کشمیر: حالیہ بغاوت کے اسباق

تحریر: لال خان

لائن آف کنٹرول پر ہونے والی فائرنگ جو مخصوص مقاصد کے تحت پالیسیوں کی تشکیل کے لئے مختلف وقفوں سے اور اہم مواقع پر کی جاتی ہے، پھروارکر گئی۔ عید کے روز ایک پانچ سالہ بچی اپنی معصوم جان گنوا بیٹھی۔ یہ واقعہ بہت ہی دلسوز ہے۔ ایسے اہم دنوں پر ایسے ہولناک واقعات بہت گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ بہت سے پتھر دل انسانوں میں بھی درد انسانیت جگا دیتے ہیں۔
کشمیر کے پہاڑ، دریا اور وادیاں اتنی خونریزی، بربریت اور غربت وذلت دیکھ کراداس محسو س ہوتے ہیں۔ لیکن کشمیر کے باسی، خصوصاً نوجوان اس ذلت اور جبر کو جھٹک کر ایک غیض و غضب سے بغاوت پر اترے ہوئے ہیں۔ وہ بے کراں بھی ہیں اور انہوں نے ہار ماننے سے بھی انکار کردیا ہے۔ ایک طرف پاکستانی اور بھارتی افواج دنیا کے بلند ترین میدان جنگ کارگل میں کروڑوں اربوں روپے کے اخراجات سے آمنے سامنے ایک مسلسل تشویش اور تناؤ کو پیدا کئے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب بقیہ کنٹرول لائن کے درجنوں مقامات پر فائرنگ جاری رہتی ہیں۔ تیسری جانب غیر ریاستی مسلح کاروائیوں کا سلسلہ بھی طویل عرصے چلتا رہا ہے۔ لیکن اگر مسئلہ کشمیر کو حقیقی معنوں میں کسی نے ابھارا ہے تو وہ اقوام متحدہ، مغربی سامراجیوں یا نام نہاد ’’عالمی کمیونٹی‘‘ کے نام اپیلیں نہیں ہیں۔ بلکہ یہ کشمیر کے نہتے نوجوان ہیں جنہوں نے کشمیر کے شہر وں، قصبوں اور دیہاتوں میں جو ’’انتفادہ‘‘ کی تحریک چلائی ہے اُس نے دنیا کی پانچویں بڑی فوج اور ریاست کو ایسی مزاحمت اور جرات سے للکارا ہے کہ وہ لرز کر رہ گئی ہے۔ عالمی کارپوریٹ میڈیا کو اس تحریک کی شدت نے مجبور کیا ہے کہ وہ کشمیر کے مسئلے اوروہاں کی عوامی بغاوت کو منظر عام لائے۔ لیکن پچھلے 70 سال میں شاید پہلی مرتبہ کشمیر کے عوام نے ہندوستان کے طول و عرض میں اتنے بڑے پیمانے پر حمایت حاصل کی ہے۔ یہ حمایت اور یکجہتی مذہب کی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ بھارتی ریاست کے جبر کے خلاف سیاسی اور سماجی مہم چلانے والے ترقی پسند ہند و نوجوان اور سیاسی کارکنان اس میں پیش پیش ہیں۔ سب سے نمایاں نام اروندتی رائے کا ہے جس کے دامن پر ہندو بنیاد پرستوں نے آزادی کشمیر کی حمایت کی پاداش میں رسوائی کا ہر داغ لگایا ہے۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ماضی میں بھی کشمیر میں بے شمار عوامی تحریکیں چلی ہیں۔ وہ ہندوستان کے عام انسانوں اور روشن خیال و ترقی پسند قوتوں کی وسیع حمایت کیوں حاصل نہیں کرسکیں؟ ایسے کیوں ہوا کہ کشمیر کی تحریک کے حق میں جواہر لال یونیورسٹی دہلی جیسے نیم اشرافی ادارے کے طلبہ نے اتنے زور دار طریقے سے آواز بلند کی۔ پھر ہندوستان کی 18 ریاستوں کی بڑی یونیورسٹیوں، اداروں اوریونینوں نے اس تحریک کے حق کے مظاہرے کئے۔ اس کی سب سے اہم وجہ اور عنصر کشمیر کی حالیہ تحریک کا سیاسی کردار ہے۔ یہ ایک نئی نسل کی تحریک ہے۔ 1987ء میں جب کشمیر میں عوامی مزاحمت اور جدوجہد کی ایک نئی لہر ابھری تھی تو اس وقت حالیہ تحریک میں سرگرم نوجوانوں میں سے بیشتر پیدا بھی نہیں ہوئے ہوں گے۔ اس 30 سال کی جدوجہد میں بہت سے عروج و زوال تھے۔ اس میں بہت سی خوبیاں اور کمزوریاں بھی تھیں۔ لیکن حالیہ تحریک نے شاید اپنی روایات سے سبق سیکھ کر ماضی کی بہت سی سیاسی اور تنظیمی خامیوں کو دور کیا ہے۔ سب سے پہلے تو اس تحریک کے خصوصاً تازہ مراحل میں خواتین کا ہراول کردار اس بات کی غمازی کرتاہے کہ یہ کوئی رجعتی اور صنفی جبر کو تسلیم کرنے والی تحریک نہیں ہے۔ دوسرے یہ تحریک تمام تر مذہبی و فرقہ وارانہ تعصبات اور منافرتوں سے آزاد ہو کر میدان میں اتری۔ تیسرے یہ کہ اس تحریک نے اپنے آپ کو کسی تنگ نظر قوم پرستی کے خول میں بند نہیں کیا بلکہ اس کے مطالبات اور طریقہ کار میں طبقاتی جدوجہد اور سماجی اور معاشی مسائل کے حل کی لڑائی کا عنصر نمایاں تھا۔ لیکن سب سے اہم یہ کہ بھارتی ریاست کے لئے ماضی میں کشمیر کی تحریکوں پر دہشت گردی کا لیبل لگا کر کچلنا آسان ہوتا تھا۔ لیکن حالیہ تحریک میں مسلح کاروائیوں کا عنصر بہت محدود او ر عام تحریک سے کٹا ہوا تھا۔ نہتے نوجوان لڑکے اورلڑکیاں میدان میں نکل کر اتنی دیوہیکل قوت کو للکار رہے ہیں، اس سے نبرد آزما بھی ہیں اور ایسے محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے موت کے خوف کو فتح کر لیا ہے۔ ایسی جرات اور جذبہ ہر نوجوان اور محنت کش میں سچائی اور ضمیر کی آواز کو ابھارتا ہے۔ لیکن جب مہنگائی، غربت، محرومی اور بیروزگاری جیسے بنیادی اجتماعی مسائل کو آزادی کی تحریک اور پروگرام کے ساتھ جوڑکر اس کا حصہ بنا دیا جاتا ہے تو اس آزادی کے معنی اور مقصد بہت صاف اور واضح بھی ہو جاتے ہیں۔ اس میں کشش بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ محرومیوں کا یہ رشتہ دوسری قوموں، مذاہب اور خطوں کے محنت کشوں اور نوجوانوں میں بھی تحریک سے جڑت اور ہمدردی کے جذبات پیدا کر دیتا ہے۔ یہی مظہر ہمیں کشمیر کی حالیہ تحریک میں نظر آیا ہے۔ اس سے زیادہ خطرناک صورتحال بھارتی حکمرانوں کے لیے کوئی اور نہیں ہوسکتی تھی۔ لائن آف کنٹرول اور ریڈکلف لائن کے اِس پار بھی اس تحریک کو سراہا گیا۔ لیکن مختلف مذہبی، سیاسی اور سرکاری پارٹیوں اور اداروں نے اس تحریک کو اپنے نظریات میں فٹ کرنے اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ حالانکہ حق رائے دہی تحریک کا بنیادی مطالبہ ہے اور دونوں اطراف کے کشمیری عوام اپنے مقدر کا جو بھی فیصلہ کرنا چاہیں انہیں پوری آزادی ہونی چاہئے۔ اُن کو زبردستی کسی نظریے یا ریاست سے منسلک کرنا انکے حقوق کی پامالی اور انکی جدوجہد آزادی کی تضحیک ہے۔ اگر وہ خود مختار کشمیر حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ بھی اُن کا حق ہے اور اگر وہ اپنے مسائل کے حل اور قومی آزادی کے ساتھ ساتھ برصغیر کے کسی بھی خطے کے ساتھ یکجا ہونا چاہتے ہیں تو اس میں تمام فریقوں کی رضاکارانہ شمولیت لازم ہونی چاہیے۔
گزشتہ دنوں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھی ایک بہت بڑی ’انتفادۂ کشمیر کانفرنس‘ 1963ء سے قائم شدہ جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF) نے راولا کوٹ میں منعقد کی۔ یہ کانفرنس نہ صرف اُس پار جاری تحریک اور جدوجہد کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے تھی بلکہ اس میں لائن آف کنٹرول کے اِس طرف کے عوام کے سلگتے ہوئے سماجی و معاشی مسائل اور محرومی کو بھی اجاگر کیا گیا۔ یہ انتفادۂ کشمیر کانفرنس کشمیر کی جدوجہد آزادی کو یہ پیغام دے رہی تھی کہ مہنگی تعلیم، غربت اور بیروزگاری سے بدحال نوجوانوں کو پورے برصغیر میں اس نظام کے خلاف مشترکہ جدوجہد میں یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ گلا سڑا سرمایہ دارانہ نظام ہی ماضی کے تعصبات پرمبنی منافرتیں پھیلا کر کشمیر اور برصغیر کے محنت کشوں کو نہ صرف قومی جبر کا شکار کرتا ہے بلکہ ان کو محروم اور محکوم بنا کر دنیا بھر میں روزگار کے لیے ٹھوکریں کھانے اور کشمیر جیسی جنت ارضی کو چھوڑ کر دربدر ہونے پر مجبور کرتا ہے۔ کشمیر، برصغیر اور دنیا بھر کے محنت کشوں کا مقدر یہ نہیں ہے۔ یہ اذیتیں اور محرومیاں اِس نظام اور اِس کے رکھوالے حکمرانوں نے مسلط کی ہیں۔ لیکن بھارتی مقبوضہ کشمیر میں چلنے والی تحریک خصوصاً برصغیر جنوب ایشیا میں ایک ایسی روشن مثال ہے جو یہ پیغام دے رہی ہے کہ ایک مرتبہ جدوجہد ابھر جائے اور جذبے سچے ہوں تو بڑے بڑے جابر حکمران اور ریاستیں بھی مفلوج ہو کررہ جاتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*