مقبول بٹ شہید: جدوجہد آزادی کا بے لوث سپاہی

تحریر: التمش تصدق (ایڈیٹر ’’عزم‘‘ جے کے این ایس ایف)

انسانی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ہر عہد کے بالادست طبقات کی کوشش رہی ہے کہ آزادی اور انقلاب کے لیے لڑنے والوں کا راستہ اذیتوں، بہتانوں، جبر و تشدد، دہشت اور قتل عام سے روکا جائے۔ حکمران طبقات اپنی حاکمیت اور استحصال کو جاری رکھنے کے لیے ہمیشہ طاقت اور منظم تشدد (ریاست) کا سہارا لیتے ہیں۔ دوسری طرف محکوم اور زیردست طبقہ اپنے حقوق کی جنگ لڑتا ہے۔ بالادست طبقات نے ہر عہد میں غلامی اور استحصال کے خلاف اٹھنے والی تحریکوں کو طاقت کے ذریعے کچلنا چاہا۔ تحریک میں شامل افراد کو قتل کر کے تحریکوں کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ لیکن حکمران طبقے کی یہ کوشش ہمیشہ ناکام ثابت ہوئی ۔ جبکہ وہ تمام لوگ تاریخ میں آج بھی زندہ ہیں جنہوں نے اجتماعی بقا کی خاطر اپنی انفرادی زندگی کی قربانی دی۔ وہ مر کر بھی نہیں مرے بلکہ اپنے کردار کی وجہ سے امر ہو گئے۔ ان افراد میں جموں کشمیر سے مقبول بٹ شہید، لاطینی امریکہ سے چی گویرا، برصغیر سے بھگت سنگھ، پاکستان میں حسن ناصر، افغانستان میں ڈاکٹر نجیب اللہ اور دیگر بے شمار ایسے انقلابیوں کی تاریخ ہے جنہوں نے اپنے نظریاتی کمزوریوں یا طریقہ کار کی غلطیوں سے قطع نظر ایک بڑے مقصد کے لئے جان قربان کر دینے سے بھی گریزنہیں کیا۔ ان لوگوں کی جدوجہد میں نئی نسلوں کے لئے بے شمار اسباق موجود ہیں۔

مقبول بٹ شہید ریاست جموں کشمیر میں بغاوت کی علامت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ غلامی اور استحصال کے خلاف جدوجہد میں گزرا۔ اس جدوجہد کے دوران مقبول بٹ نے بے شمار مشکلات اور مصائب کا سامنا کیا لیکن جبر کا کوئی بھی طریقہ انکے آزادی اور انقلاب پر یقین کو متزلزل نہیں کر سکا۔ آج جب قابض قوتوں کی جانب سے مقبول بٹ کے نظریات اور کردار کو مسخ کرنے کی بھر پور کوشش کی جا رہی ہے تو ان کے حقیقی نظریات کو انکے اپنے عدالتی بیانات کی روشنی میں بآسانی سمجھا جا سکتا ہے جو انہوں نے ’’گنگا ہائی جیک کیس‘‘ کے دوران عدالت میں دیے تھے۔ جموں کشمیر پر قابض برطانوی سامراج کی تخلیق کردہ ریاستوں نے مقبول بٹ کو ایک دوسرے کا ایجنٹ اور انکی جدوجہد کو سازش کا رنگ دے کر بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مقبول بٹ شہید اپنے اوپر لگائے گئے الزامات پر کہتے ہیں:’’میرے نزدیک یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ تاریخ کے ہر دور میں استحصال اور غلامی کے خلاف جب بھی کوئی تحریک شروع کی گئی اسے دبانے کے لیے اقتدار اور اختیار پر قابض حکمرانوں نے ہمیشہ قانون کی لغت’’سازش‘‘ کا سہارا لیا ہے۔ مگر یہ حقیقت اپنی جگہ پر قائم ہے کہ ظالم اور مظلوم کی جنگ میں فتح مظلوم کی ہوتی ہے اور ظلم کی عمارت مظلوم عوام کی انقلابی جدوجہد کے مقابلے میں دھڑام سے زمین بوس ہوتی ہے۔ میں نے ہمیشہ خود ستائی سے نفرت کی ہے۔ اب جبکہ میرے بے باک کردار کو غلط رنگ دینے کی دانستہ کوشش کی جا رہی ہے تو مجھے یہ دعویٰ کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے کہ میں نے زندگی کے ہر موڑ پر حق و انصاف کا ساتھ دیا ہے اور ظلم و استحصال کے خلاف مصروفِ جنگ عوام کی نہ صرف حمایت کی ہے بلکہ اس جنگ میں ‘میں مظلوم عوام کا نقیب اور مدعی رہا ہوں۔‘‘
مقبول بٹ کو دونوں ریاستوں کی جانب سے سرینگر کے مہتاب باغ، مظفرآباد کے دلائی کیمپ اور لاہور کے بدنام زمانہ شاہی قلعہ میں پابند سلاسل کیا گیااور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ لیکن انہوں نے جس راستے کا انتخاب کیا تھا اس میں پیش آنے والی مشکلات سے بخوبی آگاہ تھے اور ایک سچے انقلابی کی طرح اس جبر کا ظالم اور جابر قوتوں سے گلہ کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے۔ اس حوالے سے مقبول بٹ لکھتے ہیں: ’’یقیناً یہ بات حریت پسندوں کے شایان شان نہیں کہ وہ راہ عمل میں پیش آنے والی مشکلات اور آزمائشوں کے بارے میں گلہ گزار ہوں۔ حق تو یہ ہے کہ آزمائشوں کے یہ دور حریت پسندانہ زندگی کا لازمہ ہوتے ہیں اور انہیں خندہ پیشانی سے گلے لگانہ ہی انقلابیوں کا شیوہ ہوتا ہے۔ آزمائش، آلام اور صعوبتیں اس صورت حالات کا ایک حصہ ہوتی ہیں جن سے حریت پسندوں کا ہر وقت سامنا رہتا ہے۔ حریت پسندانہ سرگرمیوں کی پاداش میں ان ابتلاؤں کے علاوہ ایک اور کٹھن مرحلہ سے بھی واسطہ پڑتا ہے جسے عرف عام میں تشدد کہا جاتا ہے۔اس راستے کے مسافر کو زندگی کے ہر موڑ پر آزمائشوں اور امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے۔‘‘
آزادی اور انقلاب جیسے عظیم مقصد کے حصول کی جدوجہد نے مقبول بٹ کو وہ حوصلہ اور جرأت فراہم کی کہ ہر موقع پر انہوں نے جھکنے اور بکنے سے انکار کیا۔ مقبول بٹ نے مقدمات کی سماعت کے دوران اپنی جدوجہد کے مقاصد کو بے باکی سے بیان کیا ہے اور جابر طبقات کی نمائندہ ریاستوں سے زندگی کی بھیک مانگنے سے انکار کیا ہے۔ مقبول بٹ کٹہرے میں کھڑے ہو کر حکمران طبقات کے تابع اداروں کے تاریخی طبقاتی کردار کو گنگا ہائی جیک کیس میں یوں بیان کرتے ہیں : ’’پاکستان کی افسر شاہی کے’مقدمہ ساز ذہنوں‘ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس امر سے قطع نظر کہ اس مقدمے کے انجام کے طور پر میرے اور میرے ساتھیوں کا مقدر خواہ کچھ بھی کیوں نہ ہو، جس اصل مقصد کو وہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اس میں سوائے رسوئی اور ناکامی کے انہیں کچھ نہیں ملے گا۔ آزادی کی تحریکوں کو عدالتی فیصلوں کی مدد سے اگر روکا جاسکتا تو کوئی بھی تحریک فتح یاب نہ ہو سکتی۔ اگر انسانی تہذیب و تمدن اور جمہوریت و آزادی کے ارتقا کو مروجہ عدالتی یا انتظامی کارروائیوں سے ختم کرنا ممکن ہوتا تو آفرینش آدم سے لے کر اب تک دنیا میں جتنے انقلاب آئے ہیں ان کا وجود تک نہ ہوتا۔ انسانی فلاح و آزادی کی تحریکوں سے متعلق فیصلے مروجہ عدالتوں میں نہیں بلکہ خود تاریخ کے ارتقائی عمل کی عدالت میں کیے جاتے ہیں۔ اس لیے کہ مروجہ عدالتیں بجائے خود اس نظام کی مرہون منت ہوتی ہیں جسے بدلنے کے لیے یہ تحریکیں جنم لیتی اور پروان چڑھتی ہیں۔مجھے اس امر کا بخوبی احساس ہے کہ یہ عدالت اس مقدمے کے سلسلے میں میرے متعلق خواہ کیسا ہی فیصلہ کیوں نہ دے، بہرحال میری ذات کے ساتھ انصاف نہیں ہو سکتا۔ میرے خلاف جو الزامات عائد کیے گئے ہیں ان کی حقیقت اس وقت تک منکشف نہیں ہو سکتی جب تک میرا وطن جنگ بندی کی منحوس لکیر کے باعث دو نا قابلِ عبور حصوں میں منقسم رہے گا۔ اور مجھے یقین ہے ہمارے سینوں پر کھینچی گئی یہ منحوس لکیر مٹ کر رہے گی۔ میرے ساتھ صرف اس وقت انصاف ہو گا۔یہ انصاف تاریخ کی عدالت میں ہو گا۔ مجھ پر عائد کیا جانے والا ہندوستانی قابض حکام کا یہ الزام بھی غلط ثابت ہو گا کہ میں نے پاکستانی ایجنٹ بن کر بھارتی مقبوضہ کشمیر میں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی تکمیل کے لیے وہاں قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا یہ الزام بھی بے بنیاد ثابت ہو گا کہ میں نے ہائی جیکنگ جیسا حریت پسندانہ آپریشن ہندوستانی ایجنٹ بن کرکیا۔‘‘
جبر و تشدد اور قید و بند کی صعوبتیں بھی جب مقبول بٹ شہید کو اپنے مقاصد سے پیچھے ہٹانے میں ناکام رہے تو 11 فروری 1984ء کو مقبول احمد بٹ کو دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ مقبول بٹ سزائے موت کا اعلان ہونے کے باوجود آزادی کی تحریک کی کامیابی پر کامل یقین رکھتے تھے۔ پھانسی سے چند روز قبل ایک ہندوستانی صحافی نے مقبول بٹ سے سوال کیاکہ’’کیا آپ کو آج پچھتاوا نہیں ہو رہا ؟ کچھ دنوں بعد آپ کو سزائے موت دے دی جائے گی اور آپ کی زندگی میں آپ کی تحریک کوکوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی…‘‘ اس سوال کے جواب میں مقبول بٹ نے کہا: ’’اگر زندگی میں تحریک کی کامیابی نہ ملنے کی صورت میں جدوجہد رائیگاں جاتی تو کارل مارکس اور یسوع مسیح کا شمار دنیا کے ناکام افراد میں ہوتا۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ میرے لیے سوائے اس کے فی الوقت اور کوئی راستہ نہیں کہ خود کو وقت کے بے رحم ہاتھوں کے سپرد کردوں اور اس موقع کا انتظار کروں جب تعصب، بدنیتی، ظلم، استحصال اور مکروفریب کے بادل چھٹ جائیں گے اور حق و انصاف کی روشنی عام ہو جائے گی۔‘‘
مقبول بٹ کی شہادت نے جموں کشمیر کے محکوم عوام کے شعور کوجھنجھوڑ کر رکھ دیا۔وہ چنگاری جو چند انقلابیوں کی صورت میں سماج میں سلگ رہی تھی بغاوت کے شعلوں میں بدل گئی۔آزادی اور انقلاب کے جس راستے کے مقبول بٹ راہی تھے اس راستے میں لاکھوں افراد چل پڑے۔ ہر طرف آزادی کے نعرے گونجنے لگے۔مقبول بٹ کو غلامی اور استحصال کے خلاف محکوموں کی جس تحریک پر ہمیشہ یقین رہا اس کا آغاز جموں کشمیر میں مقبول بٹ کی شہادت کے بعد ہوا۔ جس تحریک میں شامل لاکھوں نوجوان آزادی کے لیے کسی حد تک بھی جانے کو تیار تھے۔لیکن افسوس انقلابی پارٹی اور قیادت کے فقدان کی وجہ سے وہ تحریک اب تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکی۔ انقلابی قیادت کے خلا کی وجہ سے ابھرنے والی قیادت کے پاس تحریک کے مستقبل کے حوالے سے کوئی واضح منصوبہ نہیں تھا۔ اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اِس طرف کے گماشتہ حکمرانوں نے عوام کے غم و غصے کا رخ صرف ہندوستانی مقبوضہ جموں کشمیر کی طرف موڑ دیا۔لبریشن فرنٹ کی اس وقت کی قیادت نے پاکستانی ریاست کے عسکری تعاون سے بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں مسلح تحریک کا آغاز کیا جس میں ہزاروں نوجوانوں نے حصہ لیا۔ لبریشن فرنٹ یوں تو پاکستان اور ہندوستان دونوں ریاستوں سے آزادی کی بات کرتی تھی لیکن پاکستانی تسلط کی مخالفت برائے نام ہی تھی۔ حالانکہ مقبول بٹ کا دو ٹوک موقف تھا کہ ’’جو جس کا غلام ہے اس کے خلاف جدوجہد کرے گا۔‘‘ اس سب کے باوجود جس تیزی سے تحریک کی حمایت اور شدت میں اضافہ ہو رہا تھا اس سے نہ صرف بھارتی ریاست کو جموں کشمیر میں قبضہ قائم رکھنا دشوار ہو گیا تھا بلکہ پاکستانی ریاست اور عالمی سامراج کے لیے بھی خطرے کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئی تھیں۔اس بات کا اعتراف خود اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل اسد درانی نے بعد ازاں اپنی کتاب میں کیا ہے، ’’تحریک ہماری توقعات سے زیادہ شدت اختیار کر گئی تھی اور ہمیں اسے کنٹرول کرنے کے لیے حریت کانفرنس بنانی پڑی۔ اس تحریک کو زائل کرنے میں جماعت اسلامی نے اہم کردار ادا کیا۔‘‘
خودمختار جموں کشمیر کے نعرے کے گرد تحریک کے زور پکڑنے کی وجہ سے اب پاکستانی پالیسی سازوں نے لبریشن فرنٹ کی حمایت ختم کر کے پاکستانی حمایت یافتہ مسلح گروہوں کے ذریعے براہ راست مداخلت شروع کر دی۔ جس میں جماعت اسلامی کے مسلح گروپ ’’حزب المجاہدین‘‘ کے علاوہ افغان ڈالر جہاد میں شریک جنگجوؤں کی بڑی تعداد کو کشمیر میں داخل کر کے مذہبی فرقہ وارانہ قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا گیا۔سرینگر میں ہندو پنڈتوں اور دیگر مذاہب اور فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو قتل کیا گیا اور جو بچ گئے انکو کشمیر چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔ یوں قومی آزادی اور طبقاتی جبر کے خلاف اٹھنے والی تحریک فرقہ وارانہ رنگ اختیار کر کے دیگر مذاہب اور علاقوں میں اپنی حمایت کھو کر ایک ریاست کی دوسری کے خلاف پراکسی جنگ میں بدل گئی۔ان مذہبی شدت پسندوں نے صرف دیگر مذاہب کے لوگوں کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ بڑی تعداد میں لبریشن فرنٹ کے کارکنوں کو بھی قتل کیا۔ قابض قوتوں نے محض مقبول بٹ کی زندگی میں انکے کردار اور جدوجہد کو مسخ کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ انکا قبر تک پیچھا کیا اور ان کی شہادت کے بعد شروع ہونے والی تحریک کو بھی داغدار کیا اور آج تک وہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ مذہبی انتہا پسندی کو مقبول بٹ کے ساتھ ملا کر مقبول بٹ کے نظریات اور شخصیت کو مسخ کرنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
مقبول بٹ نے گنگا ہائی جیک کیس میں دیئے گئے تحریری بیان میں یہ بھی لکھا تھا کہ: ’’سچ یہی ہے کہ میں نے مذہبی رجعت، غلامی، سرمایہ دارانہ استحصال، دولت پسندی، فرسودگی، ظلم، جبر اور منافقت کے خلاف بغاوت کی ہے۔ بھارتی حکمران طبقہ اور پاکستانی جرنیل شاہی جموں کشمیر کو لمبے عرصے تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر نہیں رکھ سکیں گے۔ ہمارے لیے آزادی کے معنی صرف بیرونی قبضے کا خاتمہ نہیں ہے۔ ہمیں غربت، بھوک، جہالت، بیماری اور رجعت سے آزادی درکار ہے۔معاشی اور سماجی محرومی سے چھٹکارا حاصل کر کے ہم آزادی لے کر رہیں گے۔‘‘
مقبول بٹ کے نظریات غیر مبہم اور واضح ہیں کہ وہ ہر قسم کے ظلم، استحصال اور محرومیوں کے خلاف جنگ کو اپنا فرض سمجھتے ہیں اور ہر استحصالی قوت کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں۔ لیکن آج مقبول بٹ کی جدوجہد کے دعویدار مقبول بٹ کے دشمنوں کے ساتھ اتحاد میں پاکستانی حکمران طبقات کی سامراجی جنگ کے ایندھن کے طور پر معصوم لوگوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ مقبول بٹ شہید سامراجی ساز باز اور امداد سے آزادی کی جدوجہد کو حکمران طبقات کا آلہ کار بننا تصور کرتے تھے اور عوامی جدوجہد اور طاقت پر یقین رکھتے تھے۔ وہ سازشوں کے ذریعے سیاسی تبدیلی کے خواہاں نہیں تھے بلکہ انقلابی تبدیلی کے مجاہد تھے۔ اپنے عدالتی بیان میں اس حوالے سے مقبول بٹ لکھتے ہیں: ’’سرمایہ دارانہ استعماری نظام کا پروردہ پاکستانی حکمران طبقہ جس کی نمائندگی اس ملک کی افسر شاہی سر انجام دیتی رہی ہے، نے ملکی وسائل پر اوچھے طریقوں سے قبضہ کر کے نہ صرف اس میں بسنے والے تیرہ کروڑ انسانوں کو طویل عرصے تک غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رکھا بلکہ اپنی بساط اور اقتدار کو سہارا دینے کے لیے سازشی عمل میں اس کے وجود کو ہی داو پر لگایا۔یہ حاکمیت ایسی قوم کی دوست اور خیر خواہ کیونکر ثابت ہو سکتی ہے جو ہنوز غلامی سے چھٹکارا پانے کے لئے مصروف جنگ ہو؟ جو اپنے عوام سے ہی دشمنی اور غداری کی مرتکب ہوئی ہے۔ مجھے یہ بات کہنے سے کوئی نہیں روک سکتا کہ پاکستان کے حکمران طبقے نے پچیس برس کے دوران ہر مرحلے پر ’’آزادی کشمیر‘‘ کے مسئلہ کو اپنی ہوس اقتدار کے مقصد کے لیے استعمال کیا اور ملک کے کروڑوں عوام جنہیں کشمیر کی آزادی سے سچی لگن تھی اور اب بھی ہے، کے معصوم جذبات کو نا جائز طور پر استعمال کیا ہے۔ ان سازشوں نے ہماری تحریک آزادی کو صدیوں نہیں تو برسوں پیچھے ضرور دھکیلا۔‘‘
مقبول بٹ کے خیالات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ جدوجہد آزادی کے لیے ان ریاستوں کے محکوموں کو اپنا حمایتی اور حکمران طبقات کو اپنا کھلا دشمن تصور کرتے ہیں۔ اور مسئلہ کشمیر کے نام پر پاکستان اور ہندوستان کے حکمران طبقے کے عوام کے جذبات سے کھیلنے کے مکرو فریب کی کھل کر مخالفت کرتے ہیں۔ مقبول بٹ کے حقیقی نظریات پر جدوجہد کرنے والے نوجوانوں کے ساتھ آج بھی وہی سلوک کیا جا رہا ہے جو مقبول بٹ کی زندگی میں قابض استحصالی قوتوں نے ان کے ساتھ روا رکھا۔ اسی طرح ملک دشمن اور ایجنٹ ہونے کے القابات سے پکارا جاتا ہے۔ کفر و دہریت کے فتوے جاری کیے جاتے ہیں۔ ریاست کے جس کرداروں اور پالیسیوں کا ذکر مقبول بٹ نے بار بار کیا ہے آج زیادہ بھیانک روپ اختیار کر چکی ہیں۔ اس کے بارے میں مقبول بٹ کہتے ہیں : ’’ہر وہ شخص غدار، دشمن کا ایجنٹ اور کافر قرار دیا جاتا ہے جو قومی معاملات میں حکمران ٹولے کی منشا اور مرضی سے ہٹ کر کسی دوسرے راستے پر چلا ہو۔ غلط نتائج اخذ کرنے میں ان پالیسی سازوں کا اپنا کم اور اس روایتی تربیت کا زیادہ قصور ہے جو نو آبادیاتی حکمرانوں کو سامراجیوں کی طرف سے ورثے میں ملی ہے۔ ہماری تحریک اور اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ہمیشہ ٹکراؤ رہا ہے۔ اس ٹولے کو انقلابی نظریات اور ہماری تحریک سے اتنی ہی نفرت ہے جتنی قرون اولیٰ کے مسلمانوں کو سور کے گوشت سے تھی۔‘‘
مقبول بٹ کی زندگی میں استحصالی قوتوں نے جو کچھ کیا اور ان کے مرنے کے بعد انکے نظریات سے جو کھلواڑ کیا جا رہا ہے، یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔انقلاب روس کا قائد لینن اپنی کتاب ’ریاست اور انقلاب‘ میں لکھتا ہے : ’’ہر دور کے انقلابی مفکروں کے نظریات اور عوام کی نجات کے آدرشوں کے لیے لڑنے والوں کے ساتھ یہ بار بار ہوتا چلا آ رہا ہے۔ سبھی انقلابیوں کی زندگی میں استحصالی طبقات وحشی کتوں کی طرح ان پر ٹوٹ پڑنے کو دوڑتے ہیں۔ ان کے نظریات کو انتہائی غلاظت اور گندگی میں لتھاڑ کر پیش کیا جاتا ہے اور جب وہ مر جاتے ہیں تو کوشش شروع کی جاتی ہے کہ ان کو بے ضرر قسم کا انسان بنا کر پیش کیا جائے۔ ان کے بارے میں داستانیں تخلیق کی جاتی ہیں اور ان کو کیا سے کیا بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اور وہ بھی اس انداز میں کہ وہ انسان نہیں کوئی اور ہی شے تھے۔ اور یوں ایسے لوگ سب کچھ قرار پاتے ہیں سوائے اس کے کہ انہوں نے اپنی زندگیاں محروم اور درماندہ انسانوں کی زندگیاں بدلنے کے لیے وقف کر دی تھیں۔ مقصد اس قسم کی زیب داستاں کا ایک ہی ہوتا ہے کہ استحصال زدگان کو دھوکے، فریب اور سحر میں مبتلا کر دیا جائے اور ان بڑے انسانوں کے انقلابی آدرشوں اور نظریات پر مٹی ڈال دی جائے۔ انکے انقلابی تشخص کو بیہودہ طریقے سے بگاڑ دیا جاتا ہے۔‘‘
آج مقبول بٹ کے چاہنے والے لاکھوں افراد جو جموں کشمیر سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہیں کا انقلابی فریضہ بنتا ہے کہ وہ قابض استحصالی قوتوں کی طرف سے مقبول بٹ کے افکار، جدوجہد اور کردار پر ڈالی گئی دھول کو صاف کرتے ہوئے ان کی جدوجہد کو عہد حاضر کے تقاضوں کے مطابق سائنسی نظریات اور لائحہ عمل کی روشنی میں آگے بڑھائیں۔ مقبول بٹ کی جدوجہد اور نظریات آج بھی کروڑوں استحصال زدہ عوام کیلئے مشعل راہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*