بھارت: جمہوریت میں چھپی مطلق العنانیت

تحریر: لال خان

عالمی کارپوریٹ میڈیا میں بھارت کے ’’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘ ہونے کا بہت پرچار ہوتا ہے۔ لیکن بھارت سمیت اِس خطے جمہوریتوں کے پیچھے کتنی ذلت اور غربت پکتی ہے اس پر کم ہی بات ہوتی ہے۔ پاکستان کے حکمران اور دائیں بازو کے رجحانات سرحد کے اُس پار موجود اپنی پرچھائیوں کی پاکستان دشمن لفاظی کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ایسے میں یہاں کے اصلاح پسندوں میں بھارت کے نام نہاد سیکولرزم اور ’مضبوط جمہوریت‘ میں ترقی پسندی تلاش کرنے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن اس جمہوریت کے پس پردہ جو بھارتی کارپوریٹ دھنوانوں، کرپٹ ریاستی افسر شاہی خصوصاً جرنیلوں اور ججوں کی متعلق العنانیت اور جبرو حشت جاری ہیں وہ ظاہری طور پر سامنے نہیں آتے۔ لیکن ان کے لگائے ہوئے زخم اور وارداتیں ضرور بے نقاب ہوتی ہیں۔ جواہر لال نہرو نے جو سیکولرازم، جمہوریت اور’’سوشلزم‘‘ کے نعرے دئیے تھے وہ اُس منفی کردار کی محض پردہ پوشی تھی جو اُس نے 1947ء کی خونی تقسیم کروانے میں گاندھی کے ساتھ مل کر ادا کیا تھا۔ 1946ء میں جناح صاحب نے شاید اسی خونریزی کے خدشے کے پیش نظر ’کیبنٹ مشن‘ کی تجویز مان کر تقسیم کا ارادہ ترک کردیا تھا۔ لیکن پھر برطانوی سامراج کے گھاگ پالیسی سازوں نے ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن کے ذریعے نہرو کو اشتعال دلوا کر وہ پریس کانفرنس کروائی جس نے واقعات کی سمت ہی بدل دی۔ نہرو کا یہ کردار ہی سیکولرازم کی نفی تھی۔ اس طرح ’نہرووین سوشلزم‘ بھی محض ریاستی سرمایہ داری تھی جس میں قدرتی وسائل اور معیشت کے بڑے حصے کو ریاستی تحویل میں لے کر سرمایہ داروں کو ہر طرح کی سہولت دی گئی، سستی لیبر اور خام مال فراہم کیا گیا۔ آج 71 سال بعد اِس سیکولر ازم، جمہوریت اور ’’سوشلزم‘‘ کی حقیقت پوری طرح عیاں ہوچکی ہے۔ اسی طرح بھارت کی’ڈیپ سٹیٹ‘ کی جانب سے بنیاد پرستی اور مذہبی جنون کو ایک داخلی پراکسی کے طور پر استعمال کرنے کی واردات بھی اب بے نقاب ہونا شروع ہو گئی ہے۔ پچھلے چند مہینوں کے واقعات نے دیوہیکل بھارتی ریاست کی نام نہاد غیر جانبداری کی قلعی کھول دی ہے۔
یکم جنوری 1818ء کو آج کی بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں ہونے والی ایک خونی لڑائی میں مرہٹہ سلطنت کے جنونی جنگجوؤں کو نچلی ذات کے دلت ہندووں نے شکست دی تھی۔ ہر سال یکم جنوری کو دلت اپنی اس فتح کا جشن مناتے ہیں۔ اس مرتبہ مہاراشٹرا کے اس مقام (بھیما کورے گاؤں) پر دلتوں کا زیادہ بڑا مجمع دیکھنے میں آیا۔ اس جشن پر بنیاد پرست مرہٹوں نے حملہ کر دیا جس میں کچھ اموات بھی ہوئیں۔ لیکن یہ تنازعہ اب تک چل رہا ہے اور خصوصاً مہاراشٹرا کے سیاسی منظر سے زائل نہیں ہو رہا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ شیوسینا کے اِن غنڈوں کو مودی سرکار اور فوج کی حمایت حاصل ہے۔ سب سے پہلے مہاراشٹرا کے شہر پونا میں قائم ایک تھنک ٹینک، جس میں ریٹائر اعلیٰ فوجی افسران شامل ہیں، نے اس فساد کو حکومت کے خلاف ایک منظم سازش قرار دیتے ہوئے سارا الزام بائیں بازو کے سرگرم کارکنان پر لگا دیا۔ فوج کے اشارے پر مہاراشٹرا، جہاں بی جے پی اور شیوسینا کی حکومت ہے، کی پولیس نے سارے معاملے کو نریندرا مودی کو قتل کرنے کی سازش کا حصہ قرار دے دیا۔ پولیس نے چشم دید گواہوں کے تمام بیانات اور ثبوت مسترد کر دیئے ہیں۔ یوں ذات پات کے تعصبات اب ایک مسلسل تناؤ اور تصادم کی کیفیت میں ابھر آنے سے یہ مسئلہ طوالت اور شدت اختیار کر گیا ہے۔ حکومت اور ریاستی مشینری کی جانب سے مذہبی انتہا پسندوں کی کھلی طرفداری نے سرکار کی ساکھ کو بری طرح ٹھیس پہنچائی ہے۔ اس لئے اب کھلا جبر بھی کیا جا رہا ہے۔ کمیونسٹ کارکنان اور ترقی پسند ادیبوں کے گھروں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ان کے خاندانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ان ترقی پسند سیاسی کارکنان اور ادیبوں کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار بھی کیا جا رہا ہے اور سنگین مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔ تقریباً تمام ٹیلی ویژن چینلوں پر سرکاری پروپیگنڈا کو ابھار کر کمیونسٹوں کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ حیدر آباد دکن سے تعلق رکھنے والے شاعر واراوارا راؤ ان دس اصحاب قلم میں شامل ہے جن کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اُس دن بھیما کورے گاؤں کے قریب بھی موجود نہیں تھا۔ لیکن ایسی بیہودہ حرکات بھارتی ریاست کی بوکھلاہٹ کی غمازی کرتی ہیں۔ ایسے لوگوں پر دہشت گردی کے الزامات لگائے گئے ہیں جو پورے ہندوستان میں کوئی مسلح کاروائی کرنے والے آخری افراد ہوں گے۔
لیکن اس سارے عمل میں پونا کے فوجی تھنک ٹینک سے لے کر فوج کی خفیہ ایجنسیوں اور ریاست کے اندر موجود ریاست کا کردار پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر بے نقاب ہوا ہے۔ یہاں تک کہ عالمی جریدے اکانومسٹ نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حالیہ شمارے میں لکھا ہے،’’ ایک زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ عام طور پر انتہائی خاموشی اور خفیہ انداز میں واردات کرنے والی ہندوستان کی ڈیپ سٹیٹ اب زیادہ سخت گیری پر اتر آئی ہے۔ گرفتار شدگان (دانشور اور لکھاری) بے گناہ ہیں تو بھی قانونی پیچیدگیوں میں سالہا سال الجھے رہیں گے۔ یہ درحقیقت ان (بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے) ناقدین کے لئے ایک سخت انتباہ ہے جو سکیورٹی فورسز کی کشمیر اور نکسل علاقوں میں کاروائیوں کے خلاف لکھتے اور بولتے ہیں۔‘‘
اس سارے ماجرے سے ہٹ کر بھی بھارت میں اب ہندو بنیاد پرستوں اور مذہبی جنونی غنڈوں کی وحشیانہ کاروائیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ دوسری طرف ڈیپ سٹیٹ کی جانب سے میڈیا اور سیاست کی زیادہ جارحانہ انداز میں ’مائیکرو مینجمنٹ‘ کی جا رہی ہے۔ یوں اِن رجعتی عناصر کو اپنے بنیادی حقوق اور قومی و طبقاتی آزادی کی جدوجہد کرنے والی تحریکوں کے خلاف بطور پراکسی استعمال کرنے کی کاروائی بڑے پیمانے پر جاری ہے۔
آج کے عہد میں جہاں سرمایہ داری کا اقتصادی بحران ایک طرف تحریکوں اور دوسری جانب سماجی خلفشار کو تیز کر رہا ہے ایسے میں خارجی اور داخلی محاذوں پر ریاستیں کسی براہِ راست فوجی تصادم سے گریز کرکے اپنی پراکسیوں کے ذریعے خونی وارداتیں کروا رہی ہیں۔ بھارت کی فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی نہ صرف ایسی داخلی کاروائیوں میں زیادہ متحرک ہوگئی ہیں بلکہ اس نے کاروبار اور معیشت میں بھی اپنی واردات ڈالنی شروع کر دی ہے۔ اس وقت بھارت دنیا کے پانچ سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ان سودوں میں بھی دیوہیکل کک بیکس اور کمیشن شامل ہوتے ہیں جن کو اب ان جرنیلوں نے انویسٹ کرنا بھی شروع کر دیا ہے۔ یوں ان کے اپنے مالی مفادات بھی ’’قانون کی حکمرانی‘‘ اور ’’امن و امان‘‘ کیساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ یہی کیفیت ہمیں خطے کے دوسرے ممالک میں بھی ملتی ہے۔ لیکن ریاستی جبر نہ تو کشمیر میں آزادی کی تحریک کو کچل سکا ہے اور نہ ہی ہندوستان کے دوسرے بے شمار علاقوں میں عوامی بغاوتوں پر قابو پا سکا ہے۔ نریندرا مود ی اب مذہبی منافرتوں کو نئی ہولناک انتہاؤں پر لے جانا چاہتا ہے جس سے وہ ہندو بنیاد پرستی کی وحشت کو ابھار کر 2019ء کا انتخاب جیت سکے۔ لیکن انہی حرکات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے ہارنے کا خوف بھی کھائے جا رہا ہے۔ دوسری طرف کانگریس جیسی پارٹیوں کی اپنی عوام دشمن پالیسیوں، بدعنوانی اور مروجہ نظام کی فرسودہ سیاست تک محدودیت کے پیش نظر وہ بنیاد پرستی کے سامنے حقیقی مزاحمت کرنے سے عاری ہیں۔ لیکن اگر ہندوستان کی تین بڑی کمیونسٹ پارٹیاں، خصوصاً کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ( مارکسسٹ)، سیکولر ازم اور جمہوریت کی فرسودہ اصلاح پسندانہ سیاست کو مسترد کرتے ہوئے انقلابی سوشلزم کے ٹھوس نظریات کیساتھ طبقاتی سیاست اور جدوجہد کریں تو ہندوستان کے دیوہیکل محنت کش طبقے کی حمایت سے نہ صرف مودی کو شکست دی جا سکتی ہے بلکہ رجعتی ڈیپ سٹیٹ سمیت ساری ریاست اور نظام کو ہی اکھاڑا جا سکتا ہے۔ اس سے ڈیڑھ ارب انسانوں پر مشتمل پورے خطے کا مقدر بدل سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*