نجکاری کی بدکاری!

| تحریر: لال خان |

سرمایہ داروں کی اس حکومت کے دو سال پورے ہونے کو آئے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے بہت لمبا عرصہ بیت گیا ہو۔ واقعات بے شمار ہوئے، تصادم بھی بیش بہا تھے اور عدم استحکام اور بے چینی کی انتہا۔برا وقت کچھ زیادہ ہی طویل معلوم ہوتا ہے۔ ویسے تو ’’جمہوری حکومت‘‘ کی معیاد پانچ سال ہوتی ہے لیکن جو حالات ہیں اس کے پیش نظر موجودہ حکمران شکر ہی کر رہے ہوں گے کہ چلو دو سال تو نکل گئے۔ یہ حکمران حکومت نہیں کاروبار کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ عوام کو نجکاری کا یہ وعظ بھی کرتے ہیں کہ ’’ریاست کا کاروبار میں بھلا کیا کام؟‘‘
pakistan imf cartoonجیسے فنکار ایوارڈوں کی دوڑ میں بھاگتے ہیں اور آج کل کارپوریٹ میڈیا کے مالکان اور اینکر TRP ریٹنگ کے خبط میں مبتلا ہیں بالکل اسی طرح ہمارے یہ حکمران بھیک کے لئے اپنے آقاؤں کے سامراجی مالیاتی اداروں کی ریٹنگ کے مرہون منت ہیں۔اس مالیاتی ریٹنگ کا ایوارڈ اسے ملتا ہے جو سامراجی لوٹ مار (جسے ’سافٹ‘ زبان میں ’فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ‘ کہا جاتا ہے) اور محنت کشوں کے استحصال کے سب سے موثر انتظامات کرتا ہے۔ اس حوالے سے شریف برادران اور ان کے برادر نسبتی اسحاق ڈار چونکہ خاصے ماہر ہیں لہٰذا سرخرو ہوئے ہیں۔ ثقافتی اور سماجی گراوٹ کے اس عہد میں عام طور پر سب سے بیہودہ اور گھٹیا پروگراموں کی ریٹنگ ہی اوپر جاتی ہے۔ اس نظام کی معیشت کا حال بھی مختلف نہیں ہے۔ وہی اقصادی پالیسیاں ان استحصالی مالیاتی اداروں کی ریٹنگ حاصل کرتی ہیں جن سے امیر، امیر تر ہوتے ہیں،سرمایہ داروں اور ملٹی نیشنل اجارہ داریوں کے منافعے بڑھتے ہیں اور محنت کش عوام کی بچی کھچی کمائی بھی لٹ جاتی ہے۔
نواز لیگ کی حکومت کو سب سے پہلے ’’سٹینڈرڈ اینڈ پوورز‘‘ نے زیادہ ریٹنگ دی، پھر ’’مودیز‘‘ نے انکے درجات بلند کئے۔ آئی ایم ایف والے بھی ان سے خاصے خوش نظر آتے ہیں۔ 11 مئی کو اسلام آباد میں آئی ایم ایف کے مشن اور وزارت خزانہ کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے اس کی رو سے 506 ملین ڈالر قرضے کی قسط جاری کی جارہی ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور آئی ایم ایف کے ’’مشن‘‘ کے سربراہ ہیرالڈ فنگر کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ڈار صاحب کا ایک بیان بڑا دلچسپ تھا کہ ’’آئی ایم ایف جیسے ملٹی لیٹرل ادارے ہمارے ترقی کے پارٹنر ہیں، آقا نہیں ہیں۔‘‘اس سے زیادہ ’چور کی داڑھی میں تنکا‘ کا محاورہ بھلا کہاں ’فِٹ‘ بیٹھے گا؟ بلکہ یہاں تنکا نہیں پورا جھاڑو ہے۔
پرانے قرضوں پر سود کی ادائیگی اور اپنے طبقے کی جیبیں بھرنے کے لئے حاصل کئے گئے اس نئے قرضے کا ہدف بھی غریب کی جیب ہی بنی ہے۔ سبسڈی میں مزید کمی اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مسٹر فنگر نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’مختلف شعبوں میں ’اصلاحات‘ کے اس پروگرام پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے تو پاکستان ایک ’متحرک‘ منڈی کی معیشت بن جائیگا۔‘‘کون نہیں جانتا کہ ’’اصلاحات‘‘ اور ’’متحرک منڈی کی معیشت‘‘ کا مطلب کیا ہے؟
ان ’’اصلاحات‘‘ کے تحت محنت کشوں پر نئے حملوں کی تیاری آئی ایم ایف کی مکمل آشیر آباد سے کی جارہی ہے۔ نجکاری کے روایتی وار کے لئے چھریاں تیز کی جارہی ہیں۔ سرکاری ادارے، جنہیں پہلے ہی افسر شاہی جونکوں کی طرح چوس رہی ہے، اب انہیں ذبح کرنے کا ارادہ ہے۔ ان کے ٹکڑے کر کے ان حکمرانوں نے آپس میں بھی بانٹنے ہیں اور اپنے سامراجی دیوتاؤں کی بھینٹ بھی چڑھانے ہیں۔
پچھلے دو سالوں کے دوران اپنی آپسی لڑائیوں میں ریاستی آقاؤں اور سیاسی جغادروں نے کئی ’’تحریکیں‘‘ چلائی ہیں۔ یہ تحریکیں کم اور تماشے زیادہ تھے۔ ’’آزادی‘‘ اور ’’انقلاب‘‘ مارچ کے شوروغل میں کئی حقیقی تحریکوں کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ کبھی مزدور سڑکوں پر آئے تو کبھی کسانوں نے احتجاج کیا۔ ان پر بدترین ریاستی تشدد بھی ہوا لیکن حکمران خود اتنے خوفزہ اور کمزور ہیں کہ بڑی تحریک کی جھلکیاں دیکھ کر ہی نجکاری وقتی طور پر معطل کردی۔ اسی طرح کسانوں کے کئی مطالبات بھی منظور ہوئے اور زرعی اجناس کی قیمت بڑھانی پڑی۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد یہ کاغذی شیر خود کو پھر سے اصلی شیر سمجھنے لگے ہیں۔ اب کی بار شکار کا پہلا ہدف واپڈا معلوم ہو رہا ہے۔
واپڈا اس ملک کی ’’قانونی‘‘ معیشت میں سب سے زیادہ محنت کشوں کو روزگار فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔ادارے میں بدعنوانی کے چرچے عام ہیں۔ میڈیا بھی بہت شور مچاتا ہے۔ کرپشن حکومتی اہلکاروں کے ساتھ مل کر بیوکروکریسی اور بالائی افسران کرتے ہیں، بدنامی غریب ملازمین کے سر تھونپ دی جاتی ہے۔ اربوں روپے کی بجلی چوری بڑے سرمایہ دار، صنعت کار، جاگیر دار اور ٹھیکیدار کرتے ہیں، بجلی کے کنکشن غریبوں کے ایک بلب والے گھروں کے کاٹ دئیے جاتے ہیں۔ جی ایچ کیو سے لے کر وزیر اعظم ہاؤس تک،بلوں کی عدم ادائیگی حکمرانوں کے ایوان کرتے ہیں لیکن ’’نادہندہ‘‘ کچی آبادیوں کی محروم انسان قرار پاتے ہیں۔ لوڈ شیڈنگ نجی شعبے کی لوٹ مار کی وجہ سے ہے، حملے واپڈا دفاتر پر ہوتے ہیں۔ آئی پی پیز بجلی نہ بنانے کا منافع کما رہی ہیں، گردشی قرضہ ہر سال اتارنے کے بعد بھی 500 ارب روپے پر پہنچ جاتا ہے لیکن بجلی کی ترسیل اور دوسرے انفراسٹرکچر پر ایک روپیہ خرچ کرنے کو یہ حکمران تیار نظر نہیں آتے۔ لائن مینوں کے پاس انتہائی بنیادی سامان اور حفاظتی انتظامات تک نہیں ہیں۔
پی آئی اے کی طرح واپڈا کا بیڑا غرق کرنے میں بھی یہاں کے حکمرانوں نے کئی دہائیوں تک ’’محنت‘‘ کی ہے۔ یہ آج کے عہد میں ’’نیو لبرل ازم‘‘کی روایتی واردات ہے۔ پہلے ایک ادارے کو برباد کرو، پھر کوڑیوں کے بھاؤ ’’بیچ‘‘ کر خود ہی خرید لو۔لوڈ شیڈنگ واپڈا کے محنت کشوں کی نہیں بلکہ ’’کارگر نجی شعبے‘‘ کی آئی پی پیز کی وجہ سے ہے۔ ان پاور پلانٹس کا پیسہ عوام آج تک بھر رہے ہیں ان کی ملکیت سامراجی اجارہ داریوں اور مقامی مگر مچھ سرمایہ داروں کے پاس ہے۔ ’’آزاد منڈی‘‘ کا کیسا قانون ہے… منافع پراویٹائز اور خسارہ نیشنلائز! کوئی پوچھنے والا نہیں کہ تمام تر امکانات کے باوجود سستی کی بجائے 1990ء کی دہائی میں مہنگی بجلی کے منصوبے کیوں شروع کئے گئے؟ اور تیل کے پلانٹ لگانے ہی تھے تو ایسی کون سی ’’راکٹ سائنس‘‘ تھی کہ 80 فیصد ریاستی سرمایہ کاری کے باوجود 20 فیصد سرمایہ کاری کرنے والے نجی شعبے کو ملکیت دے دی گئی۔ ان معاہدوں کی شرائط آج تک کسی ’’جمہوری‘‘ حکومت نے جمہور کو بتائی ہیں؟ یہ آئی پی پیز کس ریٹ پر بجلی بنا رہے ہیں، کس پر فروخت کر رہے ہیں، کیا شرح منافع ہے،کوئی پوچھنے والا ہے؟ سارا ملبہ واپڈا کے محنت کشوں پر ڈالا جارہا ہے۔ اگر اس ادارے کی نجکاری ہوتی ہے تو نہ صرف پی ٹی سی ایل کی طرح بڑے پیمانے پر برطرفیاں ہوں گی اور بیروزگاری بڑھے گی بلکہ بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگا اور عوام کے معاشی عذاب پہلے سے بڑھ جائیں گے۔
واپڈا میں مضبوط ٹریڈ یونین موجود ہے جسے نجکاری کی صورت میں کچل دیا جائے گا اور اس کے اانتہائی مضر اثرات مزدور تحریک پر مرتب ہوں گے۔نجکاری کا یہ وار کامیاب ہو گیا تو پھر دوسرے اداروں پر حملہ کرنے میں حکمران ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔ لہٰذا یہ صرف واپڈا کی نہیں پورے ملک کے محنت کشوں کی لڑائی ہے۔ واپڈا کے محنت کش اب تک نجکاری کے سامنے چٹان بنے ہوئے ہیں اور دلیرانہ جدوجہد کر رہے ہیں لیکن حتمی فتح کے لئے انہیں دوسرے شعبوں اور اداروں کے محنت کشوں کو بھی اپنے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ رنگ، نسل، مذہب، فرقے جیسے رجعتی تعصبات کو رد کرتے ہوئے یکجا ہوکر نجکاری کے اس وار کو پسپا کرنا ہوگا۔
wapda_workersیہاں یونین قیادت کا بھی کڑا متحان ہوگا۔ نجکاری کو روکنا ہے تو آخری معرکے تک لڑنا ہوگا۔ مذاکرات اور لین دین کا وقت اور گنجائش ختم ہوچکے ہیں۔ قیادت اگر کچھ ’’لچک‘‘ دکھا کر حکمرانوں سے ’’سمجھوتہ‘‘ کرنے کی کوشش کرتی بھی ہے تو نجکاری کے حملے رکنے والے نہیں۔ لڑے بغیر بقا کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ واپڈا کے محنت کش کمزور نہیں ہیں۔ 1968-69ء کی انقلابی تحریک میں انہوں نے حکمران ایوانوں کی بجلی کاٹ کر ایوب خان جیسے آمر کو گھر بھیج دیا تھا۔ وہ چاہیں تو آج بھی عوام کو تاریکی میں ڈبونے والے حکمرانوں کے محلات کو اندھیر کر سکتے ہیں… اس انقلابی تحریک کا نقطہ آغاز بن سکتے ہیں جو تمام تر صنعت، معیشت اور ریاست کو محنت کش عوام کی اشتراکی ملکیت بنا ڈالے گی۔ اس طبقاتی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے تمام اداروں کے محنت کشوں کو اعادہ کرنا پڑے گا کہ ’’ایک کا زخم، سب کا زخم!‘‘

متعلقہ:

شکست خوردہ نجکاری

بلیک ہول

طبقاتی جارحیت

پی آئی اے: ’’شیر‘‘ کا پہلا شکار

لوڈ شیڈنگ کا عذاب، گردشی قرضے کا گرداب

One Comment

  1. Pingback: واپڈا کی نجکاری: لڑائی یا موت؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*