زمبابوے میں فوجی بغاوت

تحریر: لال خان

زمبابوے میں آخرکار 93 سالہ صدر رابرٹ موگابے کا تختہ الٹ ہی دیا گیا۔ ایک طویل عرصے سے مغربی سامراجیوں سے تنازعات میں الجھی موگابے کی صدارت کا خاتمہ اس کی بیوی’گوچی‘ گریس کی جانشینی کی ہوس کے ہاتھوں ہوا۔ گریس موگابے‘ صدر رابرٹ موگابے سے 41 سال چھوٹی ہے۔ جوں جوں رابرٹ موگابے کی زندگی کا چراغ گل ہو رہا تھا محلاتی سازشیں بھی شدت اختیار کر رہی تھیں، جن کی بھینٹ آخر کار موگابے کا اپنا اقتدار چڑھ گیا۔ 15 نومبر کی صبح چار بجے فوجی دستوں نے رابرٹ موگابے کو صدارت سے معزول کر دیا لیکن اس اقدام کو فوجی بغاوت قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ رابرٹ موگابے محفوظ ہے اور کوئی فوجی ’کُو‘ نہیں ہوا بلکہ حالات جلد معمول پر آ جائیں گے۔ لیکن اس سے 24 گھنٹے قبل ہی زمبابوے کے دارالحکومت ہرارے میں فوجی گاڑیوں کی نقل وحرکت اور شہر کے تناؤ بھر ے ماحول سے عام باسیوں کو یہ احساس ہو رہا تھا کہ کچھ ہونے والا تھا۔ آخر کار 4 بجے کے قریب ایک اعلیٰ فوجی افسر نے ٹیلی ویژن پر آکر اس ’تبدیلی‘ کا اعلان کیا۔

رابرٹ موگابے اور گریس موگابے

1980ء سے برسر اقتدار رابرٹ موگابے دنیا کا سب سے عمر رسیدہ اور طویل حکومت کرنے والا صدر تھا۔ ٹیلی ویژن پر جو اعلان کیا گیا اس میں موگابے کے خلاف کوئی الزام تراشی نہیں کی گئی بلکہ یہ کہا گیا کہ صدر تو محفوظ ہے لیکن اس کے ارد گرد کے مجرموں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔ پچھلے چند دنوں میں زمبابوے کی حکومت کا انتشار بہت شدت اختیار کرگیا تھا۔ ایک ہفتہ قبل موگابے نے اپنے نائب صدر ’ایمرسن منانگاگوا‘ کو وفاداری میں دراڑیں ڈالنے کے الزام میں برطرف کیا تھا۔ رابرٹ موگابے کی بیگم گریس افریقہ میں’گوچی‘ گریس کے نام سے بدنا م تھی۔ ’گوچی‘ پرتعیش پرفیومز، چمڑے کے انتہائی بیش قیمت بیگز اور گارمنٹس وغیرہ بنانے والی مغربی اجارہ داری ہے۔ گریس نے ضعیف موگابے کو دباؤ ڈال کر راضی کیا تھا کہ دسمبر میں ہونے والی ’ZANU‘ پارٹی کی کانفرنس میں اس کو اپنا جانشین اورنائب صدر بنانے کا اعلان کرے۔ نائب صدر منانگاگوا 1970ء کی دہائی میں گوریلا تحریک کے دنوں سے موگابے کا نائب تھا۔ تحریک کا ایک پرانا رکن ہونے اور جنگلوں میں سفید فام نوآبادکار حکمرانوں کی فوجوں سے گوریلا جنگ لڑنے کی وجہ سے اسکی فوج اور پارٹی میں کافی ساکھ تھی۔ لیکن گریس‘ رابرٹ موگابے کے ہر پرانے ساتھی کو راستے سے ہٹانے کے جنون میں مبتلا تھی۔ نائب صدر کی برطرفی کے بعد فوج کے سپہ سالار، جو مگابے کا وفادار تھا، نے ایک پریس کانفرنس میں اس اقدام پر سخت تنقید کی تھی۔
اس فوجی بغاوت کو پرامن کہا جا رہا ہے لیکن ہرارے میں گولیاں چلنے کی آوازیں او رکچھ افراد اور وزرا کے گارڈز کے مارے جانے کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں۔ اس وقت تک دولت مند اور گھمنڈی گریس موگابے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہے۔ لیکن پارٹی اور فوج میں اسکے خلاف شدید نفرت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ زیادہ امکانات ہیں کہ اب سابقہ نائب صدر منانگاگوا کو رابرٹ موگابے کی جگہ اقتدار دیا جائے گا۔ منانگاگوا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مغرب سے کشیدہ تعلقات بحال کرنا چاہتا ہے اور معیشت میں ’’اصلاحات‘‘ کا متمنی ہے۔ چنانچہ اس پیش رفت سے مغربی حکمران کافی خوش ہونگے کیونکہ موگابے نے مغربی اجارہ داریوں کو بہت کڑی شرائط میں جکڑ کر رکھا ہوا تھا۔
آج کا زمبابوے 1923ء میں سفید فام سامراجیوں نے ’روڈیشیا‘ کے نام سے ایک ملک کے طور پر افریقہ کے مختلف خطوں کو کاٹ کر بنایا تھا۔ انگریز حکمران ’روڈز‘ کے نام پر ملک بنانا ہی سامراجی رعونت کی عکاسی کرتا ہے۔ افریقہ کا بھی مختلف’ملکوں‘ اور’قوموں‘ میں اسی طرح سامراجی بٹوارہ کیا گیا جیسے پہلی عالمی جنگ کے بعد مشرقِ وسطیٰ اور دوسری عالمی جنگ کے بعد جنوب ایشیا کو کاٹا گیا۔ سامراجیوں کی یہ پالیسی آپسی بندر بانٹ کا نتیجہ تھی اوراس سے وہ مذہبی اور نسلی منافرتوں کو بھڑکا کر ان نوآبادیات کے عوام کو ’’آزادی‘‘ کے بعد بھی تنازعات میں الجھائے رکھنا چاہتے تھے۔ زمبابوے میں بھی ہر دوسرے نوآبادیاتی خطے کی طرح سامراجی قبضے اور بدترین جبر و استحصال کے خلاف مزاحمت کی ایک تاریخ ہے۔ 1965ء کے بعد ایک فیصلہ کن گوریلا جنگ کا آغاز ہوا۔ سفید فام حاکمیت کے خلاف اس جنگ میں دوپارٹیاں ہراول کردار کر رہی تھیں۔ ان میں زیادہ بڑی اور حاوی پارٹی ’زمبابوے افریقن پیپلز یونین‘(ZAPU) تھی جس کی قیادت ’جو شوانکومو‘ کر رہا تھاجبکہ دوسرے نمبر پر ’زمبابوے افریقن نیشنل یونین‘ (ZANU) تھی جس کی قیادت رابرٹ موگابے کے پاس تھی۔ نظریاتی طور پر یہ رجحان سٹالنزم، یعنی مسخ شدہ سوشلزم کے پیروکار تھے۔ فرق صر ف یہ تھا کہ ’جوشیوا نکومو‘ ماسکو نواز جبکہ موگابے ماؤاسٹ یا چین نواز تھا۔ آخر کار جب اقلیتی سفید فام حکومت اس تحریک سے لرزنے لگی تو برطانوی سامراج نے اپنی رجعتی اور عیار وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کی حکمرانی میں مذاکرات اور ’’معاہدے‘‘ کے ذریعے آزادی کا پروگرام پیش کیا۔ اس کو ’’لانکیسٹر ہاؤس سمجھوتے‘ کا نام دیا گیا۔ برطانوی سامراج انتہائی عیار ہونے کی وجہ سے اِس مذاکراتی واردات کے ذریعے اپنے نظام کو بچاتا آیا ہے جبکہ پرتگیزی، ہسپانوی اور دوسری یورپی سامراجی قوتیں ایسا نہ کر سکیں۔ برصغیر جنوب ایشیا میں بھی آزادی انگریزوں سے چھین کر نہیں بلکہ ’’مذاکرات‘‘ کے ذریعے حاصل کر کے سامراج کے پروردہ مقامی طبقات کے سیاسی نمائندوں کو اقتدار سونپا گیا۔
زیادہ ریڈیکل ’جوشوانکومو‘ کو ایک سازش کے ذریعے راستے سے ہٹا دیا گیا جبکہ موگابے پر سامراجیوں کو کم از کم اتنا اعتبار تھا کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ نہیں کرے گا۔ سامراجیوں سے اُس کا تنازعہ لوٹ مار میں حصہ داری کے معاملے پر ہی تھا۔ دوسری جانب موگابے نے سفید فام جبر کے ردعمل میں انتہا رجعتی سیاہ فام تعصب کو بھی اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے استعمال کیا۔ عام سفید فام باسیوں کو بھی شدید ظلم وجبر کا نشانہ بنایا۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ زمبابوے میں تیز زرعی اصلاحات ہوئیں جن میں سفید فام جاگیرداروں کے خلاف بڑے اقدامات کیے گئے۔ اس سے بھی مغرب کے ساتھ موگابے کی چپقلش میں اضافہ ہوا۔
زمبابوے میں پلاٹینیم کے سب سے بڑے ذخائر پائے جاتے ہیں۔ 2006ء میں مارنگا کی ہیروں کی کان سو سال میں ہیرے کے ذخائر کی سب سے بڑی دریافت تھی۔ اسی طرح سونے کے ذخائر کی بھی بہتات ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود سرمایہ دارانہ نظام کے تحت زمبابوے شدید معاشی بحران اور غربت کا شکار ہے۔ 2008ء کے اواخر میں یہاں افراطِ زر کی شرح 80 ارب فیصد تک جا پہنچی تھی اور سرکاری بینک نے 100 ارب کا کرنسی نوٹ بھی جاری کر دیا تھا۔ نتیجتاً کرنسی تقریباً منہدم ہوگئی اور امریکی ڈالر کو بطور کرنسی رائج کیا گیا۔ المیہ یہ ہے کہ موگابے کے بعد آنے والا حکمران اگر مغربی سامراجیوں کے شرائط مکمل طور پر مان بھی لیتا ہے تو اس سے شاید کچھ درمیانہ طبقہ ابھرے لیکن وسیع اکثریت کی غربت اور محرومی میں اضافہ ہی ہو گا۔
زمبابوے میں1990ء کی دہائی سے محنت کشوں کی بڑی ہڑتالوں اور جدوجہد کا سلسلہ بھی بہت بڑھا ہے جس کو کارپوریٹ میڈیا دانستہ طور پر پوشیدہ رکھتا ہے۔ لیکن جنوبی افریقہ اور دوسرے ہمسایہ ممالک میں بھی عوامی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ اس خطے کی مصنوعی آزادیوں سے کم از کم عوام نے یہ سبق ضرور سیکھا ہے کہ سفید کی جگہ سیاہ حکمران آنے سے حالات زندگی نہیں بدلتے۔ اس لیے یہ سبق اب روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ رنگ، نسل، قوم اور مذہب کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ امیر اور غریب، محنت اور سرمائے کی لڑائی ہے۔ طبقاتی جدوجہد ہی ہے جو ایک انقلابی سرکشی سے اس نظام کا خاتمہ کرکے صدیوں کی غلامی میں جکڑے ان محنت کشوں کو آزاد کر سکتی ہے۔ لیکن پھر ایسی انقلابی تبدیلی صرف حاکمیتیں ہی نہیں بلکہ سامراجی بٹواروں کو مٹا کر جغرافیے بھی بدلے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*