کارل مارکس تاریخ کی عدالت میں

تحریر: لال خان

کارل مارکس کی ایک سو ننانوے ویں سالگرہ اس سال پانچ مئی کو منائی گئی۔ ایک دفعہ پھر مارکس کارپوریٹ میڈیا اور زرخرید دانشوروں کی تنقید کا موضوع رہا: ’مارکسزم تو ناکام ہوچکا ہے!‘ سوویت یونین کے انہدام، چینی افسرشاہی کی منڈی کی معیشت کی طرف واپسی اور دیوار برلن کے گرنے کے بعد کارل مارکس کے سائنسی سوشلزم کے نظریے کو بدنام اور بے توقیر کرنے کے لیے بے تحاشا پروپیگنڈا کیا گیا۔ پاکستان اور دوسرے ممالک میں ماسکو، پیکنگ اور یورپ میں کی اندھی پیروی کرنے والے خود ساختہ کمیونسٹوں نے مارکسزم پر ہونے ان بے ہودہ حملوں کا بھرپور ساتھ دیا۔ حکمران طبقات کی فکر و دانش نے بار بار انقلابی سوشلزم کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکنے کی باتیں کیں، لیکن جوں جوں سرمایہ داری کا اپنا بحران اور انتشار بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے، مارکس کے نظریات بار بار اپنی سچائی ثابت کر رہے ہیں۔
جس وقت سے مارکس کے نظریات نے اس طبقاتی استحصال کے نظام کو چیلنج کیا ہے، اس نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں اور اُن کے گماشتوں کی نفرت اور بہتان تراشی کو دعوت دی ہے، کیونکہ مارکسزم ایک ایسی سائنس ہے جو سرمائے کی اِس وحشیانہ حکمرانی کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے محنت کش طبقات کی رہنمائی کرتی ہے۔ ایسے میں اور بھلا کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ طبقاتی کشمکش پر مبنی سماج میں کوئی ’غیرجانبدار‘ سماجی سائنس نہیں ہوتی، سب سے بڑی منافقت اور ڈھونگ یہ ’غیرجانبداری‘ ہوتی ہے۔ تمام تر مروجہ نظریات کسی نہ کسی طریقے سے سرمایہ داری کا دفاع کرتے ہیں، جبکہ مارکسزم نے طبقاتی جبر و استحصال کے خلاف ایک بے رحم جنگ کا اعلان کر رکھا ہے۔ ایسے سماج میں جہاں منافع بنیادی طور پر محنت کش طبقات کی چوری شدہ محنت ہے وہاں یہ سوچ انتہائی بچگانہ ہے کہ محنت کشوں اور غریبوں کا استحصال کرنے والے ان سے کوئی انصاف برت سکتے ہیں۔
تاہم سوویت یونین کا انہدام ایک دیوہیکل تاریخی واقعہ تھا، جس نے پوری دنیا اور بالخصوص سابقہ نوآبادیاتی ممالک پر منفی اثرات مرتب کیے، جہاں اپنے ملکوں کی انتہائی پسماندگی اور بربادی کے مقابلے میں روس میں سماجی اور مادی انفراسٹرکچر میں ہونے والی بے تحاشا ترقی کو رشک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ لیکن آج جس چیز کو چھپایا جاتا ہے وہ یہ کہ صرف مارکسسٹوں نے ہی سوویت یونین کے انہدام کی مشروط پیش گوئی کی تھی اور نامور یونیورسٹیوں کے نامور پروفیسروں اور ’نظریہ دانوں‘ میں سے کوئی ایک بھی اس کی پیش گوئی نہیں کرسکا۔ سب سے بڑھ کر بالشویک انقلاب کے قائد ولادیمیر لینن نے 1921ء میں سوویت قیادت کے فرائض وضع کیے اور خبردار کیا کہ اگر یہ نہ ہوئے تو ’’انقلابِ روس کی زوال پذیری ناگزیر ہے۔‘‘ اسی طرح لیون ٹراٹسکی نے 1936ء میں اپنے بیش قیمت تجزئیے ’’انقلاب سے غداری‘‘ میں مارکسزم کی سائنسی بنیادوں پر سوویت یونین کے انہدام کی مشروط پیش گوئی کی تھی۔
اس لیے مارکسزم کی سائنس کی سمجھ اور پرکھ رکھنے والوں کے لیے 1991ء میں سوویت یونین کا انہدام کوئی ایسا دھچکا نہیں تھا کہ طبقاتی جدوجہد ہی ترک کر دی جاتی۔ لیکن سوویت یونین کے بعد کے عرصے میں ایک نئی نسل جوان ہوئی ہے۔ مارکسزم کے خلاف بہتان تراشی آج بھی اپنے زوروں پر ہے، جو بذات خود اُس کے نظریات کی سچائی کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
انقلابی لمحات تاریخ کے غیر معمولی ادوار ہوتے ہیں۔ عام ادوار میں رجعتی اور قدامت پسند رجحانات سماجی اور سیاسی ماحول پر حاوی رہتے ہیں۔ لیکن انقلابات اچانک ابھر کر باشعور ترین انقلابیوں کو بھی حیران کر سکتے ہیں۔ لیون ٹراٹسکی ’’انقلابِ روس کی تاریخ‘‘ میں لکھتا ہے: ’’لیکن سیاسی بہتان تراشی اتنی گھٹیا اور یک رنگی کیوں ہوتی ہے؟ کیونکہ سماجی سوچ بڑی کفایت شعار اور قدامت پسند ہوتی ہے۔ یہ ضرورت سے زیادہ تگ و دو نہیں کرتی۔ جب تک کچھ نیا تخلیق کرنے پر مجبور نہ ہو جائے، یہ پرانے سے ہی کام چلانے کو ترجیح دیتی ہے۔ لیکن جب نیا تخلیق کرنے پر مجبور ہو بھی جاتی ہے تو اس میں پرانے کے عناصر شامل کر دیتی ہے… شیکسپیئر کی تخلیقی دانش انہی موضوعات پر پروان چڑھی تھی جو اُسے قدیم وقتوں سے ملے تھے۔ پاسکل نے خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لئے امکانیت (Probability) کی تھیوری کا استعمال کیا۔ نیوٹن نے کشش ثقل کے قوانین دریافت کئے لیکن الہام پر یقین رکھتا تھا۔ مارکونی نے جب پوپ کی رہائش گاہ پر وائرلیس سٹیشن قائم کیا تو پوپ نے اسی ریڈیو کے ذریعے اپنی روحانی برکت تقسیم کی۔ عام حالات میں یہ تضادات اونگھتے رہتے ہیں، لیکن انقلاب کے وقتوں میں دھماکہ خیز قوت حاصل کر لیتے ہیں۔ جب مراعت یافتہ طبقات کے مادی مفادات کو خطرہ لاحق ہوتا ہے تو وہ اُن تمام تعصبات اور تذبذب کو حرکت میں لے آ تے ہیں جو انسانیت اپنے چھکڑے میں اپنے پیچھے گھسیٹ رہی ہوتی ہے۔‘‘
مارکس پر تنقید کرنے والے اکثر لوگوں نے اُس کا لکھا ایک لفظ بھی نہیں پڑھا ہوتا۔ جو لوگ تدریسی مقاصد کے لیے اسے پڑھتے ہیں اُن میں سے بیشتر اس انقلابی نظرئیے کے جوہر کو نہیں سمجھ سکتے۔ مارکس نے 160 سال پہلے پیش گوئی کی تھی کہ سرمایہ داری اپنی عالمگیریت کے ارتقا میں ایک ایسے مرحلے پر پہنچے گی جب دولت کا ارتکاز کم سے کم ہاتھوں میں ہوگا اور انسانیت کی اکثریت بربادیوں اور محرومیوں کا شکار ہوگی۔ آج صرف آٹھ افراد کے پاس ساڑھے تین ارب انسانوں سے زیادہ دولت ہے جبکہ نسل انسانی کی دوتہائی اکثریت بدترین غربت اور محرومی کے مختلف درجوں میں زندگی گزار رہی ہے۔ انسانی تاریخ میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج کبھی بھی اتنی وسیع نہیں تھی۔ لیکن دوسری طرف پہلی دفعہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے وہ پیداواری صلاحیت پیدا کردی ہے کہ اگر ذرائع پیداوار کو نجی ملکیت اور منافع کی زنجیروں سے آزاد کیا جائے اور پیداوار کا مقصد شرح منافع کے حصول کی بجائے انسانی ضروریات کی تکمیل میں تبدیل کیا جائے تو نسل انسانی کو استحصال اور مانگ سے حتمی طور پر آزاد کیا جاسکتا ہے۔
صرف مارکسزم کے پاس ہی وہ جامع نظریات اور پروگرام ہے جس کی بنیاد پر انسانیت کی آزادی کے لیے بنیادی سماجی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ لینن نے اپنے ایک مضمون’’مارکسزم کے تین اجزائے ترکیبی‘‘ کے مقدمے میں لکھا تھا، ’’مارکسزم ناقابل شکست ہے کیونکہ یہ سچ ہے۔ یہ جامع اور مربوط ہے اور ہمیں ایک مکمل عالمی نظریہ فراہم کرتا ہے جو ہر طرح کی توہم پرستی، رجعت یا بورژوا جبر کے دفاع کے خلاف ہے۔ صرف مارکس کی فلسفیانہ مادیت نے ہی پرولتاریہ کو اس روحانی غلامی سے نکلنے کا راستہ دکھایا ہے جس میں تمام محکوم طبقات اب تک جکڑے ہوئے تھے۔ صرف مارکس کے معاشی نظریے نے ہی سرمایہ دارانہ نظام میں پرولتاریہ کے حقیقی مقام کو واضح کیا ہے۔‘‘
مارکس کی اپنی زندگی میں سب سے اہم انقلاب 1871ء کا پیرس کمیون تھا جسے متحارب جرمن اور فرانسیسی حکمران طبقات نے مل کر خون میں ڈبو دیا۔ اس انقلاب کی شکست کے اثرات بہت وسیع تھے۔ لیکن مارکس کبھی بھی سماج کی انقلابی تبدیلی اور انسانیت کے روشن اور خوشحال مستقبل سے مایوس نہیں ہوا۔ اسے پورا یقین تھا کہ سوشلسٹ فتح سے انسانیت ’’ضرورت کی دنیا سے آزادی کی دنیا میں قدم رکھے گی۔ ‘‘ اپنے ایک شاہکار کتاب ’’لوئی بوناپارٹ کی اٹھارویں برومیئر‘‘ میں مارکس نے اپنی انقلابی رجائیت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’انسان اپنی تاریخ خود بناتے ہیں لیکن ایسا وہ اپنی مرضی سے نہیں کرتے۔ وہ اپنے منتخب کردہ حالات میں ایسا نہیں کرتے بلکہ پہلے سے موجود حالات کے تحت کرتے ہیں۔ پرانی نسلوں کی روایات کا بوجھ زندہ لوگوں کے دماغوں پر ایک ڈراؤنے خواب کی مانند ہوتا ہیں۔ جب وہ انقلاب کرتے ہیں اور کوئی نئی چیز تخلیق کرتے ہیں تو ایسے ہی انقلابی بحرانوں کے دوران وہ ماضی سے نام، جنگی نعرے اور لباس نکال لاتے ہیں تاکہ عالمی تاریخ میں اس نئے منظر کو روایتی بہروپ اور مستعار لی گئی زبان میں پیش کر سکیں۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*