کھوکھلے انتخابات

تحریر: لال خان

کم وبیش تمام سیاسی پارٹیاں ،تجزیہ کار اور مورخین اس با ت پر متفق ہیں کہ پاکستان کی تاریخ میں 1970ء کے انتخابات ہی غیر متنازعہ ، شفاف اور نسبتاً منصفانہ تھے۔ لیکن ان انتخابات کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان ہی ٹوٹ گیا اور باقی ماندہ مغربی پاکستان میں اس نظام کو بچا لیا گیا اور بھٹو کی قیادت میں اقتدار میں آنے والی پیپلز پارٹی نے اس معاشرے میں سب سے زیادہ ریڈیکل بائیں بازو کی اصلاحات کیں۔ دوسری جانب مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے سے نظام وہاں بھی نہیں بدلا اور وہاں کے محنت کشوں اور غریبوں کی زندگیوں میں ذلت کا خاتمہ بھی نہیں ہوسکا۔ دوسرے الفاظ 1970ء کے انتخابات میں عوام نے جو مینڈیٹ دیا تھا وہ اتنی بڑی تبدیلیوں اور ریڈیکل اصلاحات کے باوجود بھی پورا نہیں کیا جا سکا۔ مشرقی پاکستان جو اب بنگلہ دیش بن چکا ہے وہاں بھی اسی نظام کی رائج ریاست میں نئے تنازعات ، جبر ، خونریزیاں اور وحشیانہ مارشل لا لگتے رہے۔ موجودہ حکومت جو ’’بلامقابلہ‘‘ منتخب ہوئی ہے، کم جابرانہ نہیں ہے۔ پاکستان میں بھٹو نے یہاں کے حکمرانوں کو جو چند خراشیں لگائیں تھیں اس کے انتقام میں بے پناہ افراطِ زر پیدا کی گئی جس سے معیشت کھوکھلی ہوتی چلی گئی۔ اصلاحات کے ذریعے غریبوں کی زندگیاں بہتر کرنے کی صلاحیت اس نظام میں موجود ہی نہ تھی اور پھر سامراج کو آنکھیں دکھانے کے لئے انقلابی سماج کی بنیاد بھی بھٹو کے پاس موجود نہیں تھی۔ ان حکمران طبقات کا انتقام پھر جا کر بھٹو کی معزولی اورعدالتی قتل اور محنت کش عوام، جنہوں نے 1968-69ء کی تحریک اور 1970ء کے انتخابات میں اس نظامِ زر کے خلاف بغاوت کرنے کی جرات کی تھی، پر ایک خونخوار رجعتی آمریت کی وحشت کا مسلط کیے جانا تھا۔ بھٹو نے ان بھیانک نتائج اور متضاد طبقات میں مصالحت کروانے کی غلطی کا اعتراف اپنی آخری تحریر’’اگر مجھے قتل کردیا گیا!‘‘ میں واضح الفاظ میں کیا تھا۔
1980ء کی دہائی میں عالمی طور پر ایسے دیوہیکل منفی واقعات ہوئے جن کے دنیا بھر میں سیاسی اثرات عمومی شعور کو مجروح کرنے کا موجب بنے۔ سوویت یونین کا ٹوٹنا، دیوارِ برلن کا گرنا اور چین میں سرمایہ داری کی دوبارہ استواری کے رجعتی عمل کے آغاز جیسے عوامل پاکستان میں بائیں بازو کی تحریک اور قیادت پر کاری ضربیں بن کر لگے۔ جہاں ضیا الحق کی درندگی بائیں بازو کی تحریک کو نہیں توڑ سکی تھی وہاں ان واقعات نے بہت سے ماسکو اور پیکنگ نواز انقلابیوں کو سوشلزم سے بدظن کر دیا۔ اس کے انتخابی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ لیکن وہ مارکسسٹ جن کو ان واقعات کے ہونے کا پہلے سے ادراک تھا انکی جدوجہد جاری رہی۔
موضوعی طور پر 1970ء جیسے انتخابات سے خوف زدہ بالائی طاقتوں نے جمہوریت اور انتخابات کو ایک کنٹرولڈ طریقہ کار سے چلانے کی واردات شروع کی۔ اس میں تین کلیدی اہداف رکھے گئے۔ پہلا،عوام کی روایتی پارٹی کی قیادت کو سوشلزم سے انحراف اور سرمایہ داری سے مکمل مفاہمت کی ترغیب دی جائے۔ لیکن برطانوی دائیں بازو کے سوشل ڈیموکریٹوں اورامریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے دوستوں کی صحبت میں موجود اس قیادت کو قائل کرنے کے لیے ریاستی ماہرین کو کوئی کوشش ہی نہیں کرنی پڑی!دوسرا حربہ، جس کو ضیا الحق نے جبر سے استعمال کیا وہ معاشرے میں مذہبی فرقہ واریت، تنگ نظر قوم پرستی، نسل، ذات پات، برادریوں اور دوسری ماضی کی تقسیموں میں عوام کو منتشر کرنے کا تھا۔ لیکن جمہوریت کو کنٹرول کرنے کا سب سے فعال ہتھیار منڈی کی معیشت کا بنیادی کلیہ‘ سیاست کی قیمتوں میں اتنا بھاری اضافہ کرلینا تھا کہ جس سے کوئی عام انسان کسی سنجیدگی کے ساتھ کبھی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بارے میں سوچنا بھی چھوڑ دے۔ پھر کیسی غریبوں کی نمائندگی اور مزدوروں کے حقوق کے لئے کسی پارلیمانی ادارے میں کیسی بے لوث اورسچی لڑائی؟
دوسرے الفاظ میں ان اقدامات کا مقصد سیاست سے نظریات کا صفایا کر دینا تھا۔ پارٹیوں میں سے نظریاتی کارکنان کی تطہیر ہونا شروع ہوگئی۔ پیسے والے‘ بڑے عہدوں اور پارٹیوں کے ٹکٹوں کو منڈی میں بولیاں لگا کر خریدنے لگے۔ خصوصاً پیپلز پارٹی میں سوشلزم کا نام لینا بھی ’’غیر اخلاقی‘‘ بنا دیا گیا۔ دولت کی طاقت کے لئے اندھی دوڑ کی اس سیاست میں سبھی رواں دواں ہوگئے اور سیاست کو مجروح اور بیگانہ کر تے چلے گئے۔ کارپوریٹ میڈیا میں مختلف کالے دھن کے بھتہ خوروں، صنعت کاروں، جاگیرداروں اور مافیا کے فنانسروں نے پارٹیوں کا استعمال اسی انداز میں شروع کردیا جیسے انڈین پریمیرلیگ میں کرکٹروں یا ریس میں گھوڑوں پر داؤ لگائے جاتے ہیں۔ سیاسی کارکنان کے پاس بھی اس غربت میں گزرکرنے کا، سوائے ان بڑے ساہوکار اور سیاست دانوں کے مہرے بن کر اجرتیں وصول کرنے کے اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا۔ تمام لوگوں کے لیے سیاسی عمل‘ ایک نظریاتی لڑائی، معاشرے کی تبدیلی اور سماجی نجات کی جدوجہد کی بجائے ایک ذریعہ روز گار بنتا چلا گیا۔ لیکن اس روزگارمیں بھی استحصال کسی فیکٹری یا کھیت میں ہونے والے محنت کش کے استحصال سے کم نہیں تھا۔
1970ء کے انتخابات میں عام کارکنان اور محنت کشوں نے اپنی جیبوں سے چندے کر کے بینر بنوائے،پوسٹر چھاپ کر خود لگائے،کارنر میٹنگز کیں اور پولنگ ایجنٹ بنے۔ اپنی دوپہر کی روٹی باندھ کر رضاکارانہ شوق اور نظریاتی جذبوں سے پولنگ اسٹیشنوں پر ڈیوٹیاں دیں اور ریاست کے پاس خصوصاً اُس عہد کے کردار میں اتنی صلاحیت نہیں تھی کہ وہ انتخابات کے نتائج میں کوئی بڑی ہیرا پھیری کر سکتی۔ لیکن اب پارٹی ممبر شپ کے کارڈوں کی کاپیاں تک کاروباری حضرات اورساہوکار اپنے پیروکاروں کی ممبر شپ سے بھرتے ہیں۔ الیکشن میں پوسٹروں اور بینروں کے ٹھیکے دیئے جاتے ہیں۔ کارنر میٹنگز مختلف علاقوں کے درمیانے مالدار کاروباری کرواتے ہیں۔ پولنگ ایجنٹوں کے لیے اعلیٰ کھانے پیک ہو کر آتے ہیں۔ ووٹوں اور شاختی کارڈوں کی فی ووٹ بولی بھی لگتی ہے۔ جلسے جلوس اب لاکھوں سے تجاوز کر کے کروڑوں یا اس سے بھی زیادہ رقوم کی مالیت کے ہوگئے ہیں۔ اس مالیاتی جمہوریت میں عوام کی بیگانگی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ ووٹ کسی بڑی امید یا رجائیت کی بجائے کسی چھوٹے سے لالچ ، کوئی کام نکلوانے کی کاوش یا ووٹ کے عوض چند پیسوں کی وصولی کے لیے ڈالا جاتا ہے۔ کارل مارکس نے ڈیڑھ سو سال قبل لکھا تھا ’’محکوموں کو ہر چند سالوں میں ایک مرتبہ یہ فیصلہ کرنے کا موقع دیا جاتا ہے کہ جبر کرنے والے حکمران طبقے کے کونسے مخصوص نمائندے ان کی نمائندگی کریں اور اُنہیں پر ظلم بھی ڈھائیں۔‘‘ مارکس کی اس لکھت میں حیران کن حد تک آج پاکستان میں رائج جمہوریت اور انتخابات کی حقیقت بے نقاب ہوتی ہے۔
حکمرانوں کی ان سب ترکیبوں کا کارگر ہونا لاامتناعی نہیں ہوتا۔ ان کے اب تک جاری رہنے میں سب سے کلیدی عنصر اس عہد کا کردار ہے جس میں یہ انتخابات ہوتے ہیں۔ 1970ء کے انتخابات کے پیچھے ایک انقلابی طوفان کا دباؤ تھا۔ تحریک کی پسپائی نے حکمرانوں کو یہ ترکیبیں استعمال کرنے کا موقع دیا ہے۔ لیکن اگر وہ عہد نہیں رہا تو یہ عہد بھی نہیں رہے گا۔ 2008ء کے سرمایہ داری کے سب سے بڑے کریش کے بعد دنیا کے 109 ممالک میں انتخابات ہوئے ہیں۔ ہر انتخاب میں تقریباً ہر پارٹی کا نعرہ ’’تبدیلی‘‘ کا ہی تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کم از کم اس حکمران سیاست کو یہ تو اندازہ ہے کہ عوام اس نظام اور موجودہ صورتحال سے کتنے نالاں اور تنگ ہیں۔ لیکن پاکستان اور دوسرے خطوں کے حکمرانوں کے انتخابی نعرے بھی جعلی ہیں۔ جب سیاست نظریات سے عاری ہوجائے تو پھر اس کے نعرہ بھی کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ 1970ء میں حکمرانوں و بالادست طبقات نے پاکستان میں انقلاب کو روکنے کے لیے اس کو انتخابات کی گلی میں زائل کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ملک تڑوا لیا لیکن نظام کو انقلاب سے بچا لیا۔ لیکن اس بار شاید حکمرانوں کے لیے ایسا کر سکنا ممکن نہیں رہے گا…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*