امریکی فوجوں کا انخلا: زوال پذیر سامراج کی عسکری پسپائی

تحریر: راہول

پچھلے کئی برسوں سے مسلسل تباہی و بربادی پھیلانے کے بعد 19 دسمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں دولتِ اسلامیہ (داعش) کے خلاف اپنی ’’فتح ‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے وہاں سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا اعلان کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان میں بھی فوجیوں کی تعدا د میں مزید کمی کا اعلان کیا گیا ہے ۔ توقع یہ کی جارہی ہے کہ امریکی صدر کے اس اعلان کے نتیجے میں شمالی شام سے آئندہ سو دنو ں میں تقریباً دو ہزار فوجیوں کے انخلا کو ممکن بنایا جائے گاجبکہ افغانستان میں موجود چودہ ہزار فوجیوں میں سے پانچ ہز ار کو واپس بلایا جا رہاہے۔
امریکی صدر کے اس ’اچانک‘ فیصلے کے چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی ٹرمپ انتظامیہ میں اختلافات کھل کے منظر عام پر آگئے اور امریکی سیکرٹری دفاع ’جیمز میٹس ‘نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔ میٹس کا کہنا تھا کہ دنیا کے بارے میں اُن کا نقطہ نظر ٹرمپ سے بالکل مختلف ہے لہٰذا وہ مزید اپنی سرکاری ذمہ داریاں ادا نہیں کر سکتے۔ اپنے استعفے میں جیمز میٹس نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ’’آپ کو ہم خیال سیکرٹری دفاع رکھنے کا حق حاصل ہے اور میرے لئے بہتر یہی ہے کہ عہدے سے الگ ہو جاؤں۔‘‘ اس کے بعد جیمز میٹس نے ٹرمپ کے شام سے فوجیں نکالنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے ایک اسٹرٹیجک غلطی بھی قرار دیا۔ یاد رہے کہ جیمز میٹس ایک سابقہ فوجی جرنیل ہے اورعراق و افغان جنگوں کے حوالے سے انتہائی تجربہ کار منصوبہ ساز گردانا جاتا تھا۔ میٹس کا یہ استعفیٰ پچھلے عرصے سے ٹرمپ انتظامیہ اور بالعموم ساری امریکی ریاست میں جاری ٹوٹ پھوٹ کا اظہار ہے۔میٹس کے متعدد بیانات اس بات کو واضح کرتے رہے ہیں کہ وہ ٹرمپ کی ہر بات پر ٹویٹ کرنے کی عادت سمیت ایسی تمام غیر سنجیدہ حرکات سے ناخوش تھا اور انہیں امریکی صدارت کے عہدے کے شایان شان نہیں سمجھتا تھا۔ عام طور پر اہم فیصلوں کے لئے ریاست کے دوسرے اداروں اور پالیسی سازوں سے مشاورت ضروری سمجھی جاتی تھی لیکن پچھلے دو سالوں سے ٹرمپ کے رویے اور حرکات نے انتظامیہ میں تناؤ پیدا کردیاہے اور یہ کہنا کسی طور غلط نہیں ہوگا کہ آنے والے دنوں میں امریکی ریاست میں داخلی کشمکش مزید بڑھ سکتی ہے اور ٹرمپ کو فارغ کرنے کی کوششیں بھی کی جا سکتی ہیں۔
ٹرمپ کے اس فیصلے پر امریکی اراکین کانگریس سمیت اتحادی مما لک کی جانب سے بھی تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ بلکہ خود ٹرمپ کی اپنی جماعت ریپبلکن پارٹی کے اہم لوگ بھی اس فیصلے پر تنقید کررہے ہیں اور اسے ایک برُی اور بڑی غلطی اور ایران و روس کی فتح قرار دے رہے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ نے بھی صدر ٹرمپ کے ان اندازوں پر سوال اٹھائے ہیں کہ داعش کو ’شکست ‘ہوچکی ہے ۔ ریپبلکن سینیٹر’ لنڈسے گراہم ‘جو آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن بھی ہیں نے ٹرمپ کے اس اقدام کو ’اوباما جیسی غلطی‘ قرار دیا ہے ۔ ان کے مطابق امریکہ کی یہ پسپائی ایران اور روس کی بڑی فتح ہے ۔بی بی سی کے مطابق ریپبلکن سینیٹرز کو اس فیصلے سے شدید دھچکا پہنچا ہے کہ اب وہ اپنے کُرد اور عرب اتحادیوں کو صدر اسد اور ترکی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں گے۔
ٹرمپ نے اپنے ناقدین کے بیانات پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے روایتی انداز میں ٹویٹ کیا کہ اس فیصلے پر کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ وہ کافی برسوں سے اس کے لئے مہم چلاتا رہاہے۔ اپنے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’’روس ، ایران ، شام اور دیگر داعش کے مقامی دشمن ہیں۔ ہم وہاں ان کا کام کررہے تھے اور اب گھر واپسی کا وقت ہے۔‘‘ اس لفاظی میں جہاں منافقت چھپی ہے وہیں یہ امریکی سامراج کا اعترافِ شکست بھی ہے۔
شام تاریخی طور پر سوویت یونین اور بعد ازاں روس کا قریبی اتحادی گردانا جاتا ہے۔ یہاں امریکی سامراج کو بڑی مداخلت کا جواز مارچ 2011ء کی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں ملا تھا۔ یہ ’عرب بہار‘ کا سال تھا۔ بشارالاسد نے اس تحریک کو بیدردی سے کچلنے کی کوشش کی لیکن جب قیادت کے فقدان کے پیش نظر یہ خود رو تحریک اپنی سمت کھونے لگی تو رجعتی عرب ریاستیں اور مغربی سامراجی اپنے پراکسی گروہوں کے ساتھ اس میں کود پڑے۔تاکہ عراق کی طرح یہاں بھی کٹھ پتلی حکومت قائم کر سکیں اور کھلی لوٹ مار کریں۔ یہ وہی مذہبی جنونی اور بنیاد پرست گروہ تھے جن کے خلاف امریکہ نے 2001ء میں نام نہاد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ شروع کی تھی۔ اس مداخلت کی ایک اہم وجہ امریکی حمایت یافتہ عرب بادشاہتوں اور بشار الاسد حکومت کے درمیان رقابت بھی تھی۔ اس رجعتی مداخلت کے نتیجے میں انقلابی تحریک رفتہ رفتہ دم توڑتی گئی اور اس کی جگہ اَن گنت بنیاد پرست پراکسی گروہوں کی شامی حکومت اور بعد ازاں ایک دوسرے کے خلاف خونریز جنگ نے لے لی جس کے نتیجے میں اب تک پانچ لاکھ افراد ہلاک اور پانچ ملین سے زائد بے گھر ہوچکے ہیں۔
روس نے بھی 2015ء میں اسد کی لڑکھڑاتی حکومت کو سہارا دینے کے لئے تنازعے میں براہِ راست شمولیت اختیار کی اور اسد مخالف بنیاد پرستوں کے ٹھکانوں پر روسی فضائیہ نے بمباری کی بڑی مہم شروع کر دی۔ روسی صدر پیوٹن نے ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ داعش کے خلاف فتح حاصل کرنے کے اعلان پر ٹرمپ سے ’متفق‘ ہیں لیکن وہ فوری طور پر امریکی فوجوں کی واپسی نہیں دیکھ رہے‘ البتہ انہیں ’یقین‘ ہے کہ اسے ممکن بنایا جائے گا ۔ اسی طرح پچھلے کچھ عرصے سے روس کے ساتھ بڑھتی قربتوں کے پیش نظر ترکی کی جانب سے بھی یقیناًامریکی صدر کے اس فیصلے کو خوش آمدید ہی کہا جائے گا۔
امریکی سامراج سمیت خطے میں موجود تمام سامراجی قوتوں کو شامی عوام سے کوئی سروکار اور ہمدردی نہیں ہے۔ بلکہ اِن سامراجی گِدھو ں کی نظریں صرف خطے کے وسائل اور اپنے مالیاتی مفادات پر ٹکی ہیں۔ امریکی سامراج نے داعش کا مقابلہ کرنے کے لئے شام کے مسلح کرد گروہوں ( ’پیپلز پروڈکشن یونٹس‘ وغیرہ) کو استعمال کیا ہے جن کا تقریباً ایک تہائی شام پر قبضہ ہے جہاں وہ ایک نیم خود مختیار قسم کی حکومت چلا رہے ہیں۔
ترکی (جو خود کو خطے کی اہم طاقت سمجھتاہے) کیلئے بھی شام میں یہ تبدیلی ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ امریکہ کی شام میں مداخلت کی نوعیت اور طریقہ کار سے ترکی اور امریکہ کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ اس کی وجہ امریکہ کا شام میں کُردوں سے اتحاد تھا۔ اپنے ملک میں علیحدگی پسند کردوں سے نبرد آزما ترک ریاست‘ کردوں کے لئے امریکہ کی فوجی امداد کو اپنی سلامتی کے لئے خطرہ سمجھتی ہے۔
امریکی فوجوں کی متوقع روانگی کے بعد ایران بھی اپنے ’’شیعہ کریسنٹ‘‘ کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی پوری کوشش کرے گا۔ ایرانی ملاں اشرافیہ مغربی افغانستان سے لے کے بحیرہ روم تک شیعہ آبادی والے علاقوں پر مبنی ’شیعہ کریسنٹ‘ قائم کرنے کی خواہاں ہے جو ایرانی سرمایہ داری کے حلقہ اثر کو بڑھانے کا ایک مذہبی لبادہ ہے۔ امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد ایران کی بھرپور کوشش ہوگی کہ وہ مغربی شام میں اس صورتحال سے استفادہ حاصل کرے۔ بشارالاسد کی حامی اور شامی خانہ جنگی میں حزب اللہ جیسے اپنے پراکسی گروہوں کے ذریعے بھرپور مداخلت کرنے والی ایرانی ریاست کے عزائم بھی سامراجی نوعیت کے ہیں۔ اسی قسم کے عزائم اسرائیل، سعودی عرب اور دیگر علاقائی طاقتوں کے بھی ہیں ۔
شام میں فی الوقت داعش کے خاتمے اور قیام امن کی باتیں ہورہی ہیں۔ بشارالاسد کی حکومت کی پوزیشن خاصی مستحکم ہو چکی ہے اور ملک کا بڑا حصہ جہادی گروہوں سے خالی کروا لیا گیا ہے۔ لیکن ’معمول‘ کی زندگی کی طرف واپسی اتنی آسان نہیں ہے جتنا تاثر دیا جا رہا ہے۔ سامراجی قوتوں کی مداخلت اور کھینچا تانی جاری رہے گی۔ جتنے بڑے پیمانے کی بربادی شام میں ہوئی ہے اس کی تعمیر نو سرمایہ داری کے تحت کم و بیش ناممکن ہے۔ آبادیوں کی آبادیاں تاراج ہو گئی ہیں۔شہر کے شہر ملبے کے ڈھیر بن گئے ہیں۔ علاوہ ازیں بنیاد پرستی اور مذہبی جنونی گروہوں کی بنیادیں اِس بحران زدہ نظام میں پیوست ہیں اور محض عسکری طریقوں سے اِس ناسور کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ان جہادی گروہوں کی اپنی مخصوص طرز کی معیشت اور مالی مفادات ہیں۔ اِنہی سامراجی قوتوں نے ان گروہوں کو پیدا کیا ہے اور پھر کنٹرول سے باہر نکل جانے کی صورت میں انہی کے خلاف لڑائی کا ڈھونگ رچا یاجاتا ہے ۔
افغانستان میں پہلے مجاہدین اور پھر طالبان کا معاملہ بھی اسی نوعیت کا ہے ۔ گزشتہ اٹھارہ سالوں سے جس نام نہاد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کو یہاں جاری رکھا ہوا ہے اس نے طالبان کو کمزور کرنے کے بجائے مزید طاقت ہی دی ہے ۔ آج امریکہ کی کٹھ پتلی افغان حکومت کا اثر و رسوخ چند بڑے شہروں تک محدود ہے۔ کابل میں بم دھماکے اور حملے معمول بن چکے ہیں۔ اس جنگ میں امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں نے اربوں ڈالر کے منافعے حاصل کئے ہیں جبکہ امن ان علاقوں میں دیوانے کا خواب محسوس ہوتا ہے۔ خود افغان صدر اشرف غنی کے مطابق صرف 2015ء سے اب تک طالبان کے ساتھ لڑائی میں تیس ہزار افغان فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 2017ء کے ابتدائی نو ماہ میں ملک میں ساڑھے آٹھ ہزار شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے اکثریت شدت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بنی جبکہ کئی افراد افغان فوج کی امریکی مدد سے کی جانے والی زمینی کارروائیوں میں بھی مارے گئے۔
یہ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ جنگ کے اتنے سال گزرنے کے بعد بھی طالبان گروہوں کی جارحیت یہاں مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں اس وقت ڈیڑھ کروڑ افراد (تقریباً نصف آبادی) ایسے علاقوں میں مقیم ہیں جو یا تو طالبان کے کنٹرول میں ہیں یا وہاں طالبان کھلے عام موجود ہیں اور تواتر سے حملے کررہے ہیں۔ طالبان جنوبی علاقوں کے اپنے روایتی ٹھکانوں سے نکل کر اب ملک کے مشرقی، مغربی اور شمالی حصوں میں بھی جگہ بناچکے ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق اس وقت افغانستان کے 14 اضلاع ایسے ہیں جہاں طالبان سرگرم ہیں اور کھلے عام گھومتے ہیں۔ یہ تعداد ماضی میں طالبان کی طاقت کے بارے میں لگائے گئے اندازوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ جرائم اور منشیات کی معیشت اور سامراجی وظیفوں پر پلنے والے یہ طالبان گروہ نہ صرف افغان سرکار بلکہ خود ایک دوسرے سے بھی برسرپیکار رہتے ہیں اور کوئی یکجا اکائی نہیں ہیں۔ یہی حقیقت ’’طالبان‘‘ سے مذاکرات کے عمل کو بھی بہت پیچیدہ اور مشکل بنا دیتی ہے جن کے مختلف گروہوں کو مختلف بیرونی قوتیں کرائے پہ لے کے استعمال کرتی ہیں۔ ایک طرف امریکی ان سے ’’مذاکرات‘‘ کر رہے ہیں اور دوسری طرف کابل اور دوسرے شہروں میں آئے روز حملے ہو رہے ہیں۔ اسی طرح جس داعش کے شام میں خاتمے کی باتیں کی جا رہی ہیں وہ اب امریکی سامراج کی پشت پناہی سے افغانستان میں تیزی سے اپنی جڑیں مضبوط کر رہی ہے اور افغان فوج اور طالبان دونوں سے بیک وقت لڑ رہی ہے۔ اس وقت داعش کا اثر مشرقی صوبے ننگر ہار میں پاکستان سے ملحقہ کچھ سرحدی علاقوں میں ہے ۔ پچھلے کچھ عرصے میں یہاں داعش کی کاروائیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے جہاں انہوں نے صرف جلال آباد میں50 سے زائد افراد کو سرقلم کرنے سمیت مختلف وحشیانہ طریقوں سے قتل کیا ہے۔
یوں تو اوبامہ کے دورہی سے افغانستا ن سے فوجیں نکالنے کی باتیں کی جاتی رہی ہیں لیکن اس کے باوجود 14000 امریکی فوجی افغانستان میں تعینات ہیں جبکہ 8000 نیٹو اتحادی ممالک کے فوجی بھی موجود ہیں۔ ٹرمپ کے حالیہ بیان کے بعد بھی یہ ممکن نہیں کہ فوری طور پر سے یہاں سے ساری فوجیں واپس چلی جائیں کیونکہ سامراجی اچھی طرح جانتے ہیں کہ اوپر سے نیچے تک کرپشن اور بدانتظامی میں لتھڑی کٹھ پتلی افغان حکومت کی شکل میں انہوں نے تاش کے پتوں کا محل ہی تعمیر کیا ہے جو ایک ٹھوکر سے گر جائے گا۔
لیکن بنیادی نکتہ یہ ہے کہ فوجیں نکالنے کے یہ بیانات امریکی سامراج کے اپنے معاشی بحران اور عسکری پسپائی کی عکاسی کرتے ہیں۔ افغانستان، عراق، شام اور لیبیا جیسے ممالک کو بالواسطہ یا براہِ راست مداخلتوں سے برباد کر کے کروڑوں انسانوں کی زندگیاں برباد کرنے کے جو مقاصد بیان کیے گئے تھے اُن میں سے کوئی بھی پورا نہیں ہو سکا۔ ہاں اسلحہ ساز کمپنیوں اور ملٹی نیشنل اجارہ داریوں نے مال ضرور بنایا ہے۔ ہنستے بستے سماجوں کا بیڑا غرق کرنے کے بعد یہ سامراجی خود دم دبا کے بھاگ رہے ہیں۔ آج یہ خطے پہلے سے کہیں زیادہ عدم استحکام، خونریزی اور انتشار کا شکار ہو چکے ہیں۔ مختلف علاقائی قوتوں کی من مانیوں سے بھی امریکی سامراج کی کمزوری کو ہر طرف محسوس کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اپنے زوال کے عہد میں یہ سامراج سٹھیا گیا ہے۔ جس کا اظہار ہر طرح کی بے ربط پالیسیوں، بدلتے فیصلوں اور اپنے ہی اتحادیوں خلاف تجارتی جنگوں جیسی پالیسیوں سے ہوتا ہے جو پورے نظام کے لئے خطرہ بن چکی ہیں۔
شام ‘ افغانستان اور سامراجی جارحیتوں سے متاثرہ دوسرے خطوں میں اس نظام کے تحت تعمیر نو، استحکام اور خوشحالی کے امکانات مخدوش ہیں۔ آج سرمایہ داری انتہائی ترقی یافتہ معاشروں کو بھی برباد ہی کر رہی ہے۔ ایسے میں برباد ہو چکے معاشروں کو ترقی کیسے دے سکتی ہے؟ بربادیوں کے اِس نظام کو برباد کر کے ہی انسانیت آباد ہو سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*