کے این شاہ: لیڈی ہیلتھ ورکرز کی جدوجہد پر سیمینار کا انعقاد

رپورٹ: کامریڈ کونج

مورخہ 23 مارچ 2017ء کو پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) اور کے این شاہ کی لیڈی ہیلتھ ورکرز کے زیر اہتمام 23 مارچ 2011ء کی جدوجہد کی مناسبت سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں میہڑ ، رادھن، تھرڑی محبت، کولاچی، گوزو اور کے این شاہ سے بڑی تعداد میں لیڈی ہیلتھ ورکرز، ڈاکٹروں،طلبہ اور نوجوانوں نے شرکت کی۔
سٹیج سیکرٹری کے فرائض فاطمہ ملاح نے ادا کیے اور آغاز میں سندھو ملاح نے انقلابی گیت پیش کیا۔ شرکا کو خوش آمدید کہنے کے لیے کامریڈ اعجاز بگھیوکو دعوت دی گئی۔ انہوں نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی جدوجہد کو سرخ سلام پیش کیا اور PTUDC کے لائحہ عمل اور اہداف پر تفصیلی بات رکھی۔ اس کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکرز نے 23 مارچ 2011ء کی جدوجہد پر بات کی اور بتایا کہ انہیں کن مظالم کا سامنا کرنا پڑا اور کیا حاصلات ملیں۔

خطاب کرتے ہوئے کامریڈ نوربانو، ہوا گاڈھی، شبانہ کھونہارو، رخسانہ عباسی، رابعہ، ارباب گاڈہی نے کہا کہ ہم حکومت سے ریگولر کرنے، اجرتیں بڑھانے، سروس اسٹرکچر دینے اور دہشت گردی کے خوف کی وجہ سے سکیورٹی دینے کے مطالبات لے کر پرامن جدوجہد کرتے ہوئے آگے بڑھیں، ہماری جو جدوجہد 2007ء میں مشرف کی آمریت سے شروع ہوئی تھی وہ مسلسل جاری رہی اور ہماری طاقت اور اتحاد میں مضبوطی آگئی۔ جہاں بھی لیڈی ہیلتھ ورکرز تھیں انہوں نے 23 مارچ 2011ء کو دھرنا دیااور روڈ بلاک کیا تھا۔ اسی دن ان کے اوپر لاٹھی چارج کیا گیا اور شیلنگ کی گئی اور سندھ بھر میں یہی صورتحال تھی۔ لیکن ہم پیچھے نہیں ہٹیں اور آخر کار ہم نے اپنے مطالبات منوائے۔ہمارے لئے 23 مارچ جدوجہد کا دن بن گیا ہے اور ہم ہر سال اسے جدوجہد کے دن کے طور پر منائیں گے۔اس کے بعد لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنی ڈیوٹی کے دوران پیش آنے والی مشکلات پر ٹیبلوز پیش کئے جنہیں خوب داد ملی۔ اس کے علاوہ عوامی تحریک سے عاطف ملاح، کامریڈ سومر، چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ کی طالبات ڈاکٹر شازیہ اور صدف نے بھی اظہار خیال کیا اور لیڈی ہیلتھ ورکرز کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔ آخر میں کامریڈ نوربانو نے 23 مارچ 2011ء کو کی گئی پریس کانفرنس پڑھ کے سنائی اور اعلان کیا کہ ہم حقوق کی جدوجہد کے لئے PTUDC کے ساتھ مل کے ایسے پروگرام کراتے رہیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*