پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کی غنڈہ گردی

تحریر: لال خان

پچھلے کچھ ہفتوں سے تشدد کی ایک نئی لہر نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ 1970ء کی دہائی کے وسط سے اس تاریخی ادارے پر جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ اسلامی جمعیت طلبہ کا تسلط رہا ہے جس نے ادارے کے ماحول کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ کافی عرصے سے یونیورسٹی کیمپس میں اس کے جبر کو کسی سنجیدہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ لیکن حالیہ دنوں میں زیادہ تر قوم پرست تنظیموں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی مزاحمت نے پنجاب یونیورسٹی پر ان کے غلبے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
سوموار 22 جنوری کو یونیورسٹی کے الیکٹریکل انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ میں اسلامی جمعیت طلبہ اور پشتون اور بلوچ طلبہ کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد طلبا زخمی ہوئے۔ پولیس نے متعدد طلبہ کو گرفتار کرلیا۔ ڈپارٹمنٹ میں توڑ پھوڑ ہوئی اور ایک کمرے کو آگ لگا دی گئی۔ سرائیکی اسٹوڈنٹس کونسل نے بھی کہا ہے کہ ان کے تین طلبہ کو جمعیت والے اغوا کرکے لے گئے اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ پچھلے سال بہار میں جمعیت نے پشتون طلبہ کے ایک ثقافتی پروگرام پر حملہ کیا تھا حالانکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس پروگرام (21 مارچ 2017ء) کی اجازت دے رکھی تھی۔ جمعیت کے غنڈوں کے حملے میں متعدد طلبہ زخمی اور کم از کم پانچ ہسپتال داخل ہوئے تھے۔
اسلامی جمعیت طلبہ دائیں بازو کی ایک رجعتی اور بنیادپرست تنظیم ہے جس کے پیچھے ایسے ہتھکنڈوں کی پوری تاریخ ہے۔ یہ تعلیمی اداروں میں ایک طرح کی غیر رسمی اخلاقی پولیس کا کام کرتی ہے۔ اداروں میں ہر طرح کی ثقافتی سرگرمیوں، ترقی پسند رجحانات اور تعمیری بحث و مباحث کوغنڈی گردی کے ذریعے روکنا اس تنظیم کا شیوہ رہا ہے۔ ایک یونیورسٹی اہلکارکے مطابق پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے ’یونیورسٹی کیمپس میں جمعیت کی منفی سرگرمیوں‘ کے حوالے شکایت بھی کی ہے۔ لیکن حکومت نے ان کو روکنے کیلئے کبھی کوئی مؤثر اقدامات نہیں کئے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بالخصوص ضیاالحق کے دور سے جمعیت کو ریاست اور انتظامیہ کے کچھ حصوں کی پشت پناہی ہمیشہ حاصل رہی ہے۔
بدھ 24 جنوری 2018ء کو انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے پنجاب یونیورسٹی کی حالیہ جھڑپوں میں شمولیت کے الزام میں 13طلبہ کو سات روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا اور مزید 183 طلبہ کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق انہوں نے مجموعی طور پر 225 طلبہ کو گرفتار کیا تھا۔ اگرچہ حکام نے گرفتار طلبہ کی شناخت اور ان کی تنظیمی وابستگیوں کو چھپایا ہے لیکن اقبال ٹاؤن کے ایس پی رانا عمر فاروق نے راز اگل دیا۔ اس نے غیر جانبداری کا ناٹک کرنے کی کوشش میں کہا کہ ’’ہم نے بغیر تفریق کے ایکشن لیا اور پشتون اور بلوچ کونسل کی اعلیٰ قیادت کو گرفتار کیا ہے۔‘‘ جب جمعیت کیخلاف اقدامات کے حوالے سے سوال کیا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ ’’بہت جلد جمعیت کے ناظم اور کیس میں نامزد دیگر عہدیداروں کو گرفتار کیا جائے گا۔‘‘
پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی اسلامی جمعیت طلبہ کی پس پردہ حمایت 23 جنوری کو اس وقت واضح ہوگئی جب یونیورسٹی کیمپس سے دور لاہور پریس کلب کے سامنے اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے احتجاج کرنے والے بلوچ، پشتون، سرائیکی کونسل اور این ایس ایف کے طلبہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے برعکس جمعیت کے دھرنوں اور ’احتجاجوں‘ میں کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا۔
جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ کو 1974ء کے بعد اس وقت کچھ مقبولیت ملنا شروع ہوئی جب بھٹو حکومت کی اصلاحات طلبہ، نوجوانوں اور محنت کشوں کی توقعات پر پوری نہیں اتریں۔ اس سے پہلے سوویت – چین تنازعے کی وجہ سے بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور ایک خلا پیدا ہونا شروع ہواتھا۔ جمعیت نے بائیں بازو کی نقالی میں ’سٹڈی سرکلوں‘ کا انعقاد شروع کیا۔ ان نام نہاد سٹڈی سرکلوں میں نئے طلبہ کو مودودی کی تحریریں اور نظریات پڑھائے جاتے تھے۔ یہ طلبہ اور طالبات زیادہ تر دیہی علاقوں اور لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔ شہری زندگی ان کے لیے کسی حد تک بیگانہ تھی۔ طبقاتی فرق کے اسی احساس کمتری سے چھٹکارا پانے کے لیے وہ اس پرتشدد تنظیم کا حصہ بننے لگے۔ دوسری طرف بائیں بازو کے طلبہ نالاں تھے کہ بھٹو نے 1973ء میں پیپلز پارٹی سے بائیں بازو کے سخت گیر عناصر کو نکال دیا تھا اور بعد میں بلوچستان میں قومی آزادی کی جنگ میں مصروف باغیوں کے خلاف فوج بھیجی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ بھٹو پیپلز پارٹی کے حقیقی سوشلسٹ منشور کو پس پشت ڈال رہا ہے، 1974ء کے بعد کی کابینہ میں جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کو لا کر بائیں بازو کو کنارے سے لگا رہا ہے اور بنیاد پرستوں کے دباؤ میں آ رہا ہے۔ یوں پیپلز پارٹی کی حمایت کرنے والی واحد طلبہ تنظیم پارٹی کا اپنا طلبہ ونگ پی ایس ایف ہی بچا۔ یہ وہ معروضی اور موضوعی وجوہات تھیں جن کی وجہ سے جمعیت نے کسی حد تک طلبہ میں اپنی بنیادیں بنائیں۔
جب ضیاالحق نے ’’پاکستان کو اسلامی بنانے میں معاونت‘‘ کے لئے اپنی پہلی کابینہ میں جماعت اسلامی کے ارکان کو شامل کیا تو اسلامی جمعیت طلبہ کی بدنام زمانہ ’’تھنڈر سکواڈ‘‘، جسے 1960ء کی دہائی میں لاہور اور کراچی کی یونیورسٹیوں میں بائیں بازو کے طلبہ سے مقابلے کے لیے بنایا گیا تھا، نے وحشت کی انتہا کر دی۔ ضیا کی وحشی آمریت کی مکمل حمایت اور تعاون سے اسلامی جمعیت طلبہ نے کیمپسوں میں ’شریعت‘ نافذ کی اور بالخصوص طالبات کو نشانہ بنایا۔ یہ افغان ڈالر جہاد کا وہ دور تھا جب امریکہ سے ’’مجاہدین‘‘ کے لیے خوب اسلحہ اور مال آ رہا تھا۔ یہی ہتھیار جمعیت کو بھی دئیے گئے اور ریاست اور امریکی سامراج نے بائیں بازو اورٹریڈ یونین کارکنان کو کچلنے کے لیے اسے اپنی ’بی‘ ٹیم کے طور پر استعمال کیا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ یہ مسلح غنڈے اپنی مدر پارٹی کے قابو سے بھی باہر ہوگئے۔ تاہم جمعیت کے اس جبر کے خلاف ردعمل بھی سامنے آیا۔ 1983ء میں پورے ملک میں طلبہ یونین کے انتخابات میں جمعیت کو بدترین شکست ہوئی۔ ضیا آمریت نے پہلے 1979ء میں طلبہ یونین پر پابندی لگائی تھی لیکن بعد میں اس حکم نامے کو ختم کر دیا تھا۔ تاہم 1983ء میں طلبہ یونین پر مستقل پابندی لگا دی گئی۔ یہ وہ آخری سال تھا جب پاکستان میں ملکی سطح پر طلبہ یونین کے انتخابات ہوئے۔ اس طرح پاکستان میں طلبہ یونین کے اس درخشاں عہد کا اختتام ہواجب طلبہ سیاسی جدوجہد کرتے ہوئے اپنے مطالبات منواتے تھے۔
اسی وقت سے ترقی پسند طلبہ تنظیموں پر پابندی ہے لیکن اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی پر مسلط ہے۔ جماعت اسلامی ہمیشہ پنجاب میں مختلف حکومتوں سے ساز باز کرتی ہے اور جمعیت کے غنڈوں پر ہاتھ نہیں ڈالا جاتا۔ اس کے سابق اراکین ریاستی بیوروکریسی اور دائیں بازو کی پارٹیوں میں اہم عہدوں پر موجود ہیں۔ ان دوغلے معیاروں کی وجہ سے پشتون، سرائیکی اور بلوچ طلبہ مشتعل ہیں اور ان کی قومی محرومی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ لیکن جمعیت کے اِس جبر کو تمام قومیتوں کے ترقی پسند طلبہ کی مشترکہ قوت ہی شکست دے سکتی ہے۔ نام نہاد جمہوری حکومتوں میں سے کسی نے بھی نہ تو طلبہ یونین کو بحال کیا نہ ہی ضیا کی رجعتی آئینی ترامیم کا خاتمہ کیا۔ ان بدعنوان سیاسی ٹولوں کے ہوتے ہوئے اس طرح کی تبدیلی ناممکن ہے۔ اِس نظام کے خلاف طلبہ کی جدوجہد درکار ہے جو 1968-69ء کی طرح ملک گیر انقلاب کا نقطہ آغاز بنے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*