ایرانی ملاں اشرافیہ کا مستقبل اور مشرق وسطیٰ کا انتشار

تحریر: حسن جان

7 جون بروزبدھ کو ایران کے دارالحکومت تہران میں صبح کے وقت ایرانی پارلیمنٹ اور آیت اللہ خمینی کے مزار پر فائرنگ اور خود کش حملے میں 16 افراد ہلاک اور پچاس کے قریب لوگ زخمی ہوئے۔ ظاہری طور پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔ تہران میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ تھا۔یہ کوئی اتفاق کی بات نہیں کہ واقعے سے چند دن پہلے ہی سعودی وزیردفاع محمد بن سلمان نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کو ایران کے اندر لے جانے کی دھمکی دی تھی جبکہ سعودی وزیر خارجہ عادل بن احمد الجبیرنے ایران کو مشرق وسطیٰ کے ممالک میں مداخلت پر سزا دینے کی بات کی تھی۔ ایران کی پاسداران انقلاب نے بالواسطہ طور پر سعودی عرب کو اس واقعہ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔مشرق وسطیٰ میں ایران کی مسلسل پیش قدمی اور بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے تناظر میں اس واقعہ کو اگرشام، عراق، یمن اور لبنان میں جاری پراکسی جنگوں کا تسلسل کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ حملہجس کسی نے بھی کیا ہو اس سے ایرانی ملاں اشرافیہ کو مشرق وسطیٰ میں اپنی پراکسی جنگ اور علاقائی تسلط کو مزید دوام بخشنے کا ایک جوازہاتھ لگا ہے کیونکہ اب عوامی سطح پر بھی انہیں اپنی بیرونی مداخلتوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اس کے علاوہ ایٹمی معاہدے کے بعد ایرانی ملاں اشرافیہ نے جس اقتصادی خوشحالی کا وعدہ کیا تھا وہ کہیں نظر نہیں آرہی اور بے روزگاری اور عوام کی معاشی کسمپرسی پہلے کی طرح جاری ہے۔ ایسے میں دہشت گردی کے خوف کو استعمال کرتے ہوئے ایرانی ریاست معاشی خوشحالی اور سیاسی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والوں پر مزید جبر کرے گی۔
ایرانی سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق عراقی بارڈر کے ساتھ ایرانی کردستان سے ہے۔ مسلکی اعتبار سے ایرانی کرد زیادہ تر سنی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ 2014ء میں ڈیموکریٹک پارٹی آف کردستان ایران نے اپنی ایک رپورٹ میں کُرد علاقوں میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا ذکر کیا تھا۔اسی سال مارچ میں داعش نے فارسی زبان میں 37 منٹ کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں ایران کو دوبارہ ایک سنی خلافت میں تبدیل کرنے اور ایرانی ملاؤں کی حکومت کو ختم کرنے کی دھمکی دی تھی۔ پچھلے چند سالوں میں مغربی ایران میں سنی جہادی تنظیموں اور ایرانی سیکیورٹی فورسز کے درمیان متعدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔
شامی تنازعے کے آغاز سے ہی ایرانی ریاست اس جنگ میں براہ راست شامل رہی ہے۔ اس دوران مشرق وسطیٰ کے زیادہ تر ممالک میں داعش کی کاروائیاں ہوتی رہی ہیں لیکن ایران اب تک داعش کی ان کاروائیوں سے محفوظ رہا ہے۔ ایرانی حکام اس حقیقت کا بڑے فخر سے ذکر کرتے تھے کہ شام اور عراق میں ہماری مداخلت کی وجہ سے یہ دہشت گرد ملک میں کوئی کاروائی نہیں کر سکے ہیں۔ پاسداران انقلاب کے پبلک ریلیشن کے چیف رمضان شریف نے کہا، ’’عوام اور سیکیورٹی فورسز کی ہوشیاری اور نگرانی کی وجہ سے داعش ملک میں حتیٰ کہ پراپیگنڈا کی غرض سے بھی ایک پٹاخہ بھی نہیں مار سکی۔‘‘
حالیہ سالوں میں ایران کامشرق وسطیٰ کے ممالک بالخصوص شام، عراق، لبنان اور یمن میں پراکسیوں اور فوج کی براہ راست مداخلت اور اثرورسوخ بہت بڑھ گیا ہے۔ شام میں روس کی فضائی بمباری اور شیعہ ملیشاؤں کے ذریعے ایران نے داعش اور دوسرے متعدد گروہوں کے زیر تسلط علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور شام کے صدر بشارالاسد کی حکومت کی عملداری میں مزید علاقوں کا اضافہ کردیا ہے۔ اسی طرح عراق پہلے ہی ایرانی حلقہ اثر میں ہے۔ لبنان کا موجودہ صدر مائیکل اون ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کا حمایت یافتہ ہے۔ ایران کی خطے کے ممالک میں یہ روزافزوں مداخلت خطے کی دوسری طاقتوں بالخصوص سعودی عرب کے لیے ناقابل برداشت ہے جس کی وجہ سے پورا خطہ انتشار اور خلفشار کا شکار ہے۔
شام، عراق اور یمن میں ایک خانہ جنگی اور دوسرے عرب ممالک میں ایک کہرام مچا ہوا ہے۔ ان سب ملکوں میں خطے کیبڑی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف پراکسی جنگیں لڑ رہی ہیں۔ ایسے میں ان جنگوں کا ان ملکوں کے اپنے اندر نفوذ کرجانا ناگزیر ہے۔ اس وقت سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں سامراج کی شہ پر اپنی پرانی تھانیداری کے گھٹتے ہوئے اثر و رسوخ اور ایران کی بڑھتی ہوئی عملداری سے ہیجان کی حالت میں ہے۔ تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے اس کے معاشی بحران نے مزید شدت اختیار کر لی ہے۔ اس بحران نے پوری ریاست کے بحران کی شکل اختیار کر لی ہے جس کا اظہار ہمیں ان کے عجیب و غریب اور حماقت پر مبنی فیصلوں میں نظر آتاہے۔ سعودی عرب نے اپنے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ مل کر مارچ 2015ء میں یمن پر بمباری شروع کردی لیکن دو سال سے زائد کاعرصہ گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک انہیں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی جس کی وجہ سے یہ جنگ خود سعودی شاہی خاندان میں بحران اور تنازعہ کا باعث بن گئی ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب کی قیادت میں خلیج تعاون کونسل کے ممبر ملکوں متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر کے ساتھ اپنے سفارتی،تجارتی، زمینی اور فضائی رابطے منقطع کر لیے۔ اس اقدام کی وجوہات قطر کی دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور ایران کے حوالے سے نرم مؤقف رکھنا بتایا گیا ہے۔
ایک طرف ایرانی ملاں اشرافیہ ‘ایرانی محنت کشوں کی محنت کا استحصال کرکے اس دولت کو خطے میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے بیرونی مہم جوئیوں میں استعمال کر رہی ہے تو دوسری طرف عام ایرانی محنت کش کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایران میں منعقد ہونے والے حالیہ صدارتی انتخابات میں زیر بحث آنے والے موضوعاتمیں سب سے اہم ایران میں عوام کے بڑھتے ہوئے معاشی مسائل تھے کیونکہ ایرانی ملاؤں نے تمام تر مسائل کی جڑ‘ ملک کے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے عائد اقتصادی پابندیوں کو قرار دیا تھا۔ آج ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود چند معاشی اعشاریوں میں فرق کے علاوہ ملک کی وسیع آبادی کی تلخ زندگیوں میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا ہے۔ ملک میں بے روزگاری کا مسئلہ سب سے شدید ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح خطرناک حد تک 31.9 فیصد ہے۔ 15 سے 29 سال کی عمر کے افراد میں یہ شرح 26.7 فیصدجبکہ 15 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح 30.2 فیصد ہے۔ ہر سال ایران کی محنت کی منڈی میں 1.2 ملین نئے افراد داخل ہوتے ہیں جبکہ صدر حسن روحانی کے اپنے الفاظ میں وہ مشکل سے سالانہ سات لاکھ روزگار فراہم کرسکے ہیں۔ مارچ میں ختم ہونے والے مالی سال میں عمومی بے روزگاری پچھلے مالی سال کی نسبت 10.8 فیصد سے بڑھ کر 12.7 فیصد ہوگئی۔ معیشت میں ہونے والی نمو بھی زیادہ تر تیل کی برآمدات کی بحالی کی وجہ سے ہے۔ جس کی وجہ سے اس ’معاشی بحالی‘ کے ثمرات عوام کے لیے نہ ہونے کے برابر ہیں۔
عالمی کارپوریٹ میڈیا حالیہ صدارتی انتخابات میں حسن روحانی کی کامیابی پر بغلیں بجا رہا ہے اور اس کی کامیابی کو ایک نئے ’معتدل‘ ایران کی تعمیر کی طرف ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہاہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایران کی منڈی اب تک عالمی اجارہ داریوں کی لوٹ ماراور ان کی پہنچ سے نسبتاً دور رہی ہے۔ ان کی نظریں ایران کے وسائل کی لوٹ مار سے وسیع منافع کمانے پر مرکوز ہیں۔ حسن روحانی کا معاشی پروگرام بنیادی طور پر نیولبرل معاشی نسخے ہیں جن کا بنیادی مقصد ایران کو بیرونی اجارہ داریوں کے لیے کھول دینا اور معیشت کے وسیع حصے کو نجی شعبے کی تحویل میں دینا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر معیشت کے بڑے حصے کو ریاستی کنٹرول سے نکال کر نجی شعبے اور عالمی اجارہ داریوں کے حوالے کردیا جائے تو اس سے ایرانی ملاؤں کی اپنی حاکمیت ہی خطرے میں پڑ جائے گی کیونکہ پچھلی چار دہائیوں میں اگر اسلامی جمہوریہ ایران اپنے تمام تر سیاسی اور ثقافتی ظلم و جبر کے باوجود قائم ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایرانی ملاؤں نے اقتدار میں آکرمعیشت کے وسیع تر حصوں بشمول تیل اور گیس کی صنعت اور بینکوں کو قومی تحویل میں لیا تھا اور تعلیم، صحت اور رہائش کے شعبوں میں بے دریغ سرمایہ کاری کی۔ عام تاثر کے برعکس شاہِ ایران کی حکومت کے دوران کے فوجی بجٹ کو جی ڈی پی کے 18 فیصد سے گھٹا کر 4 فیصد کردیا۔ تین دہائیوں میں ناخواندگی کو 53 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کردیا گیا۔ خواتین کی ناخواندگی کی شرح 65 فیصد سے کم ہو کر 20 فیصد ہوگئی۔ یونیورسٹیوں میں خواتین کی تعداد 30 فیصد سے بڑھ کر 62فیصد ہوگئی۔ صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی وجہ سے اوسط عمر پہلے کے 55 سال سے بڑھ کر 75 سال ہوگئی۔ دوران پیدائش بچوں کی اموات ہر ایک ہزار میں 100 سے گھٹ کر 25 پر پہنچ گئی۔ اسی طرح دیہاتوں میں زرعی اجناس کی قیمتوں کو بڑھایا گیا اور کسی حد تک کلینک، سکول اور سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ تقریباً 220,000 کسانوں میں 850,000 ہیکٹر زمینیں تقسیم کی گئیں۔ جبکہ ریاستی سبسڈی سے چلنے والی کواپریٹیو اور محصولاتی دیواروں کے ذریعے انہیں مزید تحفظ فراہم کیا گیا۔ دیہاتوں میں ملاؤں کی زیادہ حمایت کسی مذہبی رجعتیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ان ہی اقدامات کی وجہ سے ہے۔ اسکے علاوہ شہروں کے غریب علاقوں میں ،کچی آبادیوں میں ،کم آمدنی والوں کے لیے ہاؤسنگ اسکیمیں شروع کی گئی اور گندے علاقوں کو خوبصورت ضلعوں میں تبدیل کردیاگیا۔ محنت کشوں کے علاقوں میں بھی سڑکیں، بجلی، پانی اور نکاسی آب کی لائینیں بچھائی گئیں۔ اسی وجہ سے ایک امریکی صحافی لارا سیکر، جو ایرانی ملاؤں کی معاشی پالیسیوں کا سخت ناقد تھا، نے کہا کہ ’’ایران ایک جدید ملک بن گیا ہے جہاں آپ کو بہت کم گندگی ملتی ہے۔‘‘ ریاست نے روٹی، کپڑا، مکان، ٹرانسپورٹ، بجلی، گیس، ایندھن وغیرہ پر بے دریغ سبسڈیز دیں جس کی وجہ سے سماج میں عمومی طور پر ایرانی ملاؤں کے لیے ایک حمایت پیدا ہوگئی۔
اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے اپنے آغاز سے ہی نیم خود مختار خیراتی ادارے تشکیل دیئے ہیں جنہیں ’بنیاد‘ کہا جا تا ہے۔ یہ خیراتی ٹرسٹ یا فاؤنڈیشن معیشت کے نان آئل سیکٹر کا کلیدی حصہ ہیں اور بعض اندازوں کے مطابق جی ڈی پی کے تقریباً 20 فیصد پر مشتمل ہیں۔ ’بنیاد‘ زیادہ تر شاہ ایران کے حمایتی سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی جائیدادوں اور کاروباروں کو ضبط کر کے بنائی گئی ہیں۔ان کے سربراہ زیادہ تر پاسداران انقلاب کے کمانڈر یا ان کے حمایتی ملاں ہوتے ہیں۔ اس وقت 100 سے زیادہ ’بنیاد‘ کام کر رہے ہیں جو سویا بین اور کپاس کی وسیع و عریض کھیتوں سے لے کر ہوٹلز، مشروبات، آٹو مینوفیکچرنگ، شپنگ غرض ہر طرح کے کاروباروں میں شامل ہیں۔ سب سے بڑی ’بنیاد‘ مستعضفین فاؤنڈیشن ہے جس کے پاس 140 فیکٹریاں، 120 کانیں، 470 ایگری بزنس، 100 کنسٹرکشن کمپنیاں اور لاتعداد دیہی کوآپریٹیوز ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق ان ’بنیادوں‘ میں کم از کم پانچ لاکھ افراد کام کرتے ہیں۔ غرضیکہ یہ فاؤنڈیشنز چھوٹی چھوٹی فلاحی ریاستیں ہیں۔ اپنی تمام تر کرپشن اور بدانتظامیوں کے باوجود یہ ادارے آبادی کے ایک بڑے حصے کے لیے چھوٹے چھوٹے فلاحی کام اور روز مرہ کی ضروریات اور روزگار فراہم کرتے ہیں۔ یہی ادارے ہی ملاؤں کی ریاست کے لیے ایک سماجی حمایت پیدا کرتے ہیں۔
گو اب عالمی معیشت میں زوال کی وجہ سے ایرانی معیشت بھی اب پہلے کی طرح یہ اخراجات برداشت نہیں کرپارہی اور بہت سی سبسڈیز کا یا تو خاتمہ کردیا گیا ہے یا ان میں کمی کردی گئی ہے جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ اب سماجی بے چینی میں اضافہ ہورہا ہے جس کا اظہار ہمیں 2009ء کے عوامی مظاہروں میں نظر آیا۔ انہی وجوہات کی بنا پر وہ کبھی بھی ایران کو عالمی اجارہ داریوں کے لیے مکمل طور پر کھولنے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ اس صورت میں ایرانی ملاں اشرافیہ کی سماجی بنیادیں تشکیل دینے والی فلاحی ریاست ہی مکمل طور پر منہدم ہوجائے گی۔ اسی وجہ سے خامنہ ای بار بار مزاحمتی معیشت (اقتصاد مقاومتی) کی بات کرتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ہمیں معیشت کو آگے بڑھانے کے لیے مقامی صنعت کو فروغ دینا چاہیے اور بیرونی سرمایہ کاری کو خیرباد کہنا چاہیے۔ مزاحمتی معیشت کے سرخیلوں میں زیادہ تر وہی لوگ ہیں جو ’بنیاد‘ جیسی فاؤنڈیشنز کو چلاتے ہیں۔ مقامی صنعت کو مزید استوار کرنے کی بات کرنے والے زیادہ تر پاسداران انقلاب کے اپنے ادارے یا ان سے منسلک لوگ ہیں۔ اس وقت پاسداران انقلاب ایک بہت بڑی کارٹیل ہے جو تیل و گیس سمیت معیشت کے ہر شعبے میں موجود ہے۔ اپنی فوجی طاقت کے بلبوتے پر تمام تر بڑے ٹھیکے پاسداران ہی ہتھیا لیتے ہیں۔
حسن روحانی کا معاشی نسخہ بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو سنبھالا دینا اور ’معاشی ترقی‘ لانا ہے۔ لیکن دنیا بھر میں بیرونی سرمایہ کاری کے تجربات یہ چیز روز روشن کی طرح عیاں کرتے ہیں کہ اس سے معاشی اعشاریے تو نمو پاتے ہیں لیکن سماج کے اندر طبقاتی فرق مزید بڑھ جاتی ہے۔ ہندوستان، بنگلہ دیش، ویتنام، چین، لاطینی امریکی ممالک وغیرہ کے تجربات ہمارے سامنے ہیں جہاں ان ممالک میں بلند ترین شرح نمو حاصل کی گئی لیکن دوسری طرف ہمیں ان ممالک میں بد ترین غربت دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایران میں معیشت کو کھولنے کا آغاز ہاشمی رفسنجانی کے دور میں 1989ء میں ہوا۔ اپنے آٹھ سالہ دور حکومت میں اس نے نیو لبرل معاشی نسخوں ،نجکاری، ری اسٹرکچرنگ، ڈی ریگولیشن وغیرہ پر زور دیا۔ اَپر مڈل کلاس اور سرمایہ داروں میں تو اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا لیکن محنت کشوں میں انتہائی غیر مقبول تھا۔ سب سے بڑھ کر اس دوران اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ اس کے بعد محمد خاتمی کے دور میں بھی یہی پالیسیاں جاری رہیں جس کی وجہ سے نام نہاد ’اصلاح پسند‘ عوام میں انتہائی غیرمقبول ہوگئے۔ 2005ء کے انتخابات میں جب احمدی نژاد نے تیل کی دولت کو غریب عوام میں تقسیم کرنے کا نعرہ لگایا تو عوام میں بے حد مقبول ہوا۔ احمدی نژاد ایرانی ملاؤں کے ’سخت گیر‘ دھڑے سے تعلق رکھتا تھا جس نے اپنی حکومت کو انہی فلاحی بنیادوں پر چلانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے انقلاب کے بعد ایرانی ملاؤں کی عوام میں سماجی بنیادیں بنی تھیں لیکن 2008ء کے عالمی معیشت میں زوال کے بعد ایران بھی پہلے کی طرح ان فلاحی اقدامات اور سبسڈیز کو جاری نہیں رکھ سکا جس کی وجہ سے 2010ء میں ہی احمدی نژاد نے پیٹرول، گیس اور ایندھن پر تقریباً 100 اَرب ڈالر سالانہکی سبسڈی ختم کردی جس کی وجہ ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آگیا۔ بعد میں ایران کے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے ملک پر لگنے والی اقتصادی پابندیوں نے معاشی مشکلات کو مزید شدید کردیا۔
2013ء میں نام نہاد ’اصلاح پسند‘ حسن روحانی ’تدبیر اور امید‘ کے نعروں کے ساتھ ایران کا صدر بن گیا۔ عالمی میڈیا میں اس کی پرجوش پذیرائی سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ اس کی معاشی پالیسیاں کیا گل کھلائیں گی۔ اس وقت ایران کی گیس فیلڈ کا انفراسٹرکچر کافی پرانا اور شکست و ریخت کا شکار ہے۔ جس کو اَپ گریڈ کرنے کے لیے کم از کم 100 اَرب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ صدر حسن روحانی کے مطابق ایران کو سالانہ 30 اَرب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ اس کی شرح نمو 8 فیصد سالانہ پر پہنچے۔ ایران کے وزیر پیٹرلیم بیژن زنگنہ نے کہا ہے کہ ہمیں تیل کے ذخائر کی تلاش اور انفراسٹرکچر کی تجدید کے لیے 200 اَرب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اتنی خطیر رقم کے لیے وہ بیرونی سرمایہ کاری کو ہی آخری آسرا سمجھتے ہیں۔ لیکن خطے کی موجودہ صورت حال اور سامراجی ممالک کی بدلتی ہوئی دوستیوں اور دشمنیوں کی کیفیت میں اتنی بڑی سرمایہ کاری کے لیے حالات ساز گار نظر نہیں آرہے۔ اس کے علاوہ بڑی سرمایہ کاری کو جلب کرنے کے لیے ملک کے اندر لیبر قوانین میں تبدیلیاں اور حالات کو ’ساز گار‘ بنانے کی ضرورت ہے جس کا مطلب سرمایہ داروں اور عالمی اجارہ داریوں کی لوٹ مار کو زیادہ سے زیادہ آسان بنانا ہے۔ اگر یہ ہو بھی جاتا ہے تو اس سے عام ایرانی محنت کشوں کو ان بڑی سرمایہ کاریوں سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوگا بلکہ سماجی اور معاشی تضادات مزید تیز ہوں گے اور محنت کشوں کی تحریکیں جنم لیں گی جو ایرانی ملاں ریاست کے وجود پر ہی سوالیہ نشان ڈالیں گے۔
مشرق وسطیٰ کی پرانتشار صورت حال اور اس میں ایران کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور داخلی طور پر معاشی اور سماجی تضادات کے بڑھنے سے ملک میں سیاسی اور ثقافتی جبر آنے والے دنوں میں مزید بڑھے گا۔ حسن روحانی کے الیکشن میں سیاسی آزادی اور انسانی حقوق کے وعدوں کے باوجود ملاں اشرافیہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے عوام پر مزید تشدد کرے گی۔ ایسے میں تہران میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات ریاست کو مزید وحشت اور بربریت طاری کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اب ایرانی ملاں اشرافیہ کے پاس پرانے دنوں کی طرح سبسڈیز اور فلاحی ریاست کے ذریعے عوام کو خاموش کرنے کی نہ سکت اور وسائل ہیں اور نہ ہی حسن روحانی کی نیولبرل پالیسیوں سے عوام کی زندگیوں میں کوئی بدلاؤ آئے گا۔ ایران میں آنے والا دور پرانتشار اور تضادات سے بھر پور ہوگا اور اسی انتشار سے ہی محنت کشوں کی ایک ایسی تحریک جنم لے گی جو ملاؤں کی ’سخت گیر‘ اور ’اصلاح پسندی‘ کے مصنوعی دھڑوں کو پرے پھینکتے ہوئے اپنی تقدیر اپنے ہاتھوں میں لیں گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*