مظفرآباد: ’انقلابِ روس کی تاریخ‘ کی عظیم الشان تقریب رونمائی کا انعقاد

رپورٹ: حارث قدیر

مورخہ 29 دسمبر 2017ء کو جامعہ کشمیر مظفر آباد میں انقلابِ روس کے قائد لیون ٹراٹسکی کی کتاب ’انقلابِ روس کی تاریخ‘ کے اردو ترجمے کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا جس میں سینکڑوں طلبہ و طالبات اور جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن، پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن، پی ٹی یو ڈی سی سمیت دیگر طلبہ تنظیموں اور ترقی پسند پارٹیوں کے رہنماؤں و کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کے مہمان خاص ایشین مارکسسٹ ریویو کے ایڈیٹر اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے انٹرنیشنل سیکرٹری ڈاکٹر لال خان تھے۔ اس تقریب سے ڈاکٹر لال خان کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے صدر چوہدری لطیف اکبر، چیئرمین جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ، مرکزی صدر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ابرار لطیف، چیئرمین سروراجیہ انقلابی پارٹی سردار سجاد افضل خان، کالم نگار و صحافی عبدالحکیم کشمیری، مترجم کتاب عمران کامیانہ اور دیگرمقررین نے بھی خطاب کیا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض سابق صدر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن راشد شیخ نے ادا کئے۔

اِس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر لال خان نے کہا ہے کہ مظلوم قومیتوں کے حق خودارادیت بشمول حق علیحدگی کو تسلیم نہ کرنے والا کمیونسٹ نہیں ہو سکتا۔ لیکن زمینی ٹکڑوں کی اہمیت اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب ملکیت اشتراکی ہو جاتی ہے۔ انقلابات برپا کرنیوالے عام لوگ ہی ہوتے ہیں۔ مارکس ، لینن ، ٹراٹسکی اور دیگر انقلابی بھی انسان ہی تھے۔ انسانیت کا احساس آدمی کو انسان بنا دیتا ہے۔ موجودہ عہد ایک مشکل عہد ہے، جہاں انقلاب روس کو برپا ہوئے سو سال مکمل ہو رہے ہیں، وہاں سوویت یونین کے ٹوٹ کر بکھرنے کو بھی پچیس سال مکمل ہو رہے ہیں اور ساتھ ہی چین میں سرمایہ داری کی استواری کو بھی تیس سال مکمل ہو چکے ہیں۔ جہاں عظیم انقلاب روس نے انسانیت کو ایک امید اور نجات کی روشنی دی وہاں دیگر دو واقعات نے انسانیت کو تاریکیوں میں دھکیلاہے۔ آج المیہ ہے کہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور وسائل کی موجودگی میں لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔ اس سماج میں حکمرانوں کا سب کچھ ہے، علم و حکمت، فن، اخلاقیات، ثقافت، فلموں اور نصاب سمیت ہر چیز حکمرانوں کی ہے جبکہ محنت کشوں کا کچھ بھی نہیں ہے۔ سماج میں رونما ہونیوالا ہر واقعہ اور ہر تخلیق ہونیوالی چیز مخصوص عہد کی عکاسی کرتی ہے۔ آج ہم جن مشکل حالات سے گزر رہے ہیں وہ انسان کا مقدر نہیں ہیں۔ بالشویک انقلاب کی صد سالہ تقریبات کے انعقاد کا مقصد بھی اس عظیم انقلاب کو خراج تحسین پیش کرنا ہے اور انسانیت کے حسین مستقبل کی تعمیر کے خواب کی تکمیل کیلئے جدوجہد کو تیز تر کرنا ہے۔ ڈاکٹر لال خان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ تحریکیں سرحدوں میں قید نہیں رہتیں، وہ عالمگیر ہوتی ہیں اور انکے اثرات بھی عالمگیر ہوتے ہیں۔ انقلاب روس کی تاریخ انقلاب کے قائد اور ہیرو کی تحریر کردہ تاریخ ہے۔ اس انقلاب کی عظمت یہ تھی کہ یہ انسانی تاریخ کا پہلا انقلاب تھا جس کے بعد سماج کے اکثریتی طبقہ نے اقتدار پر قبضہ حاصل کیا، نسل انسان سے نفرت، حقارت اور تفریق کا خاتمہ کر دیا گیا، سوویت یونین نے تیز ترین ترقی کی۔ انکا کہنا تھا کہ سوویت یونین کوئی ملک نہیں تھا، اس کا نام ’یو ایس ایس آر‘ رکھا گیا اور تمام قومیتوں کو انکے حقوق دیئے گئے۔ دیگر ممالک میں انقلابات ناکام نہ ہوتے تو آج دنیا کا نام یو ایس ایس آر ہوتا۔ روس جو مظلوم قومیتوں کا جیل خانہ قرار دیا جاتا تھا، انقلاب کے بعد مظلوم قومیتوں کو حق خودارادیت بشمول حق علیحدگی دیا گیا اور تمام قومیتوں کی رضاکارانہ یونین قائم کی گئی۔ لینن نے واضح کیا تھا کہ کسی قوم پر جبر کسی دوسری قوم کا حق نہیں ہے، جب جبر اور استحصال اور نجی ملکیت کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے تو پھر زمینی ٹکڑوں کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے، اس کا عملی نمونہ سوویت یونین میں دیکھنے کو ملا ہے۔ سوویت انقلاب نہ رونما ہوتا تو اٹھاسی زبانیں اور ثقافتیں دنیا سے غائب جو چکی ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی محکومی اوراس خطے پر قبضہ اس لئے ہے کہ یہاں کی قیادتوں نے غداری اور دلالی کی ہے۔ جہاں بالشویک انقلاب کے رونما ہونے اور اس کے نتیجے میں انسانیت کو ملنے والی حاصلات کو زیر بحث لاتے ہیں ہم وہاں سوویت یونین کے ٹوٹ کر بکھر جانے کی وجوہات بھی زیربحث لاتے ہیں۔ لینن نے واضح طور پر کہا تھا کہ اگر جرمنی کا انقلاب کامیاب نہیں ہوتا تو بالشویک انقلاب کی موت ناگزیر ہے، اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ہمیں جرمنی کے انقلاب کیلئے اس انقلاب کو قربان کرنا پڑا تو ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کریں گے۔ آج جو لوگ سوویت یونین کے ٹوٹنے پر شادیانے بجاتے ہیں وہ اس انقلاب کے مضمرات اور اس کی خامیوں سے خود آگاہ نہیں ہیں۔ سوویت یونین ٹوٹ کر بکھر گیا لیکن طبقات کا خاتمہ نہیں ہوا، استحصال کا خاتمہ نہیں ہو سکا ہے ، جب تک جبر اور استحصال موجود ہے، جب تک طبقات موجود ہیں، تب تک طبقات کے درمیان کشمکش اور استحصال اور جبر کیخلاف مزاحمت جاری رہے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری لطیف اکبر نے کہا کہ نوجوانوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے، نوجوانوں کی تربیت کی جانی چاہیے۔ عمران کامیانہ نے نوجوانی میں اس عظیم کتاب کا ترجمہ کر کے ایک مثال قائم کی ہے جس پر انہیں سلام پیش کرتا ہوں، انہوں نے بہت بڑا کام کیا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار محمد صغیر خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ انقلاب روس کی تاریخ پر مشتمل اس تصنیف کے مترجم کو جس قدر خراج تحسین پیش کیا جائے وہ کم ہے، اس کتاب میں حب الوطنی کے نام پر مزدوروں اور محنت کش طبقے کے حکمران طبقات کے ہاتھوں استعمال کئے جانے کی وضاحت کی گئی ہے، لینن نے اس عمل کیخلاف جدوجہد کی اور عالمی جنگ کے خلاف کھڑا رہا، اس نے سامراجی جنگوں کیخلاف طبقے کی درست رہنمائی کی، ریاست کے اداروں کو مقدس بنا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن درحقیقت ریاست جبر کا ایک آلہ ہے اور اس کے تمام ادارے ظالم اور حاکم طبقات کے نمائندوں کی حیثیت سے مظلوم طبقات کو ظلم وجبر کا نشانہ بناتے ہیں، عوام کی نمائندگی انکے درمیان سے اٹھنے والے لوگوں نے ہی کرنی ہے۔ قومی، علاقائی اور نسلی جھنڈے اٹھا کر بالادست طبقات کا تحفظ کرنا آزادی کی جدوجہد ہر گز نہیں ہو سکتا، ہم ایسی کسی آزادی کیلئے نہیں لڑ رہے جس میں ایک قوم بیرونی جبر سے چھٹکارہ حاصل کرتے ہوئے مقامی سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور بالادست طبقات کے چنگل میں پھنس جائے۔ مظلوم قومیتوں کو اپنی طبقاتی، ثقافتی، سیاسی و معاشی آزادی کے حصول کیلئے جدوجہد کو عالمی محنت کشوں کی تحریک سے جوڑنا ہوگا۔ ہماری جنگ حکمران طبقات کیخلاف ہے، برصغیر بھر کے محنت کشوں اور بالعموم دنیا بھر کے محنت کشوں، مظلوم قومیتوں اور محکوم عوام کو ہم اپنا اتحادی تصور کرتے ہیں ، ہماری اور انکی جنگ ایک ہے، ہماری اور انکی جدوجہد ایک ہے، تمام قومیتیں قومی آزادی کے سوال کو طبقاتی آزادی کے سوال کیساتھ جوڑتے ہوئے حقیقی آزادی حاصل کر سکتی ہیں اور برصغیر کی سوشلسٹ فیڈریشن بنائی جا سکتی ہے۔ مرکزی صدر جے کے این ایس ایف ابرار لطیف اور چیئرمین سروراجیہ انقلابی پارٹی سجاد افضل خان نے کتاب کی اہمیت اور اس کے مندرجات کو زیر بحث لایا۔ مترجم عمران کامیانہ کتاب کی اہمیت اور مختلف ابواب میں زیر بحث لائے جانے والی بحثوں کے ساتھ ساتھ انقلاب روس کی تاریخ کو مرتب کئے جانے کے طریقہ کار اور اس کی اہمیت کو زیر بحث لائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*