سرمایہ داری کی ماحولیاتی تباہ کاری

تحریر: لال خان

پچھلے چند سالوں میں پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات خطرناک صورتحال اختیار کرچکے ہیں۔ کراچی، بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں پانی کی قلت سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ صحت، تعلیم، روزگار جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی کی طرح ماحولیات کا مسئلہ بھی یہاں کے حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ موجودہ الیکشن مہم میں سیاسی پارٹیاں اور کارپوریٹ میڈیا انتہائی عیاری سے عوام کی اکثریت کی زندگیوں کو متاثر کرنے والے ان مسائل کو شعوری طور پر نظرانداز کر رہے ہیں۔ دراصل خود حکمران اور ان کے ماہرین اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ان کا نظام سماج کو ترقی دینے اور کسی بنیادی مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔ اگرچہ آلودگی اور ماحولیاتی تبدیلیاں اب عالمی اہمیت کے حامل ایشوز ہیں تاہم دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے حکمران بھی اپنی تمام تر ’تشویش‘ کے باوجود اس تباہ کاری کو روکنے کا ارادہ نہیں رکھتے تاوقتیکہ یہ ان کے منافعوں کے لیے خطرہ نہیں بن جاتی۔ پاکستان کی بوسیدہ سرمایہ داری تو اس خطرے کو ذرہ برابر بھی قابو نہیں کرسکتی۔ ماحولیات کی کوئی سرحد نہیں ہے۔ اس لیے اس تباہ کاری کے خلاف جنگ عالمی سطح پر لڑنے کی ضرورت ہے۔ ایسا صرف طبقاتی بنیادوں پر ہی ہوسکتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے برسراقتدار آ کر سامراجیت کے چہرے سے منافقت کا نقاب اتار ڈالا ہے۔ اس نے پیرس معاہدے اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلقہ دیگر معاہدوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ ویسے بھی سامراجی طاقتوں کے ایسے معاہدے برائے نام اقدامات کے حامل ہی ہوتے ہیں۔ یوں سرمایہ داری کے زوال کے عہد میں اس کے نمائندے اور پالیسی ساز ایک ایسے استرداد کے شکار نظام کا دفاع کر رہے ہیں جو پوری انسانی تہذیب کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
کرہ ہوائی، سمندروں، تازہ پانی کے زخائر اور زمین کی آلودگی کے ذریعے تباہ کاری، بڑے پیمانے پر جنگلات کا کٹاؤ، ایکوسسٹمز میں خلل اور حیاتیات کی بربادی اِس سرمایہ دارانہ معیشت کے ناگزیر نتائج اور مضمرات ہیں۔ ماحولیاتی طور پر ’مفید‘ سرمایہ داری بالکل اسی طرح ناممکن ہے جیسے سماجی اور معاشی طور پر’ منصفانہ‘ سرمایہ داری ایک یوٹوپیا ہے۔ اپنی فطرت، مقاصد اور حرکیات کے تحت ہی منافعوں کی ہوس پر مبنی یہ نظام‘ عالمی ایکوسسٹم کے لئے خطرہ ہے۔ اس نظام میں صنعتی آلودگی، بڑے پیمانے کی مصنوعی کھپت (جس کے بغیر منافعے گرنے لگتے ہیں) سے ہونے والی گندگی، کارپوریٹ زراعت سے پھیلنے والا زہر اور فاسل فیول سے ’گرین ہاؤس‘ گیسوں کا اخراج ایک ناگزیر عمل ہے۔ اِن نقصان دہ ماحولیاتی اثرات کو ’’Externalities‘‘ یعنی ایسے مضمرات قرار دیا جاتا ہے جو منڈی میں اپنا اظہار کئے بنا دوسروں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اب اکیسویں صدی کے آغاز پر ان کو مزید نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اگرچہ انہیں اب بھی چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
فوسل فیول کے بے تحاشا استعمال سے ہونے والی فضائی آلودگی اور گلوبل وارمنگ ایک ایسی سطح پر پہنچ چکی ہے کہ اس نظام کے سنجیدہ پالیسی ساز بھی پوری کی پوری آبادیوں اور ملکوں کی تباہ کاری کے امکانات کو قبول کر رہے ہیں تاوقتیکہ پوری دنیا میں گیسوں کے اخراج کو 1990ء کی سطح سے 80 فیصد کم نہیں کیا جاتا۔ لیکن عالمی سطح پر فاسل فیول کے کارٹیل اپنے منافعوں کے لئے توانائی کے حصول کے ان آلودہ طریقوں کو انسانوں پر مسلط کئے ہوئے ہیں اور ہائیڈرالک فریکچرنگ (فریکنگ)، کول سیم گیسیفیکیشن وغیرہ جیسے غیر روایتی طریقوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ اسی طرح سیارے پر چاندی، انڈیم، پلاٹینم، اینٹیمنی اور زنک جیسے اہم عناصر کے ذخائر ناقابل واپسی حد تک کم ہوچکے ہیں۔ جیسا کہ ’نیو سائنٹسٹ‘ نامی جریدے نے لکھا ہے، ’’متعدد دھاتوں کے ذخائر موجودہ ٹیکنالوجی کے تحت جدید ’ترقی یافتہ دنیا‘ کے معیار زندگی کو پورے کرہ ارض کے انسانوں کے لیے برقرار رکھنے کو ناکافی ہیں۔‘‘ ان ذخائر پر قبضے کی کشمکش افریقہ اور دوسرے خطوں میں سامراجی طاقتوں کے درمیان نئے تنازعات اور خونریزی کو جنم دے رہی ہے۔
عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلیاں کروڑوں اربوں لوگوں کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ پہلے ہی متعدد ریڈ لائنیں گزر چکی ہیں جن کے ازالے کے لیے جو بھی اقدامات کیے جائیں سطح سمندر بلند ہوگی اور موسموں میں ناقابل واپسی تبدیلیاں واقع ہوں گی۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں ہے بلکہ ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے والے معاشی و سماجی نظام کی ترجیحات ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم یا واپس کرنے کے لیے بے تحاشہ سرمایہ کاری اور اشتراکی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس کی گنجائش اس نظام میں نہیں ہے۔
غذائی پیداوار بھی بڑی حد تک انسانوں کی غذائی ضروریات سے ہٹ کر محض منافع کے لیے کی جاتی ہے۔ پوری دنیا کی آبادی کی غذائی ضروریات کو پوری کرنے کے لئے کافی غذائی پیداوار اور زرعی زمین موجود ہے۔ لیکن متناقضانہ طور پر ترقی یافتہ ممالک میں ’زائد‘ غذا کو ضائع کر دیا جاتا ہے تاکہ منڈی میں منافع بخش ریٹ برقرار رکھے جا سکیں۔ جبکہ غریب ممالک میں غذائی قلت اور قحط ہے۔
سرمایہ داری صرف پیسے کی قدر کو جانتی ہے۔ اِن پُٹ اور آؤٹ پُٹ توانائی کے پیمانے سے اگر ماپا جائے تو قبل از سرمایہ داری کی زراعت میں 1 کلو کیلوریز کے استعمال سے 10 کلو کیلوریز پیدا ہوتی تھیں جبکہ آج کی انتہائی میکینائزڈ زراعت میں ہر 10 کلو کیلوریز سے محض 1 کلو کیلوریز پیدا ہوتی ہیں۔ یعنی توانائی کی پیمائش کے حساب سے 100 گنا کم! یہ اِس نظام کی وہ زیاں کاری ہے جو بظاہر نظر نہیں آتی اور پورے سیارے کو تباہ کر رہی ہے۔ کارل مارکس نے واضح طور پر سرمایہ داری کی حرکیات اور غذائی پیداوار کے تضادات کی نشاندہی کی تھی: ’’سرمایہ دارانہ زراعت میں تمام تر ترقی نہ صرف مزدور بلکہ دھرتی کی لوٹ مار پر مبنی ہے۔ کسی مخصوص عرصے میں زمین کی زرخیزی میں اضافے کی ترقی دراصل اس زرخیزی کو برباد کرنے کی ترقی ہے۔‘‘ (سرمایہ جلد اول) یوں مارکس نے واضح کیا تھا کہ سرمایہ داری دولت کے دو بنیادی ماخذوں یعنی انسانی محنت اور فطرت کا بدترین استحصال کر تی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد زرعی پیداوار اور پیداواریت میں اضافہ کسی بھی دوسرے شعبے سے بڑھ کر ہے لیکن یہ ’ترقی‘ پوری کی پوری آبادیوں کو برباد اور بیشمار انسانوں کو ان کی زمینوں سے بڑے شہروں کی جھونپڑپٹیوں میں دھکیلنے کی قیمت پر حاصل کی گئی ہے۔
نجی منافع خوری کا یہ نظام انسانیت کے لیے ایک خطرہ ہے۔ اس سے یہ توقع کرنا کہ اپنی پھیلائی ہوئی غلاظت کو صاف کرے اور نئے سرے سے پوری دنیا کے عام انسانوں کے مفاد میں ایک شعوری منصوبہ بندی کرے، سراسر حماقت ہے۔ بقا کے لیے لازمی ہے کہ انسانیت کے مشترکہ علم، مہارت، تکنیک اور تعمیری جذبے کو چند انسانوں کے منافعوں کی بجائے تمام انسانوں کی بہتری کے لئے بروئے کار لایا جائے۔ پوری دنیا میں حکمران طبقات کے مفادات عوام سے متضاد رُخ اختیار کر چکے ہیں۔ نجی ملکیت کے اِس نظام میں پیٹنٹ اور کاپی رائٹ سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں جن کے ذریعے سوچوں کو تجوریوں میں قید کر لیا جاتا ہے۔ سرمایہ داری اپنی ماحولیاتی تباہ کاری کا ملبہ عوام پر ڈالنے کے لئے یہ جواز پیش کرتی ہے کہ لوگ بے تحاشہ کھپت کرتے ہیں جس سے پیداوار بھی زیادہ کرنی پڑتی ہے اور خام مال اور توانائی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔ حالانکہ یہ نظام ہے جو طرح طرح کی مقابلہ بازی اور ناقص اشیا کی پیداوار کے ذریعے انسان کو مسلسل اور زیادہ کھپت پر مجبور کرتا ہے اور اس کھپت کے بغیر چل ہی نہیں سکتا۔ اسی کو ’کنزیومرازم‘ کہتے ہیں۔ سرمایہ داری، جو یورپ میں جاگیرداری کو پچھاڑ کر نمودار ہوئی تھی، آج ہر قسم کی ترقی پسند سوچ سے برسرپیکار ہے۔ ایک صدی پہلے فریڈرک اینگلز کی ’’سوشلزم یا بربریت‘‘ کی تنبیہ کو ماحولیات کے تناظر میں اب ’’ سوشلزم یا پورے سیارے کی تباہی‘‘ میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*