فرانس: مئی 1968ء کے انقلاب کے پچاس سال

تحریر: لال خان

پچاس سال پہلے 31 مئی 1968ء کو فرانس میں کئی حوالوں سے بیسوی صدی کے عظیم ترین انقلاب کا عروج اور پھر اس کے زوال کا آغاز ہوا۔ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد شروع ہونے والے سرمایہ دارانہ معیشت کے ابھار (پوسٹ وار بوم) کے اختتام اور پوری دنیا میں انقلابی اتھل پتھل کا دور تھا۔ نوجوان اور بالخصوص طلبہ نے ایک عوامی بغاوت کو جنم دیا جس نے مختلف ممالک کو مختلف انداز میں متاثر کیا۔ بین الاقوامی یکجہتی پر یقین اور سرمایہ داری اور سامراجیت کے خلاف ایک مشترکہ جنگ میں شامل ہونے کا شعوراس عہد کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ 1968ء کی خزاں میں یہ انقلابی طوفان پاکستان بھی پہنچ گیا۔ پاکستان کے نوزائیدہ پرولتاریہ کے تاریخ کے میدان میں داخلے سے اس نام نہاد قدامت پسند سماج میں ایک انقلابی صورت حال پیدا ہوگئی۔
فرانس میں مئی 1968ء کی انقلابی صورت حال کے دوران پورے ملک میں مظاہرے، وسیع عام ہڑتالیں اور یونیورسٹیوں اور فیکٹریوں پر قبضے ہو رہے تھے۔ اپنے عروج کے وقت اس عوامی بغاوت نے پوری فرانسیسی معیشت اور سماج کو جام کردیا تھا۔ ان مظاہروں نے آرٹ کے شعبے میں بھی تحریک کو جنم دیا اور انقلابی گیت، پوسٹرز اور نعرے تخلیق ہوئے۔ اس بغاوت کا آغاز طلبہ کے احتجاجوں سے ہوا تھا جس کے بعد یہ فیکٹریوں تک پھیل گئی۔ دو ہفتوں تک جاری ان ہڑتالوں میں 11 ملین مزدور شامل تھے جو اس وقت فرانس کی آبادی کا 22 فیصد تھا۔ فرانس اور یورپ کی تاریخ کی یہ سب سے بڑی عام ہڑتال تھی۔
شروع شروع میں ریاست نے یونین قیادت کی اجازت کے بغیر ہونے والی ہڑتالوں اور طلبہ کی جانب سے اداروں پر قبضوں کو وحشیانہ طریقے سے کچلا۔ ڈی گال انتظامیہ کی جانب سے ان ہڑتالوں کو کچلنے کی کوشش نے صورت حال کو مزید بھڑکا دیااور پیرس میں پولیس کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں جس سے ہڑتالیں اور فیکٹریوں پر قبضے پورے ملک میں پھیل گئے۔ فروری 1968ء میں فرانسیسی کمیونسٹ اور سوشلسٹ پارٹیوں نے ایک انتخابی اتحاد تشکیل دیا تھا۔ 22 مارچ کو بائیں بازو کے طلبہ، شعرا، فنکاروں اور موسیقاروں نے نانتر میں پیرس یونیورسٹی کے انتظامی بلڈنگ پر قبضہ کر لیا اور فرانسیسی سماج اور یونیورسٹیوں میں طبقاتی تفریق کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ آنے والے ہفتوں میں پیرس یونیورسٹی کے نانتر کیمپس میں طلبہ اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد انتظامیہ نے 2 مئی 1968ء کو یونیورسٹی کو بند کردیا۔ تاہم طلبہ پیرس یونیورسٹی کے سوربون کیمپس میں 3 مئی کو جمع ہو گئے تاکہ یونیورسٹی کی بندش اور طلبہ کی بے دخلی کی دھمکیوں کے خلاف احتجاج کیا جاسکے۔ منگل 6 مئی کو فرانس کی نیشنل سٹوڈنٹس یونین (UNEF) اور یونیورسٹی کے اساتذہ کی یونین نے سوربون پر پولیس کے چھاپوں کے خلاف مارچ کی کال دے دی۔ بیس ہزار سے زائد طلبہ، اساتذہ اور ان کے حمایتیوں کے احتجاجی مارچ پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔ جب لوگ منتشر ہونے لگے تو کچھ لوگوں نے دستیاب چیزوں سے سڑکوں پر رکاوٹیں (Barricades) کھڑی کرنا شروع کر دیں جبکہ دوسروں نے پتھراؤ شروع کر دیا اور پولیس کو پسپائی پر مجبور کردیا۔ بعد میں پولیس نے مزید نفری طلب کر کے طلبہ پر پھر آنسو گیس سے حملہ کیا اور وحشیانہ طریقے سے لاٹھی چارج کیا۔ سینکڑوں طلبا زخمی اور گرفتار ہوئے۔ اسی دن ہائی سکول طلبہ یونین بھی اس جدوجہد میں شامل ہوگئی۔ اگلے دن طلبہ کی زیادہ بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور احتجاجی مظاہرے مزید زور پکڑ گئے۔
جمعہ 10 مئی کو ریف گوش میں ایک بڑا مظاہر ہ ہوا۔ جب ایلیٹ فورسز نے انہیں ندی عبور کرنے سے روکا تو مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ پولیس نے صبح 2:15 بجے وحشیانہ طریقے سے حملہ کرکے سینکڑوں کو گرفتار اور زخمی کیا۔ سارا دن جھڑپیں جاری رہیں۔ ان واقعات کو ریڈیو پر نشر کیا گیا اور یہ بات واضح ہوگئی کہ پولیس نے اپنے جاسوسوں کے ذریعے مداخلت کی تھی جو گاڑیاں جلا رہے تھے اور پیٹرول بم پھینک رہے تھے۔
اس حکومتی اقدام سے سماج میں ہڑتالیوں کے لیے ہمدردیاں پیدا ہوگئیں۔ جب ریاستی جبر کی خبریں عام ہونے لگیں تو ملک کے زیادہ نامور موسیقار اور شعرابھی میدان میں آگئے۔ بائیں بازو کی یونین فیڈریشن (CGT-FO) کی قیادت کو مجبوراً 13 مئی کو ایک دن کی عام ہڑتال کی کال دینی پڑی۔ اس دن ایک ملین سے زیادہ لوگوں نے پیرس میں مارچ کیا۔ جیسے جیسے ان میں اضافہ ہوا پولیس پیچھے ہٹتی گئی۔ وزیراعظم جارج پومپیڈو نے ذاتی طور پر قیدیوں کی رہائی اور سوربون کو کھولنے کا اعلان کیا۔ تاہم ہڑتالوں کی لہر نہیں رکی۔ اس کے برعکس مظاہرین مزید دلیر اور پراعتماد ہوگئے۔

آنے والے دنوں میں مزدوروں نے فیکٹریوں پر قبضے شروع کر دئیے۔ اس کا آغاز سڈ ایوی ایشن پلانٹ میں ہڑتال سے ہوا۔ پھر رون کے قریب رینالٹ پارٹس پلانٹ میں ہڑتال ہوئی جو سائن ویلی اور پیرس کے مضافات میں بولون بلان کورٹ میں رینالٹ مینوفیکچرنگ کمپلیکس تک پھیل گئی۔ 16 مئی تک مزدوروں نے تقریباً پچاس فیکٹریوں پر قبضہ کر لیا تھا اور 17 مئی تک دو لاکھ مزدور ہڑتال پر تھے۔ اگلے دن یہ تعداد دو ملین اور پھر دس ملین تک پہنچ گئی یعنی فرانس کی ورک فورس کا تقریباً دو تہائی ہڑتال پر تھا۔
یونین قیادتوں نے ان ہڑتالوں کی قیادت نہیں کی۔ بلکہ وہ تو اس انقلابی ابھار کو محض معاشی مطالبات تک محدود کرنا چاہتے تھے۔ مزدوروں نے زیادہ ریڈیکل اور وسیع مطالبات کئے۔ انہوں نے صدر ڈی گال کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور قبضے میں لی گئی فیکٹریوں کا انتظامی کنٹرول سنبھال لیا۔ حکومت کے ساتھ ٹریڈ یونین قیادت کے مذاکرات کے نتیجے میں اجرتوں میں وسیع اضافے (دو گنا تک) اور دیگر مراعات حاصل ہونے کے باوجود فیکٹریوں پر قابض مزدوروں نے قبضے جاری رکھے اور اپنی مصالحت پسند قیادت کا تمسخر اڑایا۔ یوں ’CGT‘ اور ’CFDT‘ کی قیادت ریاست اور نظام کو گرانے کی بجائے حکام کیساتھ سمجھوتہ کرنے کو بالکل تیار تھی جبکہ مزدور سرمایہ دارانہ کا خاتمہ چاہتے تھے۔ مزدوروں نے ان مذاکرات اور مراعات کو مسترد کردیا اور ہڑتال جاری رہی۔ بہت سے اعلیٰ پائے کے دانشور بھی یکجہتی میں ساتھ مل گئے۔ 27 مئی کو پچاس ہزار مزدور اور عام لوگ سٹاڈ سبیسشین شارلیٹی میں جمع ہوئے۔ اس مجمع میں دھواں دار تقریریں ہوئیں اور حکومت کے خاتمے اور مزدور حکومت کے لیے انتخابات کے مطالبے کیے گئے۔
28 مئی کو سوشلسٹ پارٹی کے لیڈر فرانسو مٹرنڈ نے قبول کیا کہ ’’فرانس میں اب ریاست قائم نہیں رہی ہے۔‘‘ 29 مئی کو فرانس کے ’مرد آہن‘ صدر چارلس ڈی گال نے خاموشی سے اپنی ذاتی دستاویزات محل سے ہٹوا لیں۔ اس نے اپنے داماد ایلن بوسیو سے کہا، ’’میں انہیں محل پر حملہ کرنے کا موقع نہیں دینا چاہتا۔ میں نے جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ خالی محل پر کوئی حملہ نہیں کرتا۔‘‘ یوں ریاستی مشینری کی طاقت اور فعالیت پر سے اُس کا اپنا اعتماد بھی اٹھ چکا تھا۔ صبح گیارہ بجے اس نے اپنے وزیراعظم سے کہا، ’’میں ماضی بن چکا ہوں۔ تم مستقبل ہو۔‘‘
حکومت نے اعلان کیا کہ ڈی گال اپنے آبائی علاقے میں جا رہا ہے۔ یہ افواہ پھیل گئی کہ وہاں جا کر وہ اپنے استعفے کی تقاریر تیار کرے گا۔ لیکن صدارتی ہیلی کاپٹر اس کے کولمبے مینشن میں کبھی نہیں پہنچا۔ چھ گھنٹوں تک دنیا کو پتہ نہیں تھا کہ فرانس کا ’مرد آہن‘ کہاں غائب ہو گیا ہے۔ ریاستی افسرشاہی میں کھلبلی مچی ہوئی تھی۔ ایک سرکاری اہلکار نے اپنے ماتحت سے پوچھا کہ اگر انقلابیوں نے فیول سپلائی پر قبضہ کرلیا تو صدر کا قافلہ کہاں تک جائے گا۔ عوام معاشی مراکز پر قبضے کر رہے تھے۔ بینکوں سے پیسہ نکالنا مشکل ہوگیا تھا۔ نجی گاڑیوں کے لیے ایندھن دستیاب نہیں تھا۔ تاہم ایمبولینسوں وغیرہ کے نقل و حمل کا انتظام مزدور کمیٹیاں کر رہی تھیں۔ یہ کمیٹیاں رفتہ رفتہ بہت سے فوری نوعیت کے ریاستی امور سنبھالنے لگی تھیں۔ کچھ بورژوا خاندانوں نے نجی طیاروں یا جعلی دستاویزات کے ذریعے ملک سے بھاگنے کی کوششیں بھی کیں۔ وزیراعظم کو جلد ہی پتہ چلا کہ ڈی گال جرمنی میں واقع فرانسیسی فوج کے ہیڈکوارٹر میں جنرل ژاک میسو سے ملنے گیا ہے جس نے پست ہمت ڈی گال کو فرانس واپس جانے کا مشورہ دیا۔ اسے فوج کی حمایت کا ابھی تک یقین نہیں تھا۔ ڈی گال کی بیوی نے خاندانی زیورات جرمنی میں اپنے داماد اور بہو کو دے دیئے جہاں وہ ممکنہ طور پر جانے والے تھے۔
30 مئی کو پیرس میں پانچ لاکھ سے زائد لوگوں نے مارچ کرتے ہوئے ’الوداع ڈی گال‘ کے نعرے لگائے۔ یہ ایک تاریخی ستم ظریفی ہے کہ فرانس کی کمیونسٹ پارٹی نے اس بنیاد پر انقلاب کی مخالفت کی کہ ان کے نظریات کی رو سے پارٹی کو مسلح سرکشی کی بجائے انتخابی طریقے سے اقتدار میں آنا تھا! اگر کمیونسٹ پارٹی کی قیادت واقعی کمیونسٹ ہوتی تو وہ ایک انقلابی راستے کا انتخاب کرتے ہوئے تحریک کی قیادت کرتی۔ سرکشی کی منصوبہ بندی کرتی۔ معیشت کے کلیدی حصوں اور حکومتی عمارات پر قبضے کئے جاتے۔ یورپ اور دنیا بھر کے محنت کشوں سے یکجہتی کی اپیلیں کی جاتیں۔ ایسے میں فوج ناگزیر طور پر طبقاتی بنیادوں پر ٹوٹ جاتی۔ یہ کوئی 1871ء کے پیرس کمیون کے وقت کا فرانس نہیں تھا۔ 1968ء میں اگر فوج کو صوبوں سے لا کر پیرس میں سرکشی کو کچلنے کی کوشش کی جاتی تو فوج میں بغاوت ہوجانی تھی۔
کمیونسٹ پارٹی اور ’UNEF‘ نے جب مزدوروں اور طلبہ کی ہڑتالوں کے خاتمے کا اعلان کیا تو انقلابی طلبہ اور مزدور بددل ہوگئے۔ تحریک کا زور ٹوٹ گیا۔ مزدور آہستہ آہستہ کام کی طرف واپس آنا شروع ہوئے یا پولیس نے انہیں فیکٹریوں سے نکال دیا۔ حکومت نے بائیں بازو کی ریڈیکل طلبہ تنظیموں پر پابندی لگا دی۔ کمیونسٹ پارٹی کی قیادت انتخابات کے لیے راضی ہوگئی اور یوں انقلاب کو کچل دیا گیا۔ یورپ اور پوری دنیا کی تاریخ کو بدلنے کا ایک تاریخی موقع ضائع ہوگیا۔ لیکن پچاس سال بعد مزدوروں اور طلبہ کی نئی نسل فرانس میں دوبارہ ابھر رہی ہے۔ آج ایک بار پھر پورا فرانس ہڑتالوں اور مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔ نوجوان انقلابیوں کے لیے فرانس کے 1968ء کے انقلاب سے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ ماضی کی غداریوں اور غلطیوں سے سیکھ کر ہی آنے والے انقلابات کو سوشلسٹ فتح سے ہمکنار کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*