غربت کے خاتمے کا ’چینی ماڈل‘؟

تحریر: لال خان

الیکشن کے بعد اپنی پہلی تحریر میں عمران خان نے ایک بار پھر غربت کے خاتمے کے چینی ماڈل کی بات کی ہے۔ پچھلے کئی سالوں کے دوران وہ چینی ماڈل کا ذکر کئی بار اپنی تقاریر میں کر چکا ہے۔ تاہم صرف وہی نہیں بلکہ دائیں بازو کے کئی پاپولسٹ رہنما چین کی بلند معاشی شرح نمو اور غربت میں کمی سے متاثر نظر آتے ہیں۔ ان میں ترکی کے طیب اردگان اور ہندوستان کے نریندرا مودی قابلِ ذکر ہیں۔ بالخصوص 2008ء کے مالیاتی کریش کے بعد سے بے لگام منڈی کی معیشتوں کی ناکامی اتنی واضح ہو چکی ہے کہ آزادی منڈی کے علمبردار ترقی یافتہ ترین ممالک میں بھی ریاستی مداخلت اور پروٹیکشنزم کی پالیسیاں لاگو کی جا رہی ہیں۔ ایسے میں چینی ماڈل کا چرچا زیادہ حیران کن نہیں ہے۔
یہ واضح نہیں ہے کہ عمران خان‘ چین کی معاشی ترقی اور مطلق غربت میں کمی کے پیچھے کارفرما تاریخی عوامل سے واقف ہے یا محض ہر طرف مچے’چینی معجزے‘ اور ’چینی ماڈل‘ کے شور سے متاثر ہے۔ کارپوریٹ میڈیا جہاں چین میں غربت میں کمی کے بہت گن گاتا ہے وہاں اِس حقیقت کا ذکر کم ہی ہوتا ہے کہ مطلق غربت میں کمی کے باوجود وہاں موجود اضافی یا نسبتی غربت (Relative Poverty) سے جنم لینے والے سماجی تضادات شدید تر ہو رہے ہیں۔ چین کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں معاشی ناہمواری اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ تاریخی نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ دلچسپ متناقضہ ہے کہ ایک معاشی اور صنعتی دیو کے طور پر چین کے ’معجزاتی ابھار‘کے پیچھے وہ بنیادی سماجی تبدیلیاں کارفرما تھیں جو 1949ء کے انقلاب کی پیداوار تھیں۔ اس انقلابی عمل کے تحت تمام جاگیروں کو قومی تحویل میں لے کر بے زمین کسانوں میں تقسیم کیا گیا۔ لیکن سب سے اہم اور فیصلہ کن اقدام تمام سامراجی اور قومی صنعتی اثاثوں کی ضبطی (نیشنلائزیشن) تھی جس کے ذریعے منڈی کی معیشت کا خاتمہ کر کے ایک منصوبہ بند معیشت استوار کی گئی اور ایک صحت مند، تعلیم یافتہ اور ہنرمند محنت کش طبقے کو پروان چڑھایا گیا۔ 1949ء سے 1978ء تک چینی معیشت کی اوسط شر ح نمو 9.2 فیصد رہی جو دنیا میں سرفہرست تھی۔ لیکن تحریک انصاف کی قیادت میں جتنے جاگیردار اور سرمایہ دار موجود ہیں اس کے پیش نظر پاکستان میں جاگیرداری کی باقیات اور سرمایہ داری کے خلاف کوئی معمولی اقدام کرنے کے بارے میں بھی عمران خان سوچ نہیں سکتا۔ جہاں تمام تر معاشی پالیسی ہی فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ کے ذریعے روزگار پیدا کرنے جیسے یوٹوپیائی خیالات پر مبنی ہو وہاں سامراجی اثاثوں اور لوٹ مار پر ہاتھ ڈالنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تحریک انصاف کی صورتحال یہ ہے کہ اقتدار میں آنے سے بھی پہلے آئی ایم ایف کو راضی کرنے کے لئے دو سو قومی اداروں کی نجکاری کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔
چین کی طرف واپس آئیں تو وہاں مسئلہ یہ تھا کہ منصوبہ بند معیشت کی تمام تر ترقی کے باوجود معاشی اور ریاستی معاملات محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں نہیں تھے۔ علاوہ ازیں چینی قیادت کی سوچ قومی سطح تک محدود تھی کیونکہ وہ ’ایک ملک میں سوشلزم‘ کے نظرئیے پر یقین رکھتے تھے جو مارکسزم کی بیہودہ نقالی کے مترادف ہے۔ معیشت جوں جوں ترقی کرتی گئی‘ ایک (پسماندہ) ملک میں افسرشاہانہ انتظام اور منصوبہ بندی سے تضاد میں آنے لگی۔ اس بحران کے تحت چینی کمیونسٹ پارٹی کا ایک دھڑا معیشت کو بیرونی سرمایہ کاری کے لئے کھولنے اور منڈی کے کچھ عناصر دوبارہ متعارف کروانے کی وکالت کر رہا تھا۔ اس دھڑے کی قیادت ڈینگ ژاؤ پنگ کر رہا تھا۔ 1962ء میں وہ سرمایہ داری کی دوبارہ بحالی کی کوششوں کے الزام میں ماؤ زے تنگ کے عتاب کا نشانہ بھی بنا تھا۔ لیکن ماؤ زے تنگ اور چو این لائی کی وفات کے بعد ڈینگ ژاؤ پنگ کا دھڑا برسراقتدار آگیا۔ ڈینگ نے ’’امیر ہونا شاندار ہے‘‘ کا نعرہ لگایا اور چین میں سرمایہ داری کی بحالی کا وہ عمل شروع ہوا جو آج اپنی انتہاؤں پر نظر آتا ہے۔ سوویت یونین کا انہدام اور سابقہ سوویت ریاستوں میں سرمایہ داری کی بحالی نسبتاً ’اچانک‘ عمل تھا۔ اس کے مقابلے میں چین میں یہ عمل بہت سست روی سے ’کمیونسٹ پارٹی‘ کے سخت کنٹرول میں آگے بڑھا اور کئی بار کسی حد تک واپس بھی ہوا۔ ڈینگ ژاؤ پنگ نے نجی شعبے کو سرمایہ کاری اور کاروبار کی اجازت دی۔ بیرونی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کے لئے خصوصی اکنامک زون (SEZs) بنائے گئے جہاں سرمایہ کاروں کو ہر طرح کی مراعات اور سستی لیکن ہنرمند لیبر فراہم کی گئی۔ یوں رفتہ رفتہ سرمایہ دارانہ رشتے جڑیں پکڑتے گئے اور نیچے سماج سے لیکر اوپر ریاستی مشینری تک میں اپنے راستے بناتے گئے۔ آج شنگھائی سٹاک ایکسچینج دنیا کی تیسری بڑی سٹاک مارکیٹ ہے۔ عام استعمال کی 95 فیصد اشیا کی قیمتوں کا تعین منڈی ہی کرتی ہے۔ چین کئی طرح کے ’آزاد تجارت‘ کے معاہدوں کے ذریعے آئی ایم ایف جیسے سامراجی مالیاتی اداروں اور سرمایہ دارانہ ریاستوں سے منسلک ہو چکا ہے۔ تمام بڑے شہروں میں چیمبر آف کامرس موجود ہیں۔
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چین کوئی ’نارمل‘ یا ’صحت مند‘ سرمایہ دارانہ معیشت بن سکتا ہے۔ نہ ہی چینی سرمایہ دار مغربی طرز کے کلاسیکی سرمایہ دار طبقات میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ آج خود سرمایہ دارانہ نظام ایک تاریخی زوال اور متروکیت کا شکار ہے۔ نومبر میں ہونے والی کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس میں صدر شی جن پنگ نے ’’چینی خصوصیات والے سوشلزم‘‘ پر خاصا زور دیا ہے اور چین کو اگلی کچھ دہائیوں میں ’’ترقی یافتہ سوشلسٹ ملک‘‘ بنانے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ یہ درحقیقت چینی پالیسی سازوں میں موجود خوف کی غمازی ہے جس کی وجہ شدید تر ہوتے ہوئے سماجی تضادات اور ناہمواریاں ہیں۔ یہ تضادات ایک نقطے پر پھٹ کر ریاست کے کنٹرول سے باہر بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی لئے چین شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں داخلی سکیورٹی کے اخراجات بیرونی دفاع سے زیادہ ہیں۔
چینی ریاست کی جانب سے سرمائے کے دیوہیکل ٹیکوں کے باوجود معیشت کی شرح نمو 2007ء میں 14 سے گر کر 2016ء میں 6.8 فیصد ہو چکی ہے۔ ’ون بیلٹ ون روڈ‘جیسے بھاری منصوبوں کا مقصد بھی گرتی ہوئی معیشت کو کینشین اسٹ طریقوں سے سہارا دینا ہے۔ لیکن اسی دوران چین کا کُل قرضہ جی ڈی پی کے 300 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے۔
گزشتہ دہائیوں کی تمام تر ترقی کے باوجود آج بھی چین کا شمار دنیا کی بڑی غربت والے پانچ ممالک میں ہوتا ہے۔ پچاس کروڑ چینی شہری 2 ڈالر یومیہ سے کم پر گزارہ کرتے ہیں۔ 90 کروڑ سے زیادہ 5 ڈالر یومیہ سے کم پر زندگی گزار رہے ہیں۔ دوسری طرف اوسطاً ہر پانچ دنوں میں ایک نیا ارب پتی پیدا ہو رہا ہے۔ 85 فیصد غریب شہری‘ دیہاتی علاقوں میں رہتے ہیں جبکہ 66 فیصد غربت ملک کے مغربی علاقوں میں مرتکز ہے۔ تبت سے لیکر ژنجیانگ تک اقلیتی قوموں میں محرومی اور بے چینی کی کیفیت موجود ہے۔ تقریباً 30 کروڑ محنت کش اپنے ہی ملک میں جلاوطنی کا شکار ہیں یعنی دوسرے صوبوں میں غیرقانونی طور پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ان محنت کشوں کا انتہائی بھیانک استحصال کیا جاتا ہے۔ ریاستی جبر بالعموم شدید تر ہے۔ عام لوگوں میں موجود غم و غصے کو کچھ ٹھنڈا کرنے کے لئے شی جن پنگ نے کرپشن کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے جس میں پارٹی کے کچھ اعلیٰ عہدیداروں کو بھی اندر کیا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ 1949ء کے انقلاب کے نتیجے میں قائم ہونے والے وسیع سماجی اور مادی انفراسٹرکچر کے باوجود بھی سرمایہ داری چین کے دسیوں کروڑ باسیوں کی زندگیوں میں جبر و استحصال کے اضافے کا باعث بنی ہے تو پاکستان جیسی دیوالیہ معیشت اور بدحال انفراسٹرکچر میں یہ ’چینی ماڈل‘ کوئی بہتری کیسے لا سکتا ہے؟ تحریک انصاف کے پاس دوسری مروجہ پارٹیوں سے مختلف کوئی معاشی پالیسی نہیں ہے۔ بلکہ جو حالات پیدا ہو رہے ہیں ایسے میں یہ نئی حکومت عوام پر زیادہ بے رحمانہ معاشی جبر کرے گی۔ اس نظام میں رہتے ہوئے ’تبدیلی‘ کا خواب جلد نہ کہ بدیر ٹوٹے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*