نواز حکومت کی سرپرستی میں انڈس یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں تعلیم کے نام پر فراڈ اور طلبہ پر ریاستی تشدد

رپورٹ:RSF ملتان/ڈیرہ غازیخان

عالمی سرمایہ داری کے بحران نے جہاں ترقی یافتہ ممالک میں اپنے مزدور دشمن اثرات دکھائے ہیں وہیں ترقی پذیر ممالک میں طبقاتی نظام تعلیم کو بھی تقویت پہنچائی ہے۔ اس بحرانی کیفیت میں پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں تعلیم کو نجی ملکیت کے ذریعے غریب کی پہنچ سے دور کیا جا رہا ہے۔ شعبہِ صحت کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کی نجکاری تو محنت کشوں کے لیے ایک عذاب ہے ہی لیکن نیم سرمایہ داری اور نیم جاگیر داری کے سبب غربت ، بے روزگاری، مہنگائی اور علاج کی سہولیات تک رسائی جیسے مسائل نے کرپشن کو ایک معمول بنا دیا ہے۔ جس کا اظہار تعلیم کے نام پرہونے والے حالیہ فراڈ، ایگزیکٹ سکینڈل، میں ہوا جس میں شعیب شیخ نامی سرمایہ دار نے جعلی ڈگریوں کا کاروبار کرتے ہوئے اربوں روپے ہتھیا لیے اور ہزاروں طلبہ کے مستقبل کو تباہ کردیا گیا جبکہ ریاست پاکستان میں شعیب شیخ باعزت بری ہوگیا۔ سرمایہ داری میں ہر شے بکتی ہے،قانون بھی، بس خریدنے والے کے پاس اتنا سرمایہ ہونا چاہیے۔
اسی طرح انڈس انٹرنیشنل یونیورسٹی (ڈیرہ غازی خان) کے 1500 سے زائد طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو بھی تاریک کردیا گیا ۔جام پور روڈ پر واقع اس یونیورسٹی کا مالک مسلم لیگ (ن) کا حافظ عبدالکریم (ممبر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر) ہے جو کہ ایک سرمایہ دار ہے اور جس نے تعلیم کے نام پر جھانسا دے کر خوب منافع خوری کی۔ انڈس یونیورسٹی کے ہزاروں طلبہ نے جب اپنی تعلیم مکمل کر لی تو انتظامیہ سے ڈگریوں کا مطالبہ کیا جس پر انتظامیہ نے طلبہ کو اعتماد میں رکھنے کے لیے وزیرِ تعلیم رانا مشہود کے ہاتھوں جعلی ڈگریاں تھما دیں۔ طلبہ کے احتجاج کرنے پر ادارے نے کہا کہ تمام طلبہ کی ڈگریاں اب گورنمنٹ کالج یونورسٹی فیصل آباد سے تصدیق شدہ ہوں گی جبکہ دو ہفتے پہلے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر نے انڈس یونیورسٹی کے دعویٰ کو غلط قرار دے دیا۔ اس پر طلبہ نے ایک پرامن احتجاج کیا جہاں ریاستی تشدد کے ذریعے طلبہ کو منتشر کر دیا گیا۔ اس موقع پر لاٹھی چارج کے دوران درجنوں طلبہ زخمی ہوئے اور بہت سوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ریاست کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے کی مکمل پُشت پناہی کی گئی اور طلبہ کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دیا گیا ہے۔

انقلابی طلبہ محاذ (RSF) اِس واقعہ کی بھر پور مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ انڈس یونیورسٹی کے طلبہ کے تمام مطالبات فوری طور پر تسلیم کئے جائیں جبکہ ہم دیگر طلبہ تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ انڈس یونیورسٹی کے طلبہ کے شانہ بشانہ تعلیم کے نام پر فراڈ کرنے والوں کے خلاف ایک منظم جدوجہد میں شامل ہوں۔

مطالبات
* انڈس یونیورسٹی کے طلبہ کو فوری طور پر تصدیق شدہ ڈگریاں جاری کی جائیں۔
* تعلیم کے نام پر فراڈ کرنے والوں کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا جائے۔
* پُرامن احتجاج کرنے والے طلبہ پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔
* تعلیم کے کاروبار کو ختم کرتے ہوئے تمام طلبہ کو مفت اور یکساں تعلیم فراہم کی جائے۔
* تمام تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کو فوری طور پر بحال کیا جائے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*