ترکی میں خانہ جنگی کے آثار

| تحریر: حمید علی زادے |

ترکی خانہ جنگی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ سے دونوں اطراف تناؤ نئی بلندیوں تک پہنچ چکا ہے۔ اپنے خلاف ایک ابھرتی ہوئی طبقاتی تحریک کو دیکھ کر اردگان نے قومی بنیادوں پر خانہ جنگی کو بھڑکا دیا ہے۔
گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ ہوچکا ہے جب ترکی میں کرد اقلیت پر حملے اور خصوصی طور پر بائیں بازو کی کرد پارٹی HDP پر حملے کیے جا رہے ہیں۔ HDP کے چار سو دفاتر جہاں پولیس تعینات تھی، پر رجعتی عناصر نے حملے کر کے جلاؤ گھیراؤ کیا ہے۔ ترکی میں بہت سے کاروبار اور دکانیں جو کردوں سے وابستہ ہیں، ان پر حملے کیے جا رہے ہیں اور استنبول میں ایک شخص کو چھرا گھونپ کراس لیے قتل کر دیا گیا کیونکہ وہ اپنے موبائل فون پر کرد زبان میں گفتگو کر رہا تھا۔ سینکڑوں افراد کو صرف کرد ہونے کی بنا پر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے اور بہت سے کرد محلوں میں نسل پرستانہ حملے ہوئے ہیں۔
erdogan supports islamic state cartoonاسی دوران کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کے عراق اور ترکی میں بہت سے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی گئی ہے۔ یہ سب اس وقت کیا گیا جب PKK ترک ریاست کے ساتھ امن مذاکرات کے عمل میں داخل ہو چکی تھی۔ ترکی کے جنوب مشرقی حصے کے درجن بھر علاقوں کو خصوصی سکیورٹی زون قرار دیا جا چکا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر درجنوں حملے کیے جا رہے ہیں۔ ابھی تک ک کردوں کی دو سو سے زائداموات ہو چکی ہیں جبکہ 200 کے قریب ترک پولیس والے ہلاک ہوئے ہیں۔ اس وقت سب سے اہم سیزرے (Cizre) شہر کا محاصرہ ہے۔ یہاں ایک لاکھ بیس ہزار افراد رہتے ہیں اور چند ماہ قبل ہونے والے عام انتخابات میں 92 فیصد افراد نے HDP کو ووٹ دیا تھا۔ یہاں محاصرے کے اختتام تک درجنوں افراد ، جن میں بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں قتل ہو چکے ہیں اور بہت سے محلے بمباری اور فائرنگ کے باعث برباد ہو چکے ہیں۔ محاصرے میں دس ہزار فوجی تعینات کیے گئے تھے۔
اردگان کہتا ہے کہ یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔ داعش اور PKK کے خلاف۔ لیکن جب سے اس مہم کا آغاز ہوا ہے اس میں گرفتار کیے گئے 2500 افراد میں سے سو سے بھی کم کا تعلق داعش سے ہے جبکہ باقی تمام بائیں بازو کے کارکن یا کرد قوم پرست ہیں۔ درحقیقت اس مہم کے دورا ن ہونے والے حملوں کا فائدہ داعش کو پہنچ رہا ہے جس کااب تک سب سے مضبوط دشمن PKK اور اس سے متعلقہ دیگر تنظیمیں تھیں۔ بہت سے مواقع پر PKK پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ داعش کیخلاف لڑنے کے لیے محاذ پر جا رہی تھیں۔
دہشت گردی کیخلاف مبہم مؤقف کے ساتھ اردگان نے درحقیقت کرد آبادی کیخلاف یکطرفہ جنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس وقت ایک جنگ کو بھڑکانے کی کوئی ضرورت موجود نہیں تھی۔ کئی ماہ سے PKK مطالبہ کررہی تھی کہ وہ ترکی سے اپنی رہی سہی گوریلا قوتوں کو باہر نکالنے کے لیے محفوظ راستہ چاہتے ہیں۔ اردگان نے اس سے انکار کر دیا کیونکہ مارچ کے بعد سے وہ مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔

ابھرتی طبقاتی جدوجہد
یہ واضح ہے کہ اردگان کبھی بھی PKK کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ کرد تحریک اور بائیں بازو کو ترکی کے حکمران طبقے کے قومی ریپبلکن حصے کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے اس کے لیے مسائل کو باعث ترکی کے حکمران طبقے کا کوئی حصہ نہیں بلکہ عوام ہیں جو تیزی سے انقلاب کے رستے پر گامزن ہو رہے ہیں۔ کئی سالوں کی تیز ترین معاشی بڑھوتری کے باوجود آبادی کی اکثریت کے حالات زندگی میں کوئی بہتری نہیں آ سکی جبکہ ایک چھوٹی سی اقلیت کی دولت میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ اور اب جب ملک کو ایک معاشی بحران کا سامنا ہے تو اس کی قیمت بھی غریبوں کو ہی چکانی پڑ رہی ہے۔
اسی وجہ سے بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے اور 2013ء میں غازی (Gezi) پارک کی تحریک کا باعث بھی یہی تھا جب ہزاروں افراد سڑکوں پر اردگان کے خلاف نکل آئے۔ لیکن قیادت نہ ہونے کی وجہ سے اس کی حکومت کو اکھاڑ نہیں سکے۔ لیکن یہ اپوزیشن ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ اردگان کے آمرانہ طرز حکومت، شام اور دیگر ممالک میں سامراجی مداخلت اور جدید سیکولر ترکی میں اسلامی بنیاد پرستی کا فروغ ترکی میں اس کیخلاف نفرت کو جنم دے رہا ہے۔ جب اس نفرت اور غم و غصے کو ترکی کی رائج الوقت سیاسی جماعتوں میں اظہار کا موقع نہیں ملا تو اس نے کر د تحریک اور اس کے سیاسی ونگ HDP میں اپنا اظہار کیا۔ ترک حکمران طبقہ کی کئی دہائیوں سے کرد اور ترک نوجوانوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے لیکن اس کے باوجود موجودہ حالات میں HDP موجودہ نظام سے نفرت کرنے والے نوجوانوں کی توجہ کا مرکز بنتی چلی گئی۔ کوبانی کے معرکے نے اس میں فیصلہ کن کردارادا کیا ،جہاں انتہائی خستہ ہتھیاروں اور معمولی امداد سے کردوں نے اردگان کی حمایت یافتہ داعش کیخلاف چھ ماہ تک لڑائی لڑی اور انہیں شکست فاش دی۔
یہاں سے ہی HDP کو قانونی حیثیت مل گئی جو پورے ترکی ے لاکھوں افرادکی پارٹی بن گئی جس کی جڑیں کرد تحریک میں تھیں۔ سماجی اور جمہوری اصلاحات کے انقلابی پروگرام کے ساتھ HDP نے غازی پارک کی تحریک کے جذبے کو بھی ساتھ جوڑا اور 13 فیصد ووٹ لے کر پہلی دفعہ پارلیمنٹ میں پہنچ گئی۔ یہ اردگان کی AK پارٹی کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھا جو 2002ء کے بعد پہلی دفعہ پارلیمنٹ میں اکثریت سے محروم ہو گئی۔
اردگان کے بائیں بازو اور کردو پر حملوں کی یہی وجہ ہے۔ طبقاتی کشمکش کی اٹھان کے باعث وہ کمزور ہو چکا ہے اور اب وہ محنت کش طبقے کو قومی بنیادوں پر تقسیم کر کے کردو ں اور ترکوں کو آپس میں لڑوانا چاہتا ہے تاکہ اپنی حکمرانی کو محفوظ بنا سکے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں کہ جس روز یکم نومبر کو ہونے والے عام انتخابات کا اعلان ہوا اسی دن کردوں کے خلاف مہم بھی شروع ہو گئی۔

انقلابی رد عمل
مارکس نے ایک دفعہ کہا تھا کہ کئی دفعہ انقلابات کو آگے بڑھنے کے لیے رد انقلاب کے کوڑے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ تناظر ترکی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اردگان کا خیال تھا کہ کرد مخالف جذبات کو ابھار کر وہ HDP کی حمایت میں کمی کر دے گا۔ لیکن اس کے ارادوں کے بر عکس رپورٹوں کے مطابق HDP کی حمایت میں تھوڑا سا اضافہ ہوا ہے۔ درحقیقت اپوزیشن کی اکثریت بڑھتے ہوئے عدم استحکام اور قتل و غارت کی ذمہ داری اردگان پر عائد کر رہی ہے۔ کرد علاقوں میں اردگان کا یکطرفہ اعلان جنگ غصے کو مزید بھڑکا رہا ہے جو کسی بھی وقت ایک انقلابی تحریک میں ڈھل سکتا ہے۔ اس کی ایک جھلک سیزرے کے محاصرے کے دوران نظر آئی۔
Supporters of the pro-Kurdish People's Democratic Party (HDP) wait for the appearance Selahattin Demirtas, co-chair of the party to deliver an election campaign speech during a rally in Istanbul, Turkey, Thursday, May 21, 2015, before Turkey's general election on June 7.  The ADP is a small party, but if it gains 10 percent of the vote it will enter parliament as a party, and could change the face of the country's politics. AP Photo/Lefteris Pitarakis)اردگان اس شہر کو کردوں کے لیے عبرت کا نشان بنانا چاہتا تھا اور کرد تحریک کو کچلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ لیکن سیزرے سے کرد تحریک مایوسی کا شکار ہونے کی بجائے زیادہ جوش اور جذبے کے ساتھ ابھری اور ایک عوامی مزاحمت کا آغاز ہو گیا۔ سیزرے کا محاصرہ توڑنے کے لیے HDP کے سینکڑوں وکلا اور ممبر پارلیمنٹ نے سیزرے کی جانب امن مارچ کا آغاز کیاجس میں ہزاروں لوگ شامل ہو گئے اور منظم ہونا شروع کر دیا۔ سکیورٹی فورسز نے شہر میں داخل ہونے کی ہر کوشش کو روکالیکن پولیس کے کئی دن تک بد ترین تشدد کے باوجود ہزاروں شہریوں کا مارچ جس میں مرد خواتین، بچے بوڑھے سب شامل تھے سیرنک اور سیلوپی کے قریبی شہروں سے آخر کار سیزرے پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس دوران سکیورٹی فورسز شہر کے بہت سے علاقوں پر بمباری کر رہی تھیں لیکن مارچ کے شرکاآنسو گیس اور شیلنگ کے دوران خوراک اور سفید جھنڈوں کے ساتھ اپنا راستہ بناتے رہے۔ اسی دوران سیزرے کے شہریوں کی جانب سے ایک پر عزم مزاحمت جاری تھی۔ جِن نیوز ایجنسی کے مطابق:
’’جس لمحے ہمارا مورال ختم ہوتا ہے‘ اسی لمحے ہمارا عزم بھی ٹوٹ جاتا ہے، شہریوں نے کہا۔ سب سے بڑا مسئلہ خوراک کی قلت ہے لیکن سیزرے کے شہری بالکل بھی مضطرب نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جو سبزیاں اپنے گھروں میں بوئی تھیں کچھ ہی دنوں میں پک جائیں گی۔
شام کے وقت گلیوں میں رش ہو جاتا ہے۔ جہاں کہیں محفوظ ہوتا ہے اس محلے کی مائیں گلی میں آگ جلاتی ہیں اور اس علاقے کے روایتی گانے گاتی ہیں۔ نوجوان اس آگ پر چائے بناتے ہیں اور تقسیم کرتے ہیں۔ بہت سی بوڑھی مائیں گھروں کے اندر بیٹھی رہتی ہیں اپنے درجنوں مہمانوں کو 1990ء کے قصے سنا کر ان کا مورال بلند کرتی ہیں۔ جب گرنیڈ کے حملے شدت اختیار کر جائیں تو مقامی لوگ اس کا جواب نعروں سے دیتے ہیں اور ساتھ گھر کے برتن بجا تے ہیں جبکہ رضاکار ڈاکٹر زخمیوں کو ڈھونڈتے اور ان کا علاج کرتے ہیں۔
شور کرنے والے مظاہروں کی قیادت خواتین کرتی ہیں اور مقامی لوگ گلیوں میں چھوٹے مظاہرے بھی کرتے ہیں۔ جبکہ چھوٹے بچے گلیوں میں دھماکوں کے بعد گرنے والا ملبہ اکٹھا کرتے ہیں۔ ہر رات دھماکوں کی آواز زیادہ ہوتی جاتی ہے لیکن مقامی لوگ بس یہی کہتے ہیں،’اگر آج کی رات گزر گئی ، تو یہ ختم ہو جائے گا‘ ‘‘۔
آخر میں یہ سیزرے کے عوام کی دلیرانہ مزاحمت تھی ، جس کو جنوب مشرق کی اکثریت کی حمایت حاصل تھی، جس نے اس محاصرے کی کمر توڑ دی۔ ان غلیظ حملوں کے آگے جھکنے کی بجائے عوام نے مزاحمت کا راستہ اپنایاجس کے باعث ترکی کی مسلح افواج کو شرمناک پسپائی کا سامنا کرنا پڑا جن کی تعداد دس ہزار افراد تک کر دی گئی تھی۔
مسلح افواج کی پسپائی کے بعد مقامی افراد کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ اس کا اظہار HDP کی ریلی کے دوران ہوا جس میں اس شہر کے تقریباً ہر شخص نے شرکت کی۔ ریلی سے Demirtas اور HDP کے دیگر قائدین نے خطاب کیا۔ ریلی اور محاصرے کے دوران جاں بحق ہونے والوں کے جنازے میں لاکھوں افراد کی شرکت واضح کرتی ہے کہ اردگان کے حملوں سے کرد عوام جھکنے کی بجائے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔

انقلاب کا راستہ
کر دعوام کو ترک بورژوازی کی جارحیت کا دفاع کرنے کا مکمل حق ہے خواہ اس کے لیے ہتھیار ہی کیوں نہ اٹھانے پڑیں۔ ترک ریاست کے پر تشدد حملوں کے دفاع کے لیے وہ اپنے دفاع کا پورا حق رکھتے ہیں۔ لیکن اس وقت انفرادی عمل کی ضرورت نہیں۔ کسی فوجی یا پولیس والے کو قتل کرنے سے اردگان کمزور نہیں ہوتا بلکہ اس کے برعکس وہ خود یہی چاہتا ہے۔ وہ اس انفرادی دہشت گردی کو ترک علاقوں میں اپنی حمایت میں اضافے کے لیے استعمال کرتا ہے اور کرد اور ترک محنت کشوں کو ایک دوسرے سے کاٹنے کا جواز بناتا ہے۔ اس وقت ضرورت ہے کہ اردگان کی بد عنوان حکومت اور کردوں پر نسل پرستانہ جبر کے خلاف ایک عوامی مزاحمت کا آغاز کیا جائے۔ سیزرے نے واضح کیا کہ مسلح افواج کو شکست دینے کا بہترین طریقہ عوامی مزاحمت ہے۔ وہ مزاحمت جس میں چند درجن یا سینکڑے افرادنہیں بلکہ لاکھوں افراد ہوں۔
erdogan is assasinاس وقت HDP اور PKK سے ملحقہ دیگر تنظیموں کے ساتھ کردوں کی بہت بڑی عوامی حمایت موجود ہے۔ دفاع کا بہترین طریقہ یہی ہو سکتا ہے کہ ان لاکھوں لوگوں کو ساتھ جوڑتے ہوئے اردگان کے کردوں پر حملوں کے خلاف عام ہڑتال کی کال دی جائے۔ ہر محلے، فیکٹری اور سکول میں کمیٹیاں قائم کر دی جائیں جہاں محنت کش اور غریب لوگ خود مندوبین کا انتخاب کریں۔ ہر جگہ دفاعی کمیٹیاں بھی قائم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ریاست اور مسلح بدمعاشوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

مزدور اتحاد
اسی طرح ترک محنت کشوں اور نوجوانوں سے بھی اردگان کے خلاف جدوجہد میں حمایت کی اپیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اردگان نسل پرستانہ اور کرد مخالف جذبات بھڑکا کرمغربی حصے میں بائیں بازو کی تیزی سے پھیلتی ہوئی اپوزیشن کو روکنا چاہتا ہے۔ اس کی حکمرانی کو سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب ترک اور کرد محنت کشوں اور نوجوانوں نے مل کر جدوجہد کا آغاز کیا اور HDP کے پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو گئے۔ اب تک گرفتار کیے گئے افراد کی اکثریت ترک بائیں بازو اور اپوزیشن سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی دوران اردگان ملک میں جمہوری حقوق پر بھی بڑے حملے کر رہا ہے۔ ایک خانہ جنگی کو ابھار کر وہ ترکی میں آمریت کا راستہ ہموار کر رہا ہے۔
میڈیا کے زہریلے پراپیگنڈے کے باوجود نفرت اور بے چینی اردگان کی زہریلی نسل پرستی کی چادر کو پھاڑ کر باہر نکل رہی ہے۔ ترکی کے مغربی حصے میں آبادی کے بہت بڑے حصے میں اردگان کے خلاف نفرت بڑھ رہی ہے جو اسے تمام مسائل کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ گزشتہ ماہ لیفٹنٹ کرنل محمد الکان نے اپنے بھائی کے جنازے پر چلا کر کہا، ’’میرے بھائی کا اصل قال کون ہے؟ کون حقیقی طور پر ذمہ دار ہے؟‘‘ فوجیوں کے جنازوں پر جانے والے بہت سے افراد نے پورے ملک میں اردگان کے خلاف نفرت کا اظہار کیا ہے۔ ایک فوجی کے جنازے پر جب اردگان کی پارٹی کا وزیر تعزیت کے لیے پہنچا تو اس کے رشتہ دار نے کہا،’’اگر ہم اردگان کو صدر منتخب کر لیتے تو یہ سب کچھ نہ ہوتا۔ صحیح؟ تم نے خود بھی یہی کہا تھا۔ اس کے صدر منتخب ونے تک کتنے مزید افراد کو قربان ہونا پڑے گا۔ تم سب پر لعنت‘‘۔
جتنے بھی فوجی مارے جاتے ہیں ان میں سے کوئی بھی امیر طبقے سے تعلق نہیں رکھتا۔ امیر افراد فوج میں بھرتی سے بچنے کے لیے پیسے دے دیتے ہیں اور جو محنت کش ایسا نہیں کر سکتے انہیں اپنے کرد محنت کش بھائیو ں اور بہنوں کو قتل کرنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے یا پھر وہ خود مارے جاتے ہیں۔ اس لیے اگر کرد علاقوں میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے ایک عوامی تحریک شروع ہوتی ہے تو اسے ترک علاقوں میں سے بھی جواب ملے گا، یہاں تک کہ فوج کی صفوں کے اندر سے بھی۔ اس تحریک کو اردگان کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ جوڑنا ہو گا جو اقتدار سے چمٹا رہنا چاہتا ہے چاہے اس کے لیے پورے ملک کو تباہ کیوں نہ کرنا پڑے۔ ان بنیادوں پر تحریک کو بڑے شہروں میں ترک محنت کشوں اور نوجوانوں میں عوامی حمایت ملے گی۔ وہاں سے یہ تحریک ترکی کے وسطی اور مغربی حصوں میں پھیل سکتی ہے۔

سرمایہ داری کا بحران
موجودہ بحران صرف اردگان حکومت کا نہیں بلکہ ترک سرمایہ داری کا بحران ہے۔ عوام کی ضروریات پوری نہ کرنے کے باعث ترک بورژوازی مسلسل دائیں بازو کی جانب جھک رہی ہے تاکہ اپنے اقتدار کو بچایا جا سکے۔ بہت سے ریپبلکن بورژوا مبصرین اور ’’روایتی‘‘ بورژوازی کے ارکان اردگان کے اقدامات پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اردگان ملک میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔ لیکن یہ ’’جمہوریت‘‘ پسند مرد اور خواتین جانتے ہیں کہ 1960ء اور 70ء کی دہائی کی انقلابی تحریکوں کو کچلنے کے لیے انہوں نے خود ایک انتہائی خونخوار آمریت نافذ کی تھی۔ اور حالیہ عام انتخابات میں ان کا پروگرام کیا تھا؟زیادہ نجکاری،ڈی ریگولیشن اور لبرلائزیشن۔ یعنی محنت کشوں پر مزید حملے۔

Protesters chant slogans while waving a Kurdistan Workers' Party (PKK) flag as riot police guard the main entrance of the European Parliament during a demonstration calling for support for the Syrian Kurdish town of Ain al-Arab, known as Kobane by the Kurds and currently besieged by the Islamic State (IS), in Brussels on October 7, 2014. Islamic State jihadists pushed into the key Syrian town of Ain al-Arab (Kobane) on the Turkish border, seizing three districts in the city's east after fierce street fighting with its Kurdish defenders. AFP PHOTO/EMMANUEL DUNAND        (Photo credit should read EMMANUEL DUNAND/AFP/Getty Images)مسئلہ یہ نہیں کہ ترکی پر کون شخص حکمرانی کرے گا۔ اردگان کا پاگل پن در حقیقت ترک سرمایہ داری کی بوسیدگی اور طفیلی فطرت کا عکاس ہے۔ اردگان کے خلاف کسی بھی جدوجہد کو سرمایہ داری کے خلاف جدوجہد سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ ترک اور کرد محنت کشوں کے کوئی الگ الگ یا متضاد مفادات نہیں۔ صرف اس نظام کی بربریت نے انہیں مجبور کیا ہے کہ وہ ان چھوٹی چھوٹی حاصلات کے لیے ایک دوسرے سے لڑیں جو حکمران طبقے نے انہیں دان کی ہیں۔ جبکہ دولتمند اور با اثر افراد ‘جو ذلت کے سوا کچھ پیدا نہیں کرتے‘ پر تعیش زندگیاں گزارتے رہیں۔ صرف تمام مظلوم افراد کی ایک متحد جدوجہد ہی نجات کا واحد حل ہے جس میں تمام وسائل اور دولت پر قبضہ کر لیا جائے اور اسے اجتماعی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے۔

جنگ مردہ باد!
اردگان اور چوروں اور لٹیروں کی حکومت مردہ باد!
محنت کشوں کا اتحاد اور جدوجہد زندہ باد!

متعلقہ:

مشرق وسطیٰ: داعش اور اردگان کا گٹھ جوڑ بے نقاب!

ترک انتخابات . . . سیاسی زلزلہ!

ترکی: معاشی ترقی کا فریب

ترکی: انقلاب کی پہلی لہر

کہاں سے آتی ہے یہ کمک؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*