لاطینی امریکہ: معیشت اور اصلاح پسندی کا بحران

| تحریر: عمر شاہد |

پیرو کے حالیہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں دائیں بازو کے تجربہ کار اکانومسٹ اور ملک کے سابق وزیر پیڈرو پابلو کوسزنسکی اورسابق صدر البرٹو فوجی مورو کی بیٹی کیکو فوجی موری کے مابین سخت مقابلہ جاری ہے۔ ابھی تک کے نتائج کے مطابق پیڈرو پابلو کوسزنسکی50.5 فیصد ووٹوں کے ساتھ برتری حاصل کر رہا ہے جبکہ کیکو فوجی موری کو49.5 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ یہ الیکشن دونوں دائیں بازو کے امیدواروں کے درمیان اہمیت کا حامل مقابلہ ثابت ہو رہا ہے۔ 10 اپریل کو ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے میں کیکو فوجی موری کی پارٹی پاپولر فورس نے 39.86 فیصد ووٹوں کے ساتھ کانگریس کی 71 نشستوں پر جیت حاصل کی تھی جبکہ پیڈرو پابلو کوسزنسکی کی پارٹی پیرون فار چینج نے 21.05 ووٹوں کے ساتھ کانگریس کی 20 نشستیں حاصل کیں تھیں۔
امریکہ سے تعلیم یافتہ فوجی موری کے انتخابی پروگرام کا محور جرائم اور کرپشن کا خاتمہ ہے جس کا حل وہ جیلوں اور پولیس کی تعداد میں اضافہ پیش کر رہی ہے۔ وہ اپنی الیکشن مہم میں اپنے والد کے سابقہ دور کے ’کارناموں‘ جن میں شائنگ پاتھ (کمیونسٹ پارٹی) کے گوریلا گروہوں کا خاتمہ، بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام، ہائپر انفلیشن (بہت بلند افراط زر) میں کمی اور معاشی ترقی شامل ہے، کے بلند دعوے کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف کوسزنسکی اپنے آپ کو ایماندار اور دیانت دار قیادت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اس کے انتخابی وعدوں میں کرپشن کا خاتمہ، صاف پینے کا پانی اور پیرو کے معدنی ذخائر کے ذریعے معاشی گراوٹ کا خاتمہ کرنا شامل ہیں۔ کوسزنسکی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ، ’’ہم مصالحت پر یقین رکھتے ہیں اور تمام قوتوں کو ساتھ لے کر چلنے کا عزم رکھتے ہیں… جس کی وجہ سے ہم پیرو کو روشن مستقبل دے سکتے ہیں۔‘‘ اسی طرح کے الفاظ کیکو فوجی موری نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ادا کئے جس سے ان دونوں امیدوارو ں کے معاشی پروگرام کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔
کیکو فوجی موری کے والد سابق صدر البرٹو فوجی موری پیرو کا 1990ء سے 2000ء تک صدر ہا۔ لاطینی امریکہ کے ممالک میں امریکہ کی حمایت یافتہ دائیں بازو کی فوجی آمریتوں کی ایک بد ترین تاریخ موجود ہے لیکن اس کے بعد آنے والی بورژوا جمہوریتیں بھی سرمایہ دارانہ نظام کے سامنے سجدہ ریز نظر آئیں۔ ان نام نہاد جمہوری حکومتوں میں ورلڈ بینک کے رسوا ئے زمانہ ’ریسٹرکچرنگ‘ کے پروگرام کے نام پر نجکاری کی ظالمانہ پالیسیوں پر عمل درآمد کیا گیا۔ البرٹو فوجی موری نے ملک پر ’پارلیمانی بوناپارٹ‘ کی صورت میں حکومت کی۔ اس دوران کمیونسٹ پارٹی کے مسلح باغیوں کا خاتمہ کیا گیا۔ لیکن اس عمل کے دوران محنت کشوں پر سخت حملے کئے گئے جن میں نجکاری، عوامی سہولیات میں کٹوتیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ البرٹو دور میں آئی ایم ایف پروگرام کے مطابق 9 ارب ڈالر تک کے عوامی اثاثوں کو فروخت کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس دور میں فوج کو ریاستی امور میں زیادہ سے زیادہ شامل کیا گیا اور مزدور تحریک پر شدید حملے کئے گئے۔ اس کی معاشی پالیسیوں اور آمریت کے خلاف عوامی تحریک نے اسکو 2000ء میں اقتدار سے نکال باہر کیا جس کے بعد عوامی دباؤ کے تحت نئی حکومت نے اسکے جرائم کی روشنی میں اسے عمر قید کی سز ا سنائی۔ پیڈرو پابلو کوسزنسکی کا کردار زیادہ مختلف نہیں بلکہ اپنی وزارت کے دوران اس نے بھی ملک کے معدنی ذخائر کو لوٹنے کے لئے کئی کمپنیوں کو ٹھیکے جاری کئے۔ کانگریس (پارلیمان) سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کے کئی بل منظور کروائے گئے۔ وہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا باقاعدہ ملازم رہا ہے اور اس نے نہایت احسن طریقے سے سرمایہ داری کی جابرانہ پالیسیوں کا نفاذ کروایا۔

Fernando Lugo (President of Paraguay), Evo Morales (President of Bolivia), Lula da Silva (President of Brazil), Rafael Correa (President of Ecuador) and Hugo Chávez (President of Venezuela) in 2

ہوگو شاویز کے علاوہ لاطینی امریکہ میں بائیں بازو کے کئی پاپولسٹ رہنمائوں نے ’’21 ویں کے سوشلزم‘‘ کا نعرہ لگایا

اس صدی کا آغاز لاطینی امریکہ میں سوشلزم کی نئی اٹھان سے ہوا تھا۔ سویت یونین کے زوال کے بعد پہلی مرتبہ عالمی سطح پر سوشلزم کی صدا بلند ہوئی۔ وینزویلا میں ہوگو شاویز کے ابھار سے شروع ہونے والی یہ لہر لاطینی امریکہ کے تقریباً تمام ممالک تک پھیلی۔ اس عمل کے دوران بولیویایا، نکاراگوا، ایکواڈور، برازیل، ارجنٹائن اور چلی تک میں بائیں بازوکے پاپولسٹ بر سر اقتدار آئے۔ لیکن 2015ء کے اختتام اور موجودہ سال کے آغاز میں یوں محسوس ہو رہا ہے کہ بایاں بازو اپنی اصلاح پسندانہ پالیسیوں کے تحت اب تنزلی کا شکار ہے۔
22 نومبر کو ارجنٹائن میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بائیں بازو کی سابق صدر کرسٹینا فرنانڈیج کی دائیں بازو کے میورشیو میسری کے ہاتھوں شکست کے فوراً بعد 6 دسمبر کو وینزویلا میں دائیں بازو (اپوزیشن) کی قانون ساز اسمبلی میں دو تہائی سے زیادہ نشستوں پر کامیابی ہوئی، اس کے بعد برازیل میں ڈیلما روزف کی زوال پزیری اور مواخذے کو دائیں بازو کے تجزیہ نگار’اکیسیویں صدی کے سوشلزم کی ناکامی ‘ اور دائیں بازو کی برتری سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ایکواڈور میں رافیل کورایاکی حکومت کے خلاف بھی دائیں بازو کی ایجی ٹیشن چل رہی ہیجس کی وجہ سے رافیل کورایا نے تیسری مرتبہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ یہی کچھ بولیویا میں ہوا جہاں پر ایوو مورالس کو چوتھی مرتبہ صدراتی انتخابات میں حصہ لینے کی آئینی ترمیم کے ریفرنڈم میں شکست اٹھانی پڑی۔
ان بائیں بازو کی تقریباً تمام حکومتوں نے اپنے اقتدار میں معاشی اصلاحات کا آغاز کیا تھا جس دوران سامراجی اجارہ داریوں کی لوٹ مار پر ضرب کاری کی گئی اور کئی صنعتوں کو قومی تحویل میں لیا گیا، کئی ایک جگہوں پر سامراجی قرضوں کی جزوی ضبطگی بھی کی گئی یا ایسی نعرہ بازی ہوئی۔ وینزویلا میں تیل کی صنعت میں نیشنلائزیشن ہوئی اور تعلیم، صحت اور رہائش کے دیو ہیکل منصوبے شاویز دور میں شروع کئے گئے۔ بولیویا میں ایوو مورالس نے ریڈیکل اقدامات کے ذریعے بجلی کے ریٹ نصف اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا، اسی طرح ایکواڈور میں رافیل کورایا نے سامراجی سودی قرضوں کے گھن چکر کو چیلنج کیا۔ ان جرات مندانہ اقدامات کے اثرات دیگر ممالک مثلاً برازیل اور چلی کی سیاست پر بھی مرتب ہوئے۔ لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے اندر رہتے ہوئے انتہائی ریڈیکل اصلاحات کی بھی حدود ہوتی ہیں اور یہ اصلاحات جلد یا بدیر اپنی الٹ میں بدل جاتی ہیں۔
موجودہ سیاسی تبدیلیوں کا ٹھوس تجزیہ معاشی تبدیلیوں سے کیا جا سکتا ہے۔ 2008ء کے عالمی معاشی بحران کے گہرے منفی اثرات لاطینی امریکہ کی معیشتوں پر بھی پڑے ہیں۔ ان ممالک کی برآمدات میں اہم زرعی اجناس، خام مال اور تیل ہیں جس کا بڑا خریدار چین ہے۔ 2000ء سے لے کر 2011ء تک لاطینی امریکی کے ممالک اور چین کے مابین تجارت کا حجم 1 فیصد سے بڑھ کر 11 فیصد ہو گیا تھا، آج چلی، برازیل اور پیرو جیسے ممالک کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر چین بن چکا ہے۔ چین کی صنعتی سرگرمیوں کے ماند پڑ جانے سے خام مال کی طلب میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ چین میں طلب میں کمی کی وجہ سے خطے میں معاشی شرح نمو میں 2013ء سے مسلسل کمی آرہی ہے، الٹا مندرجہ بالا کئی ممالک کی معیشتیں اب بڑھنے کی بجائے سکڑ رہی ہیں۔ وینزویلا، برازیل اور ایکوا ڈور وغیرہ تیل برآمد کرنے والے ملک ہیں اور تیل کی قیمت میں گراوٹ ان ممالک کی معیشتوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔ تیل کی بلند قیمت کے وقت تو اصلاحات اور عوام کو کچھ دینے کی گنجائش موجود تھی لیکن اب یہ عمل اپنے الٹ میں بدل چکا ہے۔ افراط زر میں تیز ی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ معاشی سرگرمیوں کے ماند پڑنے سے بیروزگاری میں اضافہ نظر آرہا ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنی تازہ رپورٹ میں لاطینی امریکہ کی مجموعی معیشت میں 0.3 فیصد کمی کی پیش گوئی کی ہے جبکہ اس سے پہلے 0.5 فیصد گروتھ کا کہا گیا تھا۔ 2015ء میں خطے کی اہم اور بڑی معیشت برازیل 3.8 فیصد سکڑی ہے اور یہ عمل مزید تیز ہونے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ وینزویلا کی معیشت بھی 2015ء میں 5.7 فیصد سکڑی ہے۔
’انٹر امیرکن ڈویلپمنٹ بینک‘ کی رپورٹ کے مطابق لاطینی امریکہ کے ممالک کی برآمدات میں پچھلے سال 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ جنوبی امریکہ کے ممالک کی مجموعی برآمدات میں21 فیصد کمی ہوئی۔ 2015ء اس طرح کی کمی کا مسلسل تیسرا سال تھا جس میں خطے کے تمام ممالک کی معیشت میں تنزلی دیکھی گئی۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک میں عالمی معاشی بحران کے زیادہ برے اثرات مرتب ہوئے ہیں، اسی رپورٹ کے مطابق وینزویلا میں 49 فیصداور کولمبیا میں 35 فیصد کی شرح سے برآمدات میں کمی آئی ہے۔ چین میں خام لوہے کی طلب میں کان کنی سے وابستہ کمپنیوں کی توقعات سے زیادہ گراو ٹ ہوئی۔ دنیا میں خام لوہے کی صنعت کی ترقی کے لئے 4.5 ٹریلین ڈالر کے قرضے دیئے گئے، اس میں برازیل میں انفراسٹرکچر اور بندرگاہو ں کی تعمیر پر خاطر خواہ رقم خرچ کی گئی لیکن عالمی بحران کے باعث تمام عوامل اب گراوٹ کی طرف لے جا رہے ہیں۔
خطے کی سب سے بڑی معیشت برازیل کی کیفیت سے پورے خطے کی معاشی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق 2016ء میں برازیل کی معیشت کی شرح نمو صر ف ایک فیصد تک رہنے کا امکان ہے جبکہ افراط زر میں 10 فیصد تک اضافے کا امکان ہے، تاہم قوی امکانات یہی ہیں کہ 2016ء میں معیشت مزید سکڑے گی اور نمو نہیں ہو گی۔ رواں برس 9.3 ارب ڈالر کے بانڈ ہولڈرز کو قرضوں کی واپسی کی صورت میں ارجنٹائن کی معیشت جزوی طور پر دیوالیہ ہو چکی ہے۔ ملک میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں اور برطرفیاں کی گئی ہیں اور محنت کشوں پر شدید حملے کئے جا رہے ہیں۔ اس کے خلاف عوام نے احتجاج بھی کئے ہیں، ان احتجاجوں کی وجہ سے ملک کے صدر مارشی نے مقامی سرمایہ داروں کے ساتھ 90 دن تک کوئی برطرفی نہ کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق 2016 ء میں ارجنٹائن کی معیشت 0.8 فیصد مزید سکڑے گی۔
وینزویلا میں افراط زر 500 فیصد تک پہنچ چکا ہے جس کی وجہ تیل کی قیمتو ں میں کمی کے ساتھ ساتھ مقامی سرمایہ داروں کی ذخیرہ اندوزی بھی ہے، بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے سرکار ی دفاتر میں ہفتہ واراوقات کار پانچ دن کی بجائے دو دن کر دئیے گئے ہیں۔ GDP سکڑ رہا ہے جبکہ صنعتی پیداوا ر 5.4 فیصد کی شرح سے گر رہی ہے۔ پیرو کی معیشت اگرچہ ابھی سکڑاؤ سے دو چار نہیں ہے لیکن شرح نمو مسلسل کم ہو رہی ہے اور 2011ء میں 6.5 فیصد سے کم ہو کر 2015ء میں 3.3 فیصد پر آ چکی ہے، منفی 1.7 فیصد صنعتی ترقی کی شرح ہے یعنی گراوٹ ہے اور برآمدات میں 13.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پیرو کے کل GDP میں 60 فیصد حصہ سروس سیکٹر کا ہے جس میں ٹیلیکام اور فنانس سروسز شامل ہیں۔ چلی کی برآمدات میں ’’اضافے‘‘ کی شرح منفی 16.9، بولیویا منفی 32.5، میکسیکومنفی 4.1 اور کولمبیا منفی 34.9 فیصد ہے (2015ء کے اعداد و شمار) یعنی ہر جگہ برآمدات سکڑ رہی ہیں۔
معدنی ذخائر اور قدرتی دولت سے مالامال لاطینی امریکہ سامراج اور سرمایہ داری کے جبر میں محرومی اور غربت کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ ہسپانوی (سپین) سامراج سے امریکہ سامراج تک ہر سامراجی قوت نے اس خطے کو تاراج کیا ہے اور یہاں اندھی لوٹ مار کی ہے۔ اس سلسلے میں اہم ان ممالک کی بالکنائزیشن تھی جس میں سامراج کے ایما پر مقامی بورژوازی نے اپنی لوٹ مار کے لئے اس خطے کے ٹکڑے کئے۔ مقامی جاگیرداروں، ابھرتی ہوئی بورژوازی اور چرچ نے شروع سے ہی سامراج کی تابعداری میں یہاں کی نسلوں کو غلامی کی اندھی کھائیوں میں دھکیل دیا۔ ٹراٹسکی نے اپنے نظریہ ’انقلاب مسلسل‘ میں واضح کیا تھا کہ سابقہ نوآبادیاتی ممالک تاریخ کے میدان میں تاخیر سے داخل ہوئے ہیں۔ ان ممالک میں بورژوازی کسی قسم کا ترقی پسند کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔ لہٰذا قومی جمہوری انقلاب کے نامکمل فرائض بھی محنت کشوں پر عائد ہوتے ہیں جو آج کے عہد میں صرف سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ادا کئے جا سکتے ہیں۔ ہسپانوی سامراج کے خلاف قومی آزادی کی تحریک در اصل بوژوا جمہوری جدوجہد تھی جس کا مقصد قومی بنیادوں پر لاطینی امریکی کی سامراج سے آزادی تھی۔ اس قومی آزاد ی کا ہیرو سائمن بولیوار تھا جس نے جدوجہد میں نتیجہ اخذ کیا کہ صرف تمام محکوم ممالک کا اتحاد ہی سامراجیت کو شکست دے سکتا ہے۔ شاویز نے بھی 170 سال بعد ’بولیوارین انقلاب‘ یعنی سامراج کے خلاف انقلاب کا نعرہ بلند کیا تھا جس کو پورے لاطینی امریکہ میں بہت پذیرائی ملی۔ شاویز کوئی مارکسسٹ نہیں تھا لیکن اپنے اقتدار کی ابتدا میں جو ریڈیکل اقدامات وہ کرنا چاہ رہا تھا وہ سرمایہ داری کے اندررہتے ہوئے ناممکن تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شاویز کو سوشلزم کی طرف جھکاؤ کرنا پڑا۔ ہوگو شاویز کی بولیوارین تحریک کے اثرات پورے براعظم پر مرتب ہوئے اور کیوبا کے انقلاب کو بھی ایک نئی زندگی ملی۔ تاہم بدقسمتی سے یہ بولیوارین تحریک اور ’21 ویں صدی کے سوشلزم‘ کا نعرہ سرمایہ داری کے اندر اصلاحات تک ہی محدود رہا جس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔
لاطینی امریکہ میں ایک بار پھر دائیں بازو کی یلغار انقلابی مارکسزم کے تناظر کو مزید پختہ اور مضبوط بناتی ہے کہ پسماندہ ممالک کی سرمایہ داری میں دو رس اصلاحات کی گنجائش سرے سے موجود نہیں ہے۔ میکانکی سوچ کے طریقہ کار سے حالات اور واقعات کا درست تجزیہ ناممکن ہے اور نہ ہی کوئی تناظر تخلیق کیا جا سکتا ہے۔ محنت کش طبقے کی تحریک کبھی سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی۔ آج پوری دنیا کی طرح لاطینی امریکہ کے ممالک میں بھی ’معمول‘ کی ’نارمل‘ زندگی کبھی واپس لوٹ نہیں سکتی۔ اس وقت محنت کشوں پر مسلسل معاشی حملے ہی ’نیا معمول‘ ہیں۔ انقلابات تاریخ کے غیر معمولی ادوار ہوتے ہیں جس دوران حالات تیزی سے کروٹ بدلتے ہیں۔ محنت کش طبقہ کسی بنے بنائے انقلابی پروگرا م یا طے شدہ منصوبے کے تحت تاریخ کے میدان عمل میں داخل نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے حالات زندگی کو بدلنے اور فوری مسائل سے نجات کے لئے تحریکوں کا آغاز کرتا ہے اور اس دوران بہت تیزی سے سیکھتے ہوئے نتائج بھی اخذ کرتا ہے۔ کسی انقلابی پارٹی اور پروگرام کی غیر موجودگی میں بعض اوقات کوئی ایک شخصیت ہی تحریک کا محور بن جاتی ہے۔ انقلاب کی تعریف انقلابِ روس کے معمار لیون ٹراٹسکی نے ان الفاظ میں کی تھی:’’عوام کی تاریخی واقعات میں براہِ راست مداخلت ہی کسی بھی انقلاب کی سب سے نمایاں خوبی ہوتی ہے‘‘۔ انقلابی عمل کے دوران رد انقلابی طاقتیں یکسر ختم نہیں ہو جاتیں بلکہ وہ تحریک کی کمزوریوں اور غلطیوں سے فائدہ اٹھا کر پلٹ کر بڑا حملہ کر تی ہیں۔ غلط تجزئیے سے غلط نتائج مرتب ہوتے ہیں، مثال کے طور پر کیوبا میں گوریلا جدوجہد سے انقلاب اور پرولتاری بونا پارٹسٹ ریاست کی تشکیل کے بعد یہی فارمولا دیگر لاطینی امریکی ممالک پر آزمایا گیا جس کے منفی نتائج ہی برآمد ہوئے۔ انقلاب کوئی ایک دن یاایک وقت کا معرکہ نہیں ہو تا بلکہ اس دوران کئی مراحل آتے ہیں۔ انقلاب اور رد انقلاب بیک وقت سفر کر رہے ہوتے ہیں، اس دوران انقلابی قیادت کی اہمیت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ مثلاً وینزویلا کا انقلاب تاریخ کا لمبا چلنے والا انقلاب ہے جو 1998ء کے بعد سے مختلف اتار چڑھاؤ کے ساتھ جاری ہے۔ لیکن کچھ صنعتوں کو نیشنلائز کر کے انقلاب مکمل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لئے سرمایہ داری کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے۔ منڈی کے قوانین کے تابع رہتے ہوئے سوشلسٹ پروگرام نافذ نہیں کیا جا سکتا، مارکس اور لینن نے واضح کیا تھا کہ محنت کش طبقہ مروجہ بورژوا ریاست پر قبضہ کر کے بھی انقلاب برپا نہیں کر سکتا بلکہ اس کے لئے موجودہ ریاست کو ختم کرکے اسکی جگہ مزدور ریاست کی تشکیل ہی سوشلسٹ انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک ان بائیں بازو کی اصلاحات کے لئے مادی حالات بھی موجود تھے جن میں تیل کی بلند قیمتیں، عالمی منڈیوں میں تیزی اور اجناس کی قیمتوں میں اضافہ شامل تھا۔ اب یہ تمام عوامل یکسر اپنے الٹ میں تبدیل ہو چکے ہیں، اس وقت محنت کشوں کی نہایت ’دیانت دار‘ اصلاح پسند قیادت بھی سرمایہ داری میں اصلاحات نہیں کر سکتی۔
جس انقلابی لہر کا آغاز لاطینی امریکہ سے ہوا اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوئے، بالخصوص یہ عمل سوشلزم کی موت کا اعلان کرنے والوں کو منہ توڑ جواب تھا۔ فی الوقت لاطینی امریکہ میں بایاں بازو بحران کا شکار ہے لیکن دوسری طرف امریکی سامراج کی کوکھ میں بغاوت پک رہی ہے۔ برنی سینڈرز کا مظہر، اس کی مقبولیت میں تیز اضافہ اور اس کی جانب سے ’جمہوری سوشلزم‘ کی لفاظی ثابت کرتی ہے کہ ترقی یافتہ ترین ممالک میں بھی سرمایہ داری سے نفرت اور بیزاری کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ ان حالات میں لاطینی امریکہ میں تحریکوں کی پسپائی کے کیفیت طویل عرصے تک جاری نہیں رہ سکتی کیونکہ حالات تلخ تر ہوتے جا رہے ہیں۔ دائیں بازو کے حملے ناگزیر طور پر رد انقلاب کے وہ تازیانے ثابت ہوں گے جو انقلابی عمل کو آگے بڑھائیں گے۔ نئی بننے والی دائیں بازو کی حکومتوں کو ہنی مون کا وقت بھی نہیں ملے گا، سیاسی بحران مسلسل جاری رہے گا اور بڑھے گا۔ اگر سرمایہ داری میں بائیں بازو کی اصلاحات کی گنجائش نہیں ہے تو دائیں بازو کے کٹوتیوں اور نجکاری جیسے اقدامات سے بھی معاشی بحران مزید شدت ہی پکڑے گا۔ سماج میں دائیں اور بائیں بازو کے مابین پولرائزیشن میں اضافہ ہو گا، اس دوران طبقاتی تضادات مزید شدت سے بھڑکیں گے۔ محنت کش طبقے، بالخصوص اس کی ہراول پرتوں نے جو نتائج گزشتہ کئی سال میں اخذ کئے ہیں وہ نئی ابھرنے والی تحریکوں میں اپنا اظہار کریں گے۔ ان حالات میں انقلابی مارکسزم کی قوتوں اور انقلابی رجحانات کی تعمیر کے لئے ساز گار حالات میسر ہوں گے۔
لاطینی امریکہ کے محنت کشوں اور نوجوانوں کے نام لیون ٹراٹسکی کا یہ پیغام آج کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے: ’’جنوبی اور وسطی امریکہ خود کو تمام ریاستوں کی ایک طاقتور فیڈریشن میں ڈھال کر ہی پسماندگی اور محکومی کی زنجیریں کاٹ سکتے ہیں۔ لیکن سامراج کی آلہ کار اور تاریخی طور پر تاخیر زدہ جنوب امریکی بورژوازی یہ فریضہ ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتی بلکہ جنوبی امریکہ کے پرولتاریہ کو یہ فریضہ ادا کرنا ہو گا جو محکوم عوام کا منتخب نمائندہ ہے۔ عالمی سامراج کے تشدد اور فریب اور اس کے مقامی گماشتوں کے خلاف جدوجہد کا نعرہ ’جنوبی اور وسطی امریکہ کی متحدہ ریاست‘ ہونا چاہئے‘‘۔

متعلقہ:

وینزویلا: انقلاب اور رد انقلاب کی کشمکش

انقلابِ کیوبا خطرے میں؟

One Comment

  1. Pingback: لاطینی امریکہ: معیشت اور اصلاح پسندی کا بحران | The Resistance

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*