ہندوستان: بی جے پی کی حزیمت اور شدت پکڑتے سماجی تضادات

تحریر: حارث قدیر

بھارت میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو ایک سیاسی دھچکا اس وقت لگا ہے جب جنوبی ریاست کرناٹک کے وزیراعلیٰ نے اپنے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ سے چند لمحے قبل ہی استعفیٰ دے دیا۔ نومنتخب وزیر اعلیٰ بی ایس یدیورپا کا کہنا تھا کہ وہ اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔ وزیراعلیٰ اس عہدے پر صرف تین دن کے لیے فائز رہے۔ ریاست میں اب ایک اتحادی حکومت اقتدار سنبھالے گی۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اس عدم اعتماد کے ووٹ کی اجازت اس وقت دی جب حزبِ اختلاف کی جماعت کانگریس نے عدالت کو بتایا کہ بی جے پی کے پاس اسمبلی میں درکار حمایت نہیں ہے۔ حالیہ انتخابات میں بی جے پی نے 222 میں سے 104 نشستیں حاصل کی تھیں اور اسمبلی میں اکثریت کے لیے درکار تعداد سے آٹھ سیٹیں کم پر کامیابی حاصل کی تھی۔ ادھر کانگریس بطور دوسری بڑی جماعت سامنے آئی ہے۔ انہوں نے ایک علاقائی پارٹی جنتا دل کے ساتھ اتحاد کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے بعد ان کو اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے۔ تاہم ریاست کے گورنر واجوبھائی والا نے بی جے پی کو حکومت سازی کی دعوت دی تھی اور ان کے امیدوار بی ایس یدیورپا کو وزیراعلیٰ کا حلف بھی اٹھانے دیا۔ ان کے اس متنازعہ اقدام کے بعد ریاست میں شدید سیاسی کشیدگی دیکھی گئی اور بہت سے لوگوں نے اسے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ حزبِ مخالف کی جماعتوں نے اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رابطہ کیا جس کا فیصلہ تھا کہ بی جے پی کے پاس سنیچر‘ چار بجے تک کا وقت ہے جس میں وہ اضافی آٹھ اراکین کی حمایت حاصل کر کے حکومت بنا سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کرناٹک میں شکست کانگریس کے لیے ایک بہت بڑی ہار ہوتی کیونکہ اس وقت ملک بھر کی 29 ریاستوں میں کانگریس کی حکومت صرف تین ریاستوں میں ہے جبکہ بی جے پی اور اس کے اتحادی 21 ریاستوں میں برسرِاقتدار ہیں۔ بی جے پی نے اس الیکشن کو جیتنے کیلئے عام انتخابات میں وِکاس اور ترقی کے نعروں کے برعکس ہندو انتہا پسندی کا کارڈ زیادہ کھیلا اور 1956ء تک قائم رہنے والی ریاست میسور کے سابق مسلمان حکمران ٹیپو سلطان کو ہندو دشمن حکمران قرار دیتے ہوئے اسکے مقبرے کو گرانے سمیت تاریخ سے اسکا کردار ختم کردینے جیسے اعلانات پر مبنی تقاریر کرتے ہوئے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنیکی کوشش کی گئی۔
چار سال قبل بھارتی ریاست گجرات میں ہندو مسلم فسادات میں مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہندو انتہا پسند بی جے پی رہنما نریندرا مودی جب بھارت کے وزیراعظم بننے جارہے تھے تو انکی جانب سے بڑے پیمانے پر ترقی، وکاس، شائننگ انڈیا اور غربت و بھک مری کو ختم کرنے جیسے اعلانات کے پیچھے بھارتی اور عالمی سرمایہ داروں کیلئے بھارتی معیشت کے راستے کھولے جانے اور لوٹ مار کیلئے بڑے پیمانے پر سہولیات دینا مقصود تھا۔ لیکن انتہائی دائیں جانب سے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے دعوؤں اور کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیوں کی محنت کشوں کیساتھ کی گئی غداریوں اور سیکولر ازم کے بے معنی نعرے پر الیکشن لڑنے جیسے اقدامات نے نریندر مودی کی ایک بھاری اکثریت سے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار کی۔ لیکن نریندر مودی تمام تر دعوؤں اور اعلانات کے باوجود نہ تو غربت کم کرنے میں کامیاب ہو سکے اور نہ ہی الیکشن مہم پر سرمایہ خرچ کرنے والے سرمایہ داروں کو خوش کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر نجکاری کرنے میں کامیاب ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ جب الیکشن کے دوران کئے گئے وعدوں اور اعلانات پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکتا تو پھر حکمران طبقات اقتدار کو دوام دینے کیلئے بیرونی محاذوں پر جنگی ماحول پیدا کرنے سمیت اندرونی طور پر نان ایشوز کو ابھار کر محنت کش عوام کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹانے میں مصروف ہو جاتے ہیں اور پھر اس کے لیے سب سے اہم ہتھیار کے طور پر کارپوریٹ میڈیا کو استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارت میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد ایک مرتبہ پھر ہندو انتہا پسندی کو فروغ دینے جیسے اقدامات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔
بھارتی محنت کشوں نے دو مرتبہ تاریخ کی بڑی عام ہڑتالیں کر کے اپنے تیور دکھائے، کسانوں نے لانگ مارچ کرتے ہوئے اور طلبہ نے یونیورسٹیوں پر قبضے سمیت طبقاتی نظام اور ریاستی جبر کیخلاف بھرپور آواز بلند کرتے ہوئے بھارتی حکمرانوں کو مجبور کر دیا کہ وہ نام نہاد حب الوطنی، ہندوتوا، اکھنڈ بھارت جیسے کارڈ کھیلتے ہوئے عوامی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کریں۔ گائے کا گوشت پر پابندی، گوشت کھانے کے الزام لگا کر مسلم نوجوانوں پر تشدد، خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتیوں سمیت نچلی ذات کے ہندوؤں کیخلاف سخت گیر کارروائیوں کو مکمل ریاستی حمایت حاصل رہی۔ یہاں تک کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں برصغیر کی تقسیم سے قبل کی لگائی گئی محمد علی جناح کی تصویر کو ریاست مخالف قرار دیتے ہوئے پوری جامعہ کے گھیراؤ جیسے عمل کو بھی کارپوریٹ میڈیا کے ذریعے جواز بخشا گیا۔ دوسری جانب وادی کشمیر میں جاری نوجوانوں کی مزاحمت کے خلاف بہیمانہ ریاستی جبر کرنے کے باوجود مودی سرکار نوجوانوں میں موجود غم و غصے کی لہر کو کسی طور بھی کم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کنٹرول لائن پر فائرنگ اور گولہ باری کے ذریعے کشمیریوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری ہے جسے ایک جنگی ماحول کے اوزار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کارپوریٹ میڈیا کے ذریعے قومی شاونزم کو ہوا دی جا رہی ہے لیکن اگر کچھ نہیں کیا جارہا تو وہ بھارت کی انتیس ریاستوں میں برپا ہونیوالی معاشی اور سماجی بربادی کا تذکرہ ہے۔ کارپوریٹ میڈیا کو بالی ووڈ اداکاروں کی شادیوں اور طلاقوں پر گھنٹو ں بحثیں کرنے کی تو اجازت ہے لیکن اسی بھارت میں بسنے والے ایک ارب سے زائد انسانوں کے مسائل کو زیر بحث لانا جرم سمجھا جاتا ہے۔
محنت کشوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے بھارتی حکمران طبقات کم سے کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ منافع نچوڑنے کیلئے جہاں محنت کشوں کا استحصال کررہے ہیں وہاں ماحولیاتی آلودگی کا موجب بنتے ہوئے اس خطے کو ایک بربادی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ 22 مئی کو بھارتی جنوبی ریاست تامل ناڈو میں ماحول کو آلودہ کرنے اور زہریلے مادے کا اخراج کرنے والی تانبے کی ایک فیکٹری کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر پولیس کی فائرنگ میں کم سے کم تیرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ فیکٹری ویدانتا گروپ کی ہے اور مقامی لوگ تقریباً تین مہینوں سے اسے بند کرانے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ سٹرلائٹ کاپر فیکٹری کی وجہ سے آلودگی بڑھ رہی ہے اور مقامی لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ کمپنی کے خلاف تحریک تو پہلے سے ہی چل رہی تھی لیکن ویدانتا نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ وہ اس فیکٹری کی توسیع کرے گا۔ اس کے بعد مظاہروں میں شدت آگئی۔ اس فیکٹری میں سالانہ چار لاکھ ٹن تانبے کا تار بنانے کی گنجائش ہے۔ ویدانتا برطانوی کمپنی ہے اور سٹرلائٹ اس کی ذیلی کمپنی ہے۔ ویدانتا انڈیا کی کئی ریاستوں میں تنازعات کا شکار رہ چکی ہے۔ یہ محض ایک مثال ہے۔ اس طرح کے کئی کارخانے اور فیکٹریاں ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے بھارتی دارلحکومت دہلی سمیت متعدد ریاستیں ماحولیاتی بربادی سے متاثر ہو رہی ہیں اور انسانی زندگیاں شدید خطرات سے دو چار ہو گئی ہیں۔
مودی سرکار نیو لبرل معاشی پالیسیوں کو لاگو کرتے ہوئے بدترین ریاستی، معاشی اور ثقافتی جبر کے باوجود نہ ہی عالمی معاشی ماہرین کی توقعات پر پورا اتر سکی ہے اور نہ ہی مقامی سرمایہ داروں کی۔ 2008ء کے عالمی معاشی بحران کے بعد برازیل، روس، چین اور ساؤتھ افریقہ کے ساتھ بھارت سے بھی توقعات وابستہ کی گئی تھیں کہ یہ ابھرتی ہوئی معیشتیں دنیا کی معیشت کو سہارا دیں گی لیکن 2009ء میں دس فیصد تک شرح نمو والی بھارتی معیشت کی شرح نمو 2016ء میں 7.11فیصد تک گر گئی تھی جبکہ 2017ء میں شرح نمو کا تناسب 6.74فیصد تک بتایا گیا ہے۔ 2018ء میں 7.36 فیصد تک شرح نمو حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے لیکن عالمی ماہرین اس میں بھارت کی کامیابی کو ناممکن ہی گردان رہے ہیں۔ دوسری جانب اس نیولبرل گروتھ سے غربت اور امارت میں خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ سرکاری طور پر اٹھائیس روپے سے کم روزانہ آمدن والی شہری آبادی اور بائیس روپے سے کم روزانہ آمدن والی دیہی آبادی کو غربت کی لکیر سے نیچے ظاہر کرتے ہوئے بھی تیس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ جبکہ بین الاقوامی اداروں کے مطابق چونسٹھ کروڑ افراد خط غربت سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بھارتی حکومت خط غربت کو تبدیل کرتے ہوئے غربت کم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے باوجود غربت کی لکیر سے نیچے بسنے والی آبادی کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس تیزی کے ساتھ غربت اور امارت میں تفاوت بڑھ رہی ہے۔ ایک کروڑ سے زائد افراد ہر سال روزگار کی منڈی میں داخل ہو رہے ہیں جس کے باعث افرادی قوت کی فراوانی اور بیروزگاری کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ افرادی قوت کی فراوانی سستی محنت کے فروغ کا باعث بنتی ہے۔ دوسری جانب نجی و سرکاری سیکٹر کے منافعوں کو برقرار رکھنے کیلئے ڈاؤن سائزنگ کے ذریعے مزید لوگوں کو نوکریوں سے محروم کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا جا رہا ہے جس سے غربت کی شرح میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ سماجی و معاشی محرومیاں نوجوانوں میں مختلف ذہنی بیماریوں، جرائم اور مذہبی انتہا پسندی کا موجب بن رہی ہیں۔ خودکشیوں کی تعداد میں روزافزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف 2012ء میں پورے بھارت میں ایک لاکھ تیرہ ہزار سے زائد افراد نے خود کشی کی جن میں سے 13755 کسان تھے۔ گزشتہ پندرہ سال میں اوسط بارہ ہزار سے زائد کسان ہر سال خودکشی کر رہے ہیں۔
معاشی و سماجی مسائل کو حل کرنے سے قاصر بھارتی حکمران وحشت و بربریت کو اپنا ہتھیار بنا رہے ہیں جبکہ بائیں بازو کی پارٹیاں اور قیادتیں بھی نظریاتی بانجھ پن کا شکار اور اقتدار کی لوٹ میں لت پت ہوکر محنت کش طبقے کو حقیقی انقلابی متبادل دینے کی بجائے محض سیکولرازم کے بے معنی نعروں سے محنت کشوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے میں مصروف ہیں۔ دنیا کی سب سے زیادہ غربت پالنے والے اس دیش کے حکمران محنت کشوں کا کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں کر سکتے ہیں۔ اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے مزید بربادی ہی پھیلائی جائے گی۔ قومی ، نسلی، مذہبی اور ذات پات کے تعصبات میں محنت کش طبقے کو تقسیم کرنے کی پالیسی کو جاری رکھنے کے علاوہ مودی سرکاری کے پاس دوسرا راستہ بھی کوئی نہیں ہے۔ کیونکہ اس نظام میں اب وہ سکت و اہلیت ہی موجود نہیں ہے جس کے ذریعے سے مودی حکومت اپنے دعوؤں اور اعلانات کو عملی جامہ پہنا سکے۔ کرناٹک کے انتخابی نتائج مودی حکومت کیلئے ایک چیتاونی سے کم نہیں ہیں۔ ’’ پاک بھارت دشمنی‘‘ کا کارڈ بھی زور و شور سے کھیلنے کا سلسلہ جاری ہے جس میں مزید تیزی لائی جا سکتی ہے۔ جبکہ جموں میں کم عمر بچی کو جنسی ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والے وحشیوں کی ریاستی پشت پناہی یہ ظاہر کر رہی ہے کہ جموں کشمیر میں ہندو مسلم فسادات کو بھی ہوا دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کارپوریٹ میڈیا مسلسل اس چیز کو بھی اجاگر کر رہا ہے کہ بھارت میں موجود مسلم آبادی دہشت گردی کی طرف مائل ہو رہی ہے اور وہ کشمیر میں بھارتی فوج کے خلاف مسلح کارروائیوں میں شامل ہونے کیلئے مسلسل وادی کا رخ کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں تین سے چار نام بھی ظاہر کیے گئے ہیں جبکہ اس کی آڑ لیکر مسلم آبادیوں پر جبر کے سلسلہ کو تیز کیا جا رہا ہے۔
ہندوستان کا محنت کش طبقہ ایک دیو ہیکل طاقت کا حامل ہے جس کا اظہار ہم نے 2015ء اور 2016ء میں ہونیوالی دو عام ہڑتالوں کی شکل میں دیکھ لیا ہے۔ آکوپائی یو جی سی ، جے این یو سمیت چالیس سے زائد جامعات میں طلبہ کی اٹھان میں نوجوانوں اور طلبہ میں اس نظام اور ریاست کیخلاف پائی جانیوالی بے چینی اور غم و غصے کا اظہار بھی سامنے آرہا ہے جبکہ رواں سال مارچ میں مہاراشٹر کے ہزاروں کسانوں نے قرضوں کی معافی اور معاشی جبر کیخلاف مہاراشٹر اسمبلی کا گھیراؤ کرتے ہوئے اپنی طاقت ظاہر کی ہے۔ موجودہ نظام سرمایہ داری ہندوستان کے محنت کشوں، کسانوں اور نوجوانوں کی زندگیوں میں کوئی بھی بہتری لانے کی اہلیت و صلاحیت کھو چکا ہے۔ تمام سیاسی پارٹیاں اور قیادتیں سرمایہ داری پر ایمان لاتے ہوئے اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے اور محنت کشوں کے استحصال کو جاری رکھتے ہوئے لوٹ مار کرنے پر تکیہ کئے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حادثاتی شخصیات اور پارٹیوں کا وجود اور انہیں بڑے پیمانے پر حمایت ملنے جیسے عوامل بھی نظر آرہے ہیں لیکن حقیقی متبادل سے عاری قیادتیں جتنی تیزی سے ابھرتی ہیں اتنی ہی تیزی سے عوامی حمایت سے محروم بھی ہو رہی ہیں۔ کمیونسٹ پارٹیوں کی قیادت مرحلہ واریت کے بوسیدہ نظریات کا راگ الاپتے ہوئے اس نظام کی لوٹ مار او ر کرپشن میں اس قدر دھنس چکی ہیں کہ محنت کش طبقے کے نظریات اور انکے مستقبل کیلئے جدوجہدسے مکمل لاتعلق ہو چکی ہیں۔ لیکن طبقاتی تضادات تیز تر ہو رہے ہیں۔ محنت کشوں اور نوجوانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ سطح کے نیچے گہری بغاوت پنپ رہی ہے جو کسی بھی وقت سماج کی سطح پر اپنا اظہار کر سکتی ہے۔ ہندوستان کا محنت کش طبقہ اگر تاریخ کے میدان میں اترتا ہے تو اب کی موجودہ قیادتوں اور پارٹیوں میں سے کوئی بھی پارٹی طبقے کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے اس کی قیادت سنبھالنے کی پوزیشن میں نہیں رہے گی۔ نہ صرف نئی انقلابی قیادتیں وجود میں آئیں گی بلکہ ہندوستان میں اٹھنے والی انقلاب کی لہراس پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*