سویڈن کے معروف تاریخ دان سے انٹرویو، فلاحی ریاست سے متعلق کچھ تاریخی حقائق

انٹرویو/ترجمہ: فاروق سلہریا

سویڈن کے معروف تاریخ دان ہوکن بلومکوست اسٹاک ہولم کی ساؤتھ ٹاور یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔ 2012ء میں جب عمران خان نے یہ بیان دیا کہ ’’یورپ میں فلاحی ریاست کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا تھا، انہوں نے یہ تصور اسلام سے لیا، سکینڈینیویا کے ممالک نے اسلام سے ہی فلاحی ریاست کا تصور لیا اور وہ اسے حضرت عمر کا قانون کہتے ہیں‘‘ تو ویوپوائنٹ آن لائن (جو اب بند ہو چکا ہے) نے ہوکن بلومکوست سے سویڈن کے مبینہ ’’قانونِ عمر‘‘ (Omer’s Law) کی بابت انٹرویو کیا۔ اس انٹرویو کا ترجمہ اس لئے یہاں پیش کیا جا رہا ہے کہ عمران خان نے بطور وزیر اعظم ایک مرتبہ پھر سکینڈینیویا کا حوالہ دیا ہے۔ دوسری جانب یہ سوچ اب اکثر پی ٹی آئی کے حلقوں میں پائی جاتی ہے کہ سویڈن میں واقعی کوئی ’قانونِ عمر‘ موجود ہے۔

پاکستان کے معروف کرکٹ اسٹار اور سیاستدان عمران خان نے بیان دیا ہے کہ یورپ نے فلاحی ریاست کا تصور اسلام سے لیا اور یہ کہ سویڈن میں فلاحی ریاست کی بنیاد خلیفہ ثانی حضرت عمر کی خلافت والا ماڈل ہے جسے سویڈن میں قانونِ عمر کہتے ہیں۔ سویڈن کو پہلی فلاحی ریاست تصور کیا جاتا ہے۔ بطور تاریخ دان آپ کے علم میں ایسی کوئی بات ہے کہ سویڈن میں فلاحی ریاست کی بنیاد قانونِ عمر ہے؟
ہوکن بلومکوست: پاکستانی سیاستدان کو شاید میری بات سن کر مایوسی ہو مگر ان کا بیان میرے لئے ایک خبر کی حیثیت رکھتا ہے۔ سو سال پہلے شمالی یورپ (یعنی سکینڈینیویا) کا مسلم دنیا اور اسلام سے نہ تو زیادہ تعلق تھا اور نہ ہی اسلام بارے زیادہ علم پایا جاتا تھا۔ سو سال پہلے بیسویں صدی کے آغاز پر سویڈن اور سکینڈینیویا میں عوامی تحریکوں کا پھیلاؤ ہوا۔ ان تحریکوں کی بنیاد انیسویں صدی کے نصف میں تب پڑی جب سویڈن میں صنعت کاری کی پہل ہوئی۔ سویڈن میں اس وقت لوتھر کے ترقی پسند نظریات سے متاثر فری چرچ کی تحریک تھی جو ریاستی چرچ کو چیلنج کر رہی تھی۔ ٹمپرینس تحریک تھی جو مزدوروں اور غریبوں میں شراب نوشی کی عادت ختم کرانے کے لئے کام کر رہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ مزدور تحریک تھی جوطبقاتی جدوجہد کے ذریعے شہری حقوق کی جدوجہد بھی کر رہی تھی اور مزدوروں کے لئے بہتر اوقاتِ کار اور مناسب تنخواہوں کا مطالبہ کر رہی تھی۔ مزدور تحریک ٹریڈ یونین، کوآپریٹوز اور سیلف ایجوکیشن کے ذریعے خود کو منظم کر رہی تھی۔ 1889ء میں مزدور تحریک نے اپنی سیاسی جماعت بھی بنا لی۔ اس دوران مزدور تحریک نے اپنے سوشلسٹ تشخص کا اعلان بھی کر دیا۔ یہ سوشلزم ابتدا میں مسیحی اقدار سے متاثر تھا۔ جب کیمونسٹ مینی فیسٹو کا سویڈش زبان میں ترجمہ ہوا تو ’’دنیا بھر کے مزدورو، ایک ہو جاؤ‘‘ کا ترجمہ کیا گیا: ’’آوازِ خلق کو خدا کی آواز سمجھو۔ ‘‘ مطلب یہ کہ سب انسانوں اور مزدوروں کو خدا نے پیدا کیا ہے لہٰذا سب انسانوں کا خیال رکھا جائے۔ بعد ازاں 1890ء کی دہائی سے مزدور تحریک نے مارکسی نظریات قبول کئے مگر سیکولر جدوجہد کے ساتھ ساتھ ٹمپرینس تحریک اور فری چرچ یا سیلف ایجوکیشن کا تال میل موجود رہا مگر یہ تحریک اسٹیبلشمنٹ اور ریاست کے ہاتھ میں نہ تھی۔
بیسویں صدی کے شروع میں یہ تحریک سب سے مظبوط سیاسی قوت بن چکی تھی۔ ہڑتالوں، احتجاجوں اور مظاہروں کے ذریعے اس تحریک نے عوام کی بڑی پرتوں کو اپنے پروگرام کا حامی بنا لیا۔ اس کا پروگرام شہری حقوق اور سوشلسٹ فلاحی ریاست کی بات کرتا تھا۔ 1921ء میں لبرلز کے ساتھ مل کر مزدور تحریک نے 8 گھنٹے پر مبنی اوقاتِ کار کے علاوہ عورت مرد سمیت سب کے لئے ووٹ کا حق جیتا۔ 1932ء میں ملک معاشی بحران کا شکار تھا۔ ہر طرف ہڑتالیں ہو رہی تھیں جبکہ فوج مزدوروں پر گولیاں چلا رہی تھی اور کئی مزدور مارے گئے۔ ان حالات میں بذریعہ انتخابات مزدوروں کی حکومت بنی۔ اس حکومت کو کسان پارٹی کی حمایت بھی حاصل تھی۔ اس حکومت نے بیروزگاری کے خاتمے، مزدوروں کے لئے رہائش، ٹریڈ یونین حقوق، سال میں دو ہفتے کی تنخواہ سمیت چھٹی، بچے کی پیدائش پر عورت مزدور کے لئے چھٹی اور چھوٹے کسانوں کی مدد پر مبنی اقدامات کے لئے ایک ’کرائسز پروگرام‘ متعارف کروایا۔ یوں فلاحی ریاست کی جانب ابتدائی پیش رفت ہوئی مگر دوسری عالمی جنگ نے اصلاحات کے اس سلسلے کو روک دیا۔ سویڈن دوسری عالمی جنگ کا حصہ نہیں بنا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سویڈش صنعت اور معاشرہ جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہا۔ یوں بعد از جنگ سویڈن کی حالت ایسی دگرگوں نہ تھی۔ سویڈن کی فلاحی ریاست سوشل ڈیموکریٹس اور کسان پارٹی کی مخلوط حکومت نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ایک ایسے وقت میں دوبارہ سے متعارف کروائی جب معاشی نمو عروج پر تھی۔ کمیونسٹ تحریک نے بھی اس عمل میں اکثرتعاون کیا۔ صحت اور انشورنس کا لازمی نظام، نظامِ تعلیم میں غریب اور امیر یا لڑکے اور لڑکی کے بیچ امتیاز کا خاتمہ، ایک شاندار پنشن سسٹم (یعنی پنشن سب کو ملے گی)، چھٹیوں میں اضافہ، دس لاکھ گھروں کی تعمیر، اوقاتِ کار میں بہتری، سب ان دو دہائیوں میں سامنے آیا۔ 1970ء کی دہائی میں بائیں بازو کے نظریات مقبول ہوئے تو مزدور دوست اصلاحات میں اضافہ ہوا۔ چائلڈ کیئر، اوقاتِ کار میں مزید کمی، عورت اور مرد میں برابری، جنس کی بنیاد پر تنخواہ میں امتیاز کا خاتمہ، انفرادی ٹیکس اور اسقاطِ حمل کی اجازت جیسے اقدامات متعارف کروائے گئے۔ 1932۔ 1976ء کے عرصے میں سویڈن پر مسلسل 44 سال سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت تھی جس کی شکل میں مزدور تحریک اقتدار پر قابض رہی۔
بہ الفاظِ دیگر یہ مزدور تحریک کی طاقت تھی جس کے نتیجے میں سویڈن کی فلاحی ریاست وجود میں آئی۔ اس طاقت کا ماخذ تھی ٹریڈ یونین تحریک، کوآپریٹوز، سیلف ایجوکیشن کی تحریک اور گلی محلے کی سطح پرمزدور تنظیمیں جو زندگی کے ہر شعبے میں موجود تھی۔ یہ عنصر بھی اہم تھا کہ سویڈن بیسویں صدی کی کسی یورپی جنگ میں تباہ نہیں ہوا۔ اس سارے عہد میں سویڈن یا سکینڈینیویا میں مسلمان خال خال ہی تھے اور اسلام اس سارے عمل پر کسی طرح اثر انداز نہیں ہوا۔

پاکستان کے ایک معروف کالم نگار ہارون رشید بھی اکثر قانونِ عمر کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سویڈش پریس اکثر قانونِ عمر کے حوالے دیتا ہے۔ آپ سویڈش پریس پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ کیا ایسا ہے؟
ہوکن بلومکوست: مجھے افسوس کے ساتھ آپ کو یہ بتانا پڑ رہا ہے کہ قانونِ عمر کے بارے میں سویڈن میں کسی کو معلوم نہیں ماسوائے مساجد میں ہونے والے اجتماعات کے۔ گو(مسلمان تارکینِ وطن کی وجہ سے) اسلام سویڈن میں پھیل رہا ہے مگر تعداد کے اعتبار سے ابھی بھی یہ ایک چھوٹا مذہب ہے۔ اگرچہ اعداد و شمار قابلِ بحث ہیں مگر کہا جاتا ہے مسلمانوں کی سویڈن میں تعداد دو سے تین لاکھ ہے جو کل آبادی، یعنی نو ملین کا لگ بھگ پانچ فیصد بنتا ہے۔
ہم ایک گلوبل دنیا میں رہتے ہیں اور سویڈن میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا بھی تقاضا ہے کہ سویڈش لوگ اسلامی عقائد بارے زیادہ علم حاصل کریں مگر تا حال جسے اسلام میں قانون عمر کہا جاتا ہے، اس بارے سویڈن میں لوگوں نے نہیں سنا ہے اور اس بات کا امکان تو اور بھی کم ہے کہ لوگوں نے اس قانون کے بارے میں ان دِنوں سنا ہو جب فلاحی ریاست تشکیل پا رہی تھی۔ 1930ء کی دہائی میں سویڈن میں کل پندرہ مسلمان تھے۔

کیا آپ اس بات پر روشنی ڈالیں گے کہ وہ کیا تاریخی حالات تھے جنہوں نے فلاحی ریاست کو سویڈن میں جنم دیا۔ کیا انقلابِ روس کا بھی کوئی اثر تھا؟ نیز سوشل ڈیموکریٹک، انارکسٹ اور کمیونسٹ تحریک کا کوئی کردار تھا؟
ہوکن بلومکوست: 1917 کا انقلابِ روس، 1918ء میں آنے والے جرمن، آسٹرین اور ہنگیرین انقلابات کے علاوہ یورپ بھر میں ہونے والے سماجی ابھار پہلی عالمی جنگ کے بعد سویڈن کے حالات پر اثر انداز ہوئے۔ اپریل تا جون 1917ء سویڈن بھوک کے خلاف اور شہری حقوق کے مطالبے پر ایک انقلابی کیفیت میں مبتلا تھا۔ انقلاب سویڈن کے دروازے پر دستک دے رہا تھا۔ ہڑتالیں، روٹی کے لئے بلوے اور مظاہرے روز کا معمول بن چکے تھے جبکہ مختلف شہروں میں مقامی طور پر سرکشی جاری تھی۔ فوجی جوان ہڑتالی مزدوروں کے ساتھ مل گئے تھے اور مزدور کونسلیں نہ صرف شہروں بلکہ قصبوں میں بھی بن چکی تھیں۔ یورپی انقلابات اور مزدور ابھار کا نتیجہ تھا کہ اقتدار رجعت پرستوں کے ہاتھ سے نکل گیا اور سویڈن میں ایک جمہوری بریک تھرو ہوا۔ جمہوری بریک تھرو کا مطلب یہ نہیں کہ برابری اور جاب سکیورٹی حاصل ہو گئی۔ ان حقوق کے لئے مزید تیس چالیس سال لگ گئے۔
سویڈن میں کمیونسٹ قومی سطح پر کبھی بھی بہت مضبوط نہ تھے۔ کچھ یونینز اور کچھ شہروں میں ان کا زبردست اثر ضرور موجود تھا۔ تاہم مختلف ادوار میں کمیونسٹوں نے سوشل ڈیموکریٹس کو بائیں جانب دھکیلا اور بڑی سطح پر لوگوں کو متحرک کیا۔ جہاں تک سوویت یونین کا تعلق ہے تو اسکی موجودگی کا سویڈن کی نمو اور مزدور تحریک پر دو رُخا اثر ہوا۔ ایک طرف تو یہ ہوا کہ غیر طبقاتی سماج کا سوویت ورژن اور سوویت یونین میں مزدوروں کو ملنے والے اہم حقوق اور سویت یونین کی ترقی نے ایک ایسا ماحول بنایا کہ ہر سیاسی جماعت کو کہنا پڑا کہ وہ عدم مساوات کے خلاف ہے۔ بورژوازی کے لئے سماجی ناہمواری کی مخالفت ممکن نہ رہی۔ یوں مزدور تحریک کا کام آسان ہوا۔ دوسری جانب سوویت روس میں ہونے والے جبر کا نتیجہ یہ نکلا کہ کمیونسٹ کبھی بھی مزدور تحریک کی قیادت حاصل نہ کر سکے۔ سوشل ڈیموکریسی بطور ’پُر امن متبادل‘ مزدور طبقے کی اکثریت کو ساتھ ملانے میں کامیاب رہی۔

یہ فلاحی ریاست ہوتی کیا ہے؟ کیا اس سے مراد بے روزگاری الاؤنس، صحت اور تعلیم کی مفت سہولت ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ سب تو سعودی عرب میں بھی ہے۔ کیا سعودی ریاست ایک فلاحی ریاست ہے؟ یا یہ کہ فلاحی ریاست سے مراد ہے عورت مرد کے برابر حقوق، مذہبی اقلیتوں کے لئے برابر کے شہری حقوق، آزادی رائے اور تنظیم سازی کا بلا مشروط حق؟
ہوکن بلومکوست: میں سعودی عرب کی فلاحی ریاست بارے زیادہ نہیں جانتا۔ ہاں البتہ یورپ کی مزدور تحریک اور عام طور پر یورپین لوگوں کی نظر میں فلاحی ریاست سے مراد ہے: ہر شعبے میں شہری حقوق، سیاسی آزادیاں، عقائد پر یقین وعمل کی آزادی، آزادی اظہار، تنظیم سازی کا حق اور تبدیلی کے لئے جدوجہد کا حق۔
1919ء میں مزدوروں نے 8 گھنٹے کے اوقات کار کا مطالبہ منوایا، اسی سال سویڈن میں جسم فروشی پر پابندی عائد کی گئی کیونکہ غربت کے ہاتھوں بہت سی عورتیں مڈل کلاس اور امیر مردوں کی جنسی تسکین کے لئے ایک کھلونا بن کر رہ گئی تھیں۔ اسی سال عورت کو ووٹ کا حق ملا۔ جمہوری حقوق کا مطلب تھا کہ عام مزدور اور شہری ایک ایسے سماج کے لئے جدوجہد کر سکتے ہیں جس میں سب کا خیال رکھا جائے۔ اس قسم کے سماج کو سویڈن میں ’فولک ہیم‘ (عوامی گھر) کہا جاتا تھا، ایک ایسا گھر جس میں خاندان کے سارے افراد برابر ہیں یعنی معاشرے کے سارے افراد برابر ہیں۔
تاہم پچھلے بیس سال سے فلاحی ریاست نیو لبرلز اورسرمایہ داروں کا ہدف بنی ہوئی ہے۔ فلاحی ریاست کے بہت سے اقدامات ختم کر دئیے گئے ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد البتہ فلاحی ریاست کا دفاع کرنا چاہتی ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے اگر لوگ اس اتحاد کا مظاہرہ کریں جس کا اظہار ان دنوں ہوا تھا جب فلاحی ریاست محض ایک خواب تھی۔ اُن دنوں قیادت کو معلوم تھا کہ فلاحی ریاست تب ہی وجود میں آ سکتی ہے اگر محکوم پرتوں کی اکثریت کا اس سے مفاد وابستہ ہو۔ سیاسی کارکنوں کو اندازہ تھا کہ فلاحی ریاست کے لئے تب ہی آبادی کا بڑا حصہ حمایت فراہم کرے گا اگر اس سے صرف انڈسٹریل مزدور ہی مستفید نہ ہو بلکہ عورتیں، سرکاری ملازم، چھوٹے کسان اور تارکین وطن بھی اس فلاحی ریاست سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یہ درست ہے کہ جن کارکنوں نے فلاحی ریاست کی جدوجہد کو پایہ تکمیل تک پہنچایا، ان سے غلطیاں بھی ہوئیں اور انہوں نے بعض اوقات اپنے نعروں سے پسپائی بھی اختیار کی مگر فلاحی ریاست کی جدوجہد میں کامیابی کے لئے انکی جدوجہد سے ہی سبق سیکھنا ہو گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*