یوم مئی: قتل گاہوں سے چن کرہمارے علم

تحریر: حید رعباس گردیزی:-
(ممبر فیڈرل کونسل پاکستان پیپلز پارٹی)
کتنی لاتعداد صدیوں سے سورج طلوع ہورہاہے۔ غروب ہورہاہے۔ پھر طلوع ہورہاہے۔ پھر غروب ہو ر ہا ہے۔ مگر ان لامنتہاء صبحوں میں ایک سورج ایسابھی طلوع ہوتاہے جوایک لحاظ سے پھر غروب نہیں ہوتا۔اس کی روشنی صدیوں پرپھیل جاتی ہے اورزمانوں کومنورکرتی رہتی ہے۔ ایسی ہی ایک صبح یکم مئی1986ء کی تھی جوامریکہ کے شہر شکاگو پر طلوع ہوئی اورپھر کبھی غروب نہ ہوئی۔ وہ روشنی آج بھی ہریکم مئی کے سورج کی تمازت کومزید گہرا کردیتی ہے اوراس میں شکاگوکے مزدورں کے خونِ ناحق کی سرخی بھی شامل ہوتی ہے۔ اس طرح ہریکم مئی کودنیابھرکے لاکھوں ،کروڑوں محنت کش اپنے ان بہادر شہیدوں کویادکرتے ہوئے اس دن کی تپش میں مزید اضافہ کردیتے ہیں۔
تاریخ کے ہردورمیں بالادست اورطاقتورانسانوں کے ایک چھوٹے سے گروہ نے کمزور اورمظلوم انسانوں کی بڑی اکثریت پرطاقت اورجبر سے حاکمیت کی ہے اورانہیں غلام بنائے رکھاہے۔ یہ انسان کی تاریخ کاسب سے پرانا چلن ہے کہ طاقتور نے کمزور پرغلبہ حاصل کیاہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تاریخ کااتناہی پرانا قصہ ہے کہ کمزورنے ہمیشہ طاقتور کے خلاف علم بغاوت بلند کیاہے۔ شائد یہی انسانی تاریخ کاوہ شاندار وصف ہے جوتاریخ کواتنادلکش اورسحر انگریز بناتاہے۔ تاریخ کی اسی کشمکش کی ایک جھلک یکم مئی 1986ء کوشکاگو کی سڑکوں پربرپاہوئی۔
19ویں صدیں میں مزدورں کے حالات زندگی بڑی ابتر حالت میں تھے ۔ان سے جانوروں کی طرح کام لیاجاتاتھا۔ ان کے بیوی بچوں کوغلاموں کی طرح نقدی کے عوض گروی رکھاجاتاتھا۔ وہ فیکٹریوں میں 18/18گھنٹے کام کرتے تھے ۔ انہیں آرام کی کوئی سہولت میسر نہ تھی اورجب وہ بیمار پڑتے توان کا کوئی پرسان حال نہ ہوتا۔ ایسے میں فیڈریشن آف لیبرکے جھنڈے تلے مختلف ٹریڈ یونین کے مزدوروں نے فیصلہ کیاکہ وہ اپنے کام کے اوقات کارکو8گھنٹے تک کروانے کیلئے پرامن احتجاج کریں۔ لہذا یکم مئی کوشکاگومیں مزدوروں نے ایک پرامن مظاہرہ کیااورجب وہ مظاہرہ اپنے اختتام کوپہنچ رہاتھا توپولیس نے یک لخت چاروں طرف سے گولیوں کی بارش کردی اورتقریباً200مزدورقتل کردیئے اورلاتعداد زخمی کردیئے۔
چونکہ ریاستیں اپنے اپنے ملک کے بالادست طبقے کی نمائدہ ہوتی ہیں اوران کااولین کام اپنے ملک کے مراعات یافتہ طبقے کے معاشی مفادات کاتحفظ ہوتاہے ،یہ الگ بات کہ ریاست تمام عوام کی بھلائی اورحفاظت کادعویٰ کرتی ہے،مگر یہ کہنے کی باتیں ہوتی ہیں۔ ریاست صرف اورصرف اپنے بالادست اورمراعات یافتہ اقلیت ہی کی نمائندہ ہوتی ہے۔ لہذا اس وقت کی سرمایہ دارانہ ریاست نے مزدوروں کے احتجاج کوبرداشت نہ کیااوراس خوف سے کہیں یہ احتجاج ایک ملک گیر احتجاج میں نہ بدل جائے ان نہتے مزدوروں پروحشیانہ تشددکرتے ہوئے ان کوگولیوں کانشانہ بنادیا۔ شکاگوں کی سڑکیں خون میں نہاگئیں۔ سینکڑوں ہلاکتوں اورلاتعداد زخمیوں کے علاوہ بے تحاشہ گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ فیکٹریوں اورملوں سے مزدوروں کونکال باہر کیا۔ مزدوروں کے خاندانوں کوجیلوں میں دھکیل دیاگیا۔ چاروں طرف ایک خوف وہراس کی فضاء پیداکردی گئی ۔ تاکہ آئندہ کوئی مزدور اپنے مطالبات کے حق میں آواز اٹھانے کی ہمت نہ کرسکے۔ مگر وہ کہتے ہیں نا! کہ زندگی اورتخلیق کاراستہ کسی جوروجبر سے نہیں روکا جاسکتا۔ جس کلی نے کھلنا ہوتاہے وہ کسی خزاں سے نہیں اجڑسکتی ۔ جس چنگاری کودبانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ شعلہ بن کرلپکتی ہے۔ جن دریاؤں کے آگے بند باندھے جائیں وہ سیلابوں کی شکل اختیاکرلیتے ہیں۔ یہی قانون قدرت اوریہی تاریخ کاسبق اوربقول فراز”اسے خبر نہیں کہ تاریخ کیاسکھاتی ہے “۔ رات جب کسی خورشید کوشہید کرے”۔ توصبح ایک نیا سورج تراش لاتی ہے”۔ لہذا یکم مئی 1986ء کومزدوروں کاقتل عام دنیابھرکے مزدورتحریکوں کاایک مقدس جنم دن بن گیا۔ آج دنیابھرمیں یوم مئی کومزدوروں کے عالمی دن کے طورپرمنایاجاتاہے۔ دنیابھرکی حکومتیں تعطیل عام کرتی ہیں۔ ٹریڈ یونینز تحریکوں پربڑے بڑے جلسے ہوتے ہیں۔ مقالے پڑھے جاتے ہیں شکاگوکے مزدوروں کوخراج تحسین پیش کیاجاتاہے۔
لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس سب کچھ کے باوجودآج دنیابھرکے مزدور کن حالات سے دوچارہیں۔ محنت کش طبقات عالمی معاشی نظام کے ہاتھوں سرمایہ کی اضافی قدرکے استحصال سے دوچارہیں۔ یعنی دوسرے لفظوں میں آج سرمایہ دارانہ دنیاکی تمام شان وشوکت ،تمام عروج وکمال، سائنس وٹیکنالوجی کی ناقابل یقین ترقی بنیادی طورپرمحنت کش طبقے کے استحصال کی مرہون منت ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام قائم ہی اسی قدر زائد کے مجموعی استحصال کے چند ہاتھوں میں ارتکاز پرہے۔ ایک سرمایہ دارسینکڑوں محنت کشوں کااستحصال کرتاہے۔ اس سے مزید دولت حاصل کرتاہے۔ مزید کارخانے لگاتاہے اورمزید محنت کشوں کواس استحصال کاشکاربناتاہے اوراس طرح عالمی طورپر دنیابھر کے سرمایہ داروں کاایک ٹولہ دنیابھرکے مزدوروں کواپنے منافع کاذریعہ بناتاہے اورایک عالمی سرمایہ داری نظام کومستحکم کرتاچلاجاتاہے۔
بھلاہوایک کارل مارکس نامی فلاسفر کاجس نے تقریباً100سال پہلے یہ پیشنگوئی کی تھی کہ جب عالمی سرمایہ داری نظام اپنی ترقی کی آخری ہدوں کوچھونے لگے گا اورایک اجارہ دارانہ سرمایہ داری دورمیں داخل ہوگاتوساتھ ہی یہ نظام اپنی پیداواری افادیت کھودے گا۔ یہ مزید ترقی کرنے کااہل نہیں رہے گا اوراس طرح یہ نظام خود اپنے ہاتھوں سے اپنے منطقی انجام کابندوبست کریگااوردنیاجوگزشتہ5صدیوں سے اس نظام کی گرفت میں جکڑی ہوئی ہے، آزاد ہوکر ایک نئے عالمی معاشی نظام یعنی بین الاقوامی اشتراکی نظام میں داخل ہوجائے گی جوکہ انسان کاصدیوں کا ادھورا خواب ہے۔
انسان نے صدیوں سے ایک ایسی جنت کے خواب دیکھے ہیں جہاں کسی کاکسی پرجبر نہیں ہوگا۔ ظلم نہیں ہوگا۔ ناانصافی نہیں ہوگی۔ جہاں تمام انسان برابری کی سطح پرمل جل رہیں گے۔ کوئی آقا اورکوئی غلام نہیں ہوگا۔ کوئی حاکم اورکوئی محکوم نہیں ہوگا۔ کوئی بڑا اورکوئی چھوٹانہیں ہوگا۔ کوئی مخدوم اورکوئی خادم نہیں ہوگا۔ جہاں انسان کے رشتے روپے پیسے کے محتاج نہیں ہونگے۔ جہاں محبتوں اورنفرتوں کی بنیاد دولت پرنہیں ہوگی۔ دنیابھرکے فلسفیوں ،مبلغوں، شاعروں، فنکاروں حتیٰ کہ عام فہم لوگوں نے بھی ایسے نظام کے خواب دیکھے ہیں۔ انسانی تاریخ میں شائد ہی کوئی ایسا دور گزرا ہوجس کی شاعری،جس کے ادب، جس کی لوک کہانیوں اورجس کے گیتوں میں اس نظام کے خواب کااظہارنہ کیاگیاہوں۔ لیکن آج سے پہلے اس خواب کی حقیقت بننے کی مادی وجوہات ظہورپذیر نہیں ہوئی تھیں اوریہ خواب محض ایک خواب،ایک سپنا،ایک یوٹوپیاتھا۔ مگرآج 21ویں صدی کے آغاز پرسرمایہ داری نظام اپنے انتہائی ترقی یافتہ شکل میں سامنے آچکاہے۔ آج کے نظام کی پیداواری صلاحیت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ یہ نظام زائد پیداوار(Over Production)کوسمندروں میں پھینک کراپنے منافعوں کاتعین کرتاہے۔ اگر آج دنیامیں مرتکز دولت جوچند گنے چنے ہاتھوں میں محدود ہے کوآزاد کردیاجائے۔ اگر دنیامیں نجی ملکیت کوختم کردیاجائے اوروسائل پیدوارکومشترکہ کنڑول میں دے دیاجائے تودنیااس قدر سیع پیدوار اوروسائل سے مالامال ہے کہ پھرنہ کوئی بھوکا رہے گا،نہ ننگا۔ہربیمار کومفت علاج معالجہ کی سہولت میسرہوگی۔ ہرکسی کوتعلیم روٹی ،کپڑا اورمکان کی سہولت میسرہوگی۔ کسی کوانصاف حاصل کرنے کیلئے اپنے بیوی بچوں کاپیٹ نہیں کاٹنا پڑے گا۔ کسی کوتعلیم حاصل کرنے کیلئے لوگوں کے گھروں میں جھاڑونہیں لگانے پڑیں گے۔ کوئی دوانہ مل سکنے کی وجہ سے نہیں مرے گا۔ ہرانسان کی تمام بنیادی،معاشی، سماجی اورتہذیبی ضروریات کی ذمہ دار خود حکومت ہوگی۔ آج شکاگو کے مزدورں کابہایاگیاخون عالمی مزدور تحریک کوایک نئی زندگی دے رہاہے۔ آج یورپ، امریکہ،لاطینی امریکہ اورمشرق وسطیٰ میں ابھرنے والی تحریکیں شکاگوں کے مزدوروں کے خون کاحساب لے رہی ہیں اوروہ دن دورنہیں جب دنیابھرکے مزدوراس استحصالی عالمی سرمایہ داری نظام کوجڑسے اکھاڑ پھینک کراس کی جگہ ایک عالمی اشتراکی نظام کی بنیادرکھیں گے۔

بلا سے ہم نے نہ دیکھا تواوردیکھیں گے
فروغ  گلشن  و   صوتِ  ہزار   کا   موسم

(فیض)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*