معاشی بحران اور کم سے کم اجرت کی لڑائی

| تحریر: جان پیٹرسن، ترجمہ: حسن جان |

’’عظیم کسادبازاری‘‘ توجون 2009ء میں ’تکنیکی‘ لحاظ سے ختم ہوگئی لیکن درحقیقت اصل چیز مکمل روزگار کی عدم فراہمی اور معیار زندگی میں مسلسل ابتری ہے۔ سرمایہ داری کی ان چیزوں کی فراہمی میں ناکامی انفرادی بد اندیشی یا لاپرواہی کی وجہ سے نہیں ہے ،گوکہ وال سٹریٹ ان جیسے لوگوں سے بھری ہوئی ہے،بلکہ اس وجہ سے ہے کہ سرمایہ داری میں روزگار اور اجرتوں کی فراہمی نظام کے وجود کے اصل مقصد یعنی منافع کی نسبت ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک سماجی معاشی نظام کی نامعقولیت اور اندرونی تضاد ہے جو صرف مزدوروں کے استحصال کے ذریعے ہی قائم رہ سکتا ہے لیکن جو تمام اہل، روزگار کے خواہش مند اور دستیاب مزدوروں کی صلاحیتوں کو استعمال کرنے سے قاصر ہے جس کی وجہ سے لاکھوں لوگ روزانہ روزگار کی تلاش میں ذلیل ہوتے ہیں لیکن روزگار ہے کہ ملتا ہی نہیں۔
جان مینارڈ کینز سرمایہ داری کو مزدور انقلاب سے بچانے کے لیے حکومت کی جانب سے خسارے کی سرمایہ کاری کی تجویز دینے کے لیے مشہور ہے۔ 1935ء میں اس کے اندازوں کے مطابق ہفتہ وار پندرہ گھنٹے کے اوقات کار کے ذریعے تمام مزدوروں کو روزگار دیا جاسکتا تھا اور سرمایہ دار بھی مزدوروں کا استحصال کرکے خوب شرح منافع بھی کما سکتے تھے۔ یقیناًمارکسسٹ سرمایہ دارانہ استحصال کے ہی خلاف ہیں لیکن یہاں پر اصل بات یہ ہے: اگر آٹھ دہائیاں پہلے کی ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر کمتر ہفتہ وار اوقات کار اور سب کے لیے مناسب معیار زندگی ممکن تھا تو صرف تصور کریں کہ آج ہم کتنا آگے جا سکتے ہیں۔
لاکھوں امریکیوں کی معاشی زندگی نہ صرف رکی ہوئی ہے بلکہ اب تو ڈوبنے کے قریب ہے۔ اس کا سب سے اہم پیمانہ کم سے کم وفاقی اجرت ہے۔ پہلے 1938 میں یہ 25 سینٹ فی گھنٹہ تھی جو بڑھتے بڑھتے 2009ء میں 7.25 ڈالر ہوگئی۔ 1968ء میں افراط زر سے منسلک قوت خرید کے حساب سے یہ اپنی بلند ترین سطح 8.67 ڈالر پر تھی، جبکہ آج کی کم سے کم اجرت حقیقی اصطلاح میں سینتالیس سال پہلے کی نسبت ایک ڈالر کم ہوگئی ہے اور 2009ء کے بعد افراط زر کی وجہ سے اس کی قدر میں 8.1 فیصد کمی ہوئی ہے۔سینٹر فار اکنامک اینڈ پالیسی ریسرچ کے مطابق مزدور کی پیداواریت کے حساب سے کم سے کم اجرت کو 2012ء میں 21.72 ڈالر ہونا چاہیے تھا۔ تقریباً 3.7 ملین مزدور 7.25 ڈالر یا اس سے بھی کم کماتے ہیں۔ باروزگار امریکیوں کا 42 فیصد پندرہ ڈالر یا اس سے کم کماتے ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری طور پر آٹھ ملین بیروزگار اور لاکھوں دوسرے بھی ہیں جن کو اب بیروزگاروں میں شمار بھی نہیں کیا جاتا۔
حالیہ سالوں میں مزدور وں نے ’’پندر ہ ڈالر کے لیے جنگ‘‘ تحریک کا آغاز کیا ہے، یہ مالکان کی جانب سے دہائیوں پر مشتمل حملوں کے خلاف مزدوروں کی جنگ ایک انتہائی اہم آغاز ہے۔ لیکن حتیٰ کہ پندرہ ڈالر بھی ملک کے مختلف حصوں میں ’’مناسب اجرت‘‘ کے حوالے سے بہت کم ہے۔ نیو جرسی کے ایک مزدور کو ریاستی کم سے کم اجرت 8.38 ڈالر کے لیے ہفتہ وار 94 گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے تاکہ ضروریات زندگی پوری کی جاسکے۔اندازاً ایک بالغ شخص کے لیے کم سے کم مناسب اجرت 19.76 ڈالر ہے۔ ہوائی میں ایک بالغ شخص کو ریاستی کم سے کم اجرت 7.75 ڈالر کے لیے ہفتہ وار 100.7 گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے ، جبکہ وہاں کم سے کم مناسب اجرت اندازاً 21.44 ڈالر ہے۔ اب اس کو 2012ء کے500 امیر سی ای اوز کی سالانہ اوسط تنخواہ یعنی 10.5 ملین ڈالر سے موازنہ کریں۔ اس رقم کو باون ہفتوں اور ہفتہ وار چالیس گھنٹوں پر تقسیم کریں تو فی گھنٹہ پانچ ہزار ڈالر بنتا ہے جو کم سے کم اجرت پر کام کرنے والے مزدور کی اجرت سے سات سو گنا زیادہ ہے۔
جب ہم نے 2001ء کی خزاں میں سوشلسٹ اپیل کا آغاز کیا تو ہم نے اپنے پروگرام میں ’’سب کے لیے مناسب اجرت، قومی سطح کی کم سے کم اجرت کو اوسط اجرت کا دو تہائی ہونا چاہیے۔ کوئی استثنیٰ نہیں ہوناچاہیے۔ اجرتوں کو افراط زر سے منسلک کردینا چاہیے‘‘ شامل کیا۔ چند سال بعد ہم نے اس کو زیادہ ٹھوس بنایا اور 16 ڈالر فی گھنٹہ کا مطالبہ شامل کیا جو اس وقت کے مطابق تقریباً ’’اوسط اجرت کا دو تہائی‘‘ تھا۔ لیکن اب اس مطالبے کی تجدید کی ضرورت ہے۔ ایک سیر حاصل بحث کے بعد ہماری قومی قیادت نے متفقہ طور پر اس مطالبے کواخراجات زندگی کی تبدیل ہوتی قیمتوں اور افراط زر سے منسلک 25 ڈالر فی گھنٹہ کردیا ۔
یہ اب بھی سوشلزم سے بہت دور ہے۔ لیکن ہمارے پروگرام میں موجود مطالبات خلا میں معلق نہیں ہیں۔ بحیثیت مجموعی یہ سماج کی بنیادوں کو تبدیل کرنے لیے ایک عبوری پروگرام ہے۔ ہمارے پروگرام کا مقصد مزدوروں کے سیاسی شعور کو بڑھانا ہے کہ اگر سماج کو عقلی بنیادوں پر منظم اور مزدور جمہوریت کی بنیاد پر چلایا جائے تو کیا کچھ ممکن نہیں ہے۔ کم سے کم اجرت میں اضافے کا مطالبہ اور بہت سے دوسرے ’’بنیادی‘‘ اصلاحات، جن کی ہم بات کرتے ہیں، منافع کے نظام کے اندر رہتے ہوئے لاگو نہیں ہوسکتے ہیں۔ اپنے مطالبات کی تیاری کے وقت ہم یہ نہیں دیکھتے کہ سرمایہ داری کے مصنوعی حدود کے اندر ’’کیا ممکن ہے‘‘ بلکہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اکثریت کی معروضی ضروریات کیا ہیں ، سماج میں مادی دولت کتنی ہے، اور اس دولت میں سوشلزم کے تحت کتنا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ سب کرنے کے لیے ہمیں مضبوط یونین اور سوشلسٹ پروگرام کی حامل لیبر پارٹی کی ضرورت ہے۔ اس کام کے لیے ہمیں تنظیم ، وسائل اور تعداد کی ضرورت ہے۔ انسانیت ’’کم سے کم‘‘ سے بھی زیادہ کی مستحق ہے۔

متعلقہ:

اجرت میں اضافے کی لڑائی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*