یونان کی کسوٹی!

| تحریر: سائریزا کا کمیونسٹ رجحان |

یورپ کی صورتحال برق رفتاری سے تبدیل ہو رہی ہے۔ یونان میں سائریزا حکومت اور قرض دہندگان کے درمیان مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔ 14 جون بروز اتوار ٹرائیکا (آئی ایم ایف، یورپی مرکزی بینک، یورپی کمیشن) اور یونان کے درمیان ہونے والے مذاکرات 45 منٹ میں بے نتیجہ ہو کر ختم ہو گئے۔ اگر 30 جون تک کوئی معاہدہ نہیں ہوتا تو یونان کو ہنگامی قرضوں کی فراہمی بند ہو جائے گی جس کا نتیجہ ملک کے اعلانیہ دیوالیے اور یورپی یونین سے اخراج کی شکل میں برآمد ہو سکتا ہے۔

سائریزا عوامی مراعات میں کٹوتیوں کے خاتمے کے وعدے پر اس سال کے آغاز میں برسراقتدار آئی تھی۔لیکن سائریزا کی قیادت اپنے وعدے پورے کرنے میں اب تک ناکام نظر آتی ہے اور قرض دہندگان سے ’’رحم دلی‘‘ کی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہے۔ان حالات میں سائریزا میں زیادہ بائیں بازو کے رجحانات قیادت پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔ قیادت کی جانب سے قرض دہندگان کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پارٹی میں بڑی پھوٹ کے خدشات موجود ہیں۔ پارٹی کے بائیں بازو کا دھڑا بینکوں کی نیشنلائزیشن، سرمائے کی حرکت پر ریاستی کنٹرول اور مجوزہ مالیاتی نظام کے لئے مرکزی بینک قائم کرنے کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں پارٹی کے 30 ممبران پارلیمنٹ نے تحریک کا آغاز کیا ہے۔
یونان کا ریاستی قرضہ جی ڈی پی کے 177 فیصد سے تجاوز کر کے ناقابل واپسی ہو چکا ہے۔ قرض دہندہ سامراجی قوتوں کے نمائندوں نے یونانی حکومت کو بلیک میل کرنے کے لئے ’’درمیانی راستے‘‘ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ یونان کو کوئی رعایت دے کر دوسری مقروض ریاستوں کے لئے کوئی اچھی مثال قائم نہ کی جائے۔ یاد رہے کہ یورپ کے کئی دوسرے ممالک بھی بری طرح مقروض ہیں، اٹلی کا ریاستی قرضہ جی ڈی پی کے 133 فیصد اور پرتگال کا 128 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ فرانس، سپین اور جنوبی یورپ کے کئی ممالک کی معیشت بھی نازک حالات میں ہے۔ان حالات میں سامراجی بینک اگر یونان کوکوئی چھوٹ دیتے ہیں تو دوسری ریاستیں بھی اس کا مطالبہ کریں گی۔ علاوہ ازیں یونان اگر قرضوں کی ادائیگی سے انکار کرتا ہے تو کوشش کی جائے گی کہ بائیں بازو کے رجحانات کو انتباہ کرنے کے لئے یونان کی معیشت اور سائریزا حکومت کو سبوتاژ کیا جائے۔موجودہ حالات سے یہ بھی واضح ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں ریڈیکل بائیں بازو کی اصلاحات کی گنجائش بھی بالکل ختم ہو چکی ہے۔
سرمایہ داری کے ان سود خور بھیڑیوں کے مطالبات نہ صرف یونانی عوام کی امنگوں کے بالکل بر عکس ہیں بلکہ اس پروگرام سے بھی متصادم ہیں کہ جس کی بنیاد پر سائریزا نے جنوری کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔یونان کے عوام پہلے ہی کٹوتیوں (Austerity) سے معاشی اور سماجی طور پر بدحال ہو چکے ہیں لیکن قرض خواہان مزید معاشی حملوں پر بضد ہیں۔ وہ سائریزا حکومت سے پنشن میں مزید کمی، خوراک اور ادویات پر ٹیکس میں ہوشربا اضافے، بجلی کی قیمتوں میں اضافے، بجلی کے پورے شعبے اور ایئرپورٹس کی نجکاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

قرض دہندگان کے ان مطالبات سے کچھ بنیادی نتائج واضح طور پر اخذ کئے جا سکتے ہیں:
۱) سائریزا کی قیادت اپنے ’’پروگرام سے مطابقت‘‘ رکھنے والی جس ’’مصالحت‘‘ کی بات کر رہی ہے وہ بالکل نا ممکن اور دیوانے کا خواب ہے۔ یہ قرض دہندگان خونخوار بھیڑئیے ہیں جو کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں ہیں اور جو درحقیقت سائریزا کی تذلیل کر کے اسے پورے یورپ کے محنت کشوں اور نوجوانوں کے سامنے نشان عبرت بنانا چاہتے ہیں۔
اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ آنے والے دنوں میں قرض دہندگان کچھ لچک کا مظاہرے کریں گے تو بھی سائریزا حکومت کو ان کے کچھ مطالبات ماننے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ دوسرے الفاظ میں یہ سائریزا کی ’’جزوی تذلیل‘‘ ہو گی جو کہ یونان کے محنت کش عوام سے کھلی غداری کے مترادف ہے۔
۲) قرض دہندہ بھیڑیوں نے اپنے تازہ مطالبات کے ذریعے ایک واضح پیغام بھیجا ہے کہ ان کے نزدیک اس مینڈیٹ کی کوئی وقعت نہیں ہے جو کہ یونان کے عوام نے 25جنوری کے انتخابات میں آسٹیریٹی مخالف پروگرام پر سائریزا کو دیا تھا۔وہ چاہتے ہی یہی ہیں کہ سائریزا ان کے مطالبات مان کر عوام میں اپنی ساکھ کھوئے اور تباہ ہو جائے۔
۳) یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ سائریزا حکومت کی جانب سے قرض دہندگان میں پھوٹ ڈالنے اور ’’باعزت مصالحت‘‘ کے لئے امریکی سامراج کی مدد حاصل کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ تمام قرض دہندگان یکجا ہو کر مزید کٹوتیوں کے مطالبات کر رہے ہیں اور امریکہ اور فرانس بھی ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
مارکسسٹ بار بار یہ وضاحت بھی کر چکے ہیں کہ اگرچہ قرض دہندگان یونان کے یورپ سے اخراج کے عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات سے خوفزدہ ہیں لیکن وہ اس سے کہیں زیادہ خوفزدہ ان معاشی اور سیاسی مضمرات سے ہیں جو یونان کو کسی قسم کی رعایت دینے سے برآمد ہوں گے۔ خاص کر اس صورت میں جب یونان میں بائیں بازو کی ایک پارٹی برسر اقتدار ہے جو عوامی نعروں پر منتخب ہوئی ہے۔
۵) یہ بات بالکل عیاں ہے کہ ایک طرف قرض دہندگان سے مذاکرات اور ساتھ ہی ساتھ قرض کی قسطوں کی ادائیگی کتنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مہینوں پر مشتمل اس پالیسی کے باوجود بھی قرض دہندگان کوئی لچک دکھانے کی بجائے زیادہ جارحانہ مطالبات پر اتر آئے ہیں۔ اس سے سائریزا حکومت کی ساکھ خاصی متاثر ہوئی ہے۔ پچھلے عرصے میں حکومت 7.5ارب یورو کی ادائیگی قرض دہندگان کو کر کے ان مالیاتی اثاثوں سے محروم ہو گئی جنہیں دیوالیے کے بعد کے ابتدائی مشکل دنوں میں ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاسکتا تھا۔اس سے سائریزا کی قیادت کی تنگ نظری اور کم عقلی بھی ظاہر ہوتی ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ محنت کش طبقے اور سرمایہ دار، دونوں کو بیک وقت خوش کیا جاسکتا ہے۔

کیا کیا جائے؟ ان سامراجی بھیڑیوں سے نجات کیسے حاصل کی جائے؟
اگر سائریزا کی قیادت عوامی امنگوں پر منتخب ہونے والی ایک قوت سے عوام کا معاشی قتل عام کرنے والے قرض دہندگان کے جلاد میں تبدیل نہیں ہونا چاہتی، اگر یہ قیادت واقعی وسیع عوامی بنیادیں رکھنے والے بائیں بازو کے متبادل کا انہدام نہیں چاہتی تو اس کے پاس قرض دہندگان سے تمام ناطے توڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ قرض دہندگان سے ’کم تر ذلت‘ پر مبنی کوئی سمجھوتہ کرنے کی ہر کوشش بالآخر ان کے سامنے مکمل شکست اور ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہو گی جو کہ سائریزا کو عوام کی نظروں میں بالکل گرا دے گی۔
greece auterity cartoonاپنے قیام کے فوری بعد سے ہی سائریزا میں سرگرم ’کمیونسٹ رجحان‘ (Communist Tendency of Syriza) بڑے صبر سے یہ وضاحت کر رہا ہے کہ قرض دہندگان سے تعلق توڑنا ہمارا ’’نظریاتی خبط‘‘ نہیں ہے، نہ ہی کسی ہنگامی صورتحال میں اسے ’’پلان B‘‘ کے طور پر دیکھا جانا چاہئے، بلکہ یہ قدم محنت کش طبقے اور غریب شہریوں کی بقا کی بنیادی شرط بن چکا ہے۔ یونان کا ریاستی قرضہ یونانی سرمایہ داری کی ٹیکس چوری، کرپشن اور خصی پن کا نتیجہ ہے جس سے بین الاقوامی سود خورمال بنا رہے ہیں۔عوام کو یہ قرضہ کسی صورت ادا نہیں کرنا چاہئے۔ فوری طور پر ڈیفالٹ ہو کر تمام قرضے کو منسوخ کیا جائے۔ یہ قدم سائریزا کے انتخابی منشور اور عوام سے کئے گئے وعدوں کے عین مطابق ہے۔
قرض دہندگان سے نجات اور محنت کش عوام کے معیار زندگی میں تیز اور مسلسل بہتری کے لئے ضروری ہے کہ سرمایہ داری سے معاشی اور سیاسی تعلق توڑا جائے۔ قرض دہندہ قوتیں اور ملک میں ان کے حواری ڈیفالٹ کے بعد ناگزیر طور پر سائریزا کے خلاف اعلان جنگ کریں گے اور معیشت کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی جائے گی۔ان سے لڑنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ مینوفیکچرنگ، تعمیر، سروسز اور تجارت سے وابستہ ملک کی 500 بڑی کمپنیوں، کانکنی اور ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ بڑے زمینداروں اور چرچ کے تمام اثاثوں کو فوری طور پر قومی تحویل میں لے کر محنت کشوں کے جمہوری کنٹرول میں دیا جائے۔ فوج اور سکیورٹی فورسز میں ریڈیکل اصلاحات کی جائیں اور ان اداروں کو سرمایہ دارانہ ریاست کے جبر کے آلات کی بجائے عوام کے تابع کیا جائے۔ میڈیا کو سرمایہ داروں کے کنٹرول سے آزاد کیا جائے۔یورپی یونین، جس کے محرکات عوام دشمن ہیں، سے علیحدگی اختیار کی جائے۔ نیٹو (NATO) کا مقصد مغربی سامراج کے مفادات کا تحفظ ہے لہٰذا اس عسکری اتحاد سے بھی ناطہ توڑا جائے۔ان تمام تر اقدامات کے لئے لازمی ہے کہ یونان کے بینکنگ سسٹم کو 100 فیصد نیشنلائز کر کے ایک مرکزی بینک قائم کیا جائے جو کہ مکمل طور پر محنت کش طبقے کے جمہوری کنٹرول میں ہو۔ اسی صورت میں بینکاری کو سرمایہ دار طفیلیوں کی جکڑ سے آزاد کر کے سماجی ترقی کا اوزار بنایا جایا سکتا ہے۔ معیشت کے ان بنیادی ستونوں کو مرکزی اور جمہوری منصوبہ بندی کے ذریعے استعمال کرتے ہوئے لاکھوں نئی نوکریاں پیدا کی جاسکتی ہیں اور محنت کش عوام کا معیار زندگی تیزی سے بہتر ہو سکتا ہے۔
اگر سائریزا کی قیادت واقعی ’’ریڈیکل لیفٹ‘‘ ہے تو اسے اوپر بیان کئے گئے تمام اقدامات کے ذریعے قرض دہندگان سے عوام کو نجات دلانا ہو گی اور یونان سمیت پورے یورپ اور دنیا کے محنت کشوں سے یکجہتی کی اپیل کرنا ہوگی۔ اس مقصد کے لئے پورے یورپ میں کانفرنسوں اور جلسوں میں نمائندگان بھیجے جائیں جو یونان کی سوشلسٹ بنیادوں پر (یورو اور یورپی یونین سے) علیحدگی اور پورے یورپ میں سوشلزم کی جدوجہد کا پیغام محنت کشوں کو پہچائیں۔
سائریزا کی قیادت کو سمجھنا چاہئے کہ انقلابی سوشلسٹ پالیسی اپنانے کا یہی وقت ہے۔ اگر اب یہ نہ کیا گیا تو محنت کش عوام کے معیار زندگی میں گراوٹ اور تذلیل کی تمام تر ذمہ داری قیادت پر عائد ہو گی۔ محنت کش طبقے نے گزشتہ کچھ عرصے میں بہت دور رس نتائج اخذ کئے ہیں۔ اگر انہیں اپنے مفادات کی حقیقی نمائندہ قیادت میسر آتی ہے تو وہ اس کی حمایت میں ہر حد تک جائیں گے اور جرات مندی سے قرض خواہان اور ملک میں موجود ان کے حواریوں کے خلاف لڑیں گے۔
سائریزا کو ’’انڈی پینڈنٹ گریکس‘‘ سے بھی اپنا اتحاد ختم کرنا ہو گا جو ایک قوم پرست سرمایہ دارانہ پارٹی ہے۔ حقیقی اور فطری اتحاد صرف سائریزا اور KKE (یونان کی کمیونسٹ پارٹی) کا ہی بنتا ہے۔ اگر KKE کی قیادت ان تمام سوشلسٹ پالیسیوں کے حق میں ووٹ دینے سے انکار کرتی ہے تو واحد راستہ نئے الیکشن کی کال دے کر انقلابی سوشلسٹ پروگرام پر انتخابی مہم چلانے کا ہوگا۔ لیکن سائریزا کی قیادت اگر موجودہ متذبذب اور ’’مصالحانہ‘‘ پالیسیوں کی بنیاد پر نئے الیکشن کی کال دیتی ہے تو اس کا مطلب ہو گا کہ وہ حقیقی لڑائی لڑنا ہی نہیں چاہتے اور ایسے الیکشن کا نتیجہ نئے مینڈیٹ کی بنیاد پر قرض خواہان سے ذلت آمیز معاہدے کی شکل میں نکل سکتا ہے۔ دوسرے امکانات بھی موجود ہیں۔ سائریزا کی قیادت اگر قرض دہندگان کی شرائط پر ہتھیار ڈال دیتی ہے تو نہ صرف پارٹی کے اندر پھوٹ پڑ جائے گی بلکہ یونان کی کمیونسٹ پارٹی (KKE) جیسی پرانی قوتیں بھی وسیع عوامی بنیادیں حاصل کر سکتی ہیں۔ایک بات طے ہے کہ عوام کو ماضی میں حاصل ریاستی مراعات اور سہولیات برقرار رکھنے سے یورپی سرمایہ داری قاصر ہو چکی ہے اور ایک کے بعد دوسری بغاوت ناگزیر ہے۔
سائریزا کی فوری کانگریس بھی منعقد کی جانی چاہئے جس میں عام کارکنان اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے قرض دہندگان سے تعلق توڑنے کی پالیسی پر اظہار خیال کر سکیں۔ اس طریقے سے پارٹی کے اندر سوشلسٹ رجحانات مضبوط ہوں گے کیونکہ پچھلے کچھ عرصے سے سوشل ڈیموکریٹ عناصر حاوی نظر آ رہے ہیں۔
greece-koe-syriza-675x440سائریزا کا کمیونسٹ رجحان اپنی تمام قوتوں کے ساتھ سوشلسٹ بنیادوں پر قرض دہندگان سے تعلق توڑنے کی لڑائی جاری رکھے گا۔ یہ وہ واحد رجحان ہے جس نے حقیقی سوشلزم کا جامع پروگرام پیش کر کے سائریزا کے اندر بائیں بازو کے جرات مند کارکنان میں انقلابی مارکسزم کی غیر متزلزل آواز کے طور پر اپنی پہچان بنائی ہے۔ آج یہ لازم ہو چکا ہے کہ کمیونسٹ رجحان کی آواز سائریزا کے ہر ذیلی اور علاقائی ادارے، یوتھ ونگ اور ملک کی ہر فیکٹری اور محلے میں پہنچائی جائے۔ اگر قیادت اس وقت درکار سوشلسٹ پروگرام اپنانے میں ناکام رہتی ہے تو عام کارکنان کو یہ پرچم بلند کرنا ہوگا۔ معیشت اور ریاست کی سوشلسٹ بنیادوں پرتبدیلی اور پورے خطے اور دنیا میں انقلابی سوشلزم کی جدوجہد اور سرمایہ دارانہ استحصال پر مبنی یورپی یونین کو اکھاڑ پھینک کر یورپ کی سوشلسٹ فیڈریشن کا قیام ہی محنت کش عوام کو معیار زندگی میں مسلسل گراوٹ اور اس نظام کے جبر و استحصال سے نجات دلا سکتا ہے!

متعلقہ:

یونان: جینا ہے تو لڑنا ہو گا!

یونان دیوالیہ پن کے دہانے پر!

یونان: سوشلزم یا بربادی!

پرانے یورپ میں نیا معمول

یورو کا بحران اور بائیں بازو کا تذبذب

2 Comments

  1. Pingback: سرمائے کے بھنور میں ڈوبتا یونان

  2. Pingback: یونان: انقلابی تحریک کا نیا ابھار!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*