچوں کی مکمل تبدیلی ہے۔ نتائج آنے کے بعد پاکستان میں انقلابی مارکسسٹوں کے نام اپنے پیغام میں یوسف تاریگامی نے کہا کہ ’’یہ صرف میری نہیں بلکہ پورے برصغیر اور دنیا بھر کے انقلابیوں کی فتح ہے۔‘‘

متعلقہ:

کشمیر کی توہین

کشمیر، جسے سرمایہ داری نے تاراج کر ڈالا!

مسئلہ کشمیر کا مسئلہ!

کشمیر: خاموشی کی کوکھ میں پلتے طوفان

کشمیر کی پکار

مظفر آباد: جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کا انقلاب کشمیر کنونشن

One Comment

  1. Pingback: ’’جمہوریت‘‘ کی آڑ میں کشمیر سے غداری

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*