بربادیوں کے بیوپاری

تحریر: لال خان

انتشار کے اِس عہد میں اگر حکمرانوں کی سیاست اور سفارت کا جائزہ لیا جائے تو جارج آرویل کا 1948ء میں لکھا گیا ناول ’’1984‘‘ یاد آتا ہے، جس میں مصنف نے ایک ایسی ریاست کا نقشہ کھینچا تھا جہاں وزارتوں کے نام اُن کے کام سے متضاد تھے۔ مثلاً پراپیگنڈا کا کام ’وزارتِ سچائی‘ کرتی تھی جبکہ ’وزارتِ محبت‘ درحقیقت وزارتِ جنگ تھی۔ آج بین الاقوامی سطح پر ’امن‘ اور سکیورٹی وغیرہ کا جس قدر شور ہے، حکمران اِسی قدر جبر و تشدد اور جنگوں میں ملوث ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد سے یہ جنگی جنون اور بھی بڑھ گیا ہے۔
اِس وقت دنیا کے منافع بخش ترین کاروباروں میں سے ایک جنگی آلات اور اسلحہ سازی کی صنعت ہے۔ 17 جولائی 1961ء کو امریکی صدر آئزن ہاور نے اپنی الوداعی صدارتی تقریر میں اِس صنعت کو ’ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس‘ کا نام دیا تھا۔ آئزن ہاور، جو سابقہ فوجی جرنیل بھی تھا، نے شاید نے دوسری عالمی جنگ کی ہولناکیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے تنبیہ کی تھی کہ اسلحہ ساز مافیا کی گرفت سیاست اور ریاست پر تیزی سے مضبوط ہو رہی ہے جس کی وجہ سے آئندہ پالیسیاں صدور یا کانگریس نہیں بلکہ یہی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس مرتب کرے گا۔ اس سے دنیا بھر میں عدم استحکام، جنگیں ، خانہ جنگیاں اور دہشت گردی بڑھے گی۔ آج صرف امریکہ میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں انسانی بربادی کے آلات بنانے کا کاروبار ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ رہا ہے۔ سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق 2016ء میں جنگی آلات کے کاروبار اور منافعوں میں تیز اضافہ ہوا ہے۔ اِسی طرح ’سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ‘ (SIPRI) کے مطابق ’’اسلحے کی فروخت میں اضافے کی وجوہات میں قومی ریاستوں کی مزید اسلحہ سے لیس ہونے کی پالیسی، فوجی آپریشن اور علاقائی تناؤ شامل ہیں۔‘‘ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان تناؤ سے اس خطے میں اسلحہ کی خرید و فروخت میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سے پہلی بار جاپان بھی اِس دوڑ میں اب شریک ہو رہا ہے۔ 2016ء میں اسلحے کی فروخت میں ہونے والے اضافے میں امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کا حصہ 52 فیصد ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی اسلحہ ساز کارپوریشن ’لاک ہیڈ مارٹن‘ کے منافع میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس میں جدید لڑاکا تیارے F-35 کا کلیدی کردار تھا۔ ٹرمپ کی جانب سے پینٹاگان کے بجٹ میں اضافے اور امریکی جوہری پروگرام کو جدید بنانے کے اقدامات سے اِن منافعوں میں اور بھی اضافہ ہو گا۔ روس کی اسلحہ ساز کمپنیوں کی فروخت بھی 3.8 فیصد بڑھی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے بعد روس کا انحصار اِس صنعت پر اور بھی بڑھ گیا ہے۔ جنوب چینی سمندر میں مختلف ممالک کا آپسی تناؤ بھی اسلحے کے کاروبار میں اضافے کا باعث ہے۔
امریکی حکمرانوں کے معتبر اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے بھی لکھا ہے کہ ’’جوں جوں مشرق وسطیٰ پراکسی جنگوں، فرقہ وارانہ تنازعات اور دہشت گردی میں ڈوب رہا ہے، وہاں کی ریاستیں اسلحے کے ڈھیر لگا رہی ہیں۔ اس سے امریکی دفاعی صنعت کے ٹھیکیداروں کی چاندی ہو گئی ہے۔‘‘ پچھلے مہینے امریکی کانگریس کو یہ رپورٹ دی گئی ہے کہ امریکہ کے عرب اتحادیوں یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، اردن اور مصر نے ہزاروں امریکی میزائلوں، بموں، لڑاکا طیاروں اور دوسرے ہتھیاروں کے آرڈر دئیے ہیں۔ اِس نئے اسلحے سے متروک شدہ پرانے امریکی اسلحے کو تبدیل کیا جائے گا۔ امریکی کمپنی ’جنرل ڈائنیمکس‘ کو درجنوں پریڈیٹر ڈرون جہازوں کا آرڈر ملا ہے۔ جنگی صنعت سے وابستہ دنیا کی دس سب سے بڑی کمپنیوں میں لاک ہیڈ مارٹن، بوئنگ، بی اے ای سسٹمز، جنرل ڈائنیمکس، رے تھیون، نارتھروپ گرومین، ایئر بس گروپ، یونائیٹڈ ٹیکنالوجیز اور L-3 کمیونیکیشنز شامل ہیں۔ اِن میں سے زیادہ تر امریکی ہیں جو امریکی صدارتی مہمات، سیاستدانوں، کانگریس اور انتظامیہ کے اداروں میں لابنگ پر اربوں ڈالر خرچ کرتی ہیں۔ ویسے امریکی ’’جمہوریت‘‘ میں شروع سے ہی رشوت خوری اور جنگی صنعت کا گٹھ جوڑ موجود رہا ہے۔ مثلاً ابراھم لنکن کے وزیر دفاع سائمن کیمرون کو اِن جنگی کمپنیوں سے رشوت لینے کے الزام پر 1862ء میں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ لیکن آج یہ واردات ایک قانونی درجہ حاصل کر چکی ہے اور باقاعدہ فن بن چکی ہے۔ امریکہ کی نیو آرلینز یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق 1998ء سے 2010ء تک کے عرصے میں امریکی کانگریس کے اراکین نے لاک ہیڈ مارٹن سے 155 ملین ڈالر، نارتھروپ سے 147 ملین ڈالر اور بوئنگ سے 125 ملین ڈالر وصول کئے۔ یہی واردات یورپ، روس اور چین وغیرہ میں بھی ہوتی ہے۔ غیر ترقی یافتہ ممالک، جو اسلحے کے بڑے خریدار ہیں، کے حکمران بھی اسلحے کی خریداری پر بھاری کمیشن حاصل کرتے ہیں اور یہ رقوم اپنے حواریوں میں بھی تقسیم کرتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کی افریقن نیشنل کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اینڈریو فینسٹین نے اپنی ہی حکومت کی اِن وارداتوں پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے ایک ڈاکومنٹری میں انکشاف کیا کہ نیلسن منڈیلا کے بعد جنوبی افریقہ کے صدر تھابو مبیکی نے اسلحے کی خریداری پر 10 ارب ڈالر خرچ کیے، جن میں سے تین سو ملین ڈالر سینئر فوجی حکام، سیاستدانوں اور بیوروکریسی میں تقسیم کیے گئے۔ اِسی عرصے میں موصوف نے جان لیوا بیماریوں کی ادویات کے لئے پیسے نہ ہونے کا خوب رونا دھونا بھی کیا۔ اسلحہ خریدنے والے کئی ممالک ایسے ہیں جہاں سویلین حکومتوں کے ہوتے ہوئے بھی فوجی جرنیل براہِ راست سودے کرتے ہیں۔ اِن میں ایران کے پاسدارانِ انقلاب، چین کی پیپلز لبریشن آرمی، برمی فوج اور کئی دوسری افواج کے جرنیل شامل ہیں۔
بہت سی اسلحہ ساز اجارہ داریاں ایسی بھی ہیں جو تباہی کے آلات اور زخموں کے مرہم بیک وقت بناتی ہیں۔ کئی جنگوں اور خانہ جنگیوں میں ایک ہی کمپنی دونوں طرف اسلحہ بیچ رہی ہوتی ہے۔ اِن جنگوں کے مقاصد بھی آخری تجزئیے میں معاشی ہوتے ہیں اور تیل جیسے قدرتی وسائل پر قبضے کے لئے لاکھوں انسانوں کا خون بہایا جاتا ہے۔ عراق کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اِسی طرح سابقہ بلیک واٹر جیسی نجی کمپنیاں ہیں جو کرائے کے فوجی بھی فراہم کرتی ہیں۔ عراق جنگ کے دوران بلیک واٹر اور ہیلی برٹن (جس کا مالک ڈِک چینی تھا) پر الزام عائد ہوا تھا کہ انہوں نے اپنی خدمات کہیں زیادہ مہنگے داموں حکومت کو فروخت کیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکام خود اِن ٹھیکوں میں حصے دار تھے۔ 2008ء میں جنگی ٹھیکیداری کی دس بڑی کمپنیوں نے 150 ارب ڈالر کمائے۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ نے خود ’رے تھیون‘ کے حصص خریدے ہیں۔ یہ کمپنی وہی ٹام ہاک میزائل بناتی ہے جو حال ہی میں شام کی ایک ایئر بیس پر داغے گئے تھے اور اگلے ہی روز کمپنی کے حصص کی قیمت چڑھ گئی تھی۔ ٹرمپ نے برسر اقتدار آتے ہی عسکری بجٹ میں 10 فیصد اضافہ کیا تھا۔ وہ اب بربادی کے آلات بنانے والی اِن کمپنیوں کا سب سے بڑا سیلز مین بن گیا ہے۔
دنیا بھر میں یہ اسلحہ تباہی و بربادی پھیلا رہا ہے۔ ہر سال 1500 ارب ڈالر سے زائد رقم اِن تباہی کے آلات پر دنیا بھر میں خرچ کی جاتی ہے۔ اِن پیسوں سے دنیا میں غربت اور بھوک کا خاتمہ ایک بار نہیں بلکہ کئی بار کیا جا سکتا ہے۔ ہر انسان کو مناسب غذا، صاف پانی، رہائش، علاج اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات زندگی بطریق احسن فراہم کی جا سکتی ہیں۔ لیکن ہر دوسری صنعت کی طرح اسلحہ سازی بھی اِس سرمایہ دارانہ نظام میں منافع کا ذریعہ ہے۔ اِن معاشی و عسکری بربادیوں سے نجات کے لئے منافع کے اِس نظام کا خاتمہ لازم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*