یونان: ایتھنز سے ’پاپولر یونٹی‘ کے امیدوار پیناگیوٹس کولووس کا انٹرویو

| اہتمام: مارکسسٹ ڈاٹ کام، ترجمہ: حسن جان |

سپراس کی جانب سے ٹرائیکا کے مطالبے پر کٹوتیوں کے پروگرام کو اپنا کر استعفیٰ دینے کے بعد اتوار 20 ستمبر کو یونان میں الیکشن ہونے جارہے ہیں۔ اس سے اسکی پارٹی سائریزا میں پھوٹ پڑ گئی۔ بائیں بازو نے الگ ہوکر لافازانس کی قیادت میں نئی ’پاپولر یونٹی پارٹی‘ بنائی ہے۔

panagiotis-kolovos_copy_copy

پیناگیوٹس کولووس

ہم نے کمیونسٹ رجحان، جس نے سائریزا سے الگ ہوکر نئی پارٹی بنانے میں شرکت کی، کے سرکردہ رکن پیناگیوٹس کولووس سے انٹرویو لیا جو ایتھنز سے الیکشن کے امیدوار ہیں۔

کیا آپ سپراس کے نئے میمورینڈم کے آگے جھکنے کے بعد یونانی سماج میں عمومی موڈ کا تذکرہ کرسکتے ہیں؟
یونانی سماج میں ریفرنڈم سے پہلے اور بعد کے حالات قبل از انقلاب کے حالات تھے۔ ایک واضح طبقاتی صف بندی موجود تھی۔ ایک طرف خوف اور دوسری طرف امید اور جنگجوانہ موڈ تھا۔ لیکن نئے میمورینڈم کو قبول کرنے کے بعد یہ موڈ تیزی سے تبدیل ہوگیا۔ باشعور پرتوں میں یہ احساس موجود تھا کہ ان کے ساتھ غداری ہوئی ہے۔ عمومی طور پر شکست اور ناامیدی کے احساسات حاوی تھے۔ سب سے بھیانک چیز یہ ہے کہ سائریزا کی قیادت سماج کے نچلی پرتوں کو یہ باور کرانی کی ذمہ دار ہے کہ کٹوتیوں اور میمورینڈم کے علاوہ اور کوئی نعم البدل نہیں ہے۔

بائیں بازو (سائریزا اور اس کے سابقہ ممبران، کمیونسٹ پارٹی اور بائیں بازو کے نوجوان) کے کارکنان کی کیا کیفیت ہے؟ عمومی طور پر نوجوانوں کی کیفیت کیا ہے؟
سائریزا کے سرگرم کارکنان میں حاوی رجحان مایوسی کا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی قیادت نے ان سے غداری کی ہے۔ پارٹی کے تقریباً آدھے ممبران نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ان میں سے کچھ ’’پاپولر یونٹی‘‘ (جو سائریزا کے لیف پلیٹ فارم پر مشتمل ہے جس میں سائریزا کے بائیں بازو کے کچھ حصے یا چھوٹے رجحانات مثلاً انٹارسیا کی کچھ تنظیمیں اور دوسرے بائیں بازو کے چھوٹے گروہ شامل ہیں) کے نئے اتحاد میں شامل ہورہے ہیں۔ حتیٰ کہ پارٹی کے اندر رہ جانے والے لوگ بھی مایوس ہیں اور صرف اس وجہ سے موجود ہیں کہ اگر دایاں بازو حکومت میں آگیا تو حالات اس سے بھی بد تر ہونگے۔ سائریزا کو چھوڑ کر پاپولر یونٹی میں جانے والے لوگوں میں جرات مندانہ کیفیت ہے کیونکہ ان کے پاس ایک پوائنٹ آف ریفرنس اور کام کے ذرائع ہیں۔ جن کے پاس یہ نہیں ہے وہ مایوس اور پیچھے چلے گئے ہیں اور فی الحال تحریک میں شریک نہیں ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی کے ممبران اپنی قیادت پر زیادہ پر اعتماد ہیں کیونکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی قیادت نے صحیح بتا یا اور واضح مؤقف اپنایا۔ اس طرح سائریزا کی قیادت کی غداری نے وقتی طور پر کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کے اثر و رسوخ اور ان کے ممبران کے الٹرا لیفٹ نظریات اور رویے کو تقویت دی ہے۔ عمومی طور پر نوجوانوں، جنہوں نے بڑی اکثریت سے ریفرنڈم میں ’نہیں ‘ کو ووٹ دیا، میں تمام سیاسی پارٹیوں بشمول بائیں بازو کے خلاف مایوسی اور پریشانی کے احساسات ہیں۔ اگرچہ ان کی بڑی تعداد اب بھی بائیں بازو (کمیونسٹ پارٹی، پاپولر یونٹی اور انٹارسیا) کو ووٹ دیں گے، لیکن اس سے بڑی تعداد الیکشن میں حصہ ہی نہیں لے گی۔

آپ پاپولر یونٹی کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہیں۔ آپ کا مؤقف کیا ہے؟ پارٹی پروگرام کے اہم نکات کیا ہیں؟ اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ بحران کو حل کرنے کے لیے کافی ہے؟
میں ایتھنز سے پاپولر یونٹی کے امیدوار کے طور پر کھڑاہوں۔ پارٹی پروگرام کے اہم نکات یہ ہیں: قرضوں کی منسوخی، یونان کی یوروزون سے علیحدگی اور یورپی یونین کی سیاست سے علیحدگی (اور اگر ضرورت ہو تو ایک ریفرنڈم کے ذریعے یورپی یونین سے علیحدگی)، مزدوروں اور عوامی کنٹرول میں بینکوں کی نیشنلائزیشن، غریبوں کے بینکوں سے لیے گئے قرضوں کے کچھ حصوں کی منسوخی، مزدوروں اور عوامی کنٹرول میں معیشت کے ’’کلیدی حصوں‘‘ کی نیشنلائزیشن، ایک آئین ساز اسمبلی کے ذریعے جمہوریت اور عوام کو طاقت کی منتقلی کے لیے ریاست کی ریڈیکل تبدیلی۔ اگرچہ یہ پروگرام صحیح سمت میں ہے اور سائریزا کے پروگرام سے اچھا ہے لیکن ناکافی ہے۔ سرمایہ داری کی بنیاد پر یہ بحران حل نہیں ہوسکتا۔ ہمیں اس پروگرام میں یہ اضافہ کرنا چاہیے کہ تمام بڑی کمپنیوں کو قومی تحویل میں لے کر مزدوروں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے اور پوری معیشت کو جمہوری مرکزی منصوبہ بندی کے ذریعے چلایا جائے۔ ہمیں اوقات کار میں کمی کو بھی متعارف کرنا چاہیے تاکہ تمام بے روزگاروں کو روزگار مل سکے جو صرف ایک مرکزی طور پر منظم منصوبہ بند معیشت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ غریبوں کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہمیں چرچ اور امیر ترین لوگوں کی جائیدادوں کو ضبط کرنا چاہیے۔ ہمیں ریاست میں بھی تبدیلی کرنی چاہیے تاکہ بحیثیت بورژوا ریاست کے اس کا کردار تبدیل ہوجائے۔ اس طرح کی تبدیلیاں جیسے پولیس کا خاتمہ اور اس کی جگہ عوامی ملیشیا، فوج کی ساخت میں تبدیلی جس میں افسروں کا انتخاب سپاہیوں کی اسمبلیوں کے ذریعے ہو، ہر منتخب سرکاری عہدیدار کو واپس بلانے کا حق اور ہر ریاستی عہدیدار کی اجرت اوسط مزدور کی اجرت کے برابر ہو۔ اس کا مطلب منصوبہ بند معیشت ہے جو سوشلزم کی تعمیر کرے گی۔ ہمیں عالمگیریت پر مبنی پروگرام کے نعرے کو متعارف کرنا چاہیے جیساکہ یورپی یونین کی جگہ سوشلسٹ ریاستہائے متحدہ یورپ، تاکہ یورپ کے مزدوروں کو آگے کا راستہ دکھایا جاسکے کیونکہ صرف یونان کی سرحدوں میں سوشلزم کوتعمیر نہیں کیا جاسکتا۔ ہم یونان سے آغاز کرسکتے ہیں لیکن پھر اسے پورے یورپ میں پھیلنا ہوگا۔

آپ کے خیال میں الیکشن میں کیا ہوگا؟
میرے خیال میں پہلے تو الیکشن میں بڑے پیمانے پر گریز (Abstention) ہوگا (کم لوگ ووٹ ڈالیں گے)۔ بڑے شہروں اور محنت کش طبقے کے علاقوں میں سائریزا پہلی پارٹی ہوگی لیکن سائریزا مزدوروں، نوجوانوں کے ایک بڑے حصے کی حمایت کھودے گی۔ سائریزا راتوں رات ختم نہیں ہوگی لیکن اس کے زوال اور تنزلی کا عمل آنے والے مہینوں یا سالوں میں بہت تیز ہوگا۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ عمومی طور پر سائریزا پہلے نمبر پر ہوگی یا نیو ڈیموکریسی، لیکن دونوں میں بہت کم فرق ہوگا۔ یہ بات واضح نہیں ہے کہ کتنی پارٹیاں پارلیمنٹ میں پہنچیں گے۔ قیادت کی الٹرالیفٹ حکمت عملی کی وجہ سے کمیونسٹ پارٹی بہت کم فائدہ اٹھاسکے گی اور پاپولر یونٹی بھی زیادہ حمایت حاصل نہیں کر پائے گی کیونکہ موجودہ کیفیت میں عوام کی نظروں میں وہ کوئی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ لیکن پاپولر یونٹی، کمیونسٹ پارٹی سے زیادہ ووٹ لے گی لیکن فی الحال دس فیصد سے زیادہ نہیں۔ بد قسمتی سے گولڈن ڈان کے فاشسٹ اپنی حمایت برقرار رکھیں گے اورسائریزا کی وجہ سے مایوس پیٹی پورژوازی اور لمپن پرولتاریہ میں اپنی حمایت بڑھا بھی سکتے ہیں اور کچھ چھوٹی دائیں بازو کی پارٹیاں جیسی انیل، پوٹامی اور حتیٰ کہ یونین آف سینٹرسٹ بھی شاید پارلیمنٹ میں پہنچ جائیں۔ زیادہ امکانا ت یہی ہے کہ آنے والی حکومت یا تو سائریزااور پاسوک اور پوٹامی (اور ضرورت پڑنے پر نیو ڈیمو کریسی) کی اتحادی حکومت ہوگی یا نیوڈیموکریسی اور کچھ دوسری پارٹیوں (حتیٰ کہ سائریزا) کی اتحادی حکومت ہوگی۔ لیکن جوکوئی بھی حکومت میں ہوں گے وہ تقریباً اسی پروگرام، میمورینڈم اور یورپی سامراجیوں کے احکامات کو ہی آگے لیجائیں گے۔

آپ یورپ کے مزدوروں اور نوجوانوں سے کیا کہیں گے؟
میں یہ کہوں گا کہ وہ یونان کے اسباق کو پڑھیں۔ سب سے پہلے سرمایہ داری، جیسا کہ یونانی مزدوروں نے سمجھ لیا ہے اور دوسرے یورپی ممالک کے مزدور ابھی سمجھ رہے ہیں، ایک نہ ختم ہونے والی وحشت ہے۔ آنے والے دنوں میں سرمایہ داری صرف کٹوتیاں، غربت، محنت کشوں اور سماج کے پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی سلبی ہی دے سکتی ہے۔ دوسرا یہ کہ اگرچہ سرمایہ داروں میں اپنی تمام تر پارٹیوں، میڈیا اور معیشت پر کنٹرول کے باوجود یہ سکت نہیں ہے کہ وہ مزدوروں اور نوجوانوں کو اس نظام کو تبدیل کرنے سے روکیں لیکن اگر محنت کش طبقے کی قیادت باشعور ہو کر اور اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ سرمائے کے مقابلے کے لیے تیار نہیں ہوگی تو وہ حالات کو جوں کا توں رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔ اگر وہ سرمائے کو ضبط نہیں کریں گے تو وہ آسٹیرٹی اور اس کے ساتھ سرمایہ دارانہ نظام کو ختم نہیں کرسکتے۔ اس لیے یورپ کے مزدوروں اور نوجوانوں، اور سب سے بڑھ کر ان کے باشعورحصے جو بائیں بازو کی پارٹیوں اور ٹریڈ یونینوں میں شامل یا ان کی حمایت کرتے ہیں، کو ایک ایسی قیادت اور پروگرام کو تخلیق کرنا چاہیے جواپنے اپنے ملکوں میں وقت آنے پر حالات کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں۔ ان حالات میں صرف ایک انقلابی سوشلسٹ پروگرام اور قیادت ہی لڑائی کو آخر تک لے جاسکتی ہے۔ صرف مارکسزم کے نظریات ہی ایسی قیادت، پارٹی اور پروگرام تخلیق کر سکتے ہیں۔ اپنے اپنے ملکوں میں بائیں بازو اور مزدور تحریک میں انقلابی رجحان کی تعمیر کرو۔ عالمی مارکسی رجحان (IMT) میں شامل ہوجاؤ جو اسی مقصد کے لیے لڑ رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*