برطانوی انتخابات: لیبر پارٹی کی تاریخی واپسی

تحریر: راجر سلورمین، ترجمہ: حسن جان

ہم ایک پرانتشار دور میں رہ رہے ہیں۔ پچھلی چند دہائیوں کے نسبتاً پائیدار عالمی نظم و نسق کے عہد کے خاتمے بعداب ایک کے بعد دوسرے ملک میں دائیں اور بائیں بازو کی طرف تیز ترین جھکاؤ ددیکھنے میں آرہا ہے۔ اس کی سب سے حالیہ مثال برطانیہ میں ہونے والے انتخابات ہیں جو اس کی اپنی طویل تاریخ کے سب سے حیران کن اور مختلف انتخابات تھے۔ سب سے حیرت والی پہلی بات تو ان انتخابات کا وقوع پذیر ہونا ہے۔ موجودہ وزیراعظم ’تھیریسا مے ‘نے من موجی میں ان انتخابات کا اعلان کیا۔ اس نے ایک سال پہلے ہی بریگزیٹ ریفرنڈم میں اسٹیبلشمنٹ کے خودسر جارحانہ دھڑے کی جیت کے دھماکہ خیز واقعے کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔

نتائج ایک جھلک میں۔ تصویر کو بڑا کرنے کے لئے کلک کریں۔

انیسویں صدی میں برطانوی راج کے بارے میں مشہور تھا کہ ان کے حکمران طبقات آنے والی دہائیوں اور حتیٰ کہ صدیوں تک کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ یہ اس وقت کی غالب عالمی طاقت کی ناگزیر ضرورت تھی جو طاقت، عظمت اور استحکام کی جستجو میں حریفوں اور اتحادیوں کے درمیان توازن بنائے رکھنے کے لیے لازم تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانیہ امریکی سامراج کا دم چھلا بن گیا اور عالمی لین دین میں اس کا کردار بھی گھٹ گیا جس سے اس کی سوچ کا افق دہائیوں اور صدیوں سے گھٹ کر محض چند سالوں تک محدود ہوگیا۔ اور آج حالت یہ ہے کہ ان کے سیاسی نمائندے اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھ سکتے اور روزانہ کی بنیاد پر عارضی انتظامات اور عیاری کے ذریعے ملک کے معاملات کو چلا رہے ہیں۔
چنانچہ غیر ذمہ داری کی انتہا کرتے ہوئے، یورپی یونین کو دی گئی رعایت پر اپنے شاونسٹ ناقدین (UKIP کے پست کردار رہنما اور ٹوری پارٹی کے نچلی صفوں کی قیادت) کے جواب میں پرانے ایٹن کالج کے فارغ التحصیل بانکے وزیراعظم ’ڈیوڈ کیمرون ‘نے احمقانہ انداز میں اپنے پورے طبقے کے اسٹریٹیجک مفادات کو داؤ پر لگا دیا اور عجلت میں ریفرنڈم کا وعدہ کردیا، قطع نظر اس بات کے کہ اس ریفرنڈم کو کس طرح جیتنا ہے۔ وہ ریفرنڈم ہار گیا اور اگلے ہی دن استعفیٰ دے کر سارا گند اپنے وزرا کے لیے چھوڑ کر خود چلا گیا۔
برطانوی سرمایہ داری کے اعلیٰ ترین حلقے یہ بات جانتے ہیں کہ ان کے مفادات یورپی یونین میں رہ کر ہی بہترین طریقے سے پورے ہوسکتے ہیں کیونکہ اس سے انہیں ایک وسیع منڈی میں آزادانہ رسائی اور سستی محنت کی وافر فراہمی میسر ہے۔ لیکن کیمرون کی جانشین تھیریسا مے جو قبلاً یورپی یونین میں رہنے کے حق میں تھی، نے منافق میڈیا ہاؤسز کے ٹولے کی بنائی گئی ’’رائے عامہ‘‘ کو چیلنج کرنے کی جرات نہیں کی اور راتوں رات ’’سخت بریگزٹ‘‘ کی والہانہ حامی بن گئی۔
تھیریسا مے کی کوشش ہے کہ وہ 80ء کی دہائی کے مارگریٹ تھیچر کی مانند بنے، جو اپنے طبقے کی منجھی ہوئی لیڈر تھی، جس نے اکیلے ہی معیشت کے بڑے حصے کو پرائیویٹائز، مینوفیکچرنگ کو تباہ اور بے رحمانہ طریقے سے ٹریڈ یونینوں کو کچل دیاتھا۔ یہ ایک مضحکہ خیز منظر تھا۔ تھیچر کی باریک اور تیز آواز اور اس کی رعونت کی نقل اتارتے ہوئے ( جبکہ اِس میں اپنے طبقے کے لیے اُس جیسے اسٹریٹجک وژن یا ارادے ناپید ہیں) مے کی حیثیت دراصل سرکس کے جوکر سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے، وہ اُس نام نہاد’’آہنی خاتون‘‘ کا محض ایک کاغذی پتلا ہے۔
وزارت عظمیٰ کے منصب پر اپنی غیر یقینی حالت کو دیکھتے ہوئے تھیریسا مے نے اس بات پر زور دیا تھاکہ وہ کم از کم اپنی پہلی مدت کے خاتمے یعنی 2020ء تک عہدے پر رہیں گی اور کوئی الیکشن نہیں ہوگا۔ وہ بار بار چند جملے طوطے کی رٹتی رہتی تھی، ’بریگزٹ کا مطلب بریگزٹ ہے‘ ’نقصان دہ معاہدے سے بہتر ہے کہ کوئی معاہدہ نہ ہو‘ ’مضبوط اور مستحکم حکومت‘وغیرہ وغیرہ۔ لیکن رائے عامہ کے سروے کے مطابق ٹوری پارٹی کو 25فیصد کی برتری حاصل تھی جس کا مطلب 100سے 150کی برتری کے ساتھ بڑی اکثریت تھا۔ بار بار الیکشن نہ کرانے کے اعلان کے بعد تھیریسا مے آسانی سے بڑی اکثریت جیتنے کے خام خیال پر یقین کرگئی۔ اور اپنی اس قلابازی کو آنے والے بریگزیٹ مذاکرات میں ایک ’بھاری مینڈیٹ‘ کے ضرورت کی بے ہودہ دلیلوں کے ذریعے جواز فراہم کرتی رہی۔ ایک واضح پروگرام کی عدم موجودگی اور عوامی جانچ پڑتال کے سامنے اپنے کھوکھلے پن کے عیاں ہونے کے خوف سے تھیریسا مے عوامی نظروں سے اوجھل ہوگئی، ٹی وی ٹاک شوز میں آنے سے انکار کردیا اور صرف چند چنندہ ’پبلک میٹینگز‘ میں شرکت کی جو انتہائی خفیہ طریقے سے چند زرخرید سامعین کے سامنے منعقد کی گئیں۔
اسی اثنا میں نئی احیا شدہ اور ریڈیکلائزڈ لیبر پارٹی بڑے دنگل کے لیے پنجہ آزمائی کر رہی تھی۔ 2015ء کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی دوسری بار مسلسل شکست کے بعد جیرمی کوربن لاکھوں کی عوامی تحریک کی بنیاد پر لیبر پارٹی کی قیادت کی دوڑ میں جیت گیا۔ پچھلے سال اس نے اپنی فتح کو مزید مستحکم بنایا جب بچے کچے بلیرائٹ ٹولے نے اس کے خلاف ایک ناکام بغاوت کی۔ روپرٹ مرڈوک اور اس کے ہمنوا میڈیا کے بدمعاش، کوربین کے خلاف مسلسل زہر اُگل رہے تھے اور اس کے پروگرام کی تشہیر کے سارے راستے بند کردیئے تھے۔
ایک اور واقعہ جسے تعفن زدہ غلیظ میڈیا نے بھرپور طریقے سے استعمال کیا، الیکشن سے پہلے دو وحشیانہ دہشت گرد حملے تھے۔ جیساکہ اس سے پہلے فرانس، سپین اور دوسری جگہوں میں ہوا تھا، فاشسٹ قوتوں (یہاں اس کی مذہبی قسم) نے قتل عام کرکے الیکشن کو سبوتاژ کرکے اسے دائیں بازو کی جانب جھکانے کی کوشش کی۔ انہیں اس بات کا علم تھا کہ کوربن کی فتح سے نوجوانوں کو حقیقی تعلیمی مواقع اور اچھی ملازمتیں ملیں گی۔ انہوں نے بھرپور کوشش کی کہ اس کو روکا جائے کیونکہ اس سے نوجوان مسلمانوں کو ایک امید ملے گی اور نتیجتاً ان کی حمایت میں کمی واقع ہوگی۔ میڈیا نے کوربین کی آئی آر اے (آئریش ریپبلکن آرمی) اور حماس کے ساتھ اس کی مبینہ سابقہ ’دوستی‘ پر خوب شور مچایا اور اسے خون کے پیاسے دہشت گردوں کے ہمدرد کے طور پر پیش کیا (جبکہ اسی اثنا میں کوربین کی نیوکلیئر پروگرام کی مخالفت اور ایٹمی حملہ نہ کرنے پر اس کی مذمت کرتا رہا)۔ ڈیلی میل نے اس غلیظ پراپیگنڈے پر مبنی 13 صفحات شائع کئے۔ لیکن ان سب کے بعد بھی لیبر کی مقبولیت، بالخصوص نوجوانوں میں، کم نہ ہوئی۔

جیریمی کوربن نے انتخابی مہم کے دوران بڑی ریلیوں سے خطاب کیا۔

جب انتخابات کا اعلان ہوا تو میڈیا پہلے کی طرح ہی کوربین کے خلاف غیض و غضب سے لدے جھوٹ بول رہا تھا لیکن اس کے باوجود انہیں لیبر پارٹی کے پروگرام کو کسی حد تک جگہ دینی پڑی۔ 1945ء کے بعد یہ لیبر پارٹی کا سب سے ریڈیکل پروگرام تھا جس میں کٹوتیوں کا خاتمہ، نیشنل ہیلتھ سروس کا دفاع، طلبہ کے لیے ٹیوشن فیس کا خاتمہ، عوامی رہائش کا پروگرام، سکولوں کی فنڈنگ کی بحالی، بڑی عوامی سہولیات کو قومی تحویل میں لینا، پبلک سیکٹر کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور بے شمار دوسری اصلاحات شامل تھیں اور ان سب کو کارپوریٹ ٹیکس بڑھا کر اور امیروں پر انکم ٹیکس بڑھا کر پورا کیا جاناتھا۔ اس پروگرام کو بے تحاشا مقبولیت حاصل ہوئی۔ کوربین نے پورے ملک میں پرجوش عوامی جلسوں سے خطاب کیا۔ نوجوان، جو عام طور پر مشکل سے ووٹ کے لیے رجسٹر اور الیکشن میں حصہ لیتے ہیں، بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ لیبر پارٹی کے 70 فیصد ووٹرز کی عمریں 18-24 سال کے درمیان تھیں۔ لیبر کی نوجوانوں اور عام طور پر مایوس لوگوں کو زندہ اور پرجوش کرنے میں کامیابی نے ہی الیکشن میں لیبر کے حق میں پھانسہ پلٹ دیا۔
ایک انتہائی منقسم الیکشن میں جہاں چھوٹی چھوٹی پارٹیاں غائب ہوگئیں ٹوریز کے ووٹ 5.5 فیصد بڑھے جبکہ وہ بہت سی نشستیں ہار گئے اورمے شرمناک شکست کے بعد اکثریت کھو بیٹھی۔ اس کے برعکس لیبر پارٹی کے ووٹ میں 9.5 فیصد اضافے سے 40 فیصد تکپہنچے جو 1945ء کے بعد سب سے بڑا اضافہ ہے اور 1997ء میں ٹونی بلیئر کی بھاری اکثریت سے کامیابی(جب کوربین کے برخلاف بلیئر کو مرڈوک اور بڑے کاروباریوں کی بھر پور حمایت حاصل تھی) کے بعدیہ سب سے بہترین نتائج ہیں۔ 2005ء میں بلیئر نے9,552,436 ووٹ (35.2 فیصد) لیے۔ 2010ء میں براؤن نے 8,606,527 ووٹ (29 فیصد) لیے۔ 2015ء میں ایڈ ملی بینڈ نے 9,347,304 ووٹ (30.4 فیصد) لیے۔ اس کے برعکس جیرمی کوربن کے ریڈیکل منشور کے ساتھ لیبر نے 2017ء میں 12,858,652 ووٹ کے ساتھ 40 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
اب تھیریسا مے ایک جال میں پھنس گئی ہے۔ اس نے اپنا سارا پراپیگنڈا ’مضبوط اور مستحکم حکومت‘ اور ’پرانتشار اتحاد‘ کے خطرے کو بار بار دہرانے کے گرد مرکوز کیے رکھا۔ ان سب کا الٹا نتیجہ نکلا۔ مے کے ’پرانتشار اتحاد‘ کی حکومت سے زیادہ کوئی کمزور اور غیر مستحکم حکومت نہیں ہوسکتی جس میں انتہائی دائیں بازو کی DUP شامل ہے جو ایک جنسی تعصب پر یقین رکھنے والی جماعت ہے جس نے پچھلے سالوں میں شمالی آئرلینڈ میں فرقہ وارانہ زہرآلود نفرتوں کو بڑھاوا دیا ہے۔ اس مایوس کن چال کی کامیابی کی کسی کو توقع نہیں ہے۔ یا تو پارلیمانی لوٹا کریسی ہوگی یا ایک ناکام ضمنی انتخابات، جو حکومت کا خاتمہ کردیں گے۔
پارلیمانی لیبر پارٹی میں کوربن کے دشمن عارضی طور پر دبے ہوئے ہیں۔ بی بی سی اور نجی میڈیائی غنڈوں کے ساتھ ساتھ بہت سے بلیئرائٹ ممبران پارلیمنٹ نے حتیٰ کہ الیکشن کے دوران کوربن سے اپنے آپ کو الگ کرتے ہوئے اسے ’اَن الیکٹ ایبل‘ قرار دیا تھا۔ اب ان کی اکثریت شرمندگی کے عالم میں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ رہی ہے اور اب وہ برطانیہ کے مستقبل کے وزیر اعظم کے اردگرد چاپلوسی کرتے پھر رہے ہیں۔ لیکن نیو لیبر کی باقیات کے ساتھ ایک سپلٹ ناگزیر ہے چاہے وہ کوربن کے خلاف ایک اور ناکام بغاوت کی شکل میں ہو یا بلیئرائٹس کی لبرل ڈیموکریٹس اور ٹوری پارٹی کے کیمرون/اوسبورن دھڑے کے ساتھ مل کر ایک بریگزیٹ مخالف اتحاد تشکیل دینے کی شکل میں ہو۔ پہلے کی نسبت اب زیادہ خلا موجود ہے، ایک ایسی جماعت کے لیے خلا جو حکمران طبقے کے مفادات کی سچی ترجمانی کرسکے۔
ٹوری پارٹی کی برباد صورت حال کو ایک نامعلوم ٹوری ممبر پارلیمنٹ نے ڈیلی میل میں اپنے اس تبصرے کے ذریعے بیان کیا ہے، ’’ہم سب اس (تھیریسا مے) سے نفرت کرتے ہیں۔ لیکن ہم کچھ نہیں کرسکتے۔ اس نے ہمارا بیڑا غرق کردیا ہے۔ ‘‘ اس جملے کو اس الیکشن کے بعد برطانوی حکمران طبقے کی قبرپر لکھاجانا چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*