اگر امریکہ کمیونسٹ ہو جائے؟

[تحریر: لیون ٹراٹسکی (17 اگست 1934ء)، ترجمہ: فرہاد کیانی]

آج سرمایہ دارانہ الزام تراشوں کی جانب سے مارکسی نظریات کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا مقصد یہ جھوٹا تاثر قائم کر نا ہے کہ کمیونزم امریکی زندگی کے لیے بالکل اجنبی اور امریکی عوام کی فلاح کے خلاف ہے۔ عظیم بحران کے بعد سرمایہ داری مخالف جذبات تیزی سے فروغ پا رہے تھے اور ایک کمیونسٹ امریکہ کے تناظر میں عوام کی دلچسپی قابلِ ذکر ہو گئی۔ اس موقع پر لبرٹی میگزین کے ایڈیٹران نے لیون ٹراٹسکی کی خدمات حاصل کیں تا کہ امریکہ کے کمیونسٹ مستقبل پر طائرانہ نگاہ ڈالی جا سکے۔
ٹراٹسکی نے اس کاوش میں کمیونسٹ مخالف تعصبات کا شکار اور سٹالنزم سے بیزار قارئین کو یہ دکھانے کی کوشش کی کہ دنیا کے جدید ترین ملک میں سوشلسٹ انقلاب کی کامیابی سے کتنی دور رس اور نئی راہیں کھلیں گی۔ 23 مارچ 1935ء کو لبرٹی میگزین میں شائع ہونے والے اس مضمون نے پریس میں ایک نئی بحث کا آغاز کیا۔ 

************************

سرمایہ دارانہ سماجی نظام کی مشکلات اور مسائل کو حل کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں اگر امریکہ کمیونسٹ ہو جائے، تو اسے معلوم ہو گا، کہ ناقابلِ برداشت افسرشاہانہ جبری حکومت اور انفرادی اقتدار کے بر عکس یہ کہیں زیادہ شخصی آزادی اور مشترکہ فراوانی کا باعث بنے گا۔
اس وقت امریکیوں کی اکثریت کی کمیونزم کے متعلق رائے صرف سوویت یونین کے تجربات کی روشنی میں قائم ہوئی ہے۔ انہیں خوف ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ سویت ازم امریکہ میں وہی مادی نتائج پیدار کرے جو اس نے سوویت یونین کے ثقافتی طور پر پسماندہ عوام کو دیے ہیں۔
انہیں ڈر ہے کہ کہیں کمیونزم سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا نہ شروع کر دے۔ اور وہ انگریز نسل کی رجعت کو ممکنہ طور پر پسندیدہ اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ گردانتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکی سوویتوں پر جاپان اور برطانیہ فوجی حملہ کر دیں گے۔ وہ ڈرتے ہیں کہ امریکیوں پر رہن سہن کے جبری طریقے مسلط کر دیے جائیں گے، انہیں قحط سالی کے دنوں جیسا راشن ملے گا، اخبارات میں مخصوص سرکاری پروپیگینڈا پڑھنے کو ملے گا، ان کے شمولیت کے بغیر کیے گئے فیصلوں پر من و عن عمل درآمد کرنا پڑے گا یا پھر قید اور جلا وطنی کے خوف سے اپنے خیالات کو خود تک محدود رکھتے ہوئے اپنے سوویت لیڈر کے قصیدے گانا پڑیں گے۔
وہ افراطِ زر، افسر شاہانہ جبر اور زندگی کی بنیادی ضروریات کے حصول کے لیے ناقابلِ برداشت سرخ فیتے سے ڈرتے ہیں۔ وہ فن اور سائنس کے ساتھ ساتھ روز مرہ کی زندگی میں بھی بے روح یکسانیت سے خوف زدہ ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ سیاسی بے ساختگی اور فرض کی گئی پریس کی آزادی ایک خوفناک افسرشاہانہ آمریت کے ہاتھوں برباد ہو جائیں گی۔ وہ نا قابلِ فہم مارکسی جدلیات اور زبر دستی کے سماجی فلسفوں کی لفاظی کو جبراً سیکھنے کے خیال سے لرز جاتے ہیں۔ مختصراً انہیں ڈر ہے کہ سوویت امریکہ وہ کچھ نہ بن جائے جو انہیں سوویت روس کے متعلق بتایا جاتا ہے۔
در حقیقت امریکن سوویتیں روسی سوویتوں سے مختلف ہوں گی، جیسے صدر روز ویلٹ کا امریکہ زارِ روس کی سلطنت سے مختلف ہے۔ تاہم امریکہ میں کمیونزم صر ف انقلاب کے ذریعے ہی آسکتا ہے، جیسا کہ آزادی اور جمہوریت آئی تھیں۔ امریکہ کا مزاج توانائی سے بھرپور اور تند خوہے، اور کمیونزم کے مضبوطی سے قائم ہونے سے پہلے کئی برتن ٹوٹیں گے اور کئی چھکڑے الٹیں گے۔ ماہرین اور مدبر سیاست دانوں سے پہلے امریکی پر جوش اور کھلاڑی ہیں، اور اپنی سائیڈ چنے اور کچھ سر پھوڑے بغیر ایک بڑی تبدیلی امریکی روایات کے برخلاف ہو گی۔
تاہم آپ کی قومی دولت اور آبادی کے اعتبار سے امریکہ کا کمیونسٹ انقلاب روس کے بالشویک انقلاب کے مقابلے میں غیر اہم ہو گا، خواہ اس کی تقابلی قیمت کتنی ہی زیادہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انقلابی نوعیت کی خانہ جنگی میں اوپر کے چند افراد نہیں لڑتے، یعنی وہ پانچ یا دس فیصد جو امریکہ کی نوے فیصد دولت کے مالک ہیں۔ یہ اقلیت اپنی رد انقلابی قوتوں کو صرف درمیانے طبقے کی نچلی پرتوں میں سے بھرتی کر سکتی ہے۔ لیکن ان پرتوں کو بھی انقلاب باآسانی اپنی جانب مائل کر سکتا ہے یہ دکھا کر کہ ان کی نجات کا واحد راستہ سوویتوں کی حمایت ہے۔
اس گروپ سے نیچے تمام لوگ پہلے ہی کمیونزم کے لئے معاشی طور پر تیار ہیں۔ کساد بازاری نے آپ کے محنت کش طبقے کو برباد کر دیا ہے اور کسانوں پر بھی تباہ کن وار کیے ہیں، جو پہلے سے ہی عالمی جنگ کے بعد زراعت میں طویل زوال کے ہاتھوں گھائل ہو چکے ہیں۔ ان کے پاس انقلاب کی مخالفت کرنے کی کوئی وجہ نہیں؛ ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ انقلابی قائدین ان کی جانب دور اندیش اور معتدل رویہ رکھیں۔
کمیونزم کے خلاف اور کون لڑے گا؟ آپ کے ارب پتی اور کروڑ پتی سپاہی؟ میلن، مورگن، فورڈ اور راک فیلر؟جوں ہی ان کی خاطر لڑنے والا کوئی میسر نہیں ہو گا وہ لڑائی سے بھاگ جائیں گے۔
امریکہ کی سوویت حکومت آپ کے کاروباری نظام کے اہم حصوں (Commanding heights) کو اپنی ملکیت میں لے گی؛ جن میں بینک، اہم صنعتیں، ٹرانسپورٹ اور مواصلات کا نظام شامل ہے۔ پھر کسانوں، چھوٹے تاجروں اور کاروباری لوگوں کے پاس یہ سوچنے اور دیکھنے کا مناسب وقت ہو گا کہ قومی تحویل میں لی گئی صنعت کتنی اچھی چل رہی ہے۔
یہاں امریکی سوویتیں حقیقی معجزے دکھا سکتی ہیں۔ حقیقی ’’ٹیکنو کریسی‘‘ صرف کمیونزم میں ہی آ سکتی ہے، جب آپ کا صنعتی نظام نجی ملکیت اور نجی منافع کے مردہ بوجھ سے آزاد ہوں گے۔ معیار بندی اور جدت کے لیے ہوور کمیشن کی پیش کردہ انتہائی زبر دست سفارشات بھی امریکی کمیونزم سے جنم لینے والے نئے امکانات کے سامنے بچوں کا کھیل رہ جائیں گی۔
قومی صنعت کنوےئر بیلٹ (conveyor belt) کی طرز پر منظم کی جائے گی جس طرح کہ آپ کے گاڑیاں بنانے والے جدید کارخانوں میں مسلسل پیداوار ہوتی ہے۔ سائنسی منصوبہ بندی کو انفرادی کارخانے سے نکال کر سارے معاشی نظام پر لاگو کیا جائے گا۔ اس کے نتائج عظیم اور حیران کن ہوں گے۔
پیداواری لاگت میں آج کی نسبت 20 فیصد کمی آ جائے گی۔ اس سے آپ کی کسانوں کی قوتِ خرید میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔
ثبوت کے طور پر امریکی سوویتیں وسیع پیمانے کے فارم بنائیں گی، جو رضا کارانہ اجتماعیت کی درس گاہیں ہوں گے۔ آپ کے کسانوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان ہو گا کہ کیا ان کا فائدہ الگ تھلگ رہ کر ہے یا سرکاری سلسلے کا حصہ بن کر۔
چھوٹے کاروباروں اور صنعتوں کو قومی سطح پر منظم کرنے کے لیے بھی یہی طریقہِ کار اختیار کیا جائے گا۔ خام مال، قرضوں اور آرڈروں کے کوٹے پر سوویت حکومت کے کنٹرول سے ان ثانوی صنعتوں کو اس وقت تک فعال رکھا جا سکتا ہے جب تک وہ بتدریج اور بغیر کسی زبر دستی کے، سوشلسٹ نظامِ کاروبار میں ضم نہ ہو جائیں۔
بغیر کسی زبر دستی کے! امریکی سویتوں کوویسے شدید اقدامات کی ضرورت نہیں پڑے گی جیسے حالات کے دباؤ میں روس میں کرنا پڑے۔ امریکہ میں اشتہار بازی کی سائنس کے ذریعے آپ کے پاس درمیانے طبقے کی حمایت جیتنے کا وہ طریقہ میسر ہے جو پسماندہ روس کی سوویتوں کی دسترس میں نہیں تھا جہاں پر آبادی کی وسیع اکثریت مفلس اور نا خواندہ کسانوں پر مشتمل تھی۔ یہ اور اس کے ساتھ آپ کا تکنیکی سازو سامان اور دولت، آپ کے آنے والے کمیونسٹ انقلاب کے اہم ترین اثاثے ہیں۔ آپ کا انقلاب ہمارے انقلاب کے مقابلے میں زیادہ ہموار ہو گا؛ بنیادی مسئلوں کے حل کے بعد آپ کی توانائیاں اور وسائل مہنگے سماجی تنازعات کی نظر نہیں ہوں گے؛ نتیجتاً آپ کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھیں گے۔
حتیٰ کہ امریکہ میں موجود مذہبی جذبات کی شدت اورعقیدت انقلاب کے راستے کی رکاوٹ ثابت نہیں ہو گی۔ اگر ہم امریکہ میں سوویتوں کا تناظر بنائیں، تو کسی بھی نفسیاتی رکاوٹ میں سماجی بحران کے دباؤ کو روکنے کی طاقت نہ ہو گی۔ تاریخ میں ایسا ایک سے زیادہ مرتبہ ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ انجیل میں خود بہت سی (طبقاتی حوالے سے) دھماکہ خیز آیات موجود ہیں۔
انقلاب کے نسبتاً کم مخالفین کی موجودگی میں ہم امریکہ کی تخلیقی صلاحیتوں پر اعتماد کر سکتے ہیں۔ عین ممکن ہے کہ نہ ماننے والے کروڑ پتیوں کو آپ بغیر کسی کرائے کے ساری عمر کے لیے کسی خوبصورت جزیرے پر بھیج دیں، جہاں جوان کا من چاہے وہ کریں۔
آپ ایسا محفوظ طور پر کر سکتے ہیں کیونکہ آپ کو بیرونی مداخلتوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ جاپان، برطانیہ اور روس میں مداخلت کرنے والے دیگر ممالک امریکی انقلاب کو خاموشی سے برداشت کرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ در حقیقت سرمایہ داری کے گڑھ امریکہ میں کمیونزم کی فتح دیگر ممالک میں کمیونزم کو فروغ دے گی۔ قوی امکان ہے کہ جاپان امریکہ سے پہلے کمیونسٹوں کی صف میں کھڑا ہو۔ برطانیہ کے متعلق بھی یہی کہا جا سکتا ہے۔
کسی بھی صورت میں، سوویت امریکہ اور حتیٰ کہ آپ کے برِ اعظم کے جنوبی اور زیادہ قدامت پسند نصف کے خلاف بھی برطانیہ کی شاہی بحریہ کو لڑنے بھیجنا حماقت ہو گی۔ اسے فتح کی کوئی امید نہ ہوگی اور یہ دوسرے درجے کی عسکری مہم جوئی سے زیادہ کچھ نہ ہو گا۔ امریکی سوویتوں کے قیام کے چند ہفتوں یا مہینوں بعد براعظم شمالی اور جنوبی امریکہ کی یکجائی (Pan-Americanism) ایک سیاسی حقیقت بن جائے گی۔
وسطی اور جنوبی امریکہ کی حکومتیں آپ کی فیڈریشن میں اس طرح کھنچتی چلی آئیں گی جیسے لوہے کے ذرات مقناطیس کی جانب۔ کینیڈا بھی ایسا ہی کرے گا۔ ان ممالک میں چلنے والی عوامی تحاریک اتنی زور دار ہوں گی کہ اتحاد کا یہ عظیم عمل بہت مختصر مدت اور بہت ادنیٰ قیمت پر مکمل ہو جائے گا۔ میں شرط لگانے پر تیار ہوں کہ امریکی سوویتوں کی پہلی سالگرہ کے موقع پرمغربی نصف کرہ ارض شمالی، وسطی اور جنوبی امریکہ کی متحدہ سویت ریاستوں میں تبدیل ہو چکا ہو گا جس کا دارالحکومت پاناما میں ہو گا۔ چناچہ پہلی مرتبہ منرو کا نظریہ (امریکی بر اعظموں میں یورپ کی مداخلت کی مخالفت) دنیا کے معاملات میں مکمل اور مثبت طور پر سامنے آئے گا، اگرچہ اس کے خالق (امریکی صدر جیمز منرو) نے کبھی یہ سوچا ہی نہ ہو گا۔
آپ کے کٹر قدامت پرستوں کی شکایات کے باوجود (صدر) روزویلٹ امریکہ میں سوشلسٹ تبدیلی کی تیاری نہیں کر رہا۔
این آر اے (NRA) (قومی صنعتی بحالی ایکٹ) امریکی سرمایہ داری کی بنیادوں کو تباہ کرنے کی بجائے، آپ کی کاروباری مشکلات کو دور کر کے، انہیں مضبوط کر رہا ہے۔ امریکہ میں کمیونزم کو جنم (این آر اے کا نشان )نیلے شاہین کی بجائے وہ مشکلات دیں گی جو نیلا شاہین حل کرنے سے قاصر ہے۔ برین ٹرسٹ (صدر روزویلٹ کے مشیر) کے’’ ریڈیکل‘‘ پروفیسر انقلابی نہیں ہیں: وہ صرف خوفزدہ قدامت پرست ہیں۔ آپ کا صدر ’’نظاموں‘‘ اور ’’کلیت‘‘ سے نفرت کرتا ہے۔ لیکن ایک سوویت حکومت تمام ممکنہ نظاموں میں عظیم ترین اور ایک موثر اور دیو ہیکل کلیت ہو گی۔
عام آدمی کو بھی نظام اور کلیت پسند نہیں۔ یہ آپ کے کمیونسٹ قائدین اور مدبرین کا فریضہ ہے کہ وہ نظام کے ذریعے عام آدمی کو درکار ٹھوس مادی حاصلات فراہم کریں: یعنی خوراک، سگار، تفریح، اپنی ٹائی، اپنا گھر اور اپنی گاڑی پسند کرنے کی آزادی۔ سوویت امریکہ میں یہ سب سہولیات مہیا کرنا آسان ہو گا۔
اکثر امریکیوں کے غلط تاثر کی بنیاد یہ حقیقت ہے کہ سوویت یونین میں ہمیں ساری بنیادی صنعت نئے سرے سے تعمیر کرنا پڑی تھی۔ امریکہ میں ایسا نہیں ہو گا کیونکہ آپ کو پہلے سے ہی اپنی زرعی اراضی اور صنعتی پیداوار میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔ در حقیقت آپ کا عظیم تکنیکی سازوسامان اس بحران کے ہاتھوں مفلوج ہو چکا ہے اور اس کو بروئے کار لانے کی اشد ضرورت ہے۔ آپ بہت تیزی سے اپنے لوگوں میں اشیا کی کھپت کو بڑھا سکیں گے اور یہ آپ کی معاشی بحالی کا نکتہِ آغاز ہو گا۔
یہ سب کرنے کے لیے آپ کے ملک کی تیاری کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ ہے۔ داخلی منڈی پر جس گہرائی سے تحقیق امریکہ میں ہوئی اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ یہ تحقیق آپ کے بینکوں، ٹرسٹ، انفرادی بیوپاریوں، تاجروں، چلتے پھرتے سیلز مینوں اورکسانوں نے اپنی تجارت کی غرض سے کی ہے۔ آپ کی سوویت حکومت تمام کاروباری رازوں کا خاتمہ کر دے گی اور انفرادی منافع کے لیے کی جانے والی تمام تحقیق کو یکجا کرتے ہوئے معاشی منصوبہ بندی کے ایک سائنسی نظام میں بدل دے گی۔ اس ضمن میں متمدن اور ناقد صارفین کا ایک بڑا طبقہ آپ کی حکومت کی مدد کرے گا۔ قومی تحویل میں موجود بڑی صنعتوں، اور آپ کے نجی کاروباروں اور صارفین کے جمہوری تعاون کے ملاپ کیساتھ آپ بہت جلد آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کا بہت لچک دار نظام استوار کر لیں گے۔
کوئی بیوروکریٹ یا کوئی پولیس والا نہیں بلکہ اس نظام کو نقد روپیہ چلا رہا ہو گا۔
آپ کے نئے سوویت نظام کو کامیابی سے چلانے میں آپ کے مضبوط ڈالر کا بہت اہم کردار ہو گا۔ ’’منصوبہ بند معیشت‘‘ اور’’منتظم شدہ معیشت‘‘ کو آپس میں ملانا بہت بڑی غلطی ہے۔ لازمی طور پر آپ کا پیسہ وہ پیمانہ ہو گا جس سے آپ کی منصوبہ بندی کی کامیابی یا ناکامی ماپی جائے گی۔
آپ کے ’’ریڈیکل‘‘ پروفیسر ’’پیسے پر کنٹرول‘‘ (Managed money) کا پرچار کر کے بہت بڑی غلطی پر ہیں۔ یہ ایسا کتابی نظریہ ہے جوآپ کی رسد اور پیداوار کے سارے نظام کو باآسانی تباہ کر سکتا ہے۔ سوویت یونین کی مثال سے ہمیں یہی اہم سبق ملتا ہے جہاں مالیاتی شعبے میں تلخ ضرورت کو سرکاری پالیسی بنا لیا گیا ہے۔
سوویت یونین میں سونے کے ساتھ منسلک مضبوط روبل کا نہ ہوناہماری کئی معاشی مشکلات اور اور بربادیوں کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔ ایک مضبوط مالیاتی پالیسی کے بغیر اجرتوں، قیمتوں اور اشیاء کے معیار کو درست رکھنا نا ممکن ہے۔ سوویت نظام میں ایک غیر مستحکم روبل ایک کنوےئر بیلٹ والے کارخانے میں مختلف طرح کے سانچوں کے مترادف ہے۔ یہ کام نہیں کر سکتا۔
سونے کے ساتھ جڑی ایک مستحکم کرنسی کا خاتمہ صرف تب ممکن ہے جب سوشلزم کا انتظامی کنٹرول پیسے کی جگہ لے لے۔ تب پیسہ کاغذ کا ایک ٹکڑا بن کر رہ جائے گا، جیسے ریل یا تھیٹر کا کوئی ٹکٹ۔ سوشلزم کی ترقی کے ساتھ یہ کاغذ کے ٹکڑے بھی غائب جائیں گے اور انفرادی مصرف پر کنٹرول، خواہ پیسے یا انتظامیہ کے ذریعے، کی ضرورت ہی نہیں رہے گی کیونکہ ہر کسی کے لیے ہر چیزضرورت سے زیادہ موجود ہو گی۔
ابھی ایسا وقت نہیں آیا، لیکن امریکہ میں یقیناًیہ کسی بھی ملک کی نسبت جلد ہوگا۔ ترقی کی ایسی منزل پر پہنچنے کے لیے اس وقت تک نظام کو چلانے کے لیے ایک موثر ریگولیٹر اور طریقہ کار ضروری ہو گا۔ در حقیقت، ابتدائی چند برسوں میں منصوبہ بند معیشت کو مضبوط کرنسی کی ضرورت پرانی سرمایہ داری کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو گی۔ سارے کاروباری نظام کو ریگولیٹ کرنے کی غرض سے پیسے کو ریگولیٹ کرنے والا پروفیسر اس شخص کی مانند ہے جو دونوں پیر بیک وقت ہوا میں اٹھانے کی کوشش کرے۔
سوویت امریکہ کے پاس سونے کی اتنی فراہمی ہو گی جس سے ڈالر کو مستحکم رکھا جا سکے جوایک بیش قیمت اثاثہ ہے۔ روس میں ہم اپنے صنعتی پلانٹ کو 20 سے 30 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھا تے رہے ہیں؛ لیکن کمزور (کرنسی) روبل کی وجہ سے ہم اس ترقی کو موثر انداز میں تقسیم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم نے اپنی افسر شاہی کو مالیاتی نظام کو انتظامی یک طرفہ پن سے چلانے کی اجازت دے رکھی ہے۔ آپ اس برائی سے بچ جائیں گے۔ نتیجتاً آپ پیدوار اور تقسیم میں اضافے میں ہم سے کہیں آگے نکل جائیں گے، جس سے آپ کی آبادی کی آسائشوں اور فلاح و بہبود بہت میں تیزی سے بہتری آئے گی۔
اس عمل میں آپ کو ہمارے قابلِ رحم صارفین کے لیے کی جانے والی یکسانیت پر مبنی پیداوار کی نقل کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہم نے زار کے روس میں اقتدار سنبھالا تھا جوکسی کنگال کی وراثت جیسا تھا، جہاں ثقافتی طور پر پسماندہ کسانوں کا معیارِ زندگی بہت پست تھا۔ ہمیں کارخانوں اور ڈیموں کی تعمیر کے لیے صارفین کی ضروریات کو قربان کرنا پڑا۔ ہمارے ہاں مسلسل افراطِ زر اور شیطان افسر شاہی تھی۔ سوویت امریکہ کو ہمارے افسر شاہانہ طریقوں کو اپناے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ہمارے ہاں بنیادی ضروریات کی کمی کی وجہ سے ہر کوئی روٹی کے ایک اضافی ٹکڑے اور کپڑے کے ایک اضافی گز کی شدید جستجو میں لگ گیا۔ اس تگ و دو میں ہماری افسر شاہی ایک مصالح اور ایک طاقتور ثالث کی شکل میں سامنے آئی۔ لیکن آپ ہم سے کہیں زیادہ با وسائل ہیں اور آپ کو سارے لوگوں کے لیے زندگی کی تمام بنیادی ضروریات کی فراہمی میں کوئی خاص دشواری پیش نہیں آئے گی۔ علاوہ ازیں آپ کی ضروریات، ذوق اور عادات آپ کی افسر شاہی کو قومی دولت کی بندر بانٹ کی اجازت نہیں دیں گی۔ اس کے برعکس، جب آپ اپنے سماج کو خود منظم کریں گے جہاں پیداوار کا مقصد نجی منافعوں کی بجائے انسانی ضروریات کے کی تکمیل ہو گا، آپ کی تمام آبادی خود کو نئے رجحانات اور نئے گروپوں میں منظم کرے گی، جو ایک دوسرے سے مسابقت میں ہوں گے جو ایک خود پرست افسر شاہی کو اپنے اوپر مسلط نہیں ہونے دیں گے۔
اس طرح سے آپ سوویتوں یعنی جمہوریت کے استعمال کے ذریعے افسر شاہی کو بڑھنے سے روک پائیں گے، جمہوریت جو اب تک حکومت چلانے کا سب سے لچک دار طریقہ ہے۔ سوویت تنظیم معجزے نہیں کر سکتی، لیکن لازمی طور پر عوام کی خواہشات کا اظہار ہو گی۔ ہمارے ہاں سوویتیں افسر شاہی کی شکل اختیار کر چکی ہیں جس کی وجہ ایک پارٹی کی سیاسی اجارہ داری ہے جو کہ خود افسر شاہی بن گئی ہے۔ یہ صورتحال ایک غریب اور پسماندہ ملک میں سوشلزم کی شروعات کا نتیجہ ہے۔
امریکی سوویتیں زندگی اور توانائی سے بھرپور ہوں گی، جہاں ایسے اقدامات کی ضرورت اور مواقع نہیں ہوں گے جو حالات کے جبر کے تحت روس میں کرنا پڑے۔ آپ کے غیر پشیماں سرمایہ داروں کے لیے نئے نظام میں بلا شبہ کوئی جگہ نہ ہو گی۔ ہنری فورڈ کے لیے ڈ یٹرایٹ شہر کی سوویت کا سربراہ بننا خاصا دشوار ہو گا۔
تاہم بہت سے مفادات، گروپوں اور نظریات کے مابین جدوجہد نہ صرف قابلِ فہم ہے بلکہ ناگزیر بھی۔ ترقی کے ایک سالہ، پانچ سالہ اور دس سالہ منصوبے، قومی تعلیم کی سکیمیں؛ بنیادی ٹرانسپورٹ کی نئی لائینوں کی تعمیر؛ زراعت میں تبدیلیاں؛لاطینی امریکہ کے تکنیکی اور ثقافتی سازو سامان میں بہتری کے پروگرام؛ خلائی مواصلات؛ نسلِ انسانی میں جینیات کے ذریعے بہتری، یہ تمام معاملات اختلافات، شدید انتخابی لڑائیوں اور اخبارات اور عوامی جلسوں میں پر جوش بحثوں کو جنم دیں گے۔
سوویت امریکہ میں روس کی طرح پریس پر افسر شاہی کی اجارہ داری نہیں ہو گی۔ جہاں سوویت امریکہ تمام پرنٹنگ پلانٹوں، کاغذ کے کارخانوں اور تقسیم کے ذرائع کو قومی ملکیت میں لے گا، یہ مکمل طور پر منفی عمل ہو گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نجی سرمائے کو یہ فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں ہو گی کہ کیا چھپ سکتا ہے اور کیا نہیں، خواہ وہ مواد ترقی پسند یا رجعتی، ’’گیلا‘‘ یا ’’خشک‘‘، پاکباز یا فحش ہو۔ سوویت امریکہ کو ایک سوشلسٹ حکومت میں پریس کی قوت کے استعمال کے متعلق نئے طریقے تلاش کرنا ہوں گے۔ ایسا ہر سوویت کے انتخابات میں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔
چناچہ شہریوں کے ہر گروپ کا پریس کی طاقت کو استعمال کرنے کا حق ان کی تعداد پر منحصر ہو گا۔ جلسہ گاہوں کے استعمال اور ریڈیو پر وقت کی الاٹمنٹ وغیرہ کے لیے بھی یہی اصول ہو گا۔
چناچہ مطبوعات کی اشاعت کا انتظام اور پالیسی انفرادی نفع کے بجائے گروہی نظریات کے مطابق ہو گی۔ اس سے عددی طور پر کمزور لیکن اہم گروپوں کو زیادہ شناخت نہیں ملے گی، لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر نئے نظریے کو اپنے وجود کا حق ثابت کرنا ہو گا، جیسا کہ تاریخ میں ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔
دولت مند سوشلسٹ امریکہ ہر شعبے میں تحقیق و ایجادات اور دریافت و تجربات کے لیے بڑے پیمانے کے فنڈ مختص کر سکتا ہے۔ آپ اپنے بے باک معماروں اور مجسمہ سازوں، غیر روائتی شاعروں اور سرکش فلسفیوں کو نظر انداز نہیں کریں گے۔
در حقیقت سوشلسٹ امریکی ان تمام شعبوں میں یورپ کی رہنمائی کریں گے جن میں اب تک یورپ آپ کا استاد رہا ہے۔ یورپیوں کو انسانی تقدیر بدلنے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کا بہت کم اندازہ ہے اوروہ، خصوصاً اس بحران کے بعد سے، ’’امریکن ازم‘‘ کے خلاف حقارت آمیز احساسِ برتری کاشکار ہیں۔ لیکن امریکن ازم ہی وہ حقیقی لکیر ہے جو جدید دنیا کو قرونِ وسطیٰ سے علیحدہ کرتی ہے۔
ابھی تک فطرت پر امریکہ کا تسلط اتنا ہنگامہ خیز اور پر زور رہا ہے کہ آپ کو اپنے فلسفوں کو جدید طور پر استوار کرنے یا اپنی مخصوص فنی تشکیلات کے لیے وقت ہی میسر نہیں آیا۔ اس لیے آپ ہیگل، مارکس اور ڈاروِن کے نظریات کے بر خلاف رہے۔ ریاست ٹینسی کے باپٹسٹ عیسائیوں کے جانب سے ڈاروِن کی کتاب کو جلانے کا واقعہ نظریہِ ارتقاء کے خلاف امریکیوں کی نا پسندیدگی کا ایک بھونڈا اظہار ہے۔ یہ رویہ آپ کے منبروں تک محدود نہیں ہے۔ یہ آپ کی عمومی ذہنیت کا حصہ ہے۔
آپ کے ملحد اور مذہبی دونوں اٹل عقلیت پسند ہیں۔ اور آپ کی عقلیت پسندی بذاتِ خود تجربیت اور اخلاقیت کی وجہ سے کمزور ہے۔ اس میں یورپ کے بے رحم عقلیت پسندوں جیسی قوت کا شائبہ تک نہیں۔ چناچہ آپ کا فلسفیانہ طریقہِ کار آپ کے معاشی نظام اور سیاسی اداروں سے بھی زیادہ متروک ہے۔
آج آپ کو، بغیر کسی تیاری کے، ان سماجی تضادات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو ہر سماج میں خاموشی سے پنپتے رہتے ہیں۔ آپ نے اپنی اخترائی صلاحیتوں کے ذریعے وہ آلات تخلیق کیے جن سے فطرت پر فتح پائی، لیکن ان آلات نے آپ ہی کو برباد کر ڈالا۔ آپ کی تمام تر امیدوں اور خواہشات کے بر عکس آپ کی بے نظیر دولت نے بے نظیر بد بختی کو جنم دیا ہے۔ آپ نے جانا ہے کہ سماجی ترقی کسی سادہ فارمولے کے تحت نہیں ہوتی۔ چناچہ آپ جدلیات کی درسگاہ میں داخل ہو چکے ہیں۔
یہاں سے سترہویں اور اٹھارویں صدی کے انداز فکر و رعمل میں لوٹنا ممکن نہیں۔
جب نازی جرمنی کے رومانوی احمق یورپ کے گھنے جنگلات کی قدیم نسل کو اس کے اصلی خالص پن، بلکہ اس کی اصلی غلا ظت، کی جانب لوٹانے پر کاربند ہیں، آپ امریکی، اپنی معیشت اور ثقافت پر مضبوط گرفت حاصل کر کے، انسانی جینیات کے مسائل پر حقیقی سائنسی طریقوں کو استعمال کریں گے۔ ایک صدی میں، آپ کے مختلف نسلوں پر مبنی سماج سے انسانوں کی ایک نئی قسم ابھرے گی، جو انسان کہلانے کے قابل پہلی نسل ہو گی۔

One Comment

  1. Pingback: یورپ: برداشت، بغاوت اور انقلاب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*